<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 15:27:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 15:27:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیس بک کا اہم ترین منصوبہ مشکل کا شکار
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1116552/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکا کے فیڈرل ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی سی) نے واٹس ایپ، انسٹاگرام اور فیس بک مینسجر کو اکٹھا کرنے کے فیس بک کے منصوبے کو روکنے پر غور شروع کردیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.wsj.com/articles/ftc-weighs-seeking-injunction-against-facebook-over-how-its-apps-interact-11576178055?mod=hp_lead_pos4"&gt;وال اسٹریٹ جرنل&lt;/a&gt; اور &lt;a href="https://www.nytimes.com/2019/12/12/technology/ftc-facebook-injunction.html"&gt;نیویارک ٹائمز&lt;/a&gt; کی رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1099016' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/12/5df3bb672957b.png"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بات اس وقت سامنے آئی ہے جب ایف ٹی سی کی جانب سے فیس بک کی اجارہ داری کے حوالے سے تحقیقات کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ تحقیقات اس وقت شروع ہوئیں جب فیس بک کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ وہ واٹس ایپ، انسٹاگرام اور فیس بک میسنجر کی میسجنگ سروسز کو اکٹھا کررہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیس بک کے مطابق ایسا کرنے سے 2 ارب 70 کروڑ صارفین کو نجی، انکرپٹڈ پیغامات ایک ایپ سے دوسری ایپ میں بھیجنے کی سہولت مل سکے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1096216"&gt;&lt;strong&gt;جنوری 2019 میں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ تینوں سروسز خودمختار ایپ کے طور پر کام کرتی رہیں گی مگر ایسا انفراسٹرکچر بنایا جائے گا جو صارفین کو اس کمپنی کی تمام ایپس میں میسجنگ کی سہولت فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مارک زکربرگ نے مئی میں اس کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا 'ہم سماجی رابطوں کی بنیاد تعمیر کررہے ہیں جو لوگوں کو ایک دوسرے سے نجی رابطوں میں مددگار ہوگا'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مارک زکربرگ کا کہنا تھا کہ ہم منصوبہ بنارہے ہیں کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ جب آپ ان میں سے کسی سروس کو استعمال کریں تو آپ کے کانٹیکٹس کو میسجز بھیجیں اور اس میں ایس ایم ایس کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف ٹی سی کو خدشہ ہے کہ فیس بک کی جانب سے حریف ایپس جیسے انسٹاگرام کو خریدنا سوشل میڈیا میں مسابقت کو کم کرے گا اور اس کا ماننا ہے کہ فیس بک کی جانب سے اگر ان ایپس کو مضبوطی سے ایک دوسرے سے جوڑا گیا، تو ان کو الگ کرنا مشکل ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس وقت سوشل نیٹ ورکنگ کی دنیا میں فیس بک کی اجارہ داری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ سوشل میڈیا مارکیٹ کا 66 فیصد شیئر اس کمپنی کے پاس تھا، جبکہ اس کا منافع 22 ارب ڈالرز رہا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106885"&gt;&lt;strong&gt;ایف ٹی سی نے رواں سال جولائی&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں 5 کروڑ صارفین کو غلط معلومات کی ترسیل اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے پر فیس بک پر 5 ارب ڈالرز کا جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل کے حوالے سے ایف ٹی سی نے تحقیق کا آغاز مارچ 2018 میں کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکا کے فیڈرل ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی سی) نے واٹس ایپ، انسٹاگرام اور فیس بک مینسجر کو اکٹھا کرنے کے فیس بک کے منصوبے کو روکنے پر غور شروع کردیا ہے۔</p>

<p><a href="https://www.wsj.com/articles/ftc-weighs-seeking-injunction-against-facebook-over-how-its-apps-interact-11576178055?mod=hp_lead_pos4">وال اسٹریٹ جرنل</a> اور <a href="https://www.nytimes.com/2019/12/12/technology/ftc-facebook-injunction.html">نیویارک ٹائمز</a> کی رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1099016' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/12/5df3bb672957b.png"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>یہ بات اس وقت سامنے آئی ہے جب ایف ٹی سی کی جانب سے فیس بک کی اجارہ داری کے حوالے سے تحقیقات کی جارہی ہے۔</p>

<p>یہ تحقیقات اس وقت شروع ہوئیں جب فیس بک کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ وہ واٹس ایپ، انسٹاگرام اور فیس بک میسنجر کی میسجنگ سروسز کو اکٹھا کررہی ہے۔</p>

<p>فیس بک کے مطابق ایسا کرنے سے 2 ارب 70 کروڑ صارفین کو نجی، انکرپٹڈ پیغامات ایک ایپ سے دوسری ایپ میں بھیجنے کی سہولت مل سکے گی۔</p>

<p><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1096216"><strong>جنوری 2019 میں</strong></a> نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ تینوں سروسز خودمختار ایپ کے طور پر کام کرتی رہیں گی مگر ایسا انفراسٹرکچر بنایا جائے گا جو صارفین کو اس کمپنی کی تمام ایپس میں میسجنگ کی سہولت فراہم کرے گا۔</p>

<p>مارک زکربرگ نے مئی میں اس کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا 'ہم سماجی رابطوں کی بنیاد تعمیر کررہے ہیں جو لوگوں کو ایک دوسرے سے نجی رابطوں میں مددگار ہوگا'۔</p>

<p>مارک زکربرگ کا کہنا تھا کہ ہم منصوبہ بنارہے ہیں کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ جب آپ ان میں سے کسی سروس کو استعمال کریں تو آپ کے کانٹیکٹس کو میسجز بھیجیں اور اس میں ایس ایم ایس کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔</p>

<p>ایف ٹی سی کو خدشہ ہے کہ فیس بک کی جانب سے حریف ایپس جیسے انسٹاگرام کو خریدنا سوشل میڈیا میں مسابقت کو کم کرے گا اور اس کا ماننا ہے کہ فیس بک کی جانب سے اگر ان ایپس کو مضبوطی سے ایک دوسرے سے جوڑا گیا، تو ان کو الگ کرنا مشکل ہوجائے گا۔</p>

<p>اس وقت سوشل نیٹ ورکنگ کی دنیا میں فیس بک کی اجارہ داری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ سوشل میڈیا مارکیٹ کا 66 فیصد شیئر اس کمپنی کے پاس تھا، جبکہ اس کا منافع 22 ارب ڈالرز رہا۔</p>

<p><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106885"><strong>ایف ٹی سی نے رواں سال جولائی</strong></a> میں 5 کروڑ صارفین کو غلط معلومات کی ترسیل اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے پر فیس بک پر 5 ارب ڈالرز کا جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔</p>

<p>کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل کے حوالے سے ایف ٹی سی نے تحقیق کا آغاز مارچ 2018 میں کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1116552</guid>
      <pubDate>Fri, 13 Dec 2019 21:30:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/12/5df3bb554338b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/12/5df3bb554338b.jpg"/>
        <media:title>— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
