<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 14:07:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 14:07:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیب ترمیمی آرڈیننس کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1117532/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: لاہور ہائی کورٹ کے بعد قومی احتساب آرڈیننس (دوسری ترمیم) 2019 کو سرکاری افسران اور تاجروں کو فائدہ پہنچانے کی بنیاد پر سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کردیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1525345/supreme-court-moved-against-new-accountability-law"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق صحافی فرخ نواز بھٹی نے ایڈووکیٹ ڈاکٹر جی ایم چوہدری کے ذریعے درخواست دائر کی جس میں استدعا کی گئی کہ درخواست کا فیصلہ ہونے تک نئے آرڈیننس کے افعال کو معطل کیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ 26 دسمبر کو حکومت نے قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں ترمیم کے لیے آرڈیننس نافذ کر کے تاجروں اور بیوروکریٹس کو ریلیف فراہم کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1117508"&gt;نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 کا نوٹی فکیشن جاری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ نیا قانون نیک نیتی کے بہانے طریقہ کار کی خلاف ورزی کرنے کے لیے راہ فراہم کرتا ہے جس سے سرکاری افسران اور سول سرونٹس کو مبینہ طور پر ریاست کے معاملات اپنی منشا کے مطابق چلانے کی اجازت حاصل ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ اس کے دفاع میں کہا جاسکتا ہے کہ اس آرڈیننس کی صرف چند شقیں آئین کے دائرے سے باہر ہیں جبکہ کچھ اس کے مطابق ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم ان شقوں کو آرڈیننس سے علیحدہ کرنا مشکل ہے کیوں کہ یہ آرڈیننس کا پورا قانونی ڈھانچہ خراب کردیں گی، جس سے اس کی عدالتی جانچ پڑتال اور اچھے حصے کو برے حصے سے الگ کرنے کے لیے آئین کی دفعہ 8 کے تحت اس پر نظر ثانی ناممکن ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1117508"&gt;نیب آرڈیننس کا مقصد تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے، وزیر اعظم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ انصاف، مساوات، قانون کی حکمرانی، قانون کے ضوابط اور طریقہ کار، استحصال اور امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ آرڈیننس کو آغاز سے ہی غلط اور آئین کے دائرے سے باہر قرار دیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ نیا آرڈیننس بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے جس کی ضمانت آئین میں دفعہ 3 کے تحت استحصال کے خاتمے اور دفعہ 4 کے تحت قانون کی حکمرانی کے حوالے سے دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے الزام لگایا کہ نئے آرڈیننس کا مقصد امتیاز نہ برتنے، استحصال نہ کرنے کے جمہوری اصولوں اور عوام کی طاقت اور ایگزیکٹو اتھارٹی کی بطور ایک مقدس امانت کے خلاف عوام اور معاشرے کو ’معاشی طبقات کی بنیاد‘ پر تقسیم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1117392"&gt;نیب ترمیمی آرڈیننس سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست میں کہا گیا کہ جب پوری دنیا تاجروں کی استحصالی اور غیر قانونی سرگرمیوں کی جانچ پڑتال کے لیے سخت ریگولیٹری نظام پر عمل کررہی ہے تو یہ نیا آرڈیننس اس کے بالکل برعکس کام کررہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزار کے مطابق وفاقی حکومت آئین کی دفعہ 212 کے تحت اپنی قانونی ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے اپنی آئینی ذمہ داری نبھانے میں ناکام ہوگئی ہے اور وہ ایگزیکٹو اور ان کے حلیفوں کو محفوظ کررہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو ٹیکس دہندگان اور وفادار شہریوں کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ قانون پر عمل درآمد کو فروغ دیا جاسکے لیکن وہ اس کے بجائے ٹیکس چوروں اور بدعنوان عناصر کے ساتھ کھڑی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزار کا موقف تھا کہ اس آرڈیننس سے ثابت ہوگیا کہ وفاقی حکومت آئین کی خلاف ورزی کیے بغیر قانون کی حکمرانی پر مبنی کسی قسم کے امتیاز کے بغیر منصفانہ اور آزاد معاشی نظام قائم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: لاہور ہائی کورٹ کے بعد قومی احتساب آرڈیننس (دوسری ترمیم) 2019 کو سرکاری افسران اور تاجروں کو فائدہ پہنچانے کی بنیاد پر سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کردیا گیا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1525345/supreme-court-moved-against-new-accountability-law">رپورٹ</a></strong> کے مطابق صحافی فرخ نواز بھٹی نے ایڈووکیٹ ڈاکٹر جی ایم چوہدری کے ذریعے درخواست دائر کی جس میں استدعا کی گئی کہ درخواست کا فیصلہ ہونے تک نئے آرڈیننس کے افعال کو معطل کیا جائے۔</p>

<p>خیال رہے کہ 26 دسمبر کو حکومت نے قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں ترمیم کے لیے آرڈیننس نافذ کر کے تاجروں اور بیوروکریٹس کو ریلیف فراہم کیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1117508">نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 کا نوٹی فکیشن جاری</a></strong></p>

<p>عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ نیا قانون نیک نیتی کے بہانے طریقہ کار کی خلاف ورزی کرنے کے لیے راہ فراہم کرتا ہے جس سے سرکاری افسران اور سول سرونٹس کو مبینہ طور پر ریاست کے معاملات اپنی منشا کے مطابق چلانے کی اجازت حاصل ہوگی۔</p>

<p>درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ اس کے دفاع میں کہا جاسکتا ہے کہ اس آرڈیننس کی صرف چند شقیں آئین کے دائرے سے باہر ہیں جبکہ کچھ اس کے مطابق ہیں۔</p>

<p>تاہم ان شقوں کو آرڈیننس سے علیحدہ کرنا مشکل ہے کیوں کہ یہ آرڈیننس کا پورا قانونی ڈھانچہ خراب کردیں گی، جس سے اس کی عدالتی جانچ پڑتال اور اچھے حصے کو برے حصے سے الگ کرنے کے لیے آئین کی دفعہ 8 کے تحت اس پر نظر ثانی ناممکن ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1117508">نیب آرڈیننس کا مقصد تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے، وزیر اعظم</a></strong> </p>

<p>درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ انصاف، مساوات، قانون کی حکمرانی، قانون کے ضوابط اور طریقہ کار، استحصال اور امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ آرڈیننس کو آغاز سے ہی غلط اور آئین کے دائرے سے باہر قرار دیا جائے۔</p>

<p>درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ نیا آرڈیننس بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے جس کی ضمانت آئین میں دفعہ 3 کے تحت استحصال کے خاتمے اور دفعہ 4 کے تحت قانون کی حکمرانی کے حوالے سے دی گئی ہے۔</p>

<p>انہوں نے الزام لگایا کہ نئے آرڈیننس کا مقصد امتیاز نہ برتنے، استحصال نہ کرنے کے جمہوری اصولوں اور عوام کی طاقت اور ایگزیکٹو اتھارٹی کی بطور ایک مقدس امانت کے خلاف عوام اور معاشرے کو ’معاشی طبقات کی بنیاد‘ پر تقسیم کرنا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1117392">نیب ترمیمی آرڈیننس سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج</a></strong></p>

<p>درخواست میں کہا گیا کہ جب پوری دنیا تاجروں کی استحصالی اور غیر قانونی سرگرمیوں کی جانچ پڑتال کے لیے سخت ریگولیٹری نظام پر عمل کررہی ہے تو یہ نیا آرڈیننس اس کے بالکل برعکس کام کررہا ہے۔</p>

<p>درخواست گزار کے مطابق وفاقی حکومت آئین کی دفعہ 212 کے تحت اپنی قانونی ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے اپنی آئینی ذمہ داری نبھانے میں ناکام ہوگئی ہے اور وہ ایگزیکٹو اور ان کے حلیفوں کو محفوظ کررہی ہے۔</p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو ٹیکس دہندگان اور وفادار شہریوں کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ قانون پر عمل درآمد کو فروغ دیا جاسکے لیکن وہ اس کے بجائے ٹیکس چوروں اور بدعنوان عناصر کے ساتھ کھڑی ہے۔</p>

<p>درخواست گزار کا موقف تھا کہ اس آرڈیننس سے ثابت ہوگیا کہ وفاقی حکومت آئین کی خلاف ورزی کیے بغیر قانون کی حکمرانی پر مبنی کسی قسم کے امتیاز کے بغیر منصفانہ اور آزاد معاشی نظام قائم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1117532</guid>
      <pubDate>Tue, 31 Dec 2019 12:27:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ناصر اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/12/5e0abc8d5d3f4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/12/5e0abc8d5d3f4.jpg"/>
        <media:title>درخواست گزار کا موقف تھا کہ نیا قانون نیک نیتی کے بہانے طریقہ کار کی خلاف ورزی کرنے کے لیے راہ فراہم کرتا ہے—فائل فوٹو: اےا یف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
