<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 12:01:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 12:01:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عرفان پٹھان کا کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1117847/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی کرکٹ ٹیم کے مشہور فاسٹ باؤلر عرفان پٹھان نے تمام طرز کی کرکٹ سے کنارہ کشی کا اعلان کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کی &lt;a href="https://www.espncricinfo.com/story/_/id/28420106/world-t20-winner-irfan-pathan-retires-professional-cricket"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پہلے ورلڈ ٹی ٹوئٹنی فائنل کے ہیرو عرفان پٹھان نے طویل عرصے تک نظرانداز کیے جانے کے بعد ہر طرح کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عرفان پٹھان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے معلوم تھا کہ 2016 کے بعد میں بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی نہیں کرپاؤں گا’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی کرکٹ ٹیم کے سلیکٹرز کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘سید مشتاق علی ٹرافی کے 16-2015 سیزن میں سب زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والا باؤلر اور بہترین آل راؤنڈر تھا لیکن میں قومی ٹیم میں منتخب نہیں کیا گیا’۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e10cc5e89baa.jpg"  alt="عرفان پٹھان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2007 فائنل کے مین آف دی میچ تھے" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;عرفان پٹھان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2007 فائنل کے مین آف دی میچ تھے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹیسٹ کرکٹ میں ہیٹ ٹرک کا اعزاز حاصل کرنے والے فاسٹ باؤلر کا کہنا تھا کہ ‘سلیکٹرز میری باؤلنگ سے زیادہ خوش نہیں تھے اور یہ 2016 کے دوران مجھے بتایا گیا تھا جبکہ میں جانتا تھا کہ میرا دور ختم ہوگیا ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عرفان پٹھان کا کہنا تھا کہ ‘لوگ 27 یا 28 سال کی عمر میں اپنا کیریئر شروع کرتے ہیں اور 35 سال تک کھیلتے ہیں لیکن میں جب 27 سال کا تھا تو بین الاقوامی کرکٹ میں 301 وکٹیں حاصل کرلی تھیں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مشہور آل راؤنڈر نے کہا کہ ‘میری خواہش تھی کہ میں 500 یا 600 وکٹیں حاصل کرسکوں اور زیادہ رنز بناؤں لیکن ایسا نہیں ہوا جس کا افسوس ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ عرفان پٹھان نے 12 دسمبر 2003 کو ایڈیلیڈ میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا تھا جس میں انہیں صرف ایک وکٹ ملی تھی جبکہ انہوں نے ایک روزہ کرکٹ میں ڈیبو بھی آسٹریلیا کے خلاف 9 جنوری 2004 کو میلبورن میں کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برودا سے 2000 میں فرسٹ کلاس کیریئر کا آغاز کرنے والے عرفان پٹھان نومبر 2003 میں اس وقت تک دنیائے کرکٹ میں متعارف ہوئے جب انہوں نے لاہور میں بنگلہ دیش کے خلاف انڈر 19 کے میچ میں 16 رنز کے عوض 9 وکٹیں حاصل کی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1049400"&gt;عرفان پٹھان کے بیٹے کا نام 'عمران خان پٹھان'&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عرفان پٹھان انڈر-19 ورلڈ کپ 2004 کے لیے بھارتی ٹیم میں منتخب ہونے کے لیے فیورٹ تھے لیکن اپنی شاندار کارکردگی کی بدولت وہ بھارت کی قومی ٹیم کا حصہ بن گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے ہربھجن سنگھ کے بعد عرفان پٹھان دوسرے باؤلر ہیں اور انہوں نے یہ ہیٹ ٹرک پاکستان کے خلاف 2006 میں کراچی ٹیسٹ میں کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عرفان پٹھان نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ڈیبیو یکم دسمبر 2006 کو جنوبی افریقہ کے خلاف جوہانسبرگ میں کیا اور بعد ازاں اولین ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو چیمپیئن بنوایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2007 کے فائنل میں پاکستان کے خلاف بہترین کارکردگی دکھانے پر انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عرفان پٹھان آخری ٹیسٹ اپریل 2008 میں جنوبی افریقہ اور آخری ون ڈے سری لنکا کے خلاف پالی کیلے میں 4 اگست 2012 کو کھیلا اسی طرح انہوں نے کیریئر کا آخری ٹی ٹوئنٹی 2 اکتوبر 2012 کو جنوبی افریقہ کے خلاف کولمبو میں تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور آئی پی ایل میں بھی اپنی ٹیم کی نمائندگی کی لیکن بھارتی ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ فرسٹ کلاس میں انہوں نے آخری میچ فروری 2019 میں کھیلا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عرفان پٹھان نے مجموعی طور پر 29 ٹیسٹ، 120 ون ڈے اور 24 ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے، ٹیسٹ میں انہوں نے ایک سنچری اور 6 نصف سنچریوں کی بدولت 31 اعشاریہ 57 کی اوسط سے ایک ہزار 105 رنز بنائے اور 100 وکٹیں بھی حاصل کیں جس میں بہترین باؤلنگ ایک میچ میں 126 رنز کے عوض 12 وکٹیں ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک روزہ کرکٹ میں انہوں نے 5 نصف سنچریوں کی مدد سے 23 اعشاریہ 39 کی اوسط سے ایک ہزار 544 رنز بنائے اور 173 وکٹیں حاصل کیں، اس کے علاوہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں 172 رنز بنائے اور 28 وکٹیں حاصل کیں۔  &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی کرکٹ ٹیم کے مشہور فاسٹ باؤلر عرفان پٹھان نے تمام طرز کی کرکٹ سے کنارہ کشی کا اعلان کردیا۔</p>

<p>کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کی <a href="https://www.espncricinfo.com/story/_/id/28420106/world-t20-winner-irfan-pathan-retires-professional-cricket"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق پہلے ورلڈ ٹی ٹوئٹنی فائنل کے ہیرو عرفان پٹھان نے طویل عرصے تک نظرانداز کیے جانے کے بعد ہر طرح کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا۔</p>

<p>عرفان پٹھان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے معلوم تھا کہ 2016 کے بعد میں بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی نہیں کرپاؤں گا’۔</p>

<p>بھارتی کرکٹ ٹیم کے سلیکٹرز کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘سید مشتاق علی ٹرافی کے 16-2015 سیزن میں سب زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والا باؤلر اور بہترین آل راؤنڈر تھا لیکن میں قومی ٹیم میں منتخب نہیں کیا گیا’۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e10cc5e89baa.jpg"  alt="عرفان پٹھان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2007 فائنل کے مین آف دی میچ تھے" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">عرفان پٹھان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2007 فائنل کے مین آف دی میچ تھے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>ٹیسٹ کرکٹ میں ہیٹ ٹرک کا اعزاز حاصل کرنے والے فاسٹ باؤلر کا کہنا تھا کہ ‘سلیکٹرز میری باؤلنگ سے زیادہ خوش نہیں تھے اور یہ 2016 کے دوران مجھے بتایا گیا تھا جبکہ میں جانتا تھا کہ میرا دور ختم ہوگیا ہے’۔</p>

<p>عرفان پٹھان کا کہنا تھا کہ ‘لوگ 27 یا 28 سال کی عمر میں اپنا کیریئر شروع کرتے ہیں اور 35 سال تک کھیلتے ہیں لیکن میں جب 27 سال کا تھا تو بین الاقوامی کرکٹ میں 301 وکٹیں حاصل کرلی تھیں’۔</p>

<p>مشہور آل راؤنڈر نے کہا کہ ‘میری خواہش تھی کہ میں 500 یا 600 وکٹیں حاصل کرسکوں اور زیادہ رنز بناؤں لیکن ایسا نہیں ہوا جس کا افسوس ہے’۔</p>

<p>یاد رہے کہ عرفان پٹھان نے 12 دسمبر 2003 کو ایڈیلیڈ میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا تھا جس میں انہیں صرف ایک وکٹ ملی تھی جبکہ انہوں نے ایک روزہ کرکٹ میں ڈیبو بھی آسٹریلیا کے خلاف 9 جنوری 2004 کو میلبورن میں کیا تھا۔</p>

<p>برودا سے 2000 میں فرسٹ کلاس کیریئر کا آغاز کرنے والے عرفان پٹھان نومبر 2003 میں اس وقت تک دنیائے کرکٹ میں متعارف ہوئے جب انہوں نے لاہور میں بنگلہ دیش کے خلاف انڈر 19 کے میچ میں 16 رنز کے عوض 9 وکٹیں حاصل کی تھیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1049400">عرفان پٹھان کے بیٹے کا نام 'عمران خان پٹھان'</a></strong></p>

<p>عرفان پٹھان انڈر-19 ورلڈ کپ 2004 کے لیے بھارتی ٹیم میں منتخب ہونے کے لیے فیورٹ تھے لیکن اپنی شاندار کارکردگی کی بدولت وہ بھارت کی قومی ٹیم کا حصہ بن گئے۔</p>

<p>بھارت کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے ہربھجن سنگھ کے بعد عرفان پٹھان دوسرے باؤلر ہیں اور انہوں نے یہ ہیٹ ٹرک پاکستان کے خلاف 2006 میں کراچی ٹیسٹ میں کی تھی۔</p>

<p>عرفان پٹھان نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ڈیبیو یکم دسمبر 2006 کو جنوبی افریقہ کے خلاف جوہانسبرگ میں کیا اور بعد ازاں اولین ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو چیمپیئن بنوایا۔</p>

<p>ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2007 کے فائنل میں پاکستان کے خلاف بہترین کارکردگی دکھانے پر انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔</p>

<p>عرفان پٹھان آخری ٹیسٹ اپریل 2008 میں جنوبی افریقہ اور آخری ون ڈے سری لنکا کے خلاف پالی کیلے میں 4 اگست 2012 کو کھیلا اسی طرح انہوں نے کیریئر کا آخری ٹی ٹوئنٹی 2 اکتوبر 2012 کو جنوبی افریقہ کے خلاف کولمبو میں تھا۔</p>

<p>انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور آئی پی ایل میں بھی اپنی ٹیم کی نمائندگی کی لیکن بھارتی ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔</p>

<p>واضح رہے کہ فرسٹ کلاس میں انہوں نے آخری میچ فروری 2019 میں کھیلا تھا۔</p>

<p>عرفان پٹھان نے مجموعی طور پر 29 ٹیسٹ، 120 ون ڈے اور 24 ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے، ٹیسٹ میں انہوں نے ایک سنچری اور 6 نصف سنچریوں کی بدولت 31 اعشاریہ 57 کی اوسط سے ایک ہزار 105 رنز بنائے اور 100 وکٹیں بھی حاصل کیں جس میں بہترین باؤلنگ ایک میچ میں 126 رنز کے عوض 12 وکٹیں ہیں۔</p>

<p>ایک روزہ کرکٹ میں انہوں نے 5 نصف سنچریوں کی مدد سے 23 اعشاریہ 39 کی اوسط سے ایک ہزار 544 رنز بنائے اور 173 وکٹیں حاصل کیں، اس کے علاوہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں 172 رنز بنائے اور 28 وکٹیں حاصل کیں۔  </p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1117847</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Jan 2020 18:54:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/01/5e10cecae7a31.jpg?r=703456678" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/01/5e10cecae7a31.jpg?r=1729922417"/>
        <media:title>عرفان پٹھان نے 2003 میں ٹیسٹ کرکٹ میں ڈیبو کیا تھا—فوٹو:ڈی این اے
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
