<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 08:36:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 08:36:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مراد علی شاہ کا صوبے کے اہم مسائل پر وزیراعظم کو خط
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1117595/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم کو خط لکھ کر وفاقی حکومت کی جانب سے صحت اور آبادی کے منصوبوں کے فنڈز روکنے، صوبے میں گیس کی قلت اور صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے لیے کمیٹی کے قیام میں تاخیر جیسے اہم مسائل تشویش کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مشترکہ مفاد کونسل کے اجلاس کے 2 روز بعد 25 دسمبر کو لکھے گئے خط میں وزیراعلیٰ نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ متعلقہ دفتر کو کہ صحت اور آبادی سے متعلق عمودی منصوبوں کے لیے صوبوں کو واجب الادا رقم فراہم کرنے کی ہدایت کی جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1525562/sindh-chief-minister-raises-burning-issues-in-letter-to-pm"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق خط میں وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کو سندھ حکومت کے اس فیصلے سے آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے یکم جولائی 2018 سے روکے گئے فنڈز کے اجرا کے لیے براہِ راست وزارتوں کو خط لکھے جائیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:  &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086471"&gt;حکومت این ایف سی ایوارڈ کی از سر نو تشکیل کیلئے فعال&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے وزارت صحت کے ایک سینیئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے ابتدا میں 2001 میں صوبوں کو عمودی پروگرام کے لیے فنڈز کا اجرا روکنے کا فیصلہ کیا تھا کیوں کہ 18ویں ترمیم کے بعد صحت اور آبادی صوبوں کو معاملہ بن گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم صوبوں کی جانب سے اس اقدام پر احتجاج کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ فیصلہ 2010 میں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کو حتمی شکل دینے کے بعد کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صوبوں کے مطابق اگر انہیں اس فیصلے کے بارے میں پہلے سے بتایا جاتا تو وہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت اپنے حصے میں اضافے کا مطالبہ کرتے۔
بعدازاں صوبوں کے تحفظات کا حقیقی قرار دیتے ہوئے سی سی آئی نے فیصلہ کیا تھا کہ عمودی پروگرامز کی فنڈنگ اگلے این ایف سی پروگرام کے حتمی فیصلے تک جاری رہے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1096967"&gt;این ایف سی اجلاس: 18ویں ترمیم کے تحت وسائل کی تقسیم پر اتفاق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزارت صحت کے عہدیدار کے مطابق یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کے 23 دسمبر 2019 کو ہونے والے اجلاس میں بھی زیر بحث آیا تھا جس پر وزیراعظم نے وفاقی وزارت صحت کو صوبائی وزارت صحت اور سیکریٹریز کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کا کہا تھا جس کا انعقاد 2 ہفتوں میں متوقع ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے ’عمودی صحت پروگرام‘ کی اصطلاح ایسے خصوصی اور عارضی پروگراموں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جس کا مقصد وقتاً فوقتاً خصوصی امراض اور صحت کی صورتحال نے نمٹنا ہوتا ہے جو عمومی امراض کے علاج سے مختلف ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;18ویں ترمیم کے بعد صحت صوبائی معاملہ بن گیا تھا تاہم 12 عمودی صحت پروگرام وفاقی سطح پر مختص کیے تھے جن میں پولیو کا خاتمہ، ایڈز کنٹرول، بچوں کی تب دق اور ہیپاٹائٹس بی وغیرہ شامل تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086467"&gt;مشترکہ مفادات کونسل کی تشکیلِ نو کردی گئی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں سیکریٹری صحت نے سینیٹ قائمہ کمیٹی کو بتایا تھا کہ 2011 میں فنڈز این ایف سی ایوارڈ کے تحٹ فراہم کیے گئے تھے جنہیں مزید 2015 کے این ایف سی ایوارڈ میں مختص کیا جانا تھا تاہم این ایف سی ایوارڈ کا فیصلہ نہ ہونے کے باجود وزارت صحت نے اس پروگرام کو جون 2018 تک جاری رکھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنے خط میں وزیراعلیٰ نے 1991 کے پانی کی تقسیم کے معاہدے پر عملدرآمد کا معاملہ بھی اٹھایا اور وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ اٹارنی جنرل، چاروں ایڈوکیٹ جنرل اور صوبائی ماہرین پر مشتمل کمیٹی قائم کریں جو ایک ماہ میں اپنی تجاویز سی سی آئی کو پیش کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم کو خط لکھ کر وفاقی حکومت کی جانب سے صحت اور آبادی کے منصوبوں کے فنڈز روکنے، صوبے میں گیس کی قلت اور صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے لیے کمیٹی کے قیام میں تاخیر جیسے اہم مسائل تشویش کا اظہار کیا۔</p>

<p>مشترکہ مفاد کونسل کے اجلاس کے 2 روز بعد 25 دسمبر کو لکھے گئے خط میں وزیراعلیٰ نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ متعلقہ دفتر کو کہ صحت اور آبادی سے متعلق عمودی منصوبوں کے لیے صوبوں کو واجب الادا رقم فراہم کرنے کی ہدایت کی جائے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1525562/sindh-chief-minister-raises-burning-issues-in-letter-to-pm">رپورٹ</a></strong> کے مطابق خط میں وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کو سندھ حکومت کے اس فیصلے سے آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے یکم جولائی 2018 سے روکے گئے فنڈز کے اجرا کے لیے براہِ راست وزارتوں کو خط لکھے جائیں گے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:  <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086471">حکومت این ایف سی ایوارڈ کی از سر نو تشکیل کیلئے فعال</a></strong></p>

<p>اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے وزارت صحت کے ایک سینیئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے ابتدا میں 2001 میں صوبوں کو عمودی پروگرام کے لیے فنڈز کا اجرا روکنے کا فیصلہ کیا تھا کیوں کہ 18ویں ترمیم کے بعد صحت اور آبادی صوبوں کو معاملہ بن گیا ہے۔</p>

<p>تاہم صوبوں کی جانب سے اس اقدام پر احتجاج کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ فیصلہ 2010 میں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کو حتمی شکل دینے کے بعد کیا گیا۔</p>

<p>صوبوں کے مطابق اگر انہیں اس فیصلے کے بارے میں پہلے سے بتایا جاتا تو وہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت اپنے حصے میں اضافے کا مطالبہ کرتے۔
بعدازاں صوبوں کے تحفظات کا حقیقی قرار دیتے ہوئے سی سی آئی نے فیصلہ کیا تھا کہ عمودی پروگرامز کی فنڈنگ اگلے این ایف سی پروگرام کے حتمی فیصلے تک جاری رہے گی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1096967">این ایف سی اجلاس: 18ویں ترمیم کے تحت وسائل کی تقسیم پر اتفاق</a></strong></p>

<p>وزارت صحت کے عہدیدار کے مطابق یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کے 23 دسمبر 2019 کو ہونے والے اجلاس میں بھی زیر بحث آیا تھا جس پر وزیراعظم نے وفاقی وزارت صحت کو صوبائی وزارت صحت اور سیکریٹریز کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کا کہا تھا جس کا انعقاد 2 ہفتوں میں متوقع ہے۔</p>

<p>واضح رہے ’عمودی صحت پروگرام‘ کی اصطلاح ایسے خصوصی اور عارضی پروگراموں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جس کا مقصد وقتاً فوقتاً خصوصی امراض اور صحت کی صورتحال نے نمٹنا ہوتا ہے جو عمومی امراض کے علاج سے مختلف ہے۔</p>

<p>18ویں ترمیم کے بعد صحت صوبائی معاملہ بن گیا تھا تاہم 12 عمودی صحت پروگرام وفاقی سطح پر مختص کیے تھے جن میں پولیو کا خاتمہ، ایڈز کنٹرول، بچوں کی تب دق اور ہیپاٹائٹس بی وغیرہ شامل تھے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086467">مشترکہ مفادات کونسل کی تشکیلِ نو کردی گئی</a></strong> </p>

<p>اس ضمن میں سیکریٹری صحت نے سینیٹ قائمہ کمیٹی کو بتایا تھا کہ 2011 میں فنڈز این ایف سی ایوارڈ کے تحٹ فراہم کیے گئے تھے جنہیں مزید 2015 کے این ایف سی ایوارڈ میں مختص کیا جانا تھا تاہم این ایف سی ایوارڈ کا فیصلہ نہ ہونے کے باجود وزارت صحت نے اس پروگرام کو جون 2018 تک جاری رکھا۔</p>

<p>اپنے خط میں وزیراعلیٰ نے 1991 کے پانی کی تقسیم کے معاہدے پر عملدرآمد کا معاملہ بھی اٹھایا اور وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ اٹارنی جنرل، چاروں ایڈوکیٹ جنرل اور صوبائی ماہرین پر مشتمل کمیٹی قائم کریں جو ایک ماہ میں اپنی تجاویز سی سی آئی کو پیش کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1117595</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Jan 2020 10:07:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عامر وسیم)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/01/5e0c27d698cca.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/01/5e0c27d698cca.jpg"/>
        <media:title>وزیراعلیٰ نے  عمران خان سے صوبوں کو واجب الادا رقم فراہم کرنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا—فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
