<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 20:07:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 20:07:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملائیشیا: ٹیٹو شو میں عریانیت پھیلانے کا الزام، تحقیقات کا حکم
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1115867/</link>
      <description>&lt;p&gt;ملائیشیا کی حکومت نے دارالحکومت کوالا لمپور میں ہونے والے انٹرنیشنل ’ٹیٹو شو‘ کے دوران مبینہ عریانیت پھیلانے اور شرکا کی جانب سے انتہائی مختصر لباس میں شرکت کرنے کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملائشیا کی وزارت سیاحت و ثقافت کے وزیر محمد دین کیتاپی نے سوشل میڈیا پر ’ٹیٹو شو‘ کی انتہائی نامناسب اور نیم عریاں تصاویر وائرل ہونے کے بعد تفتیش کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق وزارت سیاحت و ثقافت کی اجازت سے ہی ہونے والے ’ٹیٹو شو‘ میں اس بار مبینہ طور پر شرکا کی جانب سے نیم عریاں حالت میں جسم کی نمائش کی گئی جن کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/12/5de6335d367c6.jpg"  alt="سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں خواتین کو بھی نامناسب انداز میں دیکھا گیا&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں خواتین کو بھی نامناسب انداز میں دیکھا گیا—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں ’ٹیٹو شو‘ میں شرکت کرنے والے مرد و خواتین ماڈلز کو نیم عریاں حالت میں دیکھا جا سکتا ہے اور لوگ ان کی تصاویر لیتے نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وائرل ہونے والی تصاویر میں مرد و خواتین ماڈلز کے پورے جسم پر طرح طرح کے ٹیٹوز بنے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں جب کہ انہیں صرف جنسی اعضا کو ڈھاپنے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تصاویر وائرل ہونے کے بعد وزیر سیاحت و ثقافت محمد دین کیتاپی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ’ٹیٹو شو‘ کی مذکورہ تصاویر کو ’عریانیت‘ قرار دیتے ہوئے تفتیش کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/12/5de634cd19d63.jpg"  alt="تصاویر وائرل ہونے پر ملائیشین حکومت نے معاملے کا نوٹس لے لیا&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;تصاویر وائرل ہونے پر ملائیشین حکومت نے معاملے کا نوٹس لے لیا—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محمد دین کیتاپی نے اپنی ایک ٹوئٹ میں بھی ’ٹیٹو شو‘ کے دوران نیم عریاں مرد و خواتین ماڈلز کی شرکت پر برہمی کا اظہار کیا اور اس عمل کو ’عریانیت‘ اور ’فحاشی‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر سیاحت و ثقافت کا کہنا تھا کہ اگرچہ ٹیٹو شو کو حکومت کی اجازت کے تحت منعقد کیا گیا، تاہم حکومت نے کسی کو بھی شو کے دوران فحاشی پھیلانے کی اجازت نہیں دی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ملائیشیا مسلمان آبادی کا سب سے بڑا ملک ہے، جہاں کی 60 فیصد سے زائد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے اور ’ٹیٹو شو‘ میں کیے گئے عمل کو کسی بھی طرح برداشت نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/MKetapi/status/1201328577280495616"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر سیاحت و ثقافت کا کہنا تھا کہ تفتیش میں غفلت کے مرتکب قرار پائے جانے والے ’ٹیٹو‘ آرٹسٹ و ماڈلز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ ملائیشیا میں 2015 سے حکومت کی سرپرستی میں ’ٹیٹو شو‘ منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں ہر سال دنیا کے مختلف ممالک کے ’ٹیٹو آرٹسٹ‘ اور ماڈلز شرکت کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سال دنیا کے 35 مختلف ممالک کے ٹیٹو آرٹسٹ اس شو میں شریک ہوئے تھے، تین روزہ شو کا آغاز یکم دسمبر کو ہوا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل ہونے والے ٹیٹو شوز میں اس طرح کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا تھا، تاہم پہلی بار ’ٹیٹو شو‘ میں مرد و خواتین ماڈلز کی جانب سے نیم عریاں ہوکر جسم پر گدوائے گئے ٹیٹوز کی نمائش کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/12/5de635657747b.jpg"  alt="ٹیٹو شو میں دنیا کے دیگر ممالک کے آرٹسٹوں نے بھی شرکت کی&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ٹیٹو شو میں دنیا کے دیگر ممالک کے آرٹسٹوں نے بھی شرکت کی—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ملائیشیا کی حکومت نے دارالحکومت کوالا لمپور میں ہونے والے انٹرنیشنل ’ٹیٹو شو‘ کے دوران مبینہ عریانیت پھیلانے اور شرکا کی جانب سے انتہائی مختصر لباس میں شرکت کرنے کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔</p>

<p>ملائشیا کی وزارت سیاحت و ثقافت کے وزیر محمد دین کیتاپی نے سوشل میڈیا پر ’ٹیٹو شو‘ کی انتہائی نامناسب اور نیم عریاں تصاویر وائرل ہونے کے بعد تفتیش کا حکم دیا۔</p>

<p>خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق وزارت سیاحت و ثقافت کی اجازت سے ہی ہونے والے ’ٹیٹو شو‘ میں اس بار مبینہ طور پر شرکا کی جانب سے نیم عریاں حالت میں جسم کی نمائش کی گئی جن کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/12/5de6335d367c6.jpg"  alt="سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں خواتین کو بھی نامناسب انداز میں دیکھا گیا&mdash;فوٹو: اے ایف پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں خواتین کو بھی نامناسب انداز میں دیکھا گیا—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں ’ٹیٹو شو‘ میں شرکت کرنے والے مرد و خواتین ماڈلز کو نیم عریاں حالت میں دیکھا جا سکتا ہے اور لوگ ان کی تصاویر لیتے نظر آتے ہیں۔</p>

<p>وائرل ہونے والی تصاویر میں مرد و خواتین ماڈلز کے پورے جسم پر طرح طرح کے ٹیٹوز بنے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں جب کہ انہیں صرف جنسی اعضا کو ڈھاپنے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔</p>

<p>تصاویر وائرل ہونے کے بعد وزیر سیاحت و ثقافت محمد دین کیتاپی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ’ٹیٹو شو‘ کی مذکورہ تصاویر کو ’عریانیت‘ قرار دیتے ہوئے تفتیش کا حکم دے دیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/12/5de634cd19d63.jpg"  alt="تصاویر وائرل ہونے پر ملائیشین حکومت نے معاملے کا نوٹس لے لیا&mdash;فوٹو: اے ایف پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">تصاویر وائرل ہونے پر ملائیشین حکومت نے معاملے کا نوٹس لے لیا—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>محمد دین کیتاپی نے اپنی ایک ٹوئٹ میں بھی ’ٹیٹو شو‘ کے دوران نیم عریاں مرد و خواتین ماڈلز کی شرکت پر برہمی کا اظہار کیا اور اس عمل کو ’عریانیت‘ اور ’فحاشی‘ قرار دیا۔</p>

<p>وزیر سیاحت و ثقافت کا کہنا تھا کہ اگرچہ ٹیٹو شو کو حکومت کی اجازت کے تحت منعقد کیا گیا، تاہم حکومت نے کسی کو بھی شو کے دوران فحاشی پھیلانے کی اجازت نہیں دی۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ملائیشیا مسلمان آبادی کا سب سے بڑا ملک ہے، جہاں کی 60 فیصد سے زائد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے اور ’ٹیٹو شو‘ میں کیے گئے عمل کو کسی بھی طرح برداشت نہیں کیا جائے گا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/MKetapi/status/1201328577280495616"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>وزیر سیاحت و ثقافت کا کہنا تھا کہ تفتیش میں غفلت کے مرتکب قرار پائے جانے والے ’ٹیٹو‘ آرٹسٹ و ماڈلز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔</p>

<p>خیال رہے کہ ملائیشیا میں 2015 سے حکومت کی سرپرستی میں ’ٹیٹو شو‘ منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں ہر سال دنیا کے مختلف ممالک کے ’ٹیٹو آرٹسٹ‘ اور ماڈلز شرکت کرتے ہیں۔</p>

<p>اس سال دنیا کے 35 مختلف ممالک کے ٹیٹو آرٹسٹ اس شو میں شریک ہوئے تھے، تین روزہ شو کا آغاز یکم دسمبر کو ہوا تھا۔</p>

<p>اس سے قبل ہونے والے ٹیٹو شوز میں اس طرح کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا تھا، تاہم پہلی بار ’ٹیٹو شو‘ میں مرد و خواتین ماڈلز کی جانب سے نیم عریاں ہوکر جسم پر گدوائے گئے ٹیٹوز کی نمائش کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/12/5de635657747b.jpg"  alt="ٹیٹو شو میں دنیا کے دیگر ممالک کے آرٹسٹوں نے بھی شرکت کی&mdash;فوٹو: اے ایف پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ٹیٹو شو میں دنیا کے دیگر ممالک کے آرٹسٹوں نے بھی شرکت کی—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1115867</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Dec 2019 15:57:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/12/5de6320c2e0fe.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/12/5de6320c2e0fe.jpg?0.19222008707540938"/>
        <media:title>ملائیشیا میں ہر سال ٹیٹو شو کا انعقاد کیا جاتا ہے—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
