<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 12:28:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 12:28:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی سی حملہ: یہ نیا پاکستان ہے یا دیوانوں کی دنیا؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1116454/</link>
      <description>&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/12/5df1a11fd14ad.jpg"  alt="لکھاری ڈان کے اسٹاف ممبر ہیں۔" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;لکھاری ڈان کے اسٹاف ممبر ہیں۔&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وہ ویڈیو واقعی دنگ کردینے والی ہے۔ گزشتہ روز لاہور میں وکلا کے ایک مشتعل گروہ نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ایک ویڈیو گردش کرتی رہی جس میں لمبے بالوں والا ایک شخص کسی کے کاندھوں پر سوار ہوکر ارد گرد جمع لوگوں کے ایک بڑے ہجوم سے داد وصول کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہ شخص اس ہجوم کو سلیوٹ کرتا ہے، وہ اپنا ہاتھ کچھ اس طرح سینے پر رکھتا ہے جیسے لوگوں کا شکریہ ادا کر رہا ہو، وہ پھر سے انہیں اس انداز میں سلیوٹ کرتا ہے جیسے انہیں مخاطب کررہا ہو کہ ’آپ کا تہہ دل سے شکریہ‘، جواباً ہجوم ہاتھ اوپر اٹھا کر زبردست نعرے بازی کرنے لگتے ہیں۔ ان کے پس منظر میں پی آئی سی عمارت واضح نظر آ رہی ہے، جس کا مطلب یہی ہوا کہ یہ ویڈیو واقعے کے فوراً بعد ریکارڈ کی گئی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واقعے سے کچھ دیر پہلے بھی ایک ویڈیو محفوظ کی گئی تھی۔ یہ ویڈیو پی آئی سی کی طرف بڑھنے والوں میں سے ایک نے بظاہر براہِ راست نشر کی تھی۔ اس ویڈیو میں ہاتھ میں کیمرا تھامے شخص کو یہ شور مچاتے سنا جاسکتا ہے کہ، ’ہم آ رہے ہیں! ہم آ رہے ہیں ڈاکٹروں!‘ اس شخص کے ارد گرد لوگوں کا ہجوم تھا، جن کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھری ہوئی تھیں اور پوری طرح سے مشتعل تھے، سڑک پر رواں دواں یہ لوگ خوش مزاج اور مار پیٹ کے لیے پوری طرح سے تیار نظر آرہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نوجوان وکیل کیمرا اوپر اٹھاتا ہے اور اپنے پیچھے آنے والے کالے کوٹوں میں ملبوس وکلا کے ہجوم کی قوت دکھاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/patelfahim/status/1204733270161797120"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’لوگوں کا سمندر دیکھو ڈاکٹر!‘ ہجوم میں سے ایک شخص چیختا ہے۔ ایک اور شخص زور دار آواز میں کہتا ہے کہ، ’گھس کر ماریں گے، گھس کر!‘ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویڈیو ریکارڈ کرنے والا شخص کیمرے میں دیکھ کر چہرے پر مسکراہٹ پھیلائے اپنی انگلی ہوا میں لہراتے ہوئے کہتا ہے کہ ’آج ہوگا بائی باس! آج تمہیں اسٹنٹ ڈلیں گے!‘ وہ شخص ایک بار پھر کیمرا اوپر اٹھا کر اس بڑے ہجوم کو دکھاتے ہوئے کہتا ہے کہ ’آج تو تم گئے! یہ دیکھو ہمارا لشکر!‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’آج تم دیکھو گے کہ پتھر کیسے روتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویڈیو کی یہ آخری لائن دراصل اس ویڈیو میں شامل چھوٹی نظم کی ہے جس نے بظاہر اس پورے معاملے کو ہوا دی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کچھ دن پہلے منظرِ عام پر آنے والی اس ویڈیو میں ایک پُراعتماد نوجوان بڑے ہی پُرسکون انداز میں ہجوم سے مخاطب ہے۔ نوجوان ڈاکٹر بینچ پر کھڑا ہوکر اپنے سامنے موجود مجمعے کو لطیفے سناتے اور وکلا کی آواز اور لہجے کی نقل اتارتے ہوئے وہ کہانی بتا رہا ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس پورے معاملے کا آغاز ہوا تھا۔ اس کہانی میں وہ بتاتا ہے کہ کس طرح وکلا اس کے خلاف مقدمہ داخل کروانے کے لیے ایک سے دوسرے دفتر گئے لیکن ناکام رہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہ کہتا ہے کہ ایک کیس کے دوران ’لمبے بالوں والا وکیل کہتا ہے کہ براہِ مہربانی مقدمہ دائر کریں تاکہ ہمارا چہرہ بچ جائے‘، لیکن جس پولیس افسر سے یہ درخواست کی گئی تھی انہوں نے مقدمہ دائر کرنے سے انکار کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویڈیو میں نوجوان ڈاکٹر کو پوری لطف اندوزی کے ساتھ کہانی سناتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ وہ مجمعے کو بتاتا ہے کہ جب اس نے وکلا کی جانب سے افسر کو دباؤ میں لانے کی تمام کوششیں ناکام ہوتے دیکھیں تب وہ ’دل ہی دل میں ہنس رہا تھا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہ مزید کہتا ہے کہ ’اور جیسا کہ آپ کو پتا ہے کہ ہنستے ہنستے مجھے شعر یاد آجاتا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے بعد وہ یہ شعر سناتا ہے، &lt;/p&gt;

&lt;blockquote&gt;
  &lt;p&gt;سنا ہے اس کے اشکوں سے بجھی ہے پیاس صحرا کی &lt;/p&gt;
  
  &lt;p&gt;جو کہتا تها کہ پتھر ہوں، مجھے رونا نہیں آتا‘ &lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;

&lt;p&gt;تو جناب یہ تھا سارا ماجرہ۔ ایک ہسپتال میں چند وکلا اور چند ڈاکٹرز کے درمیان تنازع کھڑا ہوگیا۔ وکلا نے معاملے کو بڑھانے کی کوشش کی لیکن ان کی شکایت کا ازالہ نہیں کیا گیا۔ اور پھر انہوں نے ساکھ بچانے کے لیے معاملے کو ختم کردینا چاہا۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '&gt;            &lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/DawnNews/videos/2456393077941538//" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بظاہر، بقول حکومتِ پنجاب، دونوں گروہوں میں کچھ دن پہلے صلح ہوگئی تھی اور معاملہ ختم ہوگیا تھا۔ پھر ایک نوجوان ڈاکٹر کی ویڈیو منظرِ عام پر آئی جس میں وہ اپنے شوخ لہجے اور جاذب نظر انداز میں اس تنازع سے جڑے واقعات سناتا ہے اور اس دوران وہ اس شعر کا تڑکا بھی لگادیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--scribe  '&gt;                &lt;iframe src="https://www.dawnnews.tv/news/embed/1116423" allowfullscreen=""  frameborder="0" scrolling="no" width="100%" height="100%"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویڈیو دیکھ کر وکلا طیش میں آگئے، خاص طور پر اس ’لمبے بالوں والے‘ وکیل کو شدید غصہ آیا جس کا نام نوجوان ڈاکٹر نے اپنی ویڈیو میں عدیل بتایا ہے۔ واقعے کے بعد پنجاب بار کونسل نے ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں کہا گیا کہ وکلا کا مذاق اڑایا گیا ہے لہٰذا انہوں نے پُرامن طریقے سے ہسپتال کا رخ کیا، لیکن اس پریس ریلیز میں کہیں بھی تشدد کا ذکر نہیں ملتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کس طرح ان چبھتی باتوں نے اس بدترین حملے کی راہ ہموار کی اس حوالے سے اب بہت سی مختلف کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ مشتعل ہجوم جبراً ہسپتال میں داخل ہوا اور وہاں دھاوا بول دیا، ان کے راستے میں مریض سمیت جو بھی آیا اسے پیٹا گیا۔ مریضوں کے آکسیجن ماسک اتار دیے گئے، ان کی رگوں میں پیوست سوئیاں اکھاڑ دی گئیں، ان کے تیمارداروں کو ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ آئی سی یو خالی کروا دیا گیا، یہاں تک کہ آپریشن تھیٹر کو بھی نہیں بخشا گیا۔ ڈاکٹر اور نرسز ہسپتال کی حدود سے غائب ہوگئے جبکہ مریضوں کی جان بچانے کے لیے انہیں وہیل چیئرز پر ہسپتال سے باہر لایا گیا۔ اور سب سے افسوسناک بات یہ کہ اس واقعے کے نتیجے میں تشویشناک حالت سے دوچار 4 مریضوں کی موت واقع ہوگئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دراصل اس واقعے کی بنیادی وجہ انا ہے۔ آج میں نے اپنے بھائی کی یاد میں بستر کے ایک طرف موم بتی جلائی ہے۔ میرے بھائی نے قریب ڈیڑھ دہائی پہلے اسی ہسپتال کے آئی سی یو میں تقریباً 2 ہفتے گزارے تھے، جہاں ان کا پیچیدہ آپریشن ہوا تھا۔ جب میں نے خالی آئی سی یو اور ان مریضوں کے ورثا کی ویڈیو دیکھی جو طبیعت کی خرابی کے باوجود آئی سی یو خالی کرنے پر مجبور ہوئے تو مجھے اس واقعے کی شدت اور جرم کی سنگینی کا خوب اندازہ ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '&gt;            &lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/DawnNews/videos/580431482787126/" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بدھ کے روز پی آئی سی میں جو کچھ ہوا وہ ہماری انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر کسی دھبے سے کم نہیں ہے۔ ساہیوال واقعے کے بعد بھی عوامی حلقوں میں ایسا غم و غصہ دکھائی دیا تھا اور خود وزیرِاعظم نے بھی ’تیز ترین انصاف‘ فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ واقعہ فروری میں پیش آیا تھا۔ تاہم اکتوبر کے آتے آتے اس واقعے میں ملوث 6 کے 6 پولیس اہلکار مقدمے سے بری ہوچکے ہیں۔ حکومت نے اپیل دائر کرنے کا وعدہ کیا، مگر اس وقت سے لے کر اب تک کسی نے بھی اس کیس پر لب کشائی نہیں کی۔ اس واقعے کو خاموشی سے سرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے اور بھلایا جاچکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر یہی سب اس واقعے کے ساتھ ہوتا ہے تو ہماری انسانیت کے ضمیر پر لگا یہ داغ کبھی بھی نہیں دھل سکے گا۔ بار کونسل کے رہنما تو حکومت سے ٹکرانے کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ چند وزرا اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ فیصل واؤڈا کی ٹوئیٹ ہی پڑھ لیجیے، جس میں وہ لکھتے ہیں کہ ’یہ مسلم لیگ (ن) کے اشاروں پر چلنے والے مجرمان تھے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/FaisalVawdaPTI/status/1204763370026610691"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کیا ہم نئے پاکستان میں رہ رہے ہیں یا پھر دیوانوں کی دنیا میں؟&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1521790/today-you-will-see-how-rocks-cry"&gt;مضمون&lt;/a&gt; 12 دسمبر 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/12/5df1a11fd14ad.jpg"  alt="لکھاری ڈان کے اسٹاف ممبر ہیں۔" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">لکھاری ڈان کے اسٹاف ممبر ہیں۔</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p><strong>وہ ویڈیو واقعی دنگ کردینے والی ہے۔ گزشتہ روز لاہور میں وکلا کے ایک مشتعل گروہ نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ایک ویڈیو گردش کرتی رہی جس میں لمبے بالوں والا ایک شخص کسی کے کاندھوں پر سوار ہوکر ارد گرد جمع لوگوں کے ایک بڑے ہجوم سے داد وصول کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔</strong></p>

<p>وہ شخص اس ہجوم کو سلیوٹ کرتا ہے، وہ اپنا ہاتھ کچھ اس طرح سینے پر رکھتا ہے جیسے لوگوں کا شکریہ ادا کر رہا ہو، وہ پھر سے انہیں اس انداز میں سلیوٹ کرتا ہے جیسے انہیں مخاطب کررہا ہو کہ ’آپ کا تہہ دل سے شکریہ‘، جواباً ہجوم ہاتھ اوپر اٹھا کر زبردست نعرے بازی کرنے لگتے ہیں۔ ان کے پس منظر میں پی آئی سی عمارت واضح نظر آ رہی ہے، جس کا مطلب یہی ہوا کہ یہ ویڈیو واقعے کے فوراً بعد ریکارڈ کی گئی ہے۔ </p>

<p>واقعے سے کچھ دیر پہلے بھی ایک ویڈیو محفوظ کی گئی تھی۔ یہ ویڈیو پی آئی سی کی طرف بڑھنے والوں میں سے ایک نے بظاہر براہِ راست نشر کی تھی۔ اس ویڈیو میں ہاتھ میں کیمرا تھامے شخص کو یہ شور مچاتے سنا جاسکتا ہے کہ، ’ہم آ رہے ہیں! ہم آ رہے ہیں ڈاکٹروں!‘ اس شخص کے ارد گرد لوگوں کا ہجوم تھا، جن کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھری ہوئی تھیں اور پوری طرح سے مشتعل تھے، سڑک پر رواں دواں یہ لوگ خوش مزاج اور مار پیٹ کے لیے پوری طرح سے تیار نظر آرہے تھے۔</p>

<p>نوجوان وکیل کیمرا اوپر اٹھاتا ہے اور اپنے پیچھے آنے والے کالے کوٹوں میں ملبوس وکلا کے ہجوم کی قوت دکھاتا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/patelfahim/status/1204733270161797120"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>’لوگوں کا سمندر دیکھو ڈاکٹر!‘ ہجوم میں سے ایک شخص چیختا ہے۔ ایک اور شخص زور دار آواز میں کہتا ہے کہ، ’گھس کر ماریں گے، گھس کر!‘ </p>

<p>ویڈیو ریکارڈ کرنے والا شخص کیمرے میں دیکھ کر چہرے پر مسکراہٹ پھیلائے اپنی انگلی ہوا میں لہراتے ہوئے کہتا ہے کہ ’آج ہوگا بائی باس! آج تمہیں اسٹنٹ ڈلیں گے!‘ وہ شخص ایک بار پھر کیمرا اوپر اٹھا کر اس بڑے ہجوم کو دکھاتے ہوئے کہتا ہے کہ ’آج تو تم گئے! یہ دیکھو ہمارا لشکر!‘۔ </p>

<p>’آج تم دیکھو گے کہ پتھر کیسے روتے ہیں۔‘</p>

<p>ویڈیو کی یہ آخری لائن دراصل اس ویڈیو میں شامل چھوٹی نظم کی ہے جس نے بظاہر اس پورے معاملے کو ہوا دی۔ </p>

<p>کچھ دن پہلے منظرِ عام پر آنے والی اس ویڈیو میں ایک پُراعتماد نوجوان بڑے ہی پُرسکون انداز میں ہجوم سے مخاطب ہے۔ نوجوان ڈاکٹر بینچ پر کھڑا ہوکر اپنے سامنے موجود مجمعے کو لطیفے سناتے اور وکلا کی آواز اور لہجے کی نقل اتارتے ہوئے وہ کہانی بتا رہا ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس پورے معاملے کا آغاز ہوا تھا۔ اس کہانی میں وہ بتاتا ہے کہ کس طرح وکلا اس کے خلاف مقدمہ داخل کروانے کے لیے ایک سے دوسرے دفتر گئے لیکن ناکام رہے۔</p>

<p>وہ کہتا ہے کہ ایک کیس کے دوران ’لمبے بالوں والا وکیل کہتا ہے کہ براہِ مہربانی مقدمہ دائر کریں تاکہ ہمارا چہرہ بچ جائے‘، لیکن جس پولیس افسر سے یہ درخواست کی گئی تھی انہوں نے مقدمہ دائر کرنے سے انکار کردیا۔</p>

<p>ویڈیو میں نوجوان ڈاکٹر کو پوری لطف اندوزی کے ساتھ کہانی سناتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ وہ مجمعے کو بتاتا ہے کہ جب اس نے وکلا کی جانب سے افسر کو دباؤ میں لانے کی تمام کوششیں ناکام ہوتے دیکھیں تب وہ ’دل ہی دل میں ہنس رہا تھا‘۔</p>

<p>وہ مزید کہتا ہے کہ ’اور جیسا کہ آپ کو پتا ہے کہ ہنستے ہنستے مجھے شعر یاد آجاتا ہے‘۔</p>

<p>اس کے بعد وہ یہ شعر سناتا ہے، </p>

<blockquote>
  <p>سنا ہے اس کے اشکوں سے بجھی ہے پیاس صحرا کی </p>
  
  <p>جو کہتا تها کہ پتھر ہوں، مجھے رونا نہیں آتا‘ </p>
</blockquote>

<p>تو جناب یہ تھا سارا ماجرہ۔ ایک ہسپتال میں چند وکلا اور چند ڈاکٹرز کے درمیان تنازع کھڑا ہوگیا۔ وکلا نے معاملے کو بڑھانے کی کوشش کی لیکن ان کی شکایت کا ازالہ نہیں کیا گیا۔ اور پھر انہوں نے ساکھ بچانے کے لیے معاملے کو ختم کردینا چاہا۔ </p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '>            <div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/DawnNews/videos/2456393077941538//" data-width="auto"></div></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>بظاہر، بقول حکومتِ پنجاب، دونوں گروہوں میں کچھ دن پہلے صلح ہوگئی تھی اور معاملہ ختم ہوگیا تھا۔ پھر ایک نوجوان ڈاکٹر کی ویڈیو منظرِ عام پر آئی جس میں وہ اپنے شوخ لہجے اور جاذب نظر انداز میں اس تنازع سے جڑے واقعات سناتا ہے اور اس دوران وہ اس شعر کا تڑکا بھی لگادیتا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--scribe  '>                <iframe src="https://www.dawnnews.tv/news/embed/1116423" allowfullscreen=""  frameborder="0" scrolling="no" width="100%" height="100%"></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ویڈیو دیکھ کر وکلا طیش میں آگئے، خاص طور پر اس ’لمبے بالوں والے‘ وکیل کو شدید غصہ آیا جس کا نام نوجوان ڈاکٹر نے اپنی ویڈیو میں عدیل بتایا ہے۔ واقعے کے بعد پنجاب بار کونسل نے ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں کہا گیا کہ وکلا کا مذاق اڑایا گیا ہے لہٰذا انہوں نے پُرامن طریقے سے ہسپتال کا رخ کیا، لیکن اس پریس ریلیز میں کہیں بھی تشدد کا ذکر نہیں ملتا۔</p>

<p>کس طرح ان چبھتی باتوں نے اس بدترین حملے کی راہ ہموار کی اس حوالے سے اب بہت سی مختلف کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ مشتعل ہجوم جبراً ہسپتال میں داخل ہوا اور وہاں دھاوا بول دیا، ان کے راستے میں مریض سمیت جو بھی آیا اسے پیٹا گیا۔ مریضوں کے آکسیجن ماسک اتار دیے گئے، ان کی رگوں میں پیوست سوئیاں اکھاڑ دی گئیں، ان کے تیمارداروں کو ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ آئی سی یو خالی کروا دیا گیا، یہاں تک کہ آپریشن تھیٹر کو بھی نہیں بخشا گیا۔ ڈاکٹر اور نرسز ہسپتال کی حدود سے غائب ہوگئے جبکہ مریضوں کی جان بچانے کے لیے انہیں وہیل چیئرز پر ہسپتال سے باہر لایا گیا۔ اور سب سے افسوسناک بات یہ کہ اس واقعے کے نتیجے میں تشویشناک حالت سے دوچار 4 مریضوں کی موت واقع ہوگئی۔</p>

<p>دراصل اس واقعے کی بنیادی وجہ انا ہے۔ آج میں نے اپنے بھائی کی یاد میں بستر کے ایک طرف موم بتی جلائی ہے۔ میرے بھائی نے قریب ڈیڑھ دہائی پہلے اسی ہسپتال کے آئی سی یو میں تقریباً 2 ہفتے گزارے تھے، جہاں ان کا پیچیدہ آپریشن ہوا تھا۔ جب میں نے خالی آئی سی یو اور ان مریضوں کے ورثا کی ویڈیو دیکھی جو طبیعت کی خرابی کے باوجود آئی سی یو خالی کرنے پر مجبور ہوئے تو مجھے اس واقعے کی شدت اور جرم کی سنگینی کا خوب اندازہ ہوا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '>            <div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/DawnNews/videos/580431482787126/" data-width="auto"></div></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>بدھ کے روز پی آئی سی میں جو کچھ ہوا وہ ہماری انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر کسی دھبے سے کم نہیں ہے۔ ساہیوال واقعے کے بعد بھی عوامی حلقوں میں ایسا غم و غصہ دکھائی دیا تھا اور خود وزیرِاعظم نے بھی ’تیز ترین انصاف‘ فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ واقعہ فروری میں پیش آیا تھا۔ تاہم اکتوبر کے آتے آتے اس واقعے میں ملوث 6 کے 6 پولیس اہلکار مقدمے سے بری ہوچکے ہیں۔ حکومت نے اپیل دائر کرنے کا وعدہ کیا، مگر اس وقت سے لے کر اب تک کسی نے بھی اس کیس پر لب کشائی نہیں کی۔ اس واقعے کو خاموشی سے سرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے اور بھلایا جاچکا ہے۔</p>

<p>اگر یہی سب اس واقعے کے ساتھ ہوتا ہے تو ہماری انسانیت کے ضمیر پر لگا یہ داغ کبھی بھی نہیں دھل سکے گا۔ بار کونسل کے رہنما تو حکومت سے ٹکرانے کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ چند وزرا اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ فیصل واؤڈا کی ٹوئیٹ ہی پڑھ لیجیے، جس میں وہ لکھتے ہیں کہ ’یہ مسلم لیگ (ن) کے اشاروں پر چلنے والے مجرمان تھے‘۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/FaisalVawdaPTI/status/1204763370026610691"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>کیا ہم نئے پاکستان میں رہ رہے ہیں یا پھر دیوانوں کی دنیا میں؟</p>

<hr />

<p><strong>یہ <a href="https://www.dawn.com/news/1521790/today-you-will-see-how-rocks-cry">مضمون</a> 12 دسمبر 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1116454</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Dec 2019 16:44:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خرم حسین)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/12/5df1fcaeae0f1.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/12/5df1fcaeae0f1.jpg"/>
        <media:title>Patients are seen through a broken window of a cardiac hospital following an attack by lawyers in the premises in Lahore on December 11, 2019. - At least three heart patients died on December 11 after a group of lawyers attacked doctors at a cardiac hospital in Pakistan's eastern city of Lahore, officials and ministers said. (Photo by ARIF ALI / AFP) — AFP or licensors
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
