<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:18:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:18:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اوبر کی اڑنے والی ٹیکسی کا کانسیپٹ ڈیزائن متعارف
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1118039/</link>
      <description>&lt;p&gt;رائیڈ شیئرنگ کمپنی اوبر کی مسافروں کو سڑک کی بجائے فضا کے ذریعے منزل پر پہنچانے والی ٹیکسی کی پہلی جھلک سامنے آگئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لاس ویگاس میں سی ای ایس نمائش کے دوران ہونڈائی نے اوبر کے لیے تیار کی جانے والی اڑن ٹیکسی کا کانسیپٹ ڈیزائن متعارف کرایا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1118034' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e14a37071938.png"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ پروٹوٹائپ ماڈل بنیادی طور پر ہیلی کاپٹر سے متاثر طیارے جیسا ہے جس کے ذریعے اوبر ائیر فلائٹ شیئرنگ سروس کے مسافر اپنی منازل پر پہنچ سکیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اوبر ائیر کو 2023 تک لاس اینجلس، ڈیلاس اور میلبورن میں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے اور یہ سروس طویل مسافت کے لیے ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اوبر ایلیویٹ کے سربراہ ایرک ایلیسن نے اس موقع پر بتایا 'یہ گاڑی اوبر کو آسمان پر لے جائے گی، چونکہ ہم خود اڑنے والی ٹیکسیاں تیار نہیں کرسکتے، تو ہونڈائی یہ طیارے ہمارے لیے تیار کررہی ہے'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا 'ہونڈائی کی اڑن ٹیکسیوں کے ذریعے مسافروں کو آسمان پر لے جانے کا دن آپ کی توقع سے بھی زیادہ قریب ہے'۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e14a3f03b389.jpg"  alt="فوٹو بشکریہ اوبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;فوٹو بشکریہ اوبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہونڈائی کی ای۔ وی ٹی او ایل (الیکٹرک ورٹیکل ٹیک آف ایند لینڈنگ) کو ایس اے 1 کا نام دیا گیا ہے اور یہ فی الحال کانسیپٹ ماڈل ہے جس کے کمرشل ماڈل کی تاریخ طے نہیں کی گئی، مگر ہونڈائی کی خواہش ہے کہ اس کے ذریعے 4 مسافروں کو منزل تک پہنچانا ممکن بنایا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس منصوبے کے تحت ان اڑنے والی گاڑیوں کے بتدریج خودکار بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہونڈائی کی یہ اڑنے والی گاڑیاں مکمل طور پر بجلی پر کام کرتی ہیں جو 2 ہزار فٹ کی بلندی پر 60 میل تک سفر کرسکتی ہیں اور ان کو 10 منٹ میں چارج کرنا ممکن ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ گاڑی 180 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرسکے گی اور اوبر کا کہنا ہے کہ ہر 20 میل کا کرایہ سو ڈالرز کے قریب ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>رائیڈ شیئرنگ کمپنی اوبر کی مسافروں کو سڑک کی بجائے فضا کے ذریعے منزل پر پہنچانے والی ٹیکسی کی پہلی جھلک سامنے آگئی۔</p>

<p>لاس ویگاس میں سی ای ایس نمائش کے دوران ہونڈائی نے اوبر کے لیے تیار کی جانے والی اڑن ٹیکسی کا کانسیپٹ ڈیزائن متعارف کرایا۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1118034' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e14a37071938.png"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>یہ پروٹوٹائپ ماڈل بنیادی طور پر ہیلی کاپٹر سے متاثر طیارے جیسا ہے جس کے ذریعے اوبر ائیر فلائٹ شیئرنگ سروس کے مسافر اپنی منازل پر پہنچ سکیں گے۔</p>

<p>اوبر ائیر کو 2023 تک لاس اینجلس، ڈیلاس اور میلبورن میں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے اور یہ سروس طویل مسافت کے لیے ہوگی۔</p>

<p>اوبر ایلیویٹ کے سربراہ ایرک ایلیسن نے اس موقع پر بتایا 'یہ گاڑی اوبر کو آسمان پر لے جائے گی، چونکہ ہم خود اڑنے والی ٹیکسیاں تیار نہیں کرسکتے، تو ہونڈائی یہ طیارے ہمارے لیے تیار کررہی ہے'۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا 'ہونڈائی کی اڑن ٹیکسیوں کے ذریعے مسافروں کو آسمان پر لے جانے کا دن آپ کی توقع سے بھی زیادہ قریب ہے'۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e14a3f03b389.jpg"  alt="فوٹو بشکریہ اوبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">فوٹو بشکریہ اوبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>ہونڈائی کی ای۔ وی ٹی او ایل (الیکٹرک ورٹیکل ٹیک آف ایند لینڈنگ) کو ایس اے 1 کا نام دیا گیا ہے اور یہ فی الحال کانسیپٹ ماڈل ہے جس کے کمرشل ماڈل کی تاریخ طے نہیں کی گئی، مگر ہونڈائی کی خواہش ہے کہ اس کے ذریعے 4 مسافروں کو منزل تک پہنچانا ممکن بنایا جائے۔</p>

<p>اس منصوبے کے تحت ان اڑنے والی گاڑیوں کے بتدریج خودکار بنایا جائے گا۔</p>

<p>ہونڈائی کی یہ اڑنے والی گاڑیاں مکمل طور پر بجلی پر کام کرتی ہیں جو 2 ہزار فٹ کی بلندی پر 60 میل تک سفر کرسکتی ہیں اور ان کو 10 منٹ میں چارج کرنا ممکن ہوگا۔</p>

<p>یہ گاڑی 180 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرسکے گی اور اوبر کا کہنا ہے کہ ہر 20 میل کا کرایہ سو ڈالرز کے قریب ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1118039</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Jan 2020 20:36:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/01/5e14a3f0335b4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/01/5e14a3f0335b4.jpg"/>
        <media:title>— فوٹو بشکریہ اوبر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
