<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Africa</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 26 Jun 2026 03:20:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 26 Jun 2026 03:20:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کینیا میں امریکی فوجی اڈے پر الشباب کا حملہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1117878/</link>
      <description>&lt;p&gt;کینیا کے علاقے لامو میں صومالیہ کی دہشت گرد تنظیم الشباب نے امریکی اور مقامی فوجیوں کے اڈے پر حملہ کرکے متعدد طیاروں اور گاڑیوں کو تباہ کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے افریقہ کے لیے فوجی کمانڈ (افریکم) نے صومالیہ کی سرحد کے قریب لامو کاؤنٹی کے مانڈا بے ایئر فیلڈ میں حملے کی تصدیق کردی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کینیا کی فوج کا کہنا تھا کہ حملے کو ناکام بنادیا گیا اور 4 حملہ آوروں کو بھی مارا گیا تاہم امریکی اور کینیا کی فوج کے جانی نقصان کی رپورٹ تاحال نہیں ملی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1116190"&gt;کینیا میں بس پر دہشت گرد حملہ، 10 افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب الشباب نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ‘حملے میں 7 طیارے اور 3 فوجی گاڑیوں کو تباہ کیا گیا’۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e121698d68b7.jpg"  alt="حملہ آوروں نے تصاویر بھی جاری کیں&amp;mdash;فوٹو:رائٹرز" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;حملہ آوروں نے تصاویر بھی جاری کیں—فوٹو:رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;افریقہ میں امریکی کمانڈ کے میجر کارل ویسٹ کا کہنا تھا کہ فوجی اڈے میں تقریباً 150 امریکی فوجی موجود تھے جہاں وہ مشرقی افریقی اتحادیوں کو انسداد دہشت گردی کی تربیت دے رہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘ابتدائی رپورٹس کے مطابق انفرا اسٹرکچر اور آلات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ فوجی اہلکاروں کی خیریت کے حوالے سے تفتیش کی جارہی ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عینی شاہدین اور فوجی ذرائع کے مطابق فوجی اڈے پر یہ حملہ علی الصبح ہوا اور تقریباً 4 گھنٹے تک جاری رہا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کینیا کی فوج کے ترجمان کرنل پاؤل نجوگنا کا کہنا تھا کہ ایئربیس کو اب محفوظ بنادیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘مانڈا ایئر بیس میں صبح ساڑھے پانچ بجے کے قریب حملہ آوروں نے سیکیورٹی لائن کو توڑتے ہوئے حملہ کیا لیکن اس حملے کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا گیا اور اب ایئر فیلڈ محفوظ ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سیاحوں کی جنت سمجھے جانے والے علاقے میں ہونے والے حملے کے حوالے سے آزاد ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے ایئربیس میں حملوں کی تصاویر جاری کی ہیں جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ تباہ شدہ طیاروں کے قریب کھڑے ہیں جن سے شعلے بلند ہورہے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1095539"&gt;کینیا: الشباب کا ہوٹل پر دہشت گرد حملہ، 5 افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق کینیا نے 2011 میں پڑوسی ملک صومالیہ میں کشیدگی کے باعث سرحد میں ہونے والے حملوں پر اپنی فوج بھیجی تھی جس کے بعد افریقن یونین نے امن فوج بنائی تھی جو خطے میں دہشت گردی کے خلاف سرگرم عمل ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ الشباب صومالیہ اور پڑوسی ممالک میں ایک دہائی سے بھی زائد عرصے سے حکومت کے خلاف کارروائیاں کررہی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ ماہ 7 دسمبر کو صومالیہ کی سرحد کے قریبی علاقے میں مسافر بس پر حملے میں پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کی ذمہ داری بھی الشباب نے قبول کی تھی.&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں جنوری 2019 میں ایک پرتعیش ہوٹل اور آفس کمپلیکس پر الشباب کے حملے میں کم از کم 5 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جائے وقوع پر سب سے پہلے پہنچنے والے ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبرایجنسی کو بتایا تھا کہ اس نے کم از کم 14افراد کی لاشیں دیکھی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;الشباب نے ستمبر 2019 میں صومالیہ میں بلیدوغلے بیس پر بھی اسی طرح کے حملے کیے تھے جو صومالیہ اور امریکی فوجیوں کا اڈا تھا لیکن تمام حملہ آوروں کو ہلاک کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کینیا میں الشباب نے ایک سال قبل نیروبی کے ہوٹل میں حملہ کیا تھا جہاں 21 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صومالیہ میں کئی دہشت گردی کے واقعات میں ملوث تننظیم الشباب اس سے قبل بھی کینیا میں بڑے حملے کر چکی ہے اور 2013 میں شاپنگ مال پر کیے گئے حملے میں کم ازکم 67افراد ہلاک ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپریل 2015 میں الشباب نے مشرقی کینیا کے شہر گریسا میں یونیورسٹی پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 148 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کینیا کے علاقے لامو میں صومالیہ کی دہشت گرد تنظیم الشباب نے امریکی اور مقامی فوجیوں کے اڈے پر حملہ کرکے متعدد طیاروں اور گاڑیوں کو تباہ کردیا۔</p>

<p>خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے افریقہ کے لیے فوجی کمانڈ (افریکم) نے صومالیہ کی سرحد کے قریب لامو کاؤنٹی کے مانڈا بے ایئر فیلڈ میں حملے کی تصدیق کردی۔ </p>

<p>کینیا کی فوج کا کہنا تھا کہ حملے کو ناکام بنادیا گیا اور 4 حملہ آوروں کو بھی مارا گیا تاہم امریکی اور کینیا کی فوج کے جانی نقصان کی رپورٹ تاحال نہیں ملی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1116190">کینیا میں بس پر دہشت گرد حملہ، 10 افراد ہلاک</a></strong></p>

<p>دوسری جانب الشباب نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ‘حملے میں 7 طیارے اور 3 فوجی گاڑیوں کو تباہ کیا گیا’۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e121698d68b7.jpg"  alt="حملہ آوروں نے تصاویر بھی جاری کیں&mdash;فوٹو:رائٹرز" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">حملہ آوروں نے تصاویر بھی جاری کیں—فوٹو:رائٹرز</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>افریقہ میں امریکی کمانڈ کے میجر کارل ویسٹ کا کہنا تھا کہ فوجی اڈے میں تقریباً 150 امریکی فوجی موجود تھے جہاں وہ مشرقی افریقی اتحادیوں کو انسداد دہشت گردی کی تربیت دے رہے تھے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘ابتدائی رپورٹس کے مطابق انفرا اسٹرکچر اور آلات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ فوجی اہلکاروں کی خیریت کے حوالے سے تفتیش کی جارہی ہے’۔</p>

<p>عینی شاہدین اور فوجی ذرائع کے مطابق فوجی اڈے پر یہ حملہ علی الصبح ہوا اور تقریباً 4 گھنٹے تک جاری رہا۔</p>

<p>کینیا کی فوج کے ترجمان کرنل پاؤل نجوگنا کا کہنا تھا کہ ایئربیس کو اب محفوظ بنادیا گیا ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘مانڈا ایئر بیس میں صبح ساڑھے پانچ بجے کے قریب حملہ آوروں نے سیکیورٹی لائن کو توڑتے ہوئے حملہ کیا لیکن اس حملے کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا گیا اور اب ایئر فیلڈ محفوظ ہے’۔</p>

<p>سیاحوں کی جنت سمجھے جانے والے علاقے میں ہونے والے حملے کے حوالے سے آزاد ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے ایئربیس میں حملوں کی تصاویر جاری کی ہیں جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ تباہ شدہ طیاروں کے قریب کھڑے ہیں جن سے شعلے بلند ہورہے ہیں۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1095539">کینیا: الشباب کا ہوٹل پر دہشت گرد حملہ، 5 افراد ہلاک</a></strong></p>

<p>رپورٹس کے مطابق کینیا نے 2011 میں پڑوسی ملک صومالیہ میں کشیدگی کے باعث سرحد میں ہونے والے حملوں پر اپنی فوج بھیجی تھی جس کے بعد افریقن یونین نے امن فوج بنائی تھی جو خطے میں دہشت گردی کے خلاف سرگرم عمل ہے۔ </p>

<p>خیال رہے کہ الشباب صومالیہ اور پڑوسی ممالک میں ایک دہائی سے بھی زائد عرصے سے حکومت کے خلاف کارروائیاں کررہی ہے۔ </p>

<p>گزشتہ ماہ 7 دسمبر کو صومالیہ کی سرحد کے قریبی علاقے میں مسافر بس پر حملے میں پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کی ذمہ داری بھی الشباب نے قبول کی تھی.</p>

<p>کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں جنوری 2019 میں ایک پرتعیش ہوٹل اور آفس کمپلیکس پر الشباب کے حملے میں کم از کم 5 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔</p>

<p>جائے وقوع پر سب سے پہلے پہنچنے والے ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبرایجنسی کو بتایا تھا کہ اس نے کم از کم 14افراد کی لاشیں دیکھی ہیں۔</p>

<p>الشباب نے ستمبر 2019 میں صومالیہ میں بلیدوغلے بیس پر بھی اسی طرح کے حملے کیے تھے جو صومالیہ اور امریکی فوجیوں کا اڈا تھا لیکن تمام حملہ آوروں کو ہلاک کردیا گیا تھا۔</p>

<p>کینیا میں الشباب نے ایک سال قبل نیروبی کے ہوٹل میں حملہ کیا تھا جہاں 21 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔</p>

<p>صومالیہ میں کئی دہشت گردی کے واقعات میں ملوث تننظیم الشباب اس سے قبل بھی کینیا میں بڑے حملے کر چکی ہے اور 2013 میں شاپنگ مال پر کیے گئے حملے میں کم ازکم 67افراد ہلاک ہو گئے تھے۔</p>

<p>اپریل 2015 میں الشباب نے مشرقی کینیا کے شہر گریسا میں یونیورسٹی پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 148 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1117878</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Jan 2020 22:04:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/01/5e11e7d73fac8.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/01/5e11e7d73fac8.jpg"/>
        <media:title>الشباب نے کینیا میں گزشتہ برس بھی حملے کیے تھے—فائل/فوٹو:رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
