<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 09:26:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 09:26:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خورشید شاہ سے تفتیش کیلئے نیب کی جے آئی ٹی تشکیل
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1118249/</link>
      <description>&lt;p&gt;قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے زیرحراست رہنما خورشید شاہ کے خلاف تفتیش کے لیے ڈی جی نیب ملتان عتیق الرحمٰن کی سربراہی میں 5 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی منظوری سے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی میں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب ملتان عتیق الرحمٰن، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے عبدالحفیظ، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) سے ڈپٹی رجسٹرار رضوان ہارون، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے ڈپٹی سیکریٹری سجاد مصطفیٰ باجوہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر و انویسٹی گیشن افسر عبدالحسن کاشان شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1116963"&gt;خورشید شاہ کےخلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا ریفرنس سماعت کیلئے منظور&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیب سکھر کے مطابق جے آئی ٹی چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی منظوری کے بعد ہی تشکیل دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ نیب کی جانب سے خورشید شاہ، ان کے دو بیٹوں، دونوں بیگمات اور داماد صوبائی وزیر سید اویس قادر شاہ سمیت 18 افراد پر ایک ارب 30 کروڑ روپے سے زائد کے اثاثے بنانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیب نے خورشید شاہ سمیت دیگر تمام ملزمان کے خلاف ریفرنس سکھر کی احتساب عدالت میں دائر کیا تھا جس کی سماعت 7 جنوری کو ہوئی تھی اور  اگلی سماعت 17 جنوری کو شیڈول ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ نیب نے قومی اسمبلی کے سابق قائد حزب اختلاف اور پی پی پی رہنما خورشید شاہ کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں 18 ستمبر 2019 کو اسلام آباد میں گرفتار کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1117182"&gt;آمدن سے زائد اثاثے: خورشد شاہ سمیت دیگر ملزمان کے خلاف ثبوت پیش کرنے کا حکم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیب نے خورشید شاہ کو سکھر منتقل کیا اوران کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جس کو بعد ازاں عدالتی ریمانڈ میں تبدیل کردیا گیا تھا لیکن دوران حراست طبیعت خرابی کے باعث خورشید شاہ کو ہسپتال بھی منتقل کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سکھر کی احتساب عدالت نے 17 دسمبر خورشید شاہ کی آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1116753"&gt;&lt;strong&gt;ضمانت منظور&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کی تھی لیکن ان کی رہائی سے قبل ہی نیب نے احتساب عدالت کا فیصلہ &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1116822"&gt;&lt;strong&gt;سندھ ہائی کورٹ میں چینلج کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیب عدالت نے پہلے سندھ ہائی کورٹ کراچی اور بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں خورشید شاہ کی ضمانت کے خلاف درخواست دائر کی تھی جبکہ سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے درخواست منظور کرتے ہوئے 23 دسمبر کو فریقین کو طلب کیا اور 23 دسمبر کو احتساب عدالت کے &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1117107/"&gt;&lt;strong&gt;رہائی کے حکم کو 16 جنوری تک معطل&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیب نے 20 دسمبر کو سکھر کی احتساب عدالت میں خورشید شاہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں ریفرنس کی منظوری کی درخواست دی جس کو جج امیر علی مہیسر نے 24 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سکھر کی احتساب عدالت نے 24 دسمبر کو ریفرنس پر پہلی سماعت کی اورخورشید شاہ سمیت دیگر 18 ملزمان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے الزامات کا ثبوت پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت کو 7 جنوری تک ملتوی کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے زیرحراست رہنما خورشید شاہ کے خلاف تفتیش کے لیے ڈی جی نیب ملتان عتیق الرحمٰن کی سربراہی میں 5 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی۔</p>

<p>چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی منظوری سے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی میں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب ملتان عتیق الرحمٰن، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے عبدالحفیظ، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) سے ڈپٹی رجسٹرار رضوان ہارون، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے ڈپٹی سیکریٹری سجاد مصطفیٰ باجوہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر و انویسٹی گیشن افسر عبدالحسن کاشان شامل ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1116963">خورشید شاہ کےخلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا ریفرنس سماعت کیلئے منظور</a></strong></p>

<p>نیب سکھر کے مطابق جے آئی ٹی چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی منظوری کے بعد ہی تشکیل دی گئی ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ نیب کی جانب سے خورشید شاہ، ان کے دو بیٹوں، دونوں بیگمات اور داماد صوبائی وزیر سید اویس قادر شاہ سمیت 18 افراد پر ایک ارب 30 کروڑ روپے سے زائد کے اثاثے بنانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔</p>

<p>نیب نے خورشید شاہ سمیت دیگر تمام ملزمان کے خلاف ریفرنس سکھر کی احتساب عدالت میں دائر کیا تھا جس کی سماعت 7 جنوری کو ہوئی تھی اور  اگلی سماعت 17 جنوری کو شیڈول ہے۔</p>

<p>یاد رہے کہ نیب نے قومی اسمبلی کے سابق قائد حزب اختلاف اور پی پی پی رہنما خورشید شاہ کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں 18 ستمبر 2019 کو اسلام آباد میں گرفتار کیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1117182">آمدن سے زائد اثاثے: خورشد شاہ سمیت دیگر ملزمان کے خلاف ثبوت پیش کرنے کا حکم</a></strong></p>

<p>نیب نے خورشید شاہ کو سکھر منتقل کیا اوران کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جس کو بعد ازاں عدالتی ریمانڈ میں تبدیل کردیا گیا تھا لیکن دوران حراست طبیعت خرابی کے باعث خورشید شاہ کو ہسپتال بھی منتقل کیا گیا۔</p>

<p>سکھر کی احتساب عدالت نے 17 دسمبر خورشید شاہ کی آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1116753"><strong>ضمانت منظور</strong></a> کی تھی لیکن ان کی رہائی سے قبل ہی نیب نے احتساب عدالت کا فیصلہ <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1116822"><strong>سندھ ہائی کورٹ میں چینلج کردیا۔</strong></a></p>

<p>نیب عدالت نے پہلے سندھ ہائی کورٹ کراچی اور بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں خورشید شاہ کی ضمانت کے خلاف درخواست دائر کی تھی جبکہ سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے درخواست منظور کرتے ہوئے 23 دسمبر کو فریقین کو طلب کیا اور 23 دسمبر کو احتساب عدالت کے <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1117107/"><strong>رہائی کے حکم کو 16 جنوری تک معطل</strong></a> کردیا تھا۔</p>

<p>نیب نے 20 دسمبر کو سکھر کی احتساب عدالت میں خورشید شاہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں ریفرنس کی منظوری کی درخواست دی جس کو جج امیر علی مہیسر نے 24 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا تھا۔ </p>

<p>سکھر کی احتساب عدالت نے 24 دسمبر کو ریفرنس پر پہلی سماعت کی اورخورشید شاہ سمیت دیگر 18 ملزمان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے الزامات کا ثبوت پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت کو 7 جنوری تک ملتوی کردیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1118249</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Jan 2020 21:25:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبیداللہ شیخویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/01/5e1881e96de18.png?r=1169204699" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/01/5e1881e96de18.png?r=860981954"/>
        <media:title>خورشید شاہ کی درخواست ضمانت 17 دسمبر کو منظور کرلی تھی—فائل/فوٹو:ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
