<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 14 May 2026 18:54:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 14 May 2026 18:54:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا ایران سے ٹماٹر درآمد کرنے پر غور
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1114513/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد حکومت نے مقامی مارکیٹوں میں سبزیوں کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے پر قابو پانے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرنے کا فیصلہ کرلیا، جس میں ایران سے ٹماٹر درآمد کرنے پر بھی غور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکومتی پالیسیوں کی غلط ٹائمنگ اور موسم کی خرابی کے باعث اکتوبر کے آغاز سے ملک بھر میں ٹماٹروں کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہوئی جبکہ گزشتہ ماہ ہونے والی موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے بھی خطے میں ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان کے ادارہ شماریات کے مطابق ٹماٹر کی اوسط قیمت 180 روپے فی کلو ہے لیکن یہ ملک کے متعدد علاقوں میں 300 روپے فی کلو تک فروخت ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چنانچہ صورتحال قابو سے باہر ہونے پر وزارت تحفظ خوراک اسلام آباد میں درآمد کنندگان کے ساتھ آج (بروز بدھ) ملاقات کرے گی تا کہ ہمسایہ ممالک سے ٹماٹروں کی درآمدات میں تیزی لائی جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098097"&gt;ٹماٹر دستیاب نہیں؟ تو اس کا متبادل جان لیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے وفاقی سیکریٹری برائے تحفظ خوراک محمد ہاشم پوپلزئی نے ڈان کو بتایا کہ ’ہم ایران سے ٹماٹر درآمد کرنے کی اجازت دینے پر غور کریں گے، اس سلسلے میں کچھ درآمد کنندگان کے ساتھ ملاقات کر کے  اس کا فیصلہ کیا جائے گا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک اندازے کے مطابق سندھ سے ٹماٹروں اور پیاز کی نئی فصل 2 سے 3 ہفتوں میں منڈیوں تک پہنچ جائے گی، اس دوران ایران سے حاصل ہونے والی درآمدات کسی حد تک اس خلا کو پر کرنے میں مدد دے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب وزارت تجارت سے ملک کا درآمدی بل کم کرنے کے لیے تقریباً ہر قسم کی سبزی پر کوالٹی اسٹینڈرڈ کے مطابق نان ٹیرف اقدامات متعارف کروادیے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ درآمد کے لیے اشیا کا نقائص سے پاک سرٹیفکیٹ درکار ہوتا ہے لیکن اس شعبے کا کوئی عملہ ایران اور افغانستان کی سرحد پر متعین نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی دیکھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1066359"&gt;گھر کی چھت پر سبزیاں اگائیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لہٰذا تفتان سرحد پر اشیا کی جانچ کرنے والے شعبے کی عدم موجودگی کے باعث ایران سے ٹماٹروں کی درآمد کے لیے اب تک کوئی ایک تصدیق نامہ عدم اعتراض (این او سی) جاری نہیں کیا جاسکا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان معیارات نے چمن اور طورخم سرحد پر افغانستان سے ٹماٹر اور پیاز کی درآمد کو بھی متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سلسلے میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ڈارو خان اچکزئی نے ڈان کو بتایا کہ حکام چمن اور طور خم سرحد کے ذریعے افغانستان سے ٹماٹر اور پیاز کی برآمدات کے لیے وہاں کے نقائص سے پاک تصدیق نامے کو تسلیم نہیں کر رہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں ٹماٹر اور پیاز کی پیداوار تسلی بخش ہے جبکہ دیگر سبزیوں کی درآمدات کو بھی اسی سرٹیفکیٹ کی رکاوٹ کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ سبزیوں کی فراہمی میں آنے والے تعطل کی ایک وجہ بھارت کے ساتھ واہگہ بارڈر سے درآمد نہ ہونا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر نئی دہلی سے تجارت رکنے کے باعث بھی مقامی مارکیٹ میں سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ضرور دیکھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114425/"&gt;'کراچی میں ٹماٹر 17 روپے کلو دستیاب ہے، جاکر چیک کرلیں'&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم حکومت کی جانب سے 3 اہم ترین سبزیوں ٹماٹر، پیاز اور آلو کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکسز کی چھوٹ کا فیصلہ کیا جانا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ اس وقت ٹماٹروں کی درآمدات پر صرف 5.5 فیصد انکم ٹیکس عائد ہے جبکہ اس پر کوئی کسٹم یا سیلز ٹیکس نافذ نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم پیاز کی درآمدات پر حکومت 20 فیصد سیلز ٹیکس اور 5.5 فیصد انکم ٹیکس وصول کرتی ہے جبکہ آلو کی درآمدات پر 25 فیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی، 17 فیصد سیلز ٹیکس اور 5.5 فیصد انکم ٹیکس حاصل کرتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چنانچہ درآمد کی جانے والی ان اشیا کی قیمتوں میں کمی کرنے کے لیے حکومت کو بے معنی ریونیو واپس لینا ہوگا تا کہ صارفین تک اس کے فوائد پہنچ سکیں۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 13 نومبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد حکومت نے مقامی مارکیٹوں میں سبزیوں کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے پر قابو پانے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرنے کا فیصلہ کرلیا، جس میں ایران سے ٹماٹر درآمد کرنے پر بھی غور کیا جائے گا۔</p>

<p>حکومتی پالیسیوں کی غلط ٹائمنگ اور موسم کی خرابی کے باعث اکتوبر کے آغاز سے ملک بھر میں ٹماٹروں کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہوئی جبکہ گزشتہ ماہ ہونے والی موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے بھی خطے میں ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔</p>

<p>پاکستان کے ادارہ شماریات کے مطابق ٹماٹر کی اوسط قیمت 180 روپے فی کلو ہے لیکن یہ ملک کے متعدد علاقوں میں 300 روپے فی کلو تک فروخت ہورہا ہے۔</p>

<p>چنانچہ صورتحال قابو سے باہر ہونے پر وزارت تحفظ خوراک اسلام آباد میں درآمد کنندگان کے ساتھ آج (بروز بدھ) ملاقات کرے گی تا کہ ہمسایہ ممالک سے ٹماٹروں کی درآمدات میں تیزی لائی جائے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098097">ٹماٹر دستیاب نہیں؟ تو اس کا متبادل جان لیں</a></strong></p>

<p>اس حوالے سے وفاقی سیکریٹری برائے تحفظ خوراک محمد ہاشم پوپلزئی نے ڈان کو بتایا کہ ’ہم ایران سے ٹماٹر درآمد کرنے کی اجازت دینے پر غور کریں گے، اس سلسلے میں کچھ درآمد کنندگان کے ساتھ ملاقات کر کے  اس کا فیصلہ کیا جائے گا‘۔</p>

<p>ایک اندازے کے مطابق سندھ سے ٹماٹروں اور پیاز کی نئی فصل 2 سے 3 ہفتوں میں منڈیوں تک پہنچ جائے گی، اس دوران ایران سے حاصل ہونے والی درآمدات کسی حد تک اس خلا کو پر کرنے میں مدد دے گی۔</p>

<p>دوسری جانب وزارت تجارت سے ملک کا درآمدی بل کم کرنے کے لیے تقریباً ہر قسم کی سبزی پر کوالٹی اسٹینڈرڈ کے مطابق نان ٹیرف اقدامات متعارف کروادیے ہیں۔</p>

<p>خیال رہے کہ درآمد کے لیے اشیا کا نقائص سے پاک سرٹیفکیٹ درکار ہوتا ہے لیکن اس شعبے کا کوئی عملہ ایران اور افغانستان کی سرحد پر متعین نہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی دیکھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1066359">گھر کی چھت پر سبزیاں اگائیں</a></strong></p>

<p>لہٰذا تفتان سرحد پر اشیا کی جانچ کرنے والے شعبے کی عدم موجودگی کے باعث ایران سے ٹماٹروں کی درآمد کے لیے اب تک کوئی ایک تصدیق نامہ عدم اعتراض (این او سی) جاری نہیں کیا جاسکا۔</p>

<p>ان معیارات نے چمن اور طورخم سرحد پر افغانستان سے ٹماٹر اور پیاز کی درآمد کو بھی متاثر کیا ہے۔</p>

<p>اس سلسلے میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ڈارو خان اچکزئی نے ڈان کو بتایا کہ حکام چمن اور طور خم سرحد کے ذریعے افغانستان سے ٹماٹر اور پیاز کی برآمدات کے لیے وہاں کے نقائص سے پاک تصدیق نامے کو تسلیم نہیں کر رہے۔</p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں ٹماٹر اور پیاز کی پیداوار تسلی بخش ہے جبکہ دیگر سبزیوں کی درآمدات کو بھی اسی سرٹیفکیٹ کی رکاوٹ کا سامنا ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ سبزیوں کی فراہمی میں آنے والے تعطل کی ایک وجہ بھارت کے ساتھ واہگہ بارڈر سے درآمد نہ ہونا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر نئی دہلی سے تجارت رکنے کے باعث بھی مقامی مارکیٹ میں سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔</p>

<p><strong>ضرور دیکھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114425/">'کراچی میں ٹماٹر 17 روپے کلو دستیاب ہے، جاکر چیک کرلیں'</a></strong></p>

<p>تاہم حکومت کی جانب سے 3 اہم ترین سبزیوں ٹماٹر، پیاز اور آلو کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکسز کی چھوٹ کا فیصلہ کیا جانا ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ اس وقت ٹماٹروں کی درآمدات پر صرف 5.5 فیصد انکم ٹیکس عائد ہے جبکہ اس پر کوئی کسٹم یا سیلز ٹیکس نافذ نہیں۔</p>

<p>تاہم پیاز کی درآمدات پر حکومت 20 فیصد سیلز ٹیکس اور 5.5 فیصد انکم ٹیکس وصول کرتی ہے جبکہ آلو کی درآمدات پر 25 فیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی، 17 فیصد سیلز ٹیکس اور 5.5 فیصد انکم ٹیکس حاصل کرتی ہے۔</p>

<p>چنانچہ درآمد کی جانے والی ان اشیا کی قیمتوں میں کمی کرنے کے لیے حکومت کو بے معنی ریونیو واپس لینا ہوگا تا کہ صارفین تک اس کے فوائد پہنچ سکیں۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 13 نومبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1114513</guid>
      <pubDate>Wed, 13 Nov 2019 15:37:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/11/5dcb864110e48.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/11/5dcb864110e48.jpg"/>
        <media:title>پاکستان کے ادارہ شماریات کے مطابق ٹماٹر کی اوسطاً قیمت 180 روپے فی کلو ہے—تصویر: شٹراسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
