<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 15:30:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 15:30:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت نے ایران سے ٹماٹر درآمد کی اجازت دے دی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1114598/</link>
      <description>&lt;p&gt;حکومت نے مقامی منڈی میں ٹماٹر کے ہوش ربا اضافے کے پیش نظر ایران سے ٹماٹر درآمد کرنے کی اجازت دے دی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1516598/govt-allows-tomato-imports-from-iran"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ایران سے ایک مہینے کے لیے ٹماٹر درآمد کرنے کی اجازت دی گئی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزیدپڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114425/"&gt;'کراچی میں ٹماٹر 17 روپے کلو دستیاب ہے، جاکر چیک کرلیں'&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ فیصلہ وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی (ایم این ایف ایس)، درآمد کنندگان ، وزارت تجارت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے اعلی عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایم این ایف ایس کے وفاقی سکریٹری محمد ہاشم پوپلزئی نے ملاقات کے بعد ڈان کو بتایا 'ہاں ، ہم نے ایران سے ٹماٹر کی درآمد کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے'۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیصلے کے مطابق درآمد کنندگان کو گھریلو مارکیٹ میں فروخت کے لیے تین سے چار ہفتوں تک ایران سے ٹماٹر خریدنے کی اجازت ہوگی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ حکومت نے خریداری کے لیے کوٹے کی وضاحت نہیں کی تاہم ٹماٹر درآمدات کے لیے 13 دسمبر کی ڈیڈ لائن طے کی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098097"&gt;ٹماٹر دستیاب نہیں؟ تو اس کا متبادل جان لیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب حکومت کو یقین ہے کہ سندھ سے اگلے دو سے تین ہفتوں میں ٹماٹر اور پیاز کی نئی فصل مارکیٹ میں آجائے گی۔ 
اس دوران ایران سے درآمدات کسی حد تک اس خلا کو پُر کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;توقع ہے کہ اگلے چار دن میں ٹماٹر پاکستان پہنچ جائیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان کی جانب سے تفتان بارڈر پر ٹماٹروں کی ترسیل کے لیے ایران کا محکمہ سرٹیفکیٹ پیش کرےگا۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری طرف حکومت نے ٹماٹر کی درآمد پر 5.5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس پر چھوٹ نہیں دی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ٹیکس کے اثرات کا تخمینہ لگ بھگ 2 روپے فی کلو ہے تاہم  ٹماٹر کی درآمد کسٹم یا سیلز ٹیکس کے تابع نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزیدپڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114513"&gt;حکومت کا ایران سے ٹماٹر درآمد کرنے پر غور&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ سبزیوں کی فراہمی میں آنے والے تعطل کی ایک وجہ بھارت کے ساتھ واہگہ بارڈر سے درآمد نہ ہونا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر نئی دہلی سے تجارت رکنے کے باعث بھی مقامی مارکیٹ میں سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم حکومت کی جانب سے 3 اہم ترین سبزیوں ٹماٹر، پیاز اور آلو کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکسز کی چھوٹ کا فیصلہ کیا جانا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حکومت نے مقامی منڈی میں ٹماٹر کے ہوش ربا اضافے کے پیش نظر ایران سے ٹماٹر درآمد کرنے کی اجازت دے دی۔ </p>

<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1516598/govt-allows-tomato-imports-from-iran"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ایران سے ایک مہینے کے لیے ٹماٹر درآمد کرنے کی اجازت دی گئی۔ </p>

<p><strong>مزیدپڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114425/">'کراچی میں ٹماٹر 17 روپے کلو دستیاب ہے، جاکر چیک کرلیں'</a></strong></p>

<p>مذکورہ فیصلہ وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی (ایم این ایف ایس)، درآمد کنندگان ، وزارت تجارت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے اعلی عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں کیا گیا۔</p>

<p>ایم این ایف ایس کے وفاقی سکریٹری محمد ہاشم پوپلزئی نے ملاقات کے بعد ڈان کو بتایا 'ہاں ، ہم نے ایران سے ٹماٹر کی درآمد کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے'۔ </p>

<p>فیصلے کے مطابق درآمد کنندگان کو گھریلو مارکیٹ میں فروخت کے لیے تین سے چار ہفتوں تک ایران سے ٹماٹر خریدنے کی اجازت ہوگی۔ </p>

<p>اگرچہ حکومت نے خریداری کے لیے کوٹے کی وضاحت نہیں کی تاہم ٹماٹر درآمدات کے لیے 13 دسمبر کی ڈیڈ لائن طے کی ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098097">ٹماٹر دستیاب نہیں؟ تو اس کا متبادل جان لیں</a></strong></p>

<p>دوسری جانب حکومت کو یقین ہے کہ سندھ سے اگلے دو سے تین ہفتوں میں ٹماٹر اور پیاز کی نئی فصل مارکیٹ میں آجائے گی۔ 
اس دوران ایران سے درآمدات کسی حد تک اس خلا کو پُر کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔</p>

<p>توقع ہے کہ اگلے چار دن میں ٹماٹر پاکستان پہنچ جائیں گے۔</p>

<p>پاکستان کی جانب سے تفتان بارڈر پر ٹماٹروں کی ترسیل کے لیے ایران کا محکمہ سرٹیفکیٹ پیش کرےگا۔  </p>

<p>دوسری طرف حکومت نے ٹماٹر کی درآمد پر 5.5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس پر چھوٹ نہیں دی۔ </p>

<p>اس ٹیکس کے اثرات کا تخمینہ لگ بھگ 2 روپے فی کلو ہے تاہم  ٹماٹر کی درآمد کسٹم یا سیلز ٹیکس کے تابع نہیں ہے۔</p>

<p><strong>مزیدپڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114513">حکومت کا ایران سے ٹماٹر درآمد کرنے پر غور</a></strong> </p>

<p>خیال رہے کہ سبزیوں کی فراہمی میں آنے والے تعطل کی ایک وجہ بھارت کے ساتھ واہگہ بارڈر سے درآمد نہ ہونا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر نئی دہلی سے تجارت رکنے کے باعث بھی مقامی مارکیٹ میں سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔</p>

<p>تاہم حکومت کی جانب سے 3 اہم ترین سبزیوں ٹماٹر، پیاز اور آلو کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکسز کی چھوٹ کا فیصلہ کیا جانا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1114598</guid>
      <pubDate>Thu, 14 Nov 2019 10:58:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/11/5dcce2f5460f1.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/11/5dcce2f5460f1.png"/>
        <media:title>حکومت نے ٹماٹر کی درآمد پر 5.5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس پر چھوٹ نہیں دی۔—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
