<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:26:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:26:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد ہائی کورٹ نے صدارتی اختیار کے دائرہ کار پر سوالات اٹھادیے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1117802/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئین کی دفعہ 89 کے تحت صدر کو دیے گئے اختیارات کی وسعت اور وفاقی حکومت کے معمول کے افعال چلانے کے لیے صدر ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے جاری کردہ آرڈیننس کے مستقبل پر سوالات کھڑے کردیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت نے سینئر وکیل بابر اعوان، عابد حسن منٹو، رضا ربانی اور مخدوم علی خان کو عدالتی معاون تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ اٹارنی جنرل کو بھی اس معاملے میں تعاون کرنے کی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1526169/ihc-frames-questions-over-scope-of-presidents-powers"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے آرڈیننس کی قانونی حیثیت کا تعین کرنے کے لیے متعدد سوالات کھڑے کردیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت آئین کی دفعہ 89 کے تحت دیے گئے اختیارات کا دائرہ کار اور یہ جاننا چاہتی تھی کہ کیا دفعہ 70 اور 80 میں بتائے گئے قانون سازی کے عمل کو ایک طرف رکھ کر ان اختیارات کا معمول کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114592/"&gt;آرڈیننس کے خلاف درخواست: اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو نوٹس جاری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ ’کیا صدر کا منظور کردہ آرڈیننس اس نوعیت کا ہے کہ اس ضمن میں مقرر کردہ تقاضوں کو پورا کرے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئین کی دفعہ 89 کے تحت بتائی گئی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جاری کیے گئے آرڈیننس کے مستقبل کے حوالے سے بھی قانونی رائے طلب کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سیکریٹری قانون و انصاف کو 15 روز کے اندر تحریری جواب جمع کروانے کی بھی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ یہ درخوات پاکستان مسلم لیگ (ن) کے وکیل بیرسٹر محسن شاہنواز رانجھا نے دائر کی تھی اور عدالت سے استدعا کی تھی کہ موجودہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ آرڈیننسز کو ’غیر قانونی، پاکستان کے آئین کی دفعہ 89 کے تحت تفویض کیے گئے اختیار کی خلاف ورزی پر غیر آئینی اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا جائے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114303"&gt;7 نومبر کو نافذ کیے گئے آرڈیننس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ عمر گیلانی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ صدارتی آرڈیننس ’ہنگامی صورتحال‘ میں جاری کیے جاتے ہیں جبکہ انہیں وفاقی حکومت کے ’معمول کے امور‘ چلانے کے لیے نافذ کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صدر پر اپنے اختیارات کا ’منصفانہ' استعمال نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے درخواست گزار کا کہنا تھا کہ عدالت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کی خلاف ورزی کی اور ان کے مواخذے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست کے مطابق آرڈیننس عارضی قانون سازی کی ایک صورت ہے اور آئین ان 2 صورتوں میں آرڈیننس جاری کرنے کی اجازت دیتا ہے: (1) جب قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس نہ ہو رہے ہوں، (2) اگر صورتحال ایسی ہو کہ جس میں فوری کارروائی کی ضرورت ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست کے مطابق چونکہ صدر وفاقی حکومت کی تجویز پر کام کرتا ہے لہٰذا آرڈیننس کے اجرا کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114009"&gt;سینیٹ میں ’آرڈیننس کے ذریعے حکمرانی‘ پر تنازع شدت اختیار کرگیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پارلیمان کے ایوانِ زیریں کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق صدر عارف علوی 24 ستمبر 2018 سے کم از کم 20 آرڈیننسز جاری کرچکے ہیں جس سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پارلیمانی قانون سازی کو جس حد تک ممکن ہوسکے نظر انداز کرنے کے لیے ’آرڈیننس کو قانون سازی کے معمول کے طریقہ کار کی حیثیت سے اختیار‘ کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;30 اکتوبر 2019 کو صدر عارف علوی نے &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113043"&gt;8 آرڈیننس&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; جاری کیے تھے جن میں ’لیٹر آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکسیشن سرٹیفکیٹ آرڈیننس 2019، انفورسمنٹ آف ویمن پراپرٹی رائٹس آرڈیننس 2019، بے نامی ٹرانزیکشن(روک تھام) ترمیمی آرڈیننس 2019، سپیریئر کورٹس (کورٹ ڈریس اینڈ موڈ آف ایڈریس) آرڈر (ریپیل) آرڈیننس 2019، نیشنل اکاؤنٹبلیٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2019، لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی آرڈیننس 2019 اور وہسل بلوور ایکٹ‘ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت نے مذکورہ بالا ہدایت جاری کرتے ہوئے درخواست کی مزید سماعت 21 جنوری تک ملتوی کردی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئین کی دفعہ 89 کے تحت صدر کو دیے گئے اختیارات کی وسعت اور وفاقی حکومت کے معمول کے افعال چلانے کے لیے صدر ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے جاری کردہ آرڈیننس کے مستقبل پر سوالات کھڑے کردیے۔</p>

<p>عدالت نے سینئر وکیل بابر اعوان، عابد حسن منٹو، رضا ربانی اور مخدوم علی خان کو عدالتی معاون تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ اٹارنی جنرل کو بھی اس معاملے میں تعاون کرنے کی ہدایت کی۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1526169/ihc-frames-questions-over-scope-of-presidents-powers">رپورٹ</a></strong> کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے آرڈیننس کی قانونی حیثیت کا تعین کرنے کے لیے متعدد سوالات کھڑے کردیے۔</p>

<p>عدالت آئین کی دفعہ 89 کے تحت دیے گئے اختیارات کا دائرہ کار اور یہ جاننا چاہتی تھی کہ کیا دفعہ 70 اور 80 میں بتائے گئے قانون سازی کے عمل کو ایک طرف رکھ کر ان اختیارات کا معمول کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114592/">آرڈیننس کے خلاف درخواست: اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو نوٹس جاری</a></strong> </p>

<p>عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ ’کیا صدر کا منظور کردہ آرڈیننس اس نوعیت کا ہے کہ اس ضمن میں مقرر کردہ تقاضوں کو پورا کرے‘۔</p>

<p>اس کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئین کی دفعہ 89 کے تحت بتائی گئی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جاری کیے گئے آرڈیننس کے مستقبل کے حوالے سے بھی قانونی رائے طلب کی۔</p>

<p>چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سیکریٹری قانون و انصاف کو 15 روز کے اندر تحریری جواب جمع کروانے کی بھی ہدایت کی۔</p>

<p>خیال رہے کہ یہ درخوات پاکستان مسلم لیگ (ن) کے وکیل بیرسٹر محسن شاہنواز رانجھا نے دائر کی تھی اور عدالت سے استدعا کی تھی کہ موجودہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ آرڈیننسز کو ’غیر قانونی، پاکستان کے آئین کی دفعہ 89 کے تحت تفویض کیے گئے اختیار کی خلاف ورزی پر غیر آئینی اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا جائے‘۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114303">7 نومبر کو نافذ کیے گئے آرڈیننس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج</a></strong></p>

<p>درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ عمر گیلانی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ صدارتی آرڈیننس ’ہنگامی صورتحال‘ میں جاری کیے جاتے ہیں جبکہ انہیں وفاقی حکومت کے ’معمول کے امور‘ چلانے کے لیے نافذ کیا جارہا ہے۔</p>

<p>صدر پر اپنے اختیارات کا ’منصفانہ' استعمال نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے درخواست گزار کا کہنا تھا کہ عدالت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کی خلاف ورزی کی اور ان کے مواخذے کا مطالبہ کیا۔</p>

<p>درخواست کے مطابق آرڈیننس عارضی قانون سازی کی ایک صورت ہے اور آئین ان 2 صورتوں میں آرڈیننس جاری کرنے کی اجازت دیتا ہے: (1) جب قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس نہ ہو رہے ہوں، (2) اگر صورتحال ایسی ہو کہ جس میں فوری کارروائی کی ضرورت ہو۔</p>

<p>درخواست کے مطابق چونکہ صدر وفاقی حکومت کی تجویز پر کام کرتا ہے لہٰذا آرڈیننس کے اجرا کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114009">سینیٹ میں ’آرڈیننس کے ذریعے حکمرانی‘ پر تنازع شدت اختیار کرگیا</a></strong></p>

<p>پارلیمان کے ایوانِ زیریں کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق صدر عارف علوی 24 ستمبر 2018 سے کم از کم 20 آرڈیننسز جاری کرچکے ہیں جس سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پارلیمانی قانون سازی کو جس حد تک ممکن ہوسکے نظر انداز کرنے کے لیے ’آرڈیننس کو قانون سازی کے معمول کے طریقہ کار کی حیثیت سے اختیار‘ کر لیا ہے۔</p>

<p>30 اکتوبر 2019 کو صدر عارف علوی نے <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113043">8 آرڈیننس</a></strong> جاری کیے تھے جن میں ’لیٹر آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکسیشن سرٹیفکیٹ آرڈیننس 2019، انفورسمنٹ آف ویمن پراپرٹی رائٹس آرڈیننس 2019، بے نامی ٹرانزیکشن(روک تھام) ترمیمی آرڈیننس 2019، سپیریئر کورٹس (کورٹ ڈریس اینڈ موڈ آف ایڈریس) آرڈر (ریپیل) آرڈیننس 2019، نیشنل اکاؤنٹبلیٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2019، لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی آرڈیننس 2019 اور وہسل بلوور ایکٹ‘ شامل ہیں۔</p>

<p>عدالت نے مذکورہ بالا ہدایت جاری کرتے ہوئے درخواست کی مزید سماعت 21 جنوری تک ملتوی کردی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1117802</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Jan 2020 10:24:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/01/5e1010625fd6e.jpg?r=1118747643" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/01/5e1010625fd6e.jpg?r=1687965178"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/01/5e1002addfc7e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/01/5e1002addfc7e.jpg"/>
        <media:title>عدالت نے  سیکریٹری قانون اور انصاف کو 15 روز میں تحریری جواب جمع کروانے کی ہدایت کی—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
