<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Amazing</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 18:13:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 18:13:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چیونگم کی مدد سے 6 ہزار سال پرانا راز حل ہوگیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1116809/</link>
      <description>&lt;p&gt;یورپی ماہرین نے ایک درخت سے حاصل کی گئی چیونگم کے ٹیسٹ سے 6 ہزار سال قبل کی خواتین کے خدوخال کا پتہ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ پہلا موقع ہے کہ ماہرین نے انسان کے جسم سے حاصل کیے گئے نمونوں کے بجائے کسی دوسری چیز کا ’ڈی این اے‘ کرکے انسان کے خدوخال سے متعلق معلومات حاصل کی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عام سائنسی طریقوں میں کسی بھی انسان کے خون، ہڈی، بال اور جسم کے دیگر اعضا سے حاصل کیے گئے نمونوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کرکے اسی انسان سے متعلق معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کسی بھی انسان کے نمونے حاصل کرنے کے بعد ان کے ساتھ دوسرے انسان کی قربت یا روابط سے متعلق بھی معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی ٹیسٹ کے طریقے سے ہی کسی کا ’ریپ‘ کرنے والے ملزم کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اور اب ماہرین نے ڈی این اے ٹیسٹ کے اسی طریقہ کار کو مد نظر رکھتے ہوئے مزید جدید سائنسی طریقے کار استعمال کرتے ہوئے 6 ہزار سال پرانی چیونگم سے اس وقت کے انسان کے خدوخال کی معلومات حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سائنس جرنل &lt;a href="https://www.nature.com/articles/s41467-019-13549-9"&gt;&lt;strong&gt;’نیچرل کمیونیکیشن‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں شائع مضمون کے مطابق یورپی ملک ڈینمارک کے ماہرین نے چیونگم کے ڈی این اے کے بعد 6 ہزار سال قبل کی خاتون کا عکس تیار کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/12/5df9f6f3ac39a.jpg"  alt="ماہرین کے مطابق 6 ہزار سال پہلے کی خواتین کی رنگت سانولی، بال بھورے اور آنکھیں نیلی تھیں &amp;mdash;فوٹو: نیچرل کمیونیکیشن" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ماہرین کے مطابق 6 ہزار سال پہلے کی خواتین کی رنگت سانولی، بال بھورے اور آنکھیں نیلی تھیں —فوٹو: نیچرل کمیونیکیشن&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق کوپن ہیگن یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے کیے گئے ٹیسٹ میں پہلی مرتبہ ایک دوسری چیز کے ڈی این اے سے انسان کی ساخت کی معلومات حاصل کی گئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماہرین نے ڈینمارک کے تاریخی مقام کے درخت سے چیونگم حاصل کی اور اس کا ڈین این اے ٹیسٹ کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5df9ff550bec3'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097854"&gt;ان لوگوں کی تصاویر جن کا کبھی دنیا میں وجود نہیں تھا&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ چیونگم روایتی چیونگم کی طرح کا نہیں ہے بلکہ وہ کسی ’گلیو‘ کی طرز کا ہے جو قدیم زمانے میں نمونیا سمیت دیگر بیماریوں کے علاج میں بھی کام آتا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/12/5df9f759023bf.jpg"  alt="ماہرین نے چیونگم کا جدید طریقوں سے ڈین این اے ٹیسٹ کیا&amp;mdash;فوٹو: نیچرل کمیونیکیش" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ماہرین نے چیونگم کا جدید طریقوں سے ڈین این اے ٹیسٹ کیا—فوٹو: نیچرل کمیونیکیش&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین نے درخت سے حاصل کیے گئے اس ’گلیو‘ نما چیونگم کا ٹیسٹ کیا اور اس سے معلوم کیا کہ 5 ہزار 700 سال قبل ڈینمارک کے لوگ کس طرح کے دکھتے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج سے معلوم ہوا کہ ڈینمارک میں تقریبا 6 ہزار سال قبل رہنے والی خواتین کی رنگت سانولی، بال سیاہ بھورے اور آنکھیں نیلی ہوتی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین نے ڈی این اے ٹیسٹ سے حاصل ہونے والے نتائج کے بعد ایک آرٹسٹ کی مدد سے 5700 سال قبل ڈینمارک میں رہنے والی ایک خاتون کی تصویر بھی بنائی اور تصویر میں نظر آنے والی نوجوان خاتون کو ’لولا‘ کا نام دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’لولا‘ دراصل اس علاقے کا نام ہے، جہاں سے سائنسدانوں نے درخت سے چیونگم حاصل کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/12/5df9f79da01a3.jpg"  alt="گلیو نما چیونگ کو درخت سے حاصل کیا گیا تھا&amp;mdash;فائل فوٹو فیس بک" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;گلیو نما چیونگ کو درخت سے حاصل کیا گیا تھا—فائل فوٹو فیس بک&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یورپی ماہرین نے ایک درخت سے حاصل کی گئی چیونگم کے ٹیسٹ سے 6 ہزار سال قبل کی خواتین کے خدوخال کا پتہ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔</p>

<p>یہ پہلا موقع ہے کہ ماہرین نے انسان کے جسم سے حاصل کیے گئے نمونوں کے بجائے کسی دوسری چیز کا ’ڈی این اے‘ کرکے انسان کے خدوخال سے متعلق معلومات حاصل کی ہیں۔</p>

<p>عام سائنسی طریقوں میں کسی بھی انسان کے خون، ہڈی، بال اور جسم کے دیگر اعضا سے حاصل کیے گئے نمونوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کرکے اسی انسان سے متعلق معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔</p>

<p>ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کسی بھی انسان کے نمونے حاصل کرنے کے بعد ان کے ساتھ دوسرے انسان کی قربت یا روابط سے متعلق بھی معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔</p>

<p>اسی ٹیسٹ کے طریقے سے ہی کسی کا ’ریپ‘ کرنے والے ملزم کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔</p>

<p>اور اب ماہرین نے ڈی این اے ٹیسٹ کے اسی طریقہ کار کو مد نظر رکھتے ہوئے مزید جدید سائنسی طریقے کار استعمال کرتے ہوئے 6 ہزار سال پرانی چیونگم سے اس وقت کے انسان کے خدوخال کی معلومات حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔</p>

<p>سائنس جرنل <a href="https://www.nature.com/articles/s41467-019-13549-9"><strong>’نیچرل کمیونیکیشن‘</strong></a> میں شائع مضمون کے مطابق یورپی ملک ڈینمارک کے ماہرین نے چیونگم کے ڈی این اے کے بعد 6 ہزار سال قبل کی خاتون کا عکس تیار کیا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/12/5df9f6f3ac39a.jpg"  alt="ماہرین کے مطابق 6 ہزار سال پہلے کی خواتین کی رنگت سانولی، بال بھورے اور آنکھیں نیلی تھیں &mdash;فوٹو: نیچرل کمیونیکیشن" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ماہرین کے مطابق 6 ہزار سال پہلے کی خواتین کی رنگت سانولی، بال بھورے اور آنکھیں نیلی تھیں —فوٹو: نیچرل کمیونیکیشن</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>رپورٹ کے مطابق کوپن ہیگن یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے کیے گئے ٹیسٹ میں پہلی مرتبہ ایک دوسری چیز کے ڈی این اے سے انسان کی ساخت کی معلومات حاصل کی گئیں۔</p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماہرین نے ڈینمارک کے تاریخی مقام کے درخت سے چیونگم حاصل کی اور اس کا ڈین این اے ٹیسٹ کیا گیا۔</p>

<h6 id='5df9ff550bec3'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097854">ان لوگوں کی تصاویر جن کا کبھی دنیا میں وجود نہیں تھا</a></h6>

<p>مذکورہ چیونگم روایتی چیونگم کی طرح کا نہیں ہے بلکہ وہ کسی ’گلیو‘ کی طرز کا ہے جو قدیم زمانے میں نمونیا سمیت دیگر بیماریوں کے علاج میں بھی کام آتا تھا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/12/5df9f759023bf.jpg"  alt="ماہرین نے چیونگم کا جدید طریقوں سے ڈین این اے ٹیسٹ کیا&mdash;فوٹو: نیچرل کمیونیکیش" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ماہرین نے چیونگم کا جدید طریقوں سے ڈین این اے ٹیسٹ کیا—فوٹو: نیچرل کمیونیکیش</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>ماہرین نے درخت سے حاصل کیے گئے اس ’گلیو‘ نما چیونگم کا ٹیسٹ کیا اور اس سے معلوم کیا کہ 5 ہزار 700 سال قبل ڈینمارک کے لوگ کس طرح کے دکھتے تھے۔</p>

<p>ماہرین کے مطابق ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج سے معلوم ہوا کہ ڈینمارک میں تقریبا 6 ہزار سال قبل رہنے والی خواتین کی رنگت سانولی، بال سیاہ بھورے اور آنکھیں نیلی ہوتی تھیں۔</p>

<p>ماہرین نے ڈی این اے ٹیسٹ سے حاصل ہونے والے نتائج کے بعد ایک آرٹسٹ کی مدد سے 5700 سال قبل ڈینمارک میں رہنے والی ایک خاتون کی تصویر بھی بنائی اور تصویر میں نظر آنے والی نوجوان خاتون کو ’لولا‘ کا نام دیا۔</p>

<p>’لولا‘ دراصل اس علاقے کا نام ہے، جہاں سے سائنسدانوں نے درخت سے چیونگم حاصل کی تھی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/12/5df9f79da01a3.jpg"  alt="گلیو نما چیونگ کو درخت سے حاصل کیا گیا تھا&mdash;فائل فوٹو فیس بک" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">گلیو نما چیونگ کو درخت سے حاصل کیا گیا تھا—فائل فوٹو فیس بک</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1116809</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Dec 2019 15:28:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/12/5df9f6d1d85b3.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/12/5df9f6d1d85b3.jpg?0.901544249392811"/>
        <media:title>ماہرین چیونگم کی مدد سے راز حل کرنے میں کامیاب ہوگئے—فوٹو: نیچرل کمیونیکیشن
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
