<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 12 Jun 2026 00:02:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 12 Jun 2026 00:02:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وکلا کا دل کے ہسپتال پر دھاوا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1116423/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) میں وکلا نے ہنگامہ آرائی کر کے ہسپتال کے اندر اور باہر توڑ پھوڑ کی جس کے باعث طبی امداد نہ ملنے سے 3 مریض جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے ہسپتال کے گیٹ توڑتے ہوئے ہسپتال میں داخل ہوگئے، وکلا نے نہ صرف ہسپتال پر پتھر برسائے بلکہ ہسپتال کی ایمرجنسی کے شیشے توڑے اس کے ساتھ ڈنڈوں اور لاتوں سے باہر کھڑی گاڑیوں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہنگامہ آرائی کے باعث کچھ مریض ہسپتال نہیں پہنچ سکے جبکہ ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کے ساتھ ڈاکٹروں کو دکھانے کے لیے آنے والے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وکلا کی جانب سے ہسپتال کے آئی سی یو، سی سی یو اور آپریشن تھیٹر کی جانب بھی پیش قدمی کی گئی جبکہ ہسپتال کے کچھ عملے کی جانب سے بھی وکلا پر تشدد کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہسپتال پر دھاوے، توڑ پھوڑ کے باعث اپنی جان بچانے لیے عملہ فوری طور پر باہر نکل گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہی نہیں بلکہ مشتعل وکلا نے میڈیا کے نمائندوں پر بھی پتھراؤ کیا جس سے ڈان نیوز ٹی وی کی خاتون رپورٹر کنزہ ملک زخمی ہوگئیں جبکہ ان کا موبائل بھی چھین لیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بگڑتی صورتحال کے پیش نظر پولیس کی اضافی نفری موقع پر پہنچی اور حالات پر قابو پانے کی کوشش کی، تاہم اس دوران مشتعل افراد نے ایک پولیس موبائل کو بھی آگ لگادی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر پولیس نے مشتعل وکلا کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور لاٹھی چارج بھی کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب وکلا نے الزام عائد کیا کہ وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ینگ ڈاکٹرز وکلا کا مذاق اڑا رہے تھے جس پر انہوں نے سوشل میڈیا پر مہم چلائی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) میں وکلا نے ہنگامہ آرائی کر کے ہسپتال کے اندر اور باہر توڑ پھوڑ کی جس کے باعث طبی امداد نہ ملنے سے 3 مریض جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔</p>

<p>رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے ہسپتال کے گیٹ توڑتے ہوئے ہسپتال میں داخل ہوگئے، وکلا نے نہ صرف ہسپتال پر پتھر برسائے بلکہ ہسپتال کی ایمرجنسی کے شیشے توڑے اس کے ساتھ ڈنڈوں اور لاتوں سے باہر کھڑی گاڑیوں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا۔</p>

<p>ہنگامہ آرائی کے باعث کچھ مریض ہسپتال نہیں پہنچ سکے جبکہ ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کے ساتھ ڈاکٹروں کو دکھانے کے لیے آنے والے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔</p>

<p>وکلا کی جانب سے ہسپتال کے آئی سی یو، سی سی یو اور آپریشن تھیٹر کی جانب بھی پیش قدمی کی گئی جبکہ ہسپتال کے کچھ عملے کی جانب سے بھی وکلا پر تشدد کیا گیا۔</p>

<p>ہسپتال پر دھاوے، توڑ پھوڑ کے باعث اپنی جان بچانے لیے عملہ فوری طور پر باہر نکل گیا۔</p>

<p>یہی نہیں بلکہ مشتعل وکلا نے میڈیا کے نمائندوں پر بھی پتھراؤ کیا جس سے ڈان نیوز ٹی وی کی خاتون رپورٹر کنزہ ملک زخمی ہوگئیں جبکہ ان کا موبائل بھی چھین لیا گیا۔</p>

<p>بگڑتی صورتحال کے پیش نظر پولیس کی اضافی نفری موقع پر پہنچی اور حالات پر قابو پانے کی کوشش کی، تاہم اس دوران مشتعل افراد نے ایک پولیس موبائل کو بھی آگ لگادی۔</p>

<p>ادھر پولیس نے مشتعل وکلا کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور لاٹھی چارج بھی کیا۔</p>

<p>مذکورہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب وکلا نے الزام عائد کیا کہ وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ینگ ڈاکٹرز وکلا کا مذاق اڑا رہے تھے جس پر انہوں نے سوشل میڈیا پر مہم چلائی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1116423</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Dec 2019 23:40:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/12/5df1340c64689.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="960" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/12/5df1340c64689.jpg"/>
        <media:title>پولیس نے مشتعل وکلا کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور لاٹھی چارج بھی کیا — فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/12/5df13409a0fee.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="960" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/12/5df13409a0fee.jpg"/>
        <media:title>وکلا نے نہ صرف ہسپتال پر پتھر برسائے بلکہ ہسپتال کی ایمرجنسی کے شیشے توڑے — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/12/5df13409a99d3.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="960" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/12/5df13409a99d3.jpg"/>
        <media:title>وکلا نے نہ صرف ہسپتال پر پتھر برسائے بلکہ ہسپتال کی ایمرجنسی کے شیشے توڑے — فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/12/5df1340b27b98.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="960" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/12/5df1340b27b98.jpg"/>
        <media:title>مشتعل افراد نے ایک پولیس موبائل کو بھی آگ لگادی — فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/12/5df1340c63554.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="960" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/12/5df1340c63554.jpg"/>
        <media:title>مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا — فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/12/5df13409c7f8a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="960" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/12/5df13409c7f8a.jpg"/>
        <media:title>پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے کئی افراد کو حراست میں بھی لیا — فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/12/5df13409c872d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="960" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/12/5df13409c872d.jpg"/>
        <media:title>بگڑتی صورتحال کے پیش نظر پولیس کی اضافی نفری موقع پر پہنچی اور حالات پر قابو پانے کی کوشش کی — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/12/5df1340a09b28.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="960" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/12/5df1340a09b28.jpg"/>
        <media:title>پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے کئی افراد کو حراست میں بھی لیا — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/12/5df1340b280ec.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="960" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/12/5df1340b280ec.jpg"/>
        <media:title>پولیس نے مشتعل وکلا کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور لاٹھی چارج بھی کیا — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/12/5df1340d7664c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="960" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/12/5df1340d7664c.jpg"/>
        <media:title>بگڑتی صورتحال کے پیش نظر پولیس کی اضافی نفری موقع پر پہنچی اور حالات پر قابو پانے کی کوشش کی — فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
