<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 02:14:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 02:14:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نئی دہلی: جواہر لعل نہرو یونیورسٹی حملے میں متعدد اساتذہ و طلبہ زخمی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1117899/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی مشہور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں ڈنڈا بردار نقاب پوش افراد نے حملہ کرکے اساتذہ اور طلبہ یونین کے صدر سمیت مزید کئی طلبہ کو زخمی کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسکرول ان کی &lt;a href="https://scroll.in/latest/948866/violence-breaks-out-at-jnu-masked-mob-leaves-students-union-president-injured"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقعے کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ڈنڈے اور لوہے کی سلاخیں کی ہاتھوں میں لیے نقاب پوش حملہ آور ہاسٹل کی عمارت طرف بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یونیورسٹی کی طلبہ یونین نے الزام عائد کیا کہ اکھیل بھارتیا ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے جامعہ میں حملہ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اے بی وی پی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارتی (بی جے پی) کی نظریاتی جماعت راشٹریہ سیوک سینگھ (آر ایس ایس) کی طلبہ تنظیم ہے جس پر بائیں بازو کی طلبہ یونین نکسل کی جانب سے حملے کا الزام عائد کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1116673"&gt;بھارت: شہریت قانون کے خلاف جامعہ دہلی میں شدید احتجاج، 100 سے زائد زخمی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جے این یو میں نقاب پوش افراد کے حملے میں کم از کم 23 طلبہ اور اساتذہ زخمی ہوگئے جنہیں آل اندیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اینڈ سیفدرجنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;زخمیوں میں جواہر لعل یونیورسٹی طلبہ یونین کے صدر آشے گوش ایک استاد سچیریتا سین بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یونیورسٹی کے ایک طالب علم کا کہنا تھا کہ اے بی وی پی کے اراکین کی جانب سے مبینہ حملہ ہاسٹل کی فیسوں میں حالیہ اضافے کے خلاف طلبہ کے احتجاج پر پتھراؤ کے بعد کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ فیسوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کی جانب سے متعدد طلبہ پر تشدد کے بعد نقاب پوش افراد نے حملہ کیا تاہم ان کی شناخت کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1117891/"&gt;متنازع شہریت قانون، بھارتی حکومت لوگوں کو ٹوئٹر پر دھوکا دینے لگی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی ویب سائٹ کی &lt;a href="https://www.hindustantimes.com/india-news/those-with-sticks-are-students-no-mob-outside-jnu-campus-at-present-delhi-police/story-Zg2B7f6iW702fybaUN1YnN.html"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پولیس افسر دیوندر آریا کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں دو طلبہ گروپوں میں تصادم ہوا تھا جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے کم ازکم 7 طلبہ زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس افسر کا کہنا تھا کہ تصاویر میں نظر آنے والے نقاب پوش اور لاٹھیوں اور لوہے کی سلاخوں سے لیس تمام افراد طلبہ ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ بھارت میں متنازع شہریت قانون کے خلاف گزشتہ کئی ہفتوں سے احتجاج جاری ہے اور اسی حوالے سے دہلی کی جامعہ ملیہ میں احتجاج پر پولیس نے طلبہ پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے تھے جس سے متعدد طلہ زخمی ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی مشہور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں ڈنڈا بردار نقاب پوش افراد نے حملہ کرکے اساتذہ اور طلبہ یونین کے صدر سمیت مزید کئی طلبہ کو زخمی کردیا۔</p>

<p>اسکرول ان کی <a href="https://scroll.in/latest/948866/violence-breaks-out-at-jnu-masked-mob-leaves-students-union-president-injured"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقعے کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ڈنڈے اور لوہے کی سلاخیں کی ہاتھوں میں لیے نقاب پوش حملہ آور ہاسٹل کی عمارت طرف بڑھ رہے ہیں۔</p>

<p>یونیورسٹی کی طلبہ یونین نے الزام عائد کیا کہ اکھیل بھارتیا ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے جامعہ میں حملہ کیا۔</p>

<p>رپورٹ کے مطابق اے بی وی پی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارتی (بی جے پی) کی نظریاتی جماعت راشٹریہ سیوک سینگھ (آر ایس ایس) کی طلبہ تنظیم ہے جس پر بائیں بازو کی طلبہ یونین نکسل کی جانب سے حملے کا الزام عائد کیا گیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1116673">بھارت: شہریت قانون کے خلاف جامعہ دہلی میں شدید احتجاج، 100 سے زائد زخمی</a></strong></p>

<p>بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جے این یو میں نقاب پوش افراد کے حملے میں کم از کم 23 طلبہ اور اساتذہ زخمی ہوگئے جنہیں آل اندیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اینڈ سیفدرجنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔</p>

<p>زخمیوں میں جواہر لعل یونیورسٹی طلبہ یونین کے صدر آشے گوش ایک استاد سچیریتا سین بھی شامل ہیں۔</p>

<p>یونیورسٹی کے ایک طالب علم کا کہنا تھا کہ اے بی وی پی کے اراکین کی جانب سے مبینہ حملہ ہاسٹل کی فیسوں میں حالیہ اضافے کے خلاف طلبہ کے احتجاج پر پتھراؤ کے بعد کیا گیا۔</p>

<p>دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ فیسوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کی جانب سے متعدد طلبہ پر تشدد کے بعد نقاب پوش افراد نے حملہ کیا تاہم ان کی شناخت کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1117891/">متنازع شہریت قانون، بھارتی حکومت لوگوں کو ٹوئٹر پر دھوکا دینے لگی</a></strong></p>

<p>بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی ویب سائٹ کی <a href="https://www.hindustantimes.com/india-news/those-with-sticks-are-students-no-mob-outside-jnu-campus-at-present-delhi-police/story-Zg2B7f6iW702fybaUN1YnN.html"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق پولیس افسر دیوندر آریا کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں دو طلبہ گروپوں میں تصادم ہوا تھا جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے کم ازکم 7 طلبہ زخمی ہوگئے۔</p>

<p>پولیس افسر کا کہنا تھا کہ تصاویر میں نظر آنے والے نقاب پوش اور لاٹھیوں اور لوہے کی سلاخوں سے لیس تمام افراد طلبہ ہیں۔ </p>

<p>یاد رہے کہ بھارت میں متنازع شہریت قانون کے خلاف گزشتہ کئی ہفتوں سے احتجاج جاری ہے اور اسی حوالے سے دہلی کی جامعہ ملیہ میں احتجاج پر پولیس نے طلبہ پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے تھے جس سے متعدد طلہ زخمی ہوگئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1117899</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Jan 2020 01:03:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/01/5e123fb4d0d80.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="630" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/01/5e123fb4d0d80.jpg"/>
        <media:title>نقاب پوش افراد نے طلبہ اور اساتذہ کو زخمی کردیا—فوٹو:جے این یو طلبہ یونین ٹویٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
