<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 11:07:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 11:07:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نئے چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کا تعارف
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1116958/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جسٹس گلزار احمد نے آج بروز ہفتہ (21 دسمبر 2019) کو ملک کے 27ویں چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدہ کا حلف اٹھالیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ گزشتہ روز اپنے پیش رو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد سنبھالا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5dff3757dda31'&gt;جسٹس گلزار احمد کا تعارف:&lt;/h3&gt;

&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;نام: گلزار احمد&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;والد کا نام: مرحوم نور محمد، (آپ کا شمار کراچی کے معروف وکلا میں
ہوتا تھا)&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ذات: راجپوت&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;تاریخ پیدائش: 2 فروری 1957&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;جائے پیدائش: کراچی&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;بچے: 4 بچے (دو بیٹیاں اور دو بیٹے)&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;

&lt;p&gt;جسٹس گلزار احمد 2 فروری 1957 کو کراچی میں پیدا ہوئے، ان کے والد کا نام نور محمد تھا جن کا شمار کراچی کے معروف وکلا میں ہوتا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے ابتدائی تعلیم کراچی میں گلستان اسکول سے حاصل کرنے کے بع نیشنل کالج سے بی اے کی ڈگری حاصل کی جبکہ ایس ایم لا کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری مکمل کی۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5dff3757dda7f'&gt;وکیل سے سپریم کورٹ کے جج تک&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;آپ نے 18 جنوری 1986 کو خود کو بحیثیت ایڈووکیٹ انرول کروایا جبکہ 4 اپریل 1988 کو آپ نے ہائیکورٹ کے ایڈووکیٹ کے طور پر خود کو انرول کروایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آپ نے 15 ستمبر 2001 کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں خود کو ایڈووکیٹ کی حیثیت سے انرول کروایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ جسٹس گلزار احمد سن 1999 سے 2000 کے دوران سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اعزازی سیکریٹری کے عہدے کے لیے بھی منتخب ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;2002 میں سندھ ہائی کورٹ کے جج منتخب ہونے سے قبل وہ کراچی کے 5 سرفہرست وکلا میں شامل تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے اپنے کیرئیر میں سول، لیبر، بینکنگ، کمپنی قوانین اور کورپوریٹ سے متعلق کیسز میں وکالت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جسٹس گلزار احمد 27 اگست 2002 کو سندھ ہائی کورٹ کے جج منتخب ہوئے جبکہ 16 نومبر 2011 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کی حیثیت سے ترقی حاصل کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل آف پاکستان میں ایک بھی شکایت موجود نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں جسٹس گلزار احمد انسٹیٹیوٹ آف بزنس اینڈ ٹیکنالوجی، این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، اقرا یونیورسٹی، احمد ای ایچ، جعفر فاؤنڈیشن اور آغا خان یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز کے ممبر جبکہ انرولمنٹ کمیٹی آف سندھ بار کونسل کراچی کے چیئرمین بھی رہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہ سندھ ہائی کورٹ کی ڈیوپلمنٹ کمیٹی اینڈ آئی ٹی کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5dff3757dda9a'&gt;معروف فیصلے اور کیسز&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;جسٹس گلزار احمد اپنے پیش رو جسٹس آصف سعید کھوسہ اور دیگر کے ساتھ پاناما بینچ کا حصہ تھے جنہوں نے 20 اپریل 2017 کو پاناما کیس کی آئینی درخواستوں کا فیصلہ سنایا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ آپ نے کراچی میں قبضہ مافیا اور تجاوزات کیس اور رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیوں سے متعلق کیس کا فیصلے سنایا، ساتھ ہی عسکری اداروں کی جانب سے تجاوزات اور کمرشل سرگرمیوں کے کیسز کا فیصلہ بھی سنایا، ان کے فیصلے کے بعد شہر میں 500 غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ جسٹس گلزار احمد نے توہین عدالت کیس میں مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی طلال چوہدری کو سزا سنائی تھی اور نااہل قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں انہوں نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، تھرکول منصوبے میں کرپشن، کراچی میں بارش کے دوران کے الیکٹرک کی لاپروائی کے باعث ہلاکتوں اور امل قتل کیسز کی سماعت بھی کی اور ان کی جانب سے سخت ریمارکس دیکھنے میں آئے۔    &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ جسٹس گلزار احمد 20 دسمبر 2019 کو سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے دور میں ان کے بیرون ملک دوروں کے دوران متعدد مرتبہ قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جسٹس گلزار احمد نے آج بروز ہفتہ (21 دسمبر 2019) کو ملک کے 27ویں چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدہ کا حلف اٹھالیا۔</strong></p>

<p>انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ گزشتہ روز اپنے پیش رو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد سنبھالا۔</p>

<h3 id='5dff3757dda31'>جسٹس گلزار احمد کا تعارف:</h3>

<ul>
<li>نام: گلزار احمد</li>
<li>والد کا نام: مرحوم نور محمد، (آپ کا شمار کراچی کے معروف وکلا میں
ہوتا تھا)</li>
<li>ذات: راجپوت</li>
<li>تاریخ پیدائش: 2 فروری 1957</li>
<li>جائے پیدائش: کراچی</li>
<li>بچے: 4 بچے (دو بیٹیاں اور دو بیٹے)</li>
</ul>

<p>جسٹس گلزار احمد 2 فروری 1957 کو کراچی میں پیدا ہوئے، ان کے والد کا نام نور محمد تھا جن کا شمار کراچی کے معروف وکلا میں ہوتا تھا۔</p>

<p>انہوں نے ابتدائی تعلیم کراچی میں گلستان اسکول سے حاصل کرنے کے بع نیشنل کالج سے بی اے کی ڈگری حاصل کی جبکہ ایس ایم لا کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری مکمل کی۔</p>

<h3 id='5dff3757dda7f'>وکیل سے سپریم کورٹ کے جج تک</h3>

<p>آپ نے 18 جنوری 1986 کو خود کو بحیثیت ایڈووکیٹ انرول کروایا جبکہ 4 اپریل 1988 کو آپ نے ہائیکورٹ کے ایڈووکیٹ کے طور پر خود کو انرول کروایا۔</p>

<p>آپ نے 15 ستمبر 2001 کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں خود کو ایڈووکیٹ کی حیثیت سے انرول کروایا۔</p>

<p>اس کے علاوہ جسٹس گلزار احمد سن 1999 سے 2000 کے دوران سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اعزازی سیکریٹری کے عہدے کے لیے بھی منتخب ہوئے۔</p>

<p>2002 میں سندھ ہائی کورٹ کے جج منتخب ہونے سے قبل وہ کراچی کے 5 سرفہرست وکلا میں شامل تھے۔</p>

<p>انہوں نے اپنے کیرئیر میں سول، لیبر، بینکنگ، کمپنی قوانین اور کورپوریٹ سے متعلق کیسز میں وکالت کی۔</p>

<p>جسٹس گلزار احمد 27 اگست 2002 کو سندھ ہائی کورٹ کے جج منتخب ہوئے جبکہ 16 نومبر 2011 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کی حیثیت سے ترقی حاصل کی۔</p>

<p>ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل آف پاکستان میں ایک بھی شکایت موجود نہیں ہے۔</p>

<p>علاوہ ازیں جسٹس گلزار احمد انسٹیٹیوٹ آف بزنس اینڈ ٹیکنالوجی، این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، اقرا یونیورسٹی، احمد ای ایچ، جعفر فاؤنڈیشن اور آغا خان یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز کے ممبر جبکہ انرولمنٹ کمیٹی آف سندھ بار کونسل کراچی کے چیئرمین بھی رہے۔</p>

<p>وہ سندھ ہائی کورٹ کی ڈیوپلمنٹ کمیٹی اینڈ آئی ٹی کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔</p>

<h3 id='5dff3757dda9a'>معروف فیصلے اور کیسز</h3>

<p>جسٹس گلزار احمد اپنے پیش رو جسٹس آصف سعید کھوسہ اور دیگر کے ساتھ پاناما بینچ کا حصہ تھے جنہوں نے 20 اپریل 2017 کو پاناما کیس کی آئینی درخواستوں کا فیصلہ سنایا تھا۔</p>

<p>اس کے علاوہ آپ نے کراچی میں قبضہ مافیا اور تجاوزات کیس اور رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیوں سے متعلق کیس کا فیصلے سنایا، ساتھ ہی عسکری اداروں کی جانب سے تجاوزات اور کمرشل سرگرمیوں کے کیسز کا فیصلہ بھی سنایا، ان کے فیصلے کے بعد شہر میں 500 غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کیا گیا۔</p>

<p>اس کے علاوہ جسٹس گلزار احمد نے توہین عدالت کیس میں مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی طلال چوہدری کو سزا سنائی تھی اور نااہل قرار دیا تھا۔</p>

<p>علاوہ ازیں انہوں نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، تھرکول منصوبے میں کرپشن، کراچی میں بارش کے دوران کے الیکٹرک کی لاپروائی کے باعث ہلاکتوں اور امل قتل کیسز کی سماعت بھی کی اور ان کی جانب سے سخت ریمارکس دیکھنے میں آئے۔    </p>

<p>یاد رہے کہ جسٹس گلزار احمد 20 دسمبر 2019 کو سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے دور میں ان کے بیرون ملک دوروں کے دوران متعدد مرتبہ قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1116958</guid>
      <pubDate>Sun, 22 Dec 2019 14:28:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/12/5dfcd9544488e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/12/5dfcd9544488e.jpg"/>
        <media:title>جسٹس گلزار پاکستان کے 27ویں چیف جسٹس ہیں — فائل فوٹو : ریڈیو پاکستان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
