<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 07:40:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 07:40:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسٹریلیا کے جنگلات میں لگی آگ کے بارے میں آپ کیا کچھ جانتے ہیں؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1118109/</link>
      <description>&lt;h1 id='5e16d263e3f4d'&gt;&lt;div style="background-color: #000080;"&gt;&lt;font size="06"&gt;&lt;p style="color: #fefdfd; text-align: center"&gt; آسٹریلیا: جنگلات میں لگی آگ کے وہ حقائق جنہیں جاننا لازمی ہے &lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/h1&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e15de11363bf.jpg"  alt="جنگلات میں گزشتہ چند ماہ سے آگ لگی ہوئی ہے&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;جنگلات میں گزشتہ چند ماہ سے آگ لگی ہوئی ہے—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/authors/1689/web-desk"&gt;&lt;strong&gt;ویب ڈیسک&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا کے سب سے بڑے براعظم ایشیا کے ایک کونے میں ’اوقیانوس‘ نامی خطے میں واقع رقبے کے لحاظ سے دنیا کے چھٹے بڑے ملک آسٹریلیا میں گزشتہ چند ماہ سے آگ کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا ایک ایسے خطے میں واقع ہے جسے نہ صرف ’اوقیانوس‘ کا خطہ کہا جاتا ہے بلکہ اس خطے کو ’براعظم آسٹریلیا‘ بھی کہا جاتا ہے جو کہ غلط ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جریزہ نما ملک کے پڑوس میں نیوزی لینڈ، انڈونیشیا، مشرقی تیمور اور پاپانیوگنی جیسے جزیرہ نما ممالک ہیں جن کا بہت بڑا حصہ آسٹریلیا کی طرح صحرا، جنگلات اور جزائر پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’نیو ساؤتھ ویلز، وکٹوریا، کوئینز لینڈ، ویسٹرن آسٹریلیا، ساؤتھ آسٹریلیا اور تسمانیا‘ نامی ریاستوں پر مبنی ملک آسٹریلیا کا شمار دنیا کی بڑی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک میں بھی ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e15dedb1e0f8.jpg"  alt="آسٹریلیا کا شمار بڑے اقتصادی ممالک میں ہوتا ہے&amp;mdash;فوٹو: ایشیا پیڈیا" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;آسٹریلیا کا شمار بڑے اقتصادی ممالک میں ہوتا ہے—فوٹو: ایشیا پیڈیا&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ملک کا بہت بڑا رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جب دنیا کے دیگر ممالک میں سردیاں ہوتی ہیں تو یہاں گرمیاں ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا میں آگ لگنے کے واقعات معمول کا حصہ ہیں اور چوں کہ وہاں جنگلات کافی ہیں اس لیے ہر سال وہاں کے لوگ آگ کا سامنا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم سال 2019 کے آخر میں آسٹریلیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ نے اس بار نہ صرف آسٹریلوی بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کے افراد کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e15ddae6cde9.jpg"  alt="آسٹریلوی جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;آسٹریلوی جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا کی ریاست نیوساؤتھ ویلزکے جنگلات میں ستمبر 2019 میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر لگنے والی آگ دسمبر 2019 تک شدت اختیار کر گئی تو پہلی بار آسٹریلوی حکومت نے لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جب تک لوگوں کو احتیاطی تدابیر لینے کی ہدایات موصول ہوئیں تب تک آگ اپنا کام کر چکی تھی اور اس کی شدت انتہائی بڑھ چکی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;h1 id='5e16d263e3ff7'&gt;&lt;div style="background-color: #000080;"&gt;&lt;font size="06"&gt;&lt;p style="color: #fefdfd; text-align: center"&gt;اب تک آگ میں کتنا نقصان ہو چکا ہے؟ &lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/h1&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا کے جنگلات میں لگی آگ کے نقصانات کے حوالے سے حتمی طورپر اب تک کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے کیوں کہ خود آسٹریلوی حکام کو ہی آگ کے نقصانات کا درست اندازہ نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلوی حکام اور متعدد فلاحی اداروں کی جانب سے جاری کی گئی 8 جنوری 2020 تک کی معلومات کے مطابق جنگلات میں لگی آگ کے نتیجے میں &lt;a href="https://www.theguardian.com/australia-news/2020/jan/08/economic-impact-of-australias-bushfires-set-to-exceed-44bn-cost-of-black-saturday"&gt;&lt;strong&gt;4 ارب 40 کروڑ امریکی ڈالر کا نقصان&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e15e0092d21d.jpg"  alt="ستمبر 2019 سے 7 جنوری 2020 تک 25 افراد ہلاک ہوچکے تھے&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ستمبر 2019 سے 7 جنوری 2020 تک 25 افراد ہلاک ہوچکے تھے—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی اقتصادی ادارے ’موڈیز‘ کے مطابق ستمبر 2019 سے لگنے والی آگ نے 8 جنوری 2020 تک آسٹریلیا کی معیشت کو 4 ارب 40 کروڑ امریکی ڈالر کا نقصان پہنچایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی ادارے کے مطابق آگ کی وجہ سے پھیلنے والی آلودگی نے آسٹریلیا کی 30 فیصد آبادی کو بھی متاثر کیا ہے جب کہ انشورنس کمپنیوں نے جنوری کے آغاز تک تقریبا ایک ہزار انشورنس دعوے وصول کیے جن کے مطابق دعوے دائر کرنے والے افراد نے 65 کروڑ امریکی ڈالر کے نقصانات کے دعوے کیے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ستمبر 2019 سے 7 جنوری 2020 تک آگ لگنے کے بعد ہونے والے واقعات، آگ میں جھلس کر ہلاک ہونے یا آگ کی وجہ سے دھواں پھیلنے کے بعد سانس لینے میں دشواری کے باعث 25 افراد ہلاک ہوئے جن میں کچھ نابالغ افراد اور عمر رسیدہ افراد بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنگلات میں لگی آگ ریاست ساؤتھ ویلز کے جنگلات سے نکل کر دوسری ریاستوں کے جنگلات تک بھی پہنچ گئی ہے اور اب تک ریاست وکٹوریا اور کوئنز لینڈ کے جنگلات سمیت دیگر ریاستوں کے جنگلات بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e15df8568882.jpg"  alt="50 کروڑ جانوروں کی زندگی داؤ پر لگی ہوئی ہے&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;50 کروڑ جانوروں کی زندگی داؤ پر لگی ہوئی ہے—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ واضح نہیں ہے کہ آسٹریلیا کی تمام ریاستوں کے جنگلات میں کتنے مقامات پر آگ لگی ہوئی ہے تاہم اندازہ ہے کہ آگ 300 سے زائد مقامات پر لگی ہوئے ہے اور اس کی شدت میں ہر گزرتے دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آگ نے ریاست وکٹوریا کے 43 مقامات یا رہنے کی قابل جگہوں کو مکمل طور پر تباہ کردیا جب کہ مذکورہ ریاست کے &lt;a href="https://www.theguardian.com/australia-news/2019/dec/31/what-we-know-so-far-about-the-australian-bushfires-crisis-on-new-years-eve"&gt;&lt;strong&gt;6 ہزار کے قریب بجلی سمیت دیگر مواصلات سے بھی محروم ہوگئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے کچھ مقامات ایسے بھی ہیں جہاں آگ جنگلات سے نکل کر مقامی آبادی تک پہنچ گئی ہے اور لوگ علاقہ چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب سے چلے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آگ کی سب سے زیادہ شدت نیو ساؤتھ ویلز، وکٹوریا اور ساؤتھ آسٹریلیا ریاستوں میں ہے جہاں آسٹریلیا کے تین اہم اور بڑے شہر بھی واقع ہیں جن تک اگرچہ آگ ابھی تک نہیں پہنچی تاہم ان شہروں تک آگ کی وجہ سے اٹھنے والا دھواں پہنچ چکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e15e08b0a0ed.jpg"  alt="7 جنوری 2020 تک 2 ہزار گھر تباہ ہوچکے تھے&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;7 جنوری 2020 تک 2 ہزار گھر تباہ ہوچکے تھے—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ریاست وکٹوریا میں میلبورن، نیو ساؤتھ ویلز میں سڈنی اور ساؤتھ آسٹریلیا میں ایڈیلیڈ شہر سے آگ 50 سے 90 میل کی دوری پر ہے اور ان شہروں کو دھوئیں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ چند ماہ سے لگی ہوئی آگ نے جنوری 2020 کے آغاز تک اسرائیل، کویت،قطر، برونائی اور ہانک کانگ سمیت درجنوں ممالک کے کل رقبے سے زیادہ رقبے پر پھیلے جنگلات کو جلا کر راکھ کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیویارک ٹائمز کے &lt;a href="https://www.nytimes.com/2020/01/06/travel/australia-fires-travel-questions.html"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; آسٹریلیا کے جنگلات میں لگی آگ نے ستمبر 2019 سے 7 جنوری 2020 تک اگست 2019 میں ایمیزون جنگلات میں لگی آگ سے 6 گنا زیادہ نقصان کیا اور آگ میں لاکھوں ایکڑ رقبے پر پھیلے جنگلات جل گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ یہ واضح نہیں ہےکہ اس بار لگنے والی آگ کی اصل وجوہات کیا تھیں تاہم آسٹریلیا کے جنگلات میں انتہائی گرم موسم کی وجہ سے تھوڑی سے بھی لاپرواہی کی وجہ سے آگ لگ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e15e11237a1a.jpg"  alt="آسٹریلیا کی تمام ریاستوں کے جنگلات آگ کی لپیٹ میں ہیں تاہم 4 ریاستوں کے جنگلات میں آگ زیادہ ہے&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;آسٹریلیا کی تمام ریاستوں کے جنگلات آگ کی لپیٹ میں ہیں تاہم 4 ریاستوں کے جنگلات میں آگ زیادہ ہے—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال کیا جا رہا ہے کہ ستمبر 2019 میں اپنی شدت کو پہنچنے والی مذکورہ آگ اپریل 2019 میں شروع ہوئی ہوگی اور پھر یہ آگ دسمبر 2019 تک بہت بڑے پیمانے تک پھیل گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ آگ کی وجہ سے 7 جنوری 2020 تک مختلف ریاستوں کے &lt;a href="https://www.bbc.com/news/world-australia-51015536"&gt;&lt;strong&gt;2 ہزار کے قریب گھر متاثر ہوئے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; یا وہ مسمار ہوگئے جب کہ مختلف ریاستوں سے 4 ہزار کے قریب افراد نے محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی بھی کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آگ کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان جنگلات میں رہنے والے جانوروں کو ہوا ہے اور تقریبا 50 کروڑ کے قریب جانوروں کی زندگی خطرے میں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e15e16de61d0.jpg"  alt="آگ کو بجھانے کے لیے ہر طرح کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;آگ کو بجھانے کے لیے ہر طرح کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنگلات میں پھیلی آگ کی وجہ سے لاکھوں جانور جل کر ہلاک بھی ہوچکے ہیں اور کئی جاندار ایسے بھی ہیں جن کی نسل دنیا سے معدوم ہونے کے خطرات بھی پیدا ہوگئے ہیں کیوں کہ آگ سے متاثرہ آسٹریلیا کے جنگلات میں کئی جاندار ایسے ہیں جن کی نسل معدوم ہونے کے قریب تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;h1 id='5e16d263e402d'&gt;&lt;div style="background-color: #000080;"&gt;&lt;font size="06"&gt;&lt;p style="color: #fefdfd; text-align: center"&gt;کیا سڈنی اور میلبورن بھی جل جائیں گے؟ &lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/h1&gt;

&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/authors/1689/web-desk"&gt;ویب ڈیسک&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنگلات میں لگی آگ نے ریاست وکٹوریا، نیو ساؤتھ ویلز اور ساؤتھ آسٹریلیا کو بری طرح متاثر کیا ہے اور دیگر ریاستوں کے جنگلات بھی اس آگ سے متاثر ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آگ سے متاثرہ بڑی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے دارالحکومت اور آسٹریلیا کے اہم ترین شہر سڈنی سے اگرچہ آگ اب بھی کافی دوری پر ہے اور اندازہ اس شہر سے آگ 100 میل سے کم دوری پر ہے تاہم آگ کے دھوئیں نے اس شہر کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e15e1cf8c4ca.jpg"  alt="آگ آسٹریلیا کے بڑے شہروں سے 100 میل کی دوری تک پہنچ گئی&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;آگ آسٹریلیا کے بڑے شہروں سے 100 میل کی دوری تک پہنچ گئی—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سڈنی تک آنے والے دھوئیں کی وجہ سے لوگوں کو سانس لینے میں مشکلات کا سامنا ہے جب کہ اسی ریاست کے قریب ہی دارالحکومت کینبرا واقع ہے اور  وہاں تک بھی آگ کے دھووں کے اثرات پہنچے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح ریاست وکٹوریا کے اہم ترین شہر میلبورن سے بھی آگ &lt;a href="https://www.nytimes.com/2020/01/06/travel/australia-fires-travel-questions.html"&gt;50 سے 70 میل کی دوری پر ہے&lt;/a&gt; اور آگ کے اثرات شہر تک پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وکٹوریا اور نیو ساؤتھ ویلز کی طرح ریاست ساؤتھ آسٹریلیا کا شہر ایڈیلیڈ بھی آگ سے 80 میل کی دوری پر ہے اور آگ کے دھوئیں نے اس شہر کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e15e2307fa30.jpg"  alt="آگ کے شعلے گھروں تک پہنچنے کی وجہ سے لوگ خوف میں بھی مبتلا ہیں&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;آگ کے شعلے گھروں تک پہنچنے کی وجہ سے لوگ خوف میں بھی مبتلا ہیں—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ آگ مذکورہ شہروں تک پہنچے کیوں کہ ان تینوں شہروں میں آسٹریلوی فوج کے اڈوں سمیت فائر فائیٹرز اور دیگر حکومتی ادارے موجود ہیں اور مذکورہ شہروں میں فوج، فائر فائیٹرز اور دیگر ریسکیو اہلکاروں کو پہلے ہی الرٹ کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم آگ کے انتہائی قریب پہنچنے اور ان شہروں تک دھوئیں کے پھیلنے کی وجہ سے لوگوں میں خوف پایا جاتا ہے اور ایک بہت بڑی آبادی کو سانس لینے سمیت دیگر امور سر انجام دینے میں مشکلات درپیش ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e15e292611e9.jpg"  alt="امدادی کارروائیوں کے دوران فائر فائیٹر بھی جھلس کر جاں بحق ہوگئے&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;امدادی کارروائیوں کے دوران فائر فائیٹر بھی جھلس کر جاں بحق ہوگئے—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;h1 id='5e16d263e4064'&gt;&lt;div style="background-color: #000080;"&gt;&lt;font size="06"&gt;&lt;p style="color: #fefdfd; text-align: center"&gt;آگ خود لگی یا کسی نے لگائی؟ &lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/h1&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ حالیہ آگ جنگلات میں خود لگی تھی یا کسی انسان نے لگائی تھی تاہم پھر بھی آسٹریلوی حکام نے آگ لگانے یا تخریب کاری کے شبے میں 180 افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلوی حکام نے جن 180 افراد کے خلاف قانون کارروائی شروع کر رکھی ہے اس میں سے 24 افراد پر مبینہ طور پر حالیہ آگ لگانے یا آگ کی راہ ہموار کرنے جیسے الزامات لگائے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے &lt;a href="https://www.police.nsw.gov.au/news/news_article?sq_content_src=%2bdXJsPWh0dHBzJTNBJTJGJTJGZWJpenByZC5wb2xpY2UubnN3Lmdvdi5hdSUyRm1lZGlhJTJGODIyNjQuaHRtbCZhbGw9MQ=="&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; جن افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی گئی یا جن پر آگ لگانے یا آگ لگنے کا سبب بننے جیسے الزامات لگائے گئے ہیں ان کا ریکارڈ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ تخریب کاری اور آگ لگانے جیسی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آگ لگائے جانے کے الزامات کا سامنا کرنے والے زیادہ تر افراد کم عمر اور نابالغ ہیں جب کہ بعض افراد بڑی عمر کے بھی ہیں تاہم زیادہ تر کا تعلق دیہی اور جنگلات کے قریب رہنے والے علاقوں سے ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e15e858ad92b.jpg"  alt="پولیس نے کئی افراد کو گرفتار کرکے ان سے پوچھ گچھ شروع کردی&amp;mdash;فوٹو: نیو ساؤتھ ویلز پولیس" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;پولیس نے کئی افراد کو گرفتار کرکے ان سے پوچھ گچھ شروع کردی—فوٹو: نیو ساؤتھ ویلز پولیس&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1 id='5e16d263e3f4d'><div style="background-color: #000080;"><font size="06"><p style="color: #fefdfd; text-align: center"> آسٹریلیا: جنگلات میں لگی آگ کے وہ حقائق جنہیں جاننا لازمی ہے </font></p></div></h1>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e15de11363bf.jpg"  alt="جنگلات میں گزشتہ چند ماہ سے آگ لگی ہوئی ہے&mdash;فوٹو: اے ایف پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">جنگلات میں گزشتہ چند ماہ سے آگ لگی ہوئی ہے—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p><a href="https://www.dawnnews.tv/authors/1689/web-desk"><strong>ویب ڈیسک</strong></a></p>

<p><strong>دنیا کے سب سے بڑے براعظم ایشیا کے ایک کونے میں ’اوقیانوس‘ نامی خطے میں واقع رقبے کے لحاظ سے دنیا کے چھٹے بڑے ملک آسٹریلیا میں گزشتہ چند ماہ سے آگ کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔</strong></p>

<p>آسٹریلیا ایک ایسے خطے میں واقع ہے جسے نہ صرف ’اوقیانوس‘ کا خطہ کہا جاتا ہے بلکہ اس خطے کو ’براعظم آسٹریلیا‘ بھی کہا جاتا ہے جو کہ غلط ہے۔</p>

<p>جریزہ نما ملک کے پڑوس میں نیوزی لینڈ، انڈونیشیا، مشرقی تیمور اور پاپانیوگنی جیسے جزیرہ نما ممالک ہیں جن کا بہت بڑا حصہ آسٹریلیا کی طرح صحرا، جنگلات اور جزائر پر مشتمل ہے۔</p>

<p>’نیو ساؤتھ ویلز، وکٹوریا، کوئینز لینڈ، ویسٹرن آسٹریلیا، ساؤتھ آسٹریلیا اور تسمانیا‘ نامی ریاستوں پر مبنی ملک آسٹریلیا کا شمار دنیا کی بڑی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک میں بھی ہوتا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e15dedb1e0f8.jpg"  alt="آسٹریلیا کا شمار بڑے اقتصادی ممالک میں ہوتا ہے&mdash;فوٹو: ایشیا پیڈیا" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">آسٹریلیا کا شمار بڑے اقتصادی ممالک میں ہوتا ہے—فوٹو: ایشیا پیڈیا</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس ملک کا بہت بڑا رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جب دنیا کے دیگر ممالک میں سردیاں ہوتی ہیں تو یہاں گرمیاں ہوتی ہیں۔</p>

<p>آسٹریلیا میں آگ لگنے کے واقعات معمول کا حصہ ہیں اور چوں کہ وہاں جنگلات کافی ہیں اس لیے ہر سال وہاں کے لوگ آگ کا سامنا کرتے ہیں۔</p>

<p>تاہم سال 2019 کے آخر میں آسٹریلیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ نے اس بار نہ صرف آسٹریلوی بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کے افراد کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e15ddae6cde9.jpg"  alt="آسٹریلوی جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں&mdash;فوٹو: اے ایف پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">آسٹریلوی جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>آسٹریلیا کی ریاست نیوساؤتھ ویلزکے جنگلات میں ستمبر 2019 میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر لگنے والی آگ دسمبر 2019 تک شدت اختیار کر گئی تو پہلی بار آسٹریلوی حکومت نے لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی۔</p>

<p>جب تک لوگوں کو احتیاطی تدابیر لینے کی ہدایات موصول ہوئیں تب تک آگ اپنا کام کر چکی تھی اور اس کی شدت انتہائی بڑھ چکی تھی۔</p>

<h1 id='5e16d263e3ff7'><div style="background-color: #000080;"><font size="06"><p style="color: #fefdfd; text-align: center">اب تک آگ میں کتنا نقصان ہو چکا ہے؟ </font></p></div></h1>

<p>آسٹریلیا کے جنگلات میں لگی آگ کے نقصانات کے حوالے سے حتمی طورپر اب تک کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے کیوں کہ خود آسٹریلوی حکام کو ہی آگ کے نقصانات کا درست اندازہ نہیں۔</p>

<p>آسٹریلوی حکام اور متعدد فلاحی اداروں کی جانب سے جاری کی گئی 8 جنوری 2020 تک کی معلومات کے مطابق جنگلات میں لگی آگ کے نتیجے میں <a href="https://www.theguardian.com/australia-news/2020/jan/08/economic-impact-of-australias-bushfires-set-to-exceed-44bn-cost-of-black-saturday"><strong>4 ارب 40 کروڑ امریکی ڈالر کا نقصان</strong></a> ہو چکا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e15e0092d21d.jpg"  alt="ستمبر 2019 سے 7 جنوری 2020 تک 25 افراد ہلاک ہوچکے تھے&mdash;فوٹو: اے ایف پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ستمبر 2019 سے 7 جنوری 2020 تک 25 افراد ہلاک ہوچکے تھے—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>عالمی اقتصادی ادارے ’موڈیز‘ کے مطابق ستمبر 2019 سے لگنے والی آگ نے 8 جنوری 2020 تک آسٹریلیا کی معیشت کو 4 ارب 40 کروڑ امریکی ڈالر کا نقصان پہنچایا۔</p>

<p>عالمی ادارے کے مطابق آگ کی وجہ سے پھیلنے والی آلودگی نے آسٹریلیا کی 30 فیصد آبادی کو بھی متاثر کیا ہے جب کہ انشورنس کمپنیوں نے جنوری کے آغاز تک تقریبا ایک ہزار انشورنس دعوے وصول کیے جن کے مطابق دعوے دائر کرنے والے افراد نے 65 کروڑ امریکی ڈالر کے نقصانات کے دعوے کیے ہیں۔</p>

<p>ستمبر 2019 سے 7 جنوری 2020 تک آگ لگنے کے بعد ہونے والے واقعات، آگ میں جھلس کر ہلاک ہونے یا آگ کی وجہ سے دھواں پھیلنے کے بعد سانس لینے میں دشواری کے باعث 25 افراد ہلاک ہوئے جن میں کچھ نابالغ افراد اور عمر رسیدہ افراد بھی شامل تھے۔</p>

<p>جنگلات میں لگی آگ ریاست ساؤتھ ویلز کے جنگلات سے نکل کر دوسری ریاستوں کے جنگلات تک بھی پہنچ گئی ہے اور اب تک ریاست وکٹوریا اور کوئنز لینڈ کے جنگلات سمیت دیگر ریاستوں کے جنگلات بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e15df8568882.jpg"  alt="50 کروڑ جانوروں کی زندگی داؤ پر لگی ہوئی ہے&mdash;فوٹو: اے ایف پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">50 کروڑ جانوروں کی زندگی داؤ پر لگی ہوئی ہے—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>یہ واضح نہیں ہے کہ آسٹریلیا کی تمام ریاستوں کے جنگلات میں کتنے مقامات پر آگ لگی ہوئی ہے تاہم اندازہ ہے کہ آگ 300 سے زائد مقامات پر لگی ہوئے ہے اور اس کی شدت میں ہر گزرتے دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔</p>

<p>آگ نے ریاست وکٹوریا کے 43 مقامات یا رہنے کی قابل جگہوں کو مکمل طور پر تباہ کردیا جب کہ مذکورہ ریاست کے <a href="https://www.theguardian.com/australia-news/2019/dec/31/what-we-know-so-far-about-the-australian-bushfires-crisis-on-new-years-eve"><strong>6 ہزار کے قریب بجلی سمیت دیگر مواصلات سے بھی محروم ہوگئے۔</strong></a></p>

<p>ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے کچھ مقامات ایسے بھی ہیں جہاں آگ جنگلات سے نکل کر مقامی آبادی تک پہنچ گئی ہے اور لوگ علاقہ چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب سے چلے گئے ہیں۔</p>

<p>آگ کی سب سے زیادہ شدت نیو ساؤتھ ویلز، وکٹوریا اور ساؤتھ آسٹریلیا ریاستوں میں ہے جہاں آسٹریلیا کے تین اہم اور بڑے شہر بھی واقع ہیں جن تک اگرچہ آگ ابھی تک نہیں پہنچی تاہم ان شہروں تک آگ کی وجہ سے اٹھنے والا دھواں پہنچ چکا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e15e08b0a0ed.jpg"  alt="7 جنوری 2020 تک 2 ہزار گھر تباہ ہوچکے تھے&mdash;فوٹو: اے ایف پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">7 جنوری 2020 تک 2 ہزار گھر تباہ ہوچکے تھے—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>ریاست وکٹوریا میں میلبورن، نیو ساؤتھ ویلز میں سڈنی اور ساؤتھ آسٹریلیا میں ایڈیلیڈ شہر سے آگ 50 سے 90 میل کی دوری پر ہے اور ان شہروں کو دھوئیں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔</p>

<p>گزشتہ چند ماہ سے لگی ہوئی آگ نے جنوری 2020 کے آغاز تک اسرائیل، کویت،قطر، برونائی اور ہانک کانگ سمیت درجنوں ممالک کے کل رقبے سے زیادہ رقبے پر پھیلے جنگلات کو جلا کر راکھ کر چکی ہے۔</p>

<p>نیویارک ٹائمز کے <a href="https://www.nytimes.com/2020/01/06/travel/australia-fires-travel-questions.html"><strong>مطابق</strong></a> آسٹریلیا کے جنگلات میں لگی آگ نے ستمبر 2019 سے 7 جنوری 2020 تک اگست 2019 میں ایمیزون جنگلات میں لگی آگ سے 6 گنا زیادہ نقصان کیا اور آگ میں لاکھوں ایکڑ رقبے پر پھیلے جنگلات جل گئے۔</p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ یہ واضح نہیں ہےکہ اس بار لگنے والی آگ کی اصل وجوہات کیا تھیں تاہم آسٹریلیا کے جنگلات میں انتہائی گرم موسم کی وجہ سے تھوڑی سے بھی لاپرواہی کی وجہ سے آگ لگ جاتی ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e15e11237a1a.jpg"  alt="آسٹریلیا کی تمام ریاستوں کے جنگلات آگ کی لپیٹ میں ہیں تاہم 4 ریاستوں کے جنگلات میں آگ زیادہ ہے&mdash;فوٹو: اے ایف پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">آسٹریلیا کی تمام ریاستوں کے جنگلات آگ کی لپیٹ میں ہیں تاہم 4 ریاستوں کے جنگلات میں آگ زیادہ ہے—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>خیال کیا جا رہا ہے کہ ستمبر 2019 میں اپنی شدت کو پہنچنے والی مذکورہ آگ اپریل 2019 میں شروع ہوئی ہوگی اور پھر یہ آگ دسمبر 2019 تک بہت بڑے پیمانے تک پھیل گئی۔</p>

<p>مذکورہ آگ کی وجہ سے 7 جنوری 2020 تک مختلف ریاستوں کے <a href="https://www.bbc.com/news/world-australia-51015536"><strong>2 ہزار کے قریب گھر متاثر ہوئے</strong></a> یا وہ مسمار ہوگئے جب کہ مختلف ریاستوں سے 4 ہزار کے قریب افراد نے محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی بھی کی۔</p>

<p>آگ کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان جنگلات میں رہنے والے جانوروں کو ہوا ہے اور تقریبا 50 کروڑ کے قریب جانوروں کی زندگی خطرے میں ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e15e16de61d0.jpg"  alt="آگ کو بجھانے کے لیے ہر طرح کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں&mdash;فوٹو: اے ایف پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">آگ کو بجھانے کے لیے ہر طرح کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>جنگلات میں پھیلی آگ کی وجہ سے لاکھوں جانور جل کر ہلاک بھی ہوچکے ہیں اور کئی جاندار ایسے بھی ہیں جن کی نسل دنیا سے معدوم ہونے کے خطرات بھی پیدا ہوگئے ہیں کیوں کہ آگ سے متاثرہ آسٹریلیا کے جنگلات میں کئی جاندار ایسے ہیں جن کی نسل معدوم ہونے کے قریب تھی۔</p>

<h1 id='5e16d263e402d'><div style="background-color: #000080;"><font size="06"><p style="color: #fefdfd; text-align: center">کیا سڈنی اور میلبورن بھی جل جائیں گے؟ </font></p></div></h1>

<p><a href="https://www.dawnnews.tv/authors/1689/web-desk">ویب ڈیسک</a></p>

<p>جنگلات میں لگی آگ نے ریاست وکٹوریا، نیو ساؤتھ ویلز اور ساؤتھ آسٹریلیا کو بری طرح متاثر کیا ہے اور دیگر ریاستوں کے جنگلات بھی اس آگ سے متاثر ہوئے ہیں۔</p>

<p>آگ سے متاثرہ بڑی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے دارالحکومت اور آسٹریلیا کے اہم ترین شہر سڈنی سے اگرچہ آگ اب بھی کافی دوری پر ہے اور اندازہ اس شہر سے آگ 100 میل سے کم دوری پر ہے تاہم آگ کے دھوئیں نے اس شہر کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e15e1cf8c4ca.jpg"  alt="آگ آسٹریلیا کے بڑے شہروں سے 100 میل کی دوری تک پہنچ گئی&mdash;فوٹو: اے ایف پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">آگ آسٹریلیا کے بڑے شہروں سے 100 میل کی دوری تک پہنچ گئی—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>سڈنی تک آنے والے دھوئیں کی وجہ سے لوگوں کو سانس لینے میں مشکلات کا سامنا ہے جب کہ اسی ریاست کے قریب ہی دارالحکومت کینبرا واقع ہے اور  وہاں تک بھی آگ کے دھووں کے اثرات پہنچے ہیں۔</p>

<p>اسی طرح ریاست وکٹوریا کے اہم ترین شہر میلبورن سے بھی آگ <a href="https://www.nytimes.com/2020/01/06/travel/australia-fires-travel-questions.html">50 سے 70 میل کی دوری پر ہے</a> اور آگ کے اثرات شہر تک پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔</p>

<p>وکٹوریا اور نیو ساؤتھ ویلز کی طرح ریاست ساؤتھ آسٹریلیا کا شہر ایڈیلیڈ بھی آگ سے 80 میل کی دوری پر ہے اور آگ کے دھوئیں نے اس شہر کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e15e2307fa30.jpg"  alt="آگ کے شعلے گھروں تک پہنچنے کی وجہ سے لوگ خوف میں بھی مبتلا ہیں&mdash;فوٹو: اے ایف پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">آگ کے شعلے گھروں تک پہنچنے کی وجہ سے لوگ خوف میں بھی مبتلا ہیں—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ آگ مذکورہ شہروں تک پہنچے کیوں کہ ان تینوں شہروں میں آسٹریلوی فوج کے اڈوں سمیت فائر فائیٹرز اور دیگر حکومتی ادارے موجود ہیں اور مذکورہ شہروں میں فوج، فائر فائیٹرز اور دیگر ریسکیو اہلکاروں کو پہلے ہی الرٹ کردیا گیا ہے۔</p>

<p>تاہم آگ کے انتہائی قریب پہنچنے اور ان شہروں تک دھوئیں کے پھیلنے کی وجہ سے لوگوں میں خوف پایا جاتا ہے اور ایک بہت بڑی آبادی کو سانس لینے سمیت دیگر امور سر انجام دینے میں مشکلات درپیش ہیں۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e15e292611e9.jpg"  alt="امدادی کارروائیوں کے دوران فائر فائیٹر بھی جھلس کر جاں بحق ہوگئے&mdash;فوٹو: اے ایف پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">امدادی کارروائیوں کے دوران فائر فائیٹر بھی جھلس کر جاں بحق ہوگئے—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<h1 id='5e16d263e4064'><div style="background-color: #000080;"><font size="06"><p style="color: #fefdfd; text-align: center">آگ خود لگی یا کسی نے لگائی؟ </font></p></div></h1>

<p>اگرچہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ حالیہ آگ جنگلات میں خود لگی تھی یا کسی انسان نے لگائی تھی تاہم پھر بھی آسٹریلوی حکام نے آگ لگانے یا تخریب کاری کے شبے میں 180 افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔</p>

<p>آسٹریلوی حکام نے جن 180 افراد کے خلاف قانون کارروائی شروع کر رکھی ہے اس میں سے 24 افراد پر مبینہ طور پر حالیہ آگ لگانے یا آگ کی راہ ہموار کرنے جیسے الزامات لگائے گئے ہیں۔</p>

<p>نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے <a href="https://www.police.nsw.gov.au/news/news_article?sq_content_src=%2bdXJsPWh0dHBzJTNBJTJGJTJGZWJpenByZC5wb2xpY2UubnN3Lmdvdi5hdSUyRm1lZGlhJTJGODIyNjQuaHRtbCZhbGw9MQ=="><strong>مطابق</strong></a> جن افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی گئی یا جن پر آگ لگانے یا آگ لگنے کا سبب بننے جیسے الزامات لگائے گئے ہیں ان کا ریکارڈ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ تخریب کاری اور آگ لگانے جیسی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔</p>

<p>آگ لگائے جانے کے الزامات کا سامنا کرنے والے زیادہ تر افراد کم عمر اور نابالغ ہیں جب کہ بعض افراد بڑی عمر کے بھی ہیں تاہم زیادہ تر کا تعلق دیہی اور جنگلات کے قریب رہنے والے علاقوں سے ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e15e858ad92b.jpg"  alt="پولیس نے کئی افراد کو گرفتار کرکے ان سے پوچھ گچھ شروع کردی&mdash;فوٹو: نیو ساؤتھ ویلز پولیس" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">پولیس نے کئی افراد کو گرفتار کرکے ان سے پوچھ گچھ شروع کردی—فوٹو: نیو ساؤتھ ویلز پولیس</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1118109</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Jan 2020 12:12:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/01/5e15ddae6cde9.jpg?r=54986445" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/01/5e15ddae6cde9.jpg?r=1352899640"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
