<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Amazing</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 02:35:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 02:35:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جب سستے ڈیزائنر ملبوسات کے لیے خریدار کشتی لڑنے لگے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1115239/</link>
      <description>&lt;p&gt;سستے کپڑوں کی خریداری اور وہ بھی اگر برانڈڈ ملبوسات ہوں، تو خواتین کا خواب ہی ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر یہ کون سوچ سکتا ہے کہ ڈیزائنر کپڑوں کو سستے داموں خریدنے کے لیے خریداروں میں ریسلنگ شروع ہوجائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر ایسا انوکھا منظر فلپائن کے جنرل سانتوز سٹی نامی شہر میں ایک کپڑوں کی سیل کے دوران دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;16 نومبر کو صبح 8 بجے متعدد خریدار سستے برانڈڈ ملبوسات خریدنے کے لیے پہنچے جہاں استعمال شدہ ایک جوڑا 35 فلپائنی پیسوز (280 پاکستانی روپے) میں فروخت کے لیے پیش کیا جارہا تھا، ورنہ عام طور پر یہ ڈیزائنر ملبوسات ہزاروں پیسوز میں فروخت ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر فروخت کے آغاز سے ہی قبل خریداروں نے لوٹ مار شروع کرتے ہوئے تھیلوں کو کھینچنا اور پھاڑنا شروع کردیا تاکہ وہ لباس ان کے حصے میں ہی آئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح میز کے اوپر دھکم پیل نظر آرہی ہے اور لوگ کس طرح ایک دوسرے سے کشتی لڑرہے ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ ملبوسات خریدسکیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک شخص تو کپڑوں کے ڈھیر میں دفن ہی ہوگیا جبکہ دیگر افراد اس کے اوپر چڑھ کر لڑنا شروع ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہاں موجود ایک خاتون کا کہنا تھا کہ دکاندار ان سستے ملبوسات کو کم منافع میں دوبارہ فروخت کرنا چاہتے تھے مگر لوگوں نے پاگلوں کی طرح ان کو حاصل کرنے کی کوشش شروع کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خاتون کا کہنا تھا کہ یہ برانڈڈ ملبوسات کم قیمت میں اس لیے دستیاب تھے کیونکہ یہ بیرون ملک سے آئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/y2jZCoRB1ag?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سستے کپڑوں کی خریداری اور وہ بھی اگر برانڈڈ ملبوسات ہوں، تو خواتین کا خواب ہی ہوسکتا ہے۔</p>

<p>مگر یہ کون سوچ سکتا ہے کہ ڈیزائنر کپڑوں کو سستے داموں خریدنے کے لیے خریداروں میں ریسلنگ شروع ہوجائے۔</p>

<p>مگر ایسا انوکھا منظر فلپائن کے جنرل سانتوز سٹی نامی شہر میں ایک کپڑوں کی سیل کے دوران دیکھنے میں آیا۔</p>

<p>16 نومبر کو صبح 8 بجے متعدد خریدار سستے برانڈڈ ملبوسات خریدنے کے لیے پہنچے جہاں استعمال شدہ ایک جوڑا 35 فلپائنی پیسوز (280 پاکستانی روپے) میں فروخت کے لیے پیش کیا جارہا تھا، ورنہ عام طور پر یہ ڈیزائنر ملبوسات ہزاروں پیسوز میں فروخت ہوتے ہیں۔</p>

<p>مگر فروخت کے آغاز سے ہی قبل خریداروں نے لوٹ مار شروع کرتے ہوئے تھیلوں کو کھینچنا اور پھاڑنا شروع کردیا تاکہ وہ لباس ان کے حصے میں ہی آئے۔</p>

<p>ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح میز کے اوپر دھکم پیل نظر آرہی ہے اور لوگ کس طرح ایک دوسرے سے کشتی لڑرہے ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ ملبوسات خریدسکیں۔</p>

<p>ایک شخص تو کپڑوں کے ڈھیر میں دفن ہی ہوگیا جبکہ دیگر افراد اس کے اوپر چڑھ کر لڑنا شروع ہوگئے۔</p>

<p>وہاں موجود ایک خاتون کا کہنا تھا کہ دکاندار ان سستے ملبوسات کو کم منافع میں دوبارہ فروخت کرنا چاہتے تھے مگر لوگوں نے پاگلوں کی طرح ان کو حاصل کرنے کی کوشش شروع کردی۔</p>

<p>خاتون کا کہنا تھا کہ یہ برانڈڈ ملبوسات کم قیمت میں اس لیے دستیاب تھے کیونکہ یہ بیرون ملک سے آئے تھے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/y2jZCoRB1ag?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1115239</guid>
      <pubDate>Fri, 22 Nov 2019 23:26:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/11/5dd827db52780.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/11/5dd827db52780.jpg"/>
        <media:title>— اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
