<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Balochistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 20 Apr 2026 17:59:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 20 Apr 2026 17:59:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئٹہ: کالعدم تنظیم کے 2 سابق اراکین قتل
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1114894/</link>
      <description>&lt;p&gt;صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے کلی شابو میں نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے 2 بھائیوں کو قتل کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس حکام کے مطابق مسلح ملزمان نے درو خان اور عبدالعزیز کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ کار میں سوار ہو کر اپنے گھر جارہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واقعے کی مزید تفصیل بتاتے ہوئے پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان موٹر سائیکلوں پر سوار تھے، جنہوں نے دونوں بھائیوں پر خودکار ہتھیار سے حملہ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فائرنگ کے نتیجے میں دونوں بھائیوں کو 6، 6 گولیاں لگیں، جن میں سے ایک نے جائے وقوع پر ہی دم توڑ دیا جبکہ دوسرا بھائی ہسپتال پہنچ کر ہلاک ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1025250"&gt;بلوچستان: 400 عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈال دیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1517343/two-ex-members-of-banned-outfit-shot-dead-in-quetta"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ماضی میں درو خان اور عبدالعزیز کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے تھا، جنہوں نے گزشتہ سال ہی سیکیورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال کر ریاست مخالف لڑائی ختم کردی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب اس واقع کے بعد رات تک اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ صوبہ بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی زیر سرپرستی صوبائی حکومت نے &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1060349"&gt;سیاسی مفاہمتی پالیسی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد صوبے میں جاری خون ریزی کو ختم کرنا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ خون ریزی گزشتہ ایک دہائی سے بلوچ علیحدگی پسندوں اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کرنے والے عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے کی جارہی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1056348"&gt;بلوچستان میں 434 فراریوں نے ہتھیار ڈال دیئے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے بعد سے اب تک ہزاروں سابق شرپسند ہتھیار ڈال کر ریاست مخالف سرگرمیاں ترک کرچکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سلسلے میں اس وقت کے صوبائی سیکریٹری داخلہ نے ڈان کو بتایا تھا کہ سیاسی مفاہمتی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے فراریوں کو فی کس &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1036503"&gt;5 لاکھ روپے معاوضہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; بھی ادا کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ بڑی تعداد میں فراریوں نے مستقبل میں ہتھیار ڈال کر قومی دہارے میں شامل ہونے اور ملک کے استحکام کیلئے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے کلی شابو میں نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے 2 بھائیوں کو قتل کردیا۔</p>

<p>پولیس حکام کے مطابق مسلح ملزمان نے درو خان اور عبدالعزیز کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ کار میں سوار ہو کر اپنے گھر جارہے تھے۔</p>

<p>واقعے کی مزید تفصیل بتاتے ہوئے پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان موٹر سائیکلوں پر سوار تھے، جنہوں نے دونوں بھائیوں پر خودکار ہتھیار سے حملہ کیا۔</p>

<p>فائرنگ کے نتیجے میں دونوں بھائیوں کو 6، 6 گولیاں لگیں، جن میں سے ایک نے جائے وقوع پر ہی دم توڑ دیا جبکہ دوسرا بھائی ہسپتال پہنچ کر ہلاک ہوا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1025250">بلوچستان: 400 عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈال دیے</a></strong></p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1517343/two-ex-members-of-banned-outfit-shot-dead-in-quetta">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ماضی میں درو خان اور عبدالعزیز کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے تھا، جنہوں نے گزشتہ سال ہی سیکیورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال کر ریاست مخالف لڑائی ختم کردی تھی۔</p>

<p>دوسری جانب اس واقع کے بعد رات تک اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔</p>

<p>خیال رہے کہ صوبہ بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی زیر سرپرستی صوبائی حکومت نے <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1060349">سیاسی مفاہمتی پالیسی</a></strong> کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد صوبے میں جاری خون ریزی کو ختم کرنا تھا۔</p>

<p>مذکورہ خون ریزی گزشتہ ایک دہائی سے بلوچ علیحدگی پسندوں اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کرنے والے عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے کی جارہی تھی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1056348">بلوچستان میں 434 فراریوں نے ہتھیار ڈال دیئے</a></strong></p>

<p>جس کے بعد سے اب تک ہزاروں سابق شرپسند ہتھیار ڈال کر ریاست مخالف سرگرمیاں ترک کرچکے ہیں۔</p>

<p>اس سلسلے میں اس وقت کے صوبائی سیکریٹری داخلہ نے ڈان کو بتایا تھا کہ سیاسی مفاہمتی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے فراریوں کو فی کس <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1036503">5 لاکھ روپے معاوضہ</a></strong> بھی ادا کیا جاتا ہے۔</p>

<p>انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ بڑی تعداد میں فراریوں نے مستقبل میں ہتھیار ڈال کر قومی دہارے میں شامل ہونے اور ملک کے استحکام کیلئے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1114894</guid>
      <pubDate>Mon, 18 Nov 2019 15:14:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبارویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/11/5dd21d898d1d1.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/11/5dd21d898d1d1.jpg"/>
        <media:title>ملزمان موٹر سائیکلوں پر سوار تھے جنہوں نے دونوں بھائیوں پر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
