<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 07:38:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 07:38:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میکسیکو: 11 سالہ طالب علم نے استاد کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1118258/</link>
      <description>&lt;p&gt;میکسیکو کے شمالی علاقے میں قائم ایلیمنٹری اسکول میں 11 سالہ طالب علم کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوگئے جہاں طالب علم  نے اپنے استاد کو قتل کرنے کے بعد خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا بھی خاتمہ کر لیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غیر ملکی خبر ایجنسی 'اے پی' کی رپورٹ کے مطابق ریاست کوہائیلہ کے گورنر میگوئیل اینجل ریکوئیلمے کا کہنا تھا کہ فائرنگ چھٹی جماعت کے طالب علم نے کی جس سے ان کے استاد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گورنر نے کہا کہ ابتدائی تفتیش سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالب علم نے کمرہ جماعت میں پہنچ کر اپنے ہم جماعت سے کہا کہ آج کا دن ہی ہے اور بیت الخلا جانے کی اجازت مانگی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113984"&gt;میکسیکو: منشیات فروشوں کی فائرنگ سے بچوں سمیت 9 امریکی شہری ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ 15 منٹ گزرنے کے باوجود وہ واپس نہیں آئے تو ان کے استاد دیکھنے گئے جہاں انہوں نے دو بندوقوں سے فائرنگ کی اور فائرنگ کا سلسلہ اس وقت ختم ہوا جب انہوں نے خود کو بھی مار لی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گورنر میگوئیل اینجل ریکوئیلمے کا کہنا تھا کہ فائرنگ سے زخمی ہونے والے افراد میں 5 طلبہ اور ایک استاد بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کرنے والے طالب علم کی والدہ چند برس قبل انتقال کرگئی تھیں اور وہ اپنے نانا اور نانی کے ساتھ رہتے تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسکول میں فائرنگ کرنے والے طالب علم کے رویے پر بات کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ اسکول میں لڑکے کے رویے کے حوالے سے اس سے قبل کوئی شکایت نہیں تھی جبکہ تفتیش کار جائزہ لے رہے ہیں کہ لڑکا ایک مخصوص ویڈیو گیم سے متاثر تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فائرنگ کے بعد سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ والدین پریشانی کے عالم میں اپنے بچوں کو لینے کے لیے اسکول پہنچ گئے ہیں جو ٹوریون میں ایک بڑے پارک کے سامنے واقع نجی اسکول ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1109659"&gt;میکسیکو کے بار میں حملہ، ہلاکتیں 26 ہوگئیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ٹوریون ایک صنعتی شہر ہے جہاں غیرملکی صنعتوں کے کارخانے بھی لگے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اے پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ میکسیکو میں اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات عام طور پر نہیں ہوتے تاہم اس واقعے سے قبل جنوری 2017 میں شمالی شہر مونٹیرے میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میکسیکو کے ایک نجی ہائی اسکول میں 2017 میں ایک طالب علم نے فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ایک استاد ہلاک اور 2 طلبہ زخمی ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فائرنگ کرنے والے طالب علم اپنے ہی فائر سے زخمی ہوئے تھے اور انہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>میکسیکو کے شمالی علاقے میں قائم ایلیمنٹری اسکول میں 11 سالہ طالب علم کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوگئے جہاں طالب علم  نے اپنے استاد کو قتل کرنے کے بعد خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا بھی خاتمہ کر لیا۔</p>

<p>غیر ملکی خبر ایجنسی 'اے پی' کی رپورٹ کے مطابق ریاست کوہائیلہ کے گورنر میگوئیل اینجل ریکوئیلمے کا کہنا تھا کہ فائرنگ چھٹی جماعت کے طالب علم نے کی جس سے ان کے استاد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔</p>

<p>گورنر نے کہا کہ ابتدائی تفتیش سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالب علم نے کمرہ جماعت میں پہنچ کر اپنے ہم جماعت سے کہا کہ آج کا دن ہی ہے اور بیت الخلا جانے کی اجازت مانگی۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113984">میکسیکو: منشیات فروشوں کی فائرنگ سے بچوں سمیت 9 امریکی شہری ہلاک</a></strong></p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ 15 منٹ گزرنے کے باوجود وہ واپس نہیں آئے تو ان کے استاد دیکھنے گئے جہاں انہوں نے دو بندوقوں سے فائرنگ کی اور فائرنگ کا سلسلہ اس وقت ختم ہوا جب انہوں نے خود کو بھی مار لی۔</p>

<p>گورنر میگوئیل اینجل ریکوئیلمے کا کہنا تھا کہ فائرنگ سے زخمی ہونے والے افراد میں 5 طلبہ اور ایک استاد بھی شامل ہیں۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کرنے والے طالب علم کی والدہ چند برس قبل انتقال کرگئی تھیں اور وہ اپنے نانا اور نانی کے ساتھ رہتے تھے۔ </p>

<p>اسکول میں فائرنگ کرنے والے طالب علم کے رویے پر بات کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ اسکول میں لڑکے کے رویے کے حوالے سے اس سے قبل کوئی شکایت نہیں تھی جبکہ تفتیش کار جائزہ لے رہے ہیں کہ لڑکا ایک مخصوص ویڈیو گیم سے متاثر تھے۔</p>

<p>فائرنگ کے بعد سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ والدین پریشانی کے عالم میں اپنے بچوں کو لینے کے لیے اسکول پہنچ گئے ہیں جو ٹوریون میں ایک بڑے پارک کے سامنے واقع نجی اسکول ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1109659">میکسیکو کے بار میں حملہ، ہلاکتیں 26 ہوگئیں</a></strong> </p>

<p>رپورٹ کے مطابق ٹوریون ایک صنعتی شہر ہے جہاں غیرملکی صنعتوں کے کارخانے بھی لگے ہوئے ہیں۔</p>

<p>اے پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ میکسیکو میں اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات عام طور پر نہیں ہوتے تاہم اس واقعے سے قبل جنوری 2017 میں شمالی شہر مونٹیرے میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔</p>

<p>میکسیکو کے ایک نجی ہائی اسکول میں 2017 میں ایک طالب علم نے فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ایک استاد ہلاک اور 2 طلبہ زخمی ہوگئے تھے۔</p>

<p>فائرنگ کرنے والے طالب علم اپنے ہی فائر سے زخمی ہوئے تھے اور انہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1118258</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Jan 2020 23:46:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/01/5e18bfe13065b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/01/5e18bfe13065b.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/01/5e18bf42626cb.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/01/5e18bf42626cb.jpg"/>
        <media:title>فائرنگ کے واقعے کے بعد والدین اپنے بچوں کو لینے پہنچ گئے—فوٹو:اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
