<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 07:50:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 07:50:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین میں شرح پیدائش 60 سال کی کم ترین سطح پرپہنچ گئی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1118641/</link>
      <description>&lt;p&gt;آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک چین میں ایک بچہ پالیسی ختم کرنے اور ایک ہی سال میں تقریبا ایک کروڑ 45 لاکھ بچوں کی پیدائش کے باوجود شرح پیدائش 60 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چین کی شرح پیدائش میں حیران کن طور پر مسلسل 2 سال سے کمی دیکھی جا رہی ہے گزشتہ برس بھی چینی حکومت نے بچوں کی پیدائش ماضی کے مقابلے کم ہونے کا اعتراف کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ برس جنوری میں حکومت نے بتایا تھا کہ سال 2018 میں چین بھر میں ایک کروڑ 52 لاکھ بچے پیدا ہوئے اور وہاں کی آبادی بڑھ کر ایک ارب 39 کروڑ ہوگئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم حالیہ حکومتی رپورٹ کے مطابق چین میں شرح پیدائش مزید کم ہوگئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چینی اخبار ’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘ کے &lt;a href="https://www.scmp.com/economy/china-economy/article/3046481/chinas-birth-rate-falls-near-60-year-low-2019-producing"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; چین کے ادارہ شماریات ’نیشنل بیورو آف اسٹیٹکس’ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سال 2019 میں چین بھر میں بچوں کی پیدائش کم ہوکر ایک کروڑ 45 لاکھ تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یعنی گزشتہ سال اس سے پہلے والے سال کے مقابلے چین میں تقریبا 7 لاکھ بچے کم پیدا ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e21661e117c6.jpg"  alt="سال 2018 میں چین میں ایک کروڑ 52 لاکھ بچے پیدا ہوئے تھے&amp;mdash;فائل فوٹو: ٹوئٹر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سال 2018 میں چین میں ایک کروڑ 52 لاکھ بچے پیدا ہوئے تھے—فائل فوٹو: ٹوئٹر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حیران کن بات یہ ہے کہ چین میں شرح پیدائش ایک ایسے وقت کم ہونا شروع ہوئی ہے جب حکومت نے ایک بچہ پالیسی ختم کردی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چینی حکومت نے 2016 میں ایک بچہ پالیسی ختم کرتے ہوئے والدین کو ایک سے زائد بچے پیدا کرنے کی اجازت دی تھی، اس سے قبل چینی والدین کو صرف ایک ہی بچہ پیدا کرنے کی اجازت ہوتی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چینی حکومت کے مطابق سال 2019 کے اختتام تک چینی آبادی ایک ارب 40 کروڑ سے زائد ہوگئی تاہم شرح پیدائش کی کمی نے چین کے معاشی، آبادیاتی و سماجی مسائل کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5e2186718beb2'&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1095951"&gt;چین: بچوں کی پیدائش کی شرح 1960 سے بھی کم ترین سطح پر آگئی&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;حکومت کے مطابق اگر چین میں شرح پیدائش یوں ہی کم ہوتی رہی تو آنے والے سال میں چین میں کام کرنے والے افراد کم رہ جائیں گے اور زیادہ عمر رسیدہ افراد ملک کی معیشت اور سماج پر بوجھ بن جائیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس وقت چین میں کام کرنے والے افراد کی تعداد 90 کروڑ سے زائد ہے اور کام کرنے والے افراد میں 18 سال سے لے کر 59 سال کی عمر کے افراد شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e21664869483.jpg"  alt="رپورٹ کے مطابق سال 2019 میں ایک کروڑ 45 لاکھ بچے پیدا ہوئے&amp;mdash;فوٹو: ای پی اے" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;رپورٹ کے مطابق سال 2019 میں ایک کروڑ 45 لاکھ بچے پیدا ہوئے—فوٹو: ای پی اے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس وقت چین میں 60 سال سے زائد عمر کے 20 کروڑ سے زائد افراد ہیں اور آنے والے چند سال میں ایسے افراد کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چین میں پیدا ہونے والے ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد بچوں میں سے لاکھوں نوزائیدہ بچے مختلف بیماریوں کی وجہ سے زندہ نہیں رہ پاتے اور زیادہ تر مرکزی حکومت کی رپورٹ میں مرنے والے بچوں کی تعداد نہیں بتائی جاتی تاہم چین کی صوبائی حکومتیں نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح کی رپورٹس جاری کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5e2186718bf1c'&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1028619"&gt;چین میں ’ایک بچہ‘ پالیسی ختم&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;سال 2018 میں پیدا ہونے والی ایک کروڑ 52 لاکھ نوزائیدہ بچوں میں سے تقریبا 20 لاکھ بچوں کی موت ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مسلسل دوسرے سال میں شرح پیدائش میں کمی کی وجہ سے اگرچہ تاحال حکومت نے کسی نئی اور سخت پالیسی کا اعلان نہیں کیا تاہم امکان ہے کہ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو حکومت بچوں کی شرح بڑھانے کے حوالے سے کسی سخت پالیسی کا اعلان کرے گی۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e2166c630bb8.jpg"  alt="حکومت نے ایک بچہ پالیسی 2016 میں ختم کی تھی&amp;mdash;فوٹو: رائٹرز" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;حکومت نے ایک بچہ پالیسی 2016 میں ختم کی تھی—فوٹو: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک چین میں ایک بچہ پالیسی ختم کرنے اور ایک ہی سال میں تقریبا ایک کروڑ 45 لاکھ بچوں کی پیدائش کے باوجود شرح پیدائش 60 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔</p>

<p>چین کی شرح پیدائش میں حیران کن طور پر مسلسل 2 سال سے کمی دیکھی جا رہی ہے گزشتہ برس بھی چینی حکومت نے بچوں کی پیدائش ماضی کے مقابلے کم ہونے کا اعتراف کیا تھا۔</p>

<p>گزشتہ برس جنوری میں حکومت نے بتایا تھا کہ سال 2018 میں چین بھر میں ایک کروڑ 52 لاکھ بچے پیدا ہوئے اور وہاں کی آبادی بڑھ کر ایک ارب 39 کروڑ ہوگئی۔</p>

<p>تاہم حالیہ حکومتی رپورٹ کے مطابق چین میں شرح پیدائش مزید کم ہوگئی۔</p>

<p>چینی اخبار ’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘ کے <a href="https://www.scmp.com/economy/china-economy/article/3046481/chinas-birth-rate-falls-near-60-year-low-2019-producing"><strong>مطابق</strong></a> چین کے ادارہ شماریات ’نیشنل بیورو آف اسٹیٹکس’ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سال 2019 میں چین بھر میں بچوں کی پیدائش کم ہوکر ایک کروڑ 45 لاکھ تک پہنچ گئی۔</p>

<p>یعنی گزشتہ سال اس سے پہلے والے سال کے مقابلے چین میں تقریبا 7 لاکھ بچے کم پیدا ہوئے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e21661e117c6.jpg"  alt="سال 2018 میں چین میں ایک کروڑ 52 لاکھ بچے پیدا ہوئے تھے&mdash;فائل فوٹو: ٹوئٹر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سال 2018 میں چین میں ایک کروڑ 52 لاکھ بچے پیدا ہوئے تھے—فائل فوٹو: ٹوئٹر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>حیران کن بات یہ ہے کہ چین میں شرح پیدائش ایک ایسے وقت کم ہونا شروع ہوئی ہے جب حکومت نے ایک بچہ پالیسی ختم کردی ہے۔</p>

<p>چینی حکومت نے 2016 میں ایک بچہ پالیسی ختم کرتے ہوئے والدین کو ایک سے زائد بچے پیدا کرنے کی اجازت دی تھی، اس سے قبل چینی والدین کو صرف ایک ہی بچہ پیدا کرنے کی اجازت ہوتی تھی۔</p>

<p>چینی حکومت کے مطابق سال 2019 کے اختتام تک چینی آبادی ایک ارب 40 کروڑ سے زائد ہوگئی تاہم شرح پیدائش کی کمی نے چین کے معاشی، آبادیاتی و سماجی مسائل کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی۔</p>

<h6 id='5e2186718beb2'><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1095951">چین: بچوں کی پیدائش کی شرح 1960 سے بھی کم ترین سطح پر آگئی</a></h6>

<p>حکومت کے مطابق اگر چین میں شرح پیدائش یوں ہی کم ہوتی رہی تو آنے والے سال میں چین میں کام کرنے والے افراد کم رہ جائیں گے اور زیادہ عمر رسیدہ افراد ملک کی معیشت اور سماج پر بوجھ بن جائیں گے۔</p>

<p>اس وقت چین میں کام کرنے والے افراد کی تعداد 90 کروڑ سے زائد ہے اور کام کرنے والے افراد میں 18 سال سے لے کر 59 سال کی عمر کے افراد شامل ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e21664869483.jpg"  alt="رپورٹ کے مطابق سال 2019 میں ایک کروڑ 45 لاکھ بچے پیدا ہوئے&mdash;فوٹو: ای پی اے" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">رپورٹ کے مطابق سال 2019 میں ایک کروڑ 45 لاکھ بچے پیدا ہوئے—فوٹو: ای پی اے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس وقت چین میں 60 سال سے زائد عمر کے 20 کروڑ سے زائد افراد ہیں اور آنے والے چند سال میں ایسے افراد کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔</p>

<p>یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چین میں پیدا ہونے والے ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد بچوں میں سے لاکھوں نوزائیدہ بچے مختلف بیماریوں کی وجہ سے زندہ نہیں رہ پاتے اور زیادہ تر مرکزی حکومت کی رپورٹ میں مرنے والے بچوں کی تعداد نہیں بتائی جاتی تاہم چین کی صوبائی حکومتیں نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح کی رپورٹس جاری کرتی ہیں۔</p>

<h6 id='5e2186718bf1c'>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1028619">چین میں ’ایک بچہ‘ پالیسی ختم</a></h6>

<p>سال 2018 میں پیدا ہونے والی ایک کروڑ 52 لاکھ نوزائیدہ بچوں میں سے تقریبا 20 لاکھ بچوں کی موت ہوگئی تھی۔</p>

<p>مسلسل دوسرے سال میں شرح پیدائش میں کمی کی وجہ سے اگرچہ تاحال حکومت نے کسی نئی اور سخت پالیسی کا اعلان نہیں کیا تاہم امکان ہے کہ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو حکومت بچوں کی شرح بڑھانے کے حوالے سے کسی سخت پالیسی کا اعلان کرے گی۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e2166c630bb8.jpg"  alt="حکومت نے ایک بچہ پالیسی 2016 میں ختم کی تھی&mdash;فوٹو: رائٹرز" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">حکومت نے ایک بچہ پالیسی 2016 میں ختم کی تھی—فوٹو: رائٹرز</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1118641</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jan 2020 15:03:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/01/5e2165909b06d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/01/5e2165909b06d.jpg"/>
        <media:title>رپورٹ کے مطابق سال 2019 میں پچھلے سال کے مقابلے 7 لاکھ کم بچے پیدا ہوئے — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
