<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 20:26:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 20:26:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وکی پیڈیا کے بانی نے فیس بک و ٹوئٹر کے ٹکر کی ویب سائٹ متعارف کرادی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1114858/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹرنیٹ پر تقریباً دنیا کے ہر موضوع پر مفت معلومات فراہم کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کانٹینٹ ویب سائٹ ’وکی پیڈیا‘ کے شریک بانی جمی ویلز نے فیس بک اور ٹوئٹر کے ٹکر کی نئی سوشل ویب سائٹ متعارف کرادی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جمی ویلز کی جانب سے ’ڈبلیو ٹی سوشل‘ کے نام سے متعارف کرائی گئی سوشل ویب سائٹ دراصل ان کی جانب سے 2 سال قبل متعارف کرائی گئی نیوز ویب سائٹ کا تسلسل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جمی ویلز نے 2017 میں ’وکی ٹربیون‘ نامی وکی پیڈیا طرز کی ایب نیوز ویب سائٹ متعارف کرائی تھی، اس ویب سائٹ کا مقصد دنیا بھر کے حالات کو جوں کا توں شائقین تک پہچانا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.wikitribune.com/"&gt;&lt;strong&gt;’وکی ٹربیون‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; دنیا کی ایک ایسی منفرد نیوز ویب سائٹ ہے جسے کے مضامین اور خبروں کو ’وکی پیڈیا‘ کی طرح دوسرے لوگ بھی ایڈٹ اور تبدیل کر سکتے ہیں اور اسی وجہ سے اسے دیگر نیوز سائٹس کے مقابلے کم شہرت ملی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’وکی ٹربیون‘ کے بعد اب اس کے بانی جمی ویلز نے ’ڈبلیو ٹی سوشل‘ نامی سوشل انفارمیشن شیئرنگ ویب سائٹ متعارف کرادی۔
جیمز ویلز نے اس نئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو ایک ماہ قبل آزمائشی بنیادوں پر متعارف کرایا تھا، تاہم اب اسے باقاعدہ طور پر متعارف کرادیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جمی ویلز نے اپنی ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ ان کی جانب سے متعارف کرائی گئی سوشل ویب سائٹ پر ایک لاکھ صارفین نے اپنے اکاؤنٹ بنا لیے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/jimmy_wales/status/1195447430273212418"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فنانشل ٹائمز کے &lt;a href="https://www.ft.com/content/9956ff9c-0622-11ea-a984-fbbacad9e7dd"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; جمی ویلز کا کہنا تھا کہ ان کی جانب سے متعارف کرائی گئی سوشل انفارمیشن ویب سائٹ جہاں ایک طرف فیس بک اور ٹوئٹر کی طرح کام کرے گی، وہیں وہ منفرد بھی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ چوں کہ فیس بک اور ٹوئٹر صحافتی اداروں کا مواد پھیلانے کے لیے ایڈوٹائزنگ کی مد میں پیسے کماتے ہیں اس لیے وہاں پر کمائی کی لالچ میں صارفین تک غلط معلومات بھی پھیلائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جمی ویلز کے مطابق ’ڈبلیو ٹی سوشل‘ پر اشتہارات نہیں دیے جائیں گے البتہ اس فورم پر لوگوں سے ’ڈونیشن‘ کا مطالبہ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جمی ویلز نے بتایا کہ یہ استعمال کرنے والے صارف پر انحصار ہے کہ وہ ’ڈبلیو ٹی سوشل‘ کو ’ڈونیشن‘ فراہم کرتا ہے یا نہیں، کیوں کہ ویب سائٹ میں ڈونیشن کے فیچر کو اسکپ کرنے کا آپشن بھی دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے امید ظاہر کی کہ بغیر کسی معاوضے اور کمائی والی ان کی سوشل انفارمیشن ویب سائیٹ پر لوگوں دوسرے افراد تک درست اور معنی خیز معلومات پہنچانے کا کارنامہ سر انجام دیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’ڈبلیو ٹی سوشل‘ پر اکاؤنٹ بنانا انتہائی آسان ہے، دیگر سوشل ویب سائٹس کی طرح اس پر بھی اکاؤنٹ بنانے کے لیے پہلے مرحلے میں نام، ای میل، تاریخ پیدائش اور دیگر اہم معلومات پوچھی جاتی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس لنک کو کلک کرکے &lt;a href="https://wt.social/"&gt;&lt;strong&gt;’ڈبلیو ٹی سوشل‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; پر اکاؤنٹ بنایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/11/5dd13dfadcd1b.jpg"  alt="ڈبلیو ٹی سوشل پر اکاؤنٹ بنانا انتہائی آسان ہے&amp;mdash;اسکرین شاٹ" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ڈبلیو ٹی سوشل پر اکاؤنٹ بنانا انتہائی آسان ہے—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹرنیٹ پر تقریباً دنیا کے ہر موضوع پر مفت معلومات فراہم کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کانٹینٹ ویب سائٹ ’وکی پیڈیا‘ کے شریک بانی جمی ویلز نے فیس بک اور ٹوئٹر کے ٹکر کی نئی سوشل ویب سائٹ متعارف کرادی۔</p>

<p>جمی ویلز کی جانب سے ’ڈبلیو ٹی سوشل‘ کے نام سے متعارف کرائی گئی سوشل ویب سائٹ دراصل ان کی جانب سے 2 سال قبل متعارف کرائی گئی نیوز ویب سائٹ کا تسلسل ہے۔</p>

<p>جمی ویلز نے 2017 میں ’وکی ٹربیون‘ نامی وکی پیڈیا طرز کی ایب نیوز ویب سائٹ متعارف کرائی تھی، اس ویب سائٹ کا مقصد دنیا بھر کے حالات کو جوں کا توں شائقین تک پہچانا ہے۔</p>

<p><a href="https://www.wikitribune.com/"><strong>’وکی ٹربیون‘</strong></a> دنیا کی ایک ایسی منفرد نیوز ویب سائٹ ہے جسے کے مضامین اور خبروں کو ’وکی پیڈیا‘ کی طرح دوسرے لوگ بھی ایڈٹ اور تبدیل کر سکتے ہیں اور اسی وجہ سے اسے دیگر نیوز سائٹس کے مقابلے کم شہرت ملی۔</p>

<p>’وکی ٹربیون‘ کے بعد اب اس کے بانی جمی ویلز نے ’ڈبلیو ٹی سوشل‘ نامی سوشل انفارمیشن شیئرنگ ویب سائٹ متعارف کرادی۔
جیمز ویلز نے اس نئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو ایک ماہ قبل آزمائشی بنیادوں پر متعارف کرایا تھا، تاہم اب اسے باقاعدہ طور پر متعارف کرادیا گیا۔</p>

<p>جمی ویلز نے اپنی ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ ان کی جانب سے متعارف کرائی گئی سوشل ویب سائٹ پر ایک لاکھ صارفین نے اپنے اکاؤنٹ بنا لیے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/jimmy_wales/status/1195447430273212418"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>فنانشل ٹائمز کے <a href="https://www.ft.com/content/9956ff9c-0622-11ea-a984-fbbacad9e7dd"><strong>مطابق</strong></a> جمی ویلز کا کہنا تھا کہ ان کی جانب سے متعارف کرائی گئی سوشل انفارمیشن ویب سائٹ جہاں ایک طرف فیس بک اور ٹوئٹر کی طرح کام کرے گی، وہیں وہ منفرد بھی ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ چوں کہ فیس بک اور ٹوئٹر صحافتی اداروں کا مواد پھیلانے کے لیے ایڈوٹائزنگ کی مد میں پیسے کماتے ہیں اس لیے وہاں پر کمائی کی لالچ میں صارفین تک غلط معلومات بھی پھیلائی جاتی ہے۔</p>

<p>جمی ویلز کے مطابق ’ڈبلیو ٹی سوشل‘ پر اشتہارات نہیں دیے جائیں گے البتہ اس فورم پر لوگوں سے ’ڈونیشن‘ کا مطالبہ کیا جائے گا۔</p>

<p>جمی ویلز نے بتایا کہ یہ استعمال کرنے والے صارف پر انحصار ہے کہ وہ ’ڈبلیو ٹی سوشل‘ کو ’ڈونیشن‘ فراہم کرتا ہے یا نہیں، کیوں کہ ویب سائٹ میں ڈونیشن کے فیچر کو اسکپ کرنے کا آپشن بھی دیا گیا ہے۔</p>

<p>انہوں نے امید ظاہر کی کہ بغیر کسی معاوضے اور کمائی والی ان کی سوشل انفارمیشن ویب سائیٹ پر لوگوں دوسرے افراد تک درست اور معنی خیز معلومات پہنچانے کا کارنامہ سر انجام دیں گے۔</p>

<p>’ڈبلیو ٹی سوشل‘ پر اکاؤنٹ بنانا انتہائی آسان ہے، دیگر سوشل ویب سائٹس کی طرح اس پر بھی اکاؤنٹ بنانے کے لیے پہلے مرحلے میں نام، ای میل، تاریخ پیدائش اور دیگر اہم معلومات پوچھی جاتی ہیں۔ </p>

<p>اس لنک کو کلک کرکے <a href="https://wt.social/"><strong>’ڈبلیو ٹی سوشل‘</strong></a> پر اکاؤنٹ بنایا جا سکتا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/11/5dd13dfadcd1b.jpg"  alt="ڈبلیو ٹی سوشل پر اکاؤنٹ بنانا انتہائی آسان ہے&mdash;اسکرین شاٹ" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ڈبلیو ٹی سوشل پر اکاؤنٹ بنانا انتہائی آسان ہے—اسکرین شاٹ</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1114858</guid>
      <pubDate>Mon, 18 Nov 2019 15:13:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/11/5dd13d491bfc1.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/11/5dd13d491bfc1.jpg?0.5036556546293682"/>
        <media:title>ڈبلیو ٹی سوشل پر زیادہ تر خبریں اور معلوماتی مواد شیئر جا سکے گا—فوٹو: ہتک فرانس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
