<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 07:34:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 07:34:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مسلم لیگ (ن) کا لندن میں شہباز شریف کی سربراہی میں مشاورتی اجلاس
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1116188/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا لندن میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی صدارت میں اجلاس ہوا جہاں آرمی چیف کی مدت اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے اراکین تعنیات سمیت دیگر پارلیمانی امور پر مشاوت کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پارٹی صدر شہباز شریف سے مشاورت کے لیے لندن پہنچنے والے رہنماؤں میں خواجہ آصف، احسن اقبال، سینیٹر پرویز رشید، رانا تنویر حسین، سردار ایاز صادق اور مریم اورنگ زیب شامل ہیں جبکہ مشاورت میں اسحٰق ڈار بھی شریک تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مسلم لیگ (ن) کا مشاورتی اجلاس ایجویئر روڈ میں ماروش گارڈن میں ہوا جس کے بعد تمام رہنما پارٹی قائد نواز شریف سے ملاقات کے لیے ایون فیلڈ روانہ ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1116008"&gt;مسلم لیگ (ن) کا وفد اہم سیاسی معاملات پر پارٹی قیادت سے مشاورت کیلئے لندن روانہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/12/5debb71ad5cdf.jpg"  alt="خواجہ آصف نے میڈیا کو آگاہ کیا&amp;mdash;فوٹو:عاتکہ رحمٰن" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;خواجہ آصف نے میڈیا کو آگاہ کیا—فوٹو:عاتکہ رحمٰن&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خواجہ آصف نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘شہباز شریف کو حالیہ ہفتوں کے دوران سامنے آنے والے پارلیمانی معاملات سے آگاہ کیا گیا اور ان معاملات پر ان سے رہنمائی لی گئی’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم پاکستان واپسی پر ان معاملات میں پارٹی کی پالیسی وضع کریں گے، آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر عدالت کا تفصیلی فیصلہ آنے تک کوئی بات نہیں کرسکتا’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نئے انتخابات کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘ہمارا موقف ہے کہ اگر نئے انتخابات ہونے ہیں تو پہلا قدم ان ہاؤس تبدیلی ہو’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اجلاس میں پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے 190 ملین پاؤنڈز کی وصولی کا معاملہ زیر بحث نہیں آیا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5debf0cf1dd58'&gt;شہباز شریف کی گفتگو&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;نواز شریف کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ‘نواز شریف جلد روبصحت ہوں گے اور ڈاکٹر اجازت دیں گے تو وطن لوٹیں گے، اس سے پہلے سیاسی ملاقات ہوئی جس میں پاکستان میں جاری معاملات پر گفتگو ہوئی’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر کے تعیناتی پر تبادلہ خیال کیا، بطور اپوزیشن لیڈر وزیراعظم کو خط لکھا، ان کا بھی خط آیا اور میں نے جواب دے دیا، انہوں نے 3 نام دیے ہیں اور ہم نے بھی تین نام دیے ہیں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ‘ہماری بھرپور اور دل کی اتھاہ گہرائیوں سے کوشش ہوگی کہ ہم خلوص سے ان کے ساتھ گفتگو کریں اور جو سب سے اچھا امیدوار ہے اس کی تعیناتی کے لیے اتفاق رائے پیدا کریں، اللہ کرے یہ مرحلہ عبور کریں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ‘ماضی قریب میں عمران خان کے حوالے سے تجربات بہت مایوس کن ہیں لیکن امید رکھنی چاہیے اور ہماری پوری کوشش ہوگی’۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5debf0cf1dda9'&gt;'نواز شریف کی صحت پر تشویش ہے'&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;احسن اقبال نے کہا کہ ‘یہاں آنے کا مقصد نواز شریف کی عیادت کرنا تھا اور حسین نواز نے صحت کے حوالے سے بریف کیا’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نواز شریف کی صحت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘اب بھی جو بات تشویش کی ہے وہ یہ ہے ان کے پلیٹلیٹس کم ہیں، ڈاکٹر ادویات کے ذریعے برابر کر رہے ہیں اور اس کی وجہ جاننے کے لیے کوششیں جاری ہیں، انہیں کلیئر قرار نہیں کیا گیا’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘نواز شریف نے خاص طور پر قوم سے شکریہ ادا کرنے کو کہا ہے، ملک بھر سے پیغامات ملتے ہیں اور مختلف سیاسی رہنماؤں نے پیغام بھیجیں ہیں جس کے لیے وہ ان کے شکرگزار ہیں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل ہونے والے اجلاس میں زیر بحث آنے والے معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘آرمی چیف کے معاملے پر ہم نے محسوس کیا کہ یہ حکومت غیرسنجیدہ ہے، اس نے دانستہ طور پر ایک ایسا حساس معاملہ جس کو معمول کے مطابق حل ہونا چاہیے تھا لیکن الجھایا جس سے پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ‘یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ حکومت یا تو نااہل ہے یا پھر بددیانت ہے اور اسی طرح چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کا معاملہ بھی 3 سال پہلے پتہ تھا کہ 6 دسمبر 2019 کو ریٹائر ہونا ہے لیکن ان کی تقرری کے لیے وزیراعظم نے وقت پر مشاورت کا عمل شروع نہیں کیا’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘اس معاملے کو اتنا لٹکایا کہ چند دن رہ گئے، پھر اپوزیشن لیڈر نے تنگ آکر خود خط لکھا نام بھیجے جس پر وزیراعظم ہاؤس بھی جاگا اور اپنے نام بھیجے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے اتفاق کیا کہ دیگر جماعتوں سے مل کر ایسے ناموں پر اتفاق رائے پیدا کریں جس سے الیکشن کمیشن کی ساکھ بحال ہو اور آئندہ عام انتخابات کے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف ہونے کی یقین دہانی حاصل کی جاسکے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ‘آج ہم نے معاشی صورت حال اور بجلی کے بل میں باربار اضافہ اور دیگر مہنگائی پر بھی غور کیا اور مذمت کی اور مسلم لیگ (ن) دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر ملک بھر میں پریس کلبوں کے باہر اور پارلیمنٹ کےاندر بھی احتجاج کرے گی’۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/12/5debb86d542c2.jpg"  alt="مسلم لیگ(ن) کے رہنما اجلاس کے بعد نواز شریف سے ملاقات کے لیے روانہ ہوئے&amp;mdash;فوٹو:عاتکہ رحمٰن" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مسلم لیگ(ن) کے رہنما اجلاس کے بعد نواز شریف سے ملاقات کے لیے روانہ ہوئے—فوٹو:عاتکہ رحمٰن&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگ زیب نے پاکستان سے لندن روانگی سے قبل ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘ہم پارٹی قائد کی عیادت کریں گے اور آرمی چیف، نئے چیئرمین الیکشن کمیشن کی تعیناتی اور قانون سازی کے معاملے پر نواز شریف اور شہباز شریف سے رہنمائی لیں گے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر اپنے فیصلے میں حکومت  اور پارلیمنٹ کو 6 ماہ میں قانون سازی کرنے کو کہا تھا جس میں مدت، شرائط اور دیگر معاملات کو قانون سازی کے تحت طے کرنے کا فیصلہ سنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن الیکشن کمیشن کے چیئرمین جسٹس (ر) سردار رضاخان کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے معاملے پر بھی متفق نہیں ہوسکے اور عدالت نے وقت دے دیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;الیکشن کمیشن میں اس وقت سندھ اور بلوچستان سے دو،دو اراکین بھی موجود نہیں ہیں تاہم قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) الطاف ابراہیم نے حلف اٹھا لیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1116056"&gt;جسٹس (ر) الطاف ابراہیم قریشی قائم مقام چیف الیکشن کمشنر بن گئے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;الیکشن کمیشن اس وقت غیر فعال ہوچکا ہے کیونکہ قائم چیف الیکشن کمشنر کے پاس اہم معاملات کے حوالے سے اختیارات نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا تھا کہ کمیشن کے غیر فعال ہونے سے انتخابی فہرستوں، سیاسی جماعتوں کے فنڈز کی اسکروٹنی سمیت بہت سی اہم سرگرمیاں مکمل طور پر رک گئیں جبکہ کسی بھی ضمنی انتخاب اور بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں میں بھی تعطل آگیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق رکن پنجاب جسٹس (ر) الطاف ابراہیم قریشی کے قائم مقام الیکشن کمشنر بننے کے بعد بھی ان کے پاس کسی قسم کی شکایت کو سننے کے لیے بینچ تشکیل دینے کا اختیار نہیں ہے کیوں کہ قانون کے تحت بینچ 3 ارکان پر مشتمل ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا لندن میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی صدارت میں اجلاس ہوا جہاں آرمی چیف کی مدت اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے اراکین تعنیات سمیت دیگر پارلیمانی امور پر مشاوت کی گئی۔</p>

<p>پارٹی صدر شہباز شریف سے مشاورت کے لیے لندن پہنچنے والے رہنماؤں میں خواجہ آصف، احسن اقبال، سینیٹر پرویز رشید، رانا تنویر حسین، سردار ایاز صادق اور مریم اورنگ زیب شامل ہیں جبکہ مشاورت میں اسحٰق ڈار بھی شریک تھے۔</p>

<p>مسلم لیگ (ن) کا مشاورتی اجلاس ایجویئر روڈ میں ماروش گارڈن میں ہوا جس کے بعد تمام رہنما پارٹی قائد نواز شریف سے ملاقات کے لیے ایون فیلڈ روانہ ہوگئے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1116008">مسلم لیگ (ن) کا وفد اہم سیاسی معاملات پر پارٹی قیادت سے مشاورت کیلئے لندن روانہ</a></strong></p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/12/5debb71ad5cdf.jpg"  alt="خواجہ آصف نے میڈیا کو آگاہ کیا&mdash;فوٹو:عاتکہ رحمٰن" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">خواجہ آصف نے میڈیا کو آگاہ کیا—فوٹو:عاتکہ رحمٰن</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>خواجہ آصف نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘شہباز شریف کو حالیہ ہفتوں کے دوران سامنے آنے والے پارلیمانی معاملات سے آگاہ کیا گیا اور ان معاملات پر ان سے رہنمائی لی گئی’۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم پاکستان واپسی پر ان معاملات میں پارٹی کی پالیسی وضع کریں گے، آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر عدالت کا تفصیلی فیصلہ آنے تک کوئی بات نہیں کرسکتا’۔</p>

<p>نئے انتخابات کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘ہمارا موقف ہے کہ اگر نئے انتخابات ہونے ہیں تو پہلا قدم ان ہاؤس تبدیلی ہو’۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ اجلاس میں پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے 190 ملین پاؤنڈز کی وصولی کا معاملہ زیر بحث نہیں آیا۔</p>

<h3 id='5debf0cf1dd58'>شہباز شریف کی گفتگو</h3>

<p>نواز شریف کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ‘نواز شریف جلد روبصحت ہوں گے اور ڈاکٹر اجازت دیں گے تو وطن لوٹیں گے، اس سے پہلے سیاسی ملاقات ہوئی جس میں پاکستان میں جاری معاملات پر گفتگو ہوئی’۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر کے تعیناتی پر تبادلہ خیال کیا، بطور اپوزیشن لیڈر وزیراعظم کو خط لکھا، ان کا بھی خط آیا اور میں نے جواب دے دیا، انہوں نے 3 نام دیے ہیں اور ہم نے بھی تین نام دیے ہیں’۔</p>

<p>اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ‘ہماری بھرپور اور دل کی اتھاہ گہرائیوں سے کوشش ہوگی کہ ہم خلوص سے ان کے ساتھ گفتگو کریں اور جو سب سے اچھا امیدوار ہے اس کی تعیناتی کے لیے اتفاق رائے پیدا کریں، اللہ کرے یہ مرحلہ عبور کریں’۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ‘ماضی قریب میں عمران خان کے حوالے سے تجربات بہت مایوس کن ہیں لیکن امید رکھنی چاہیے اور ہماری پوری کوشش ہوگی’۔</p>

<h3 id='5debf0cf1dda9'>'نواز شریف کی صحت پر تشویش ہے'</h3>

<p>احسن اقبال نے کہا کہ ‘یہاں آنے کا مقصد نواز شریف کی عیادت کرنا تھا اور حسین نواز نے صحت کے حوالے سے بریف کیا’۔</p>

<p>نواز شریف کی صحت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘اب بھی جو بات تشویش کی ہے وہ یہ ہے ان کے پلیٹلیٹس کم ہیں، ڈاکٹر ادویات کے ذریعے برابر کر رہے ہیں اور اس کی وجہ جاننے کے لیے کوششیں جاری ہیں، انہیں کلیئر قرار نہیں کیا گیا’۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘نواز شریف نے خاص طور پر قوم سے شکریہ ادا کرنے کو کہا ہے، ملک بھر سے پیغامات ملتے ہیں اور مختلف سیاسی رہنماؤں نے پیغام بھیجیں ہیں جس کے لیے وہ ان کے شکرگزار ہیں’۔</p>

<p>اس سے قبل ہونے والے اجلاس میں زیر بحث آنے والے معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘آرمی چیف کے معاملے پر ہم نے محسوس کیا کہ یہ حکومت غیرسنجیدہ ہے، اس نے دانستہ طور پر ایک ایسا حساس معاملہ جس کو معمول کے مطابق حل ہونا چاہیے تھا لیکن الجھایا جس سے پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی’۔</p>

<p>احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ‘یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ حکومت یا تو نااہل ہے یا پھر بددیانت ہے اور اسی طرح چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کا معاملہ بھی 3 سال پہلے پتہ تھا کہ 6 دسمبر 2019 کو ریٹائر ہونا ہے لیکن ان کی تقرری کے لیے وزیراعظم نے وقت پر مشاورت کا عمل شروع نہیں کیا’۔</p>

<p>اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘اس معاملے کو اتنا لٹکایا کہ چند دن رہ گئے، پھر اپوزیشن لیڈر نے تنگ آکر خود خط لکھا نام بھیجے جس پر وزیراعظم ہاؤس بھی جاگا اور اپنے نام بھیجے’۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے اتفاق کیا کہ دیگر جماعتوں سے مل کر ایسے ناموں پر اتفاق رائے پیدا کریں جس سے الیکشن کمیشن کی ساکھ بحال ہو اور آئندہ عام انتخابات کے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف ہونے کی یقین دہانی حاصل کی جاسکے’۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ‘آج ہم نے معاشی صورت حال اور بجلی کے بل میں باربار اضافہ اور دیگر مہنگائی پر بھی غور کیا اور مذمت کی اور مسلم لیگ (ن) دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر ملک بھر میں پریس کلبوں کے باہر اور پارلیمنٹ کےاندر بھی احتجاج کرے گی’۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/12/5debb86d542c2.jpg"  alt="مسلم لیگ(ن) کے رہنما اجلاس کے بعد نواز شریف سے ملاقات کے لیے روانہ ہوئے&mdash;فوٹو:عاتکہ رحمٰن" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مسلم لیگ(ن) کے رہنما اجلاس کے بعد نواز شریف سے ملاقات کے لیے روانہ ہوئے—فوٹو:عاتکہ رحمٰن</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگ زیب نے پاکستان سے لندن روانگی سے قبل ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘ہم پارٹی قائد کی عیادت کریں گے اور آرمی چیف، نئے چیئرمین الیکشن کمیشن کی تعیناتی اور قانون سازی کے معاملے پر نواز شریف اور شہباز شریف سے رہنمائی لیں گے’۔</p>

<p>یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر اپنے فیصلے میں حکومت  اور پارلیمنٹ کو 6 ماہ میں قانون سازی کرنے کو کہا تھا جس میں مدت، شرائط اور دیگر معاملات کو قانون سازی کے تحت طے کرنے کا فیصلہ سنایا گیا تھا۔</p>

<p>دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن الیکشن کمیشن کے چیئرمین جسٹس (ر) سردار رضاخان کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے معاملے پر بھی متفق نہیں ہوسکے اور عدالت نے وقت دے دیا ہے۔</p>

<p>الیکشن کمیشن میں اس وقت سندھ اور بلوچستان سے دو،دو اراکین بھی موجود نہیں ہیں تاہم قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) الطاف ابراہیم نے حلف اٹھا لیا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1116056">جسٹس (ر) الطاف ابراہیم قریشی قائم مقام چیف الیکشن کمشنر بن گئے</a></strong></p>

<p>الیکشن کمیشن اس وقت غیر فعال ہوچکا ہے کیونکہ قائم چیف الیکشن کمشنر کے پاس اہم معاملات کے حوالے سے اختیارات نہیں ہیں۔</p>

<p>ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا تھا کہ کمیشن کے غیر فعال ہونے سے انتخابی فہرستوں، سیاسی جماعتوں کے فنڈز کی اسکروٹنی سمیت بہت سی اہم سرگرمیاں مکمل طور پر رک گئیں جبکہ کسی بھی ضمنی انتخاب اور بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں میں بھی تعطل آگیا۔</p>

<p>رپورٹ کے مطابق رکن پنجاب جسٹس (ر) الطاف ابراہیم قریشی کے قائم مقام الیکشن کمشنر بننے کے بعد بھی ان کے پاس کسی قسم کی شکایت کو سننے کے لیے بینچ تشکیل دینے کا اختیار نہیں ہے کیوں کہ قانون کے تحت بینچ 3 ارکان پر مشتمل ہونا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1116188</guid>
      <pubDate>Sat, 07 Dec 2019 23:34:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عاتکہ رحمان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/12/5debba4ba215f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/12/5debba4ba215f.jpg"/>
        <media:title>مسلم لیگ (ن) کے رہنما اجلاس کے بعد نواز شریف سے ملاقات کے لیے روانہ ہوئے—فوٹو: عاتکہ رحمٰن
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
