<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 15:48:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 15:48:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جے یو آئی (ف) کے رہنما مفتی کفایت اللہ حملے میں زخمی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1115473/</link>
      <description>&lt;p&gt;جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مفتی کفایت اللہ، ان کے 2 بیٹے اور ساتھی صبح سویرے مانسہرہ میں بیدرا روڈ کے قریب ایک حملے میں زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مفتی کفایت اللہ کے بڑے بھائی حبیب الرحمٰن  نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ’حملہ آور وہ ہیں جن کے خلاف مفتی کفایت اللہ کھلے عام بات کرتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کروادیا گیا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس ترجمان محمد سہیل نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے مزید تفصیلات میڈیا کو جلد فراہم کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113336"&gt;آزادی مارچ: جے یو آئی کے مرکزی رہنما مفتی کفایت اللہ اسلام آباد سے 'گرفتار'&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اطلاعات کے مطابق جے یو آئی (ف) کے رہنما اسلام آباد سے مانسہرہ جارہے تھے جب بیدرا روڈ کے قریب ان کی گاڑی کو روک کر حملہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حملے کے نتیجے میں مفتی کفایت اللہ ان کے 2 بیٹے شبیر مفتی، حسین مفتی اور ایک ساتھی جان محمد کو شدید زخم آئے اور انہیں علاج کے لیے فوری طور پر کنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے والے ڈاکٹرز کے مطابق مفتی کفایت اللہ کی کمر اور جسم کے دیگر حصوں پر زخم آئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حسین مفتی کی جانب سے سٹی پولیس اسٹیشن تھانے میں درج کروائی گئی ایف آئی آر کے مطابق وفاقی دارالحکومت سے واپس آتے ہوئے راستے میں حملہ آوروں نے ان کی گاڑی روکی اور گاڑی میں سوار افراد کو لوہے کی سلاخوں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113610/"&gt;پشاور ہائیکورٹ کا جے یو آئی (ف) کے رہنما مفتی کفایت اللہ کی رہائی کا حکم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے مفتی کفایت اللہ کے بھائی حبیب الرحمٰن نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ حملہ آور جے یو آئی (ف) کے رہنما اور ان کے بیٹوں کو جان سے نہیں مارنا چاہتے تھے لیکن یہ ان کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ حملہ آوروں کے خلاف بات کرنا چھوڑ دیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ مفتی کفایت اللہ حال ہی میں خبروں کا حصہ اس وقت بنے تھے جب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ سے قبل انہیں 30 روز کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مانسہرہ کے ضلعی پولیس افسر نے مفتی کفایت اللہ پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے ایک ریلی کے دوران لوگوں کو آزادی مارچ میں شرکت کے لیے اکسایا، کارنر میٹنگز کی اور چندہ جمع کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1093462"&gt;اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں جے یو آئی کے سینئر رہنما گرفتار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعدازاں جے یو آئی (ف) کے رہنما کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت گرفتار کرکے ہری پور جیل منتقل کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم 3 روز بعد ہی پشاور ہائی کورٹ میں ان کی جانب سے ضمانت پر رہائی کے لیے دائر کردہ درخواست پر عدالت نے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل 14 دسمبر 2018 کو بھی پولیس نے جے یو آئی (ف) کے رہنما مفتی کفایت اللہ کو اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا تاہم انہیں بعد میں رہا کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مفتی کفایت اللہ، ان کے 2 بیٹے اور ساتھی صبح سویرے مانسہرہ میں بیدرا روڈ کے قریب ایک حملے میں زخمی ہوگئے۔</p>

<p>مفتی کفایت اللہ کے بڑے بھائی حبیب الرحمٰن  نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ’حملہ آور وہ ہیں جن کے خلاف مفتی کفایت اللہ کھلے عام بات کرتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کروادیا گیا‘۔</p>

<p>پولیس ترجمان محمد سہیل نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے مزید تفصیلات میڈیا کو جلد فراہم کی جائیں گی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113336">آزادی مارچ: جے یو آئی کے مرکزی رہنما مفتی کفایت اللہ اسلام آباد سے 'گرفتار'</a></strong> </p>

<p>اطلاعات کے مطابق جے یو آئی (ف) کے رہنما اسلام آباد سے مانسہرہ جارہے تھے جب بیدرا روڈ کے قریب ان کی گاڑی کو روک کر حملہ کیا گیا۔</p>

<p>حملے کے نتیجے میں مفتی کفایت اللہ ان کے 2 بیٹے شبیر مفتی، حسین مفتی اور ایک ساتھی جان محمد کو شدید زخم آئے اور انہیں علاج کے لیے فوری طور پر کنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا۔</p>

<p>زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے والے ڈاکٹرز کے مطابق مفتی کفایت اللہ کی کمر اور جسم کے دیگر حصوں پر زخم آئے۔</p>

<p>حسین مفتی کی جانب سے سٹی پولیس اسٹیشن تھانے میں درج کروائی گئی ایف آئی آر کے مطابق وفاقی دارالحکومت سے واپس آتے ہوئے راستے میں حملہ آوروں نے ان کی گاڑی روکی اور گاڑی میں سوار افراد کو لوہے کی سلاخوں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113610/">پشاور ہائیکورٹ کا جے یو آئی (ف) کے رہنما مفتی کفایت اللہ کی رہائی کا حکم</a></strong></p>

<p>اس حوالے سے مفتی کفایت اللہ کے بھائی حبیب الرحمٰن نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ حملہ آور جے یو آئی (ف) کے رہنما اور ان کے بیٹوں کو جان سے نہیں مارنا چاہتے تھے لیکن یہ ان کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ حملہ آوروں کے خلاف بات کرنا چھوڑ دیں۔</p>

<p>خیال رہے کہ مفتی کفایت اللہ حال ہی میں خبروں کا حصہ اس وقت بنے تھے جب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ سے قبل انہیں 30 روز کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔</p>

<p>مانسہرہ کے ضلعی پولیس افسر نے مفتی کفایت اللہ پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے ایک ریلی کے دوران لوگوں کو آزادی مارچ میں شرکت کے لیے اکسایا، کارنر میٹنگز کی اور چندہ جمع کیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1093462">اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں جے یو آئی کے سینئر رہنما گرفتار</a></strong></p>

<p>بعدازاں جے یو آئی (ف) کے رہنما کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت گرفتار کرکے ہری پور جیل منتقل کردیا گیا تھا۔</p>

<p>تاہم 3 روز بعد ہی پشاور ہائی کورٹ میں ان کی جانب سے ضمانت پر رہائی کے لیے دائر کردہ درخواست پر عدالت نے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا تھا۔</p>

<p>اس سے قبل 14 دسمبر 2018 کو بھی پولیس نے جے یو آئی (ف) کے رہنما مفتی کفایت اللہ کو اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا تاہم انہیں بعد میں رہا کردیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1115473</guid>
      <pubDate>Wed, 27 Nov 2019 14:50:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نثار احمد خانویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/11/5dddf4c4c34fb.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/11/5dddf4c4c34fb.png"/>
        <media:title>ڈاکٹرز کے مطابق جے یو آئی رہنما کی کمر اور جسم کے دیگر حصوں پر زخم آئے —تصویر: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
