<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 21:25:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 21:25:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی فوک گلوکار پرفارمنس کے دوران چل بسے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1118866/</link>
      <description>&lt;p&gt;زندگی کا نصف سے زیادہ حصہ موسیقی کو دینے والے 71 سالہ امریکی فوک گلوکار اسٹیج پر پرفارمنس کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے چل بسے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے &lt;a href="https://edition.cnn.com/2020/01/19/us/david-olney-death/index.html"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; 71 سالہ ڈیوڈ اولنے امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک شہر میں اسٹیج پر پرفارمنس کے دوران چل بسے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق گلوکار کی موت گانا گانے کے دوران ہوئی اور انہوں نے مرنے سے قبل مداحوں سے ’معذرت‘ کی اور اگلے ہی لمحے چل بسے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں میوزیکل پروگرام میں موجود افراد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ &lt;a href="https://www.instagram.com/thedavidolney/"&gt;&lt;strong&gt;ڈیوڈ اولنے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ساتھی گلوکاروں اور موسیقاروں کے ساتھ گانے پر پرفارمنس کر رہےتھے کہ انہیں دل کا دورہ پڑا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e26d6766c292.jpg"  alt="گلوکار زائد عمری کے باوجود پرفارمنس کرتے دکھائی دیتے تھے&amp;mdash;فوٹو: فیس بک" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;گلوکار زائد عمری کے باوجود پرفارمنس کرتے دکھائی دیتے تھے—فوٹو: فیس بک&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عینی شاہدین کے مطابق دل کا دورہ پڑتے ہی انہوں نے گلوکاری چھوڑ کر پروگرام میں موجود تمام افراد سے ’معافی‘ مانگی اور آرام سے اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے اپنا سر سینے کی طرف جھکا دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کے ساتھ پرفارمنس کرنے والے گلوکاروں و موسیقاروں کے مطابق انہوں نے ابتدائی طور پر سوچا کہ ڈیوڈ اولنے چند لمحوں کی خاموشی کی وجہ سے لوگوں سے معذرت کر رہے ہیں تاہم ان کی خاموشی ابدی ثابت ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پروگرام میں موجود ایک خاتون نے ڈیوڈ اولنے کی موت کے حوالے سے اپنی فیس بک پوسٹ میں انہیں عظیم شخص قرار دیا اور واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ فوک گلوکار پرفارمنس کے دوران ہی چل بسے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e26d6768364f.jpg"  alt="" /&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ مرنے سے قبل انہوں نے مداحوں سے معذرت کی اور انتہائی سکون کے ساتھ اپنا سر نیچے جھکا کر سینے کی طرف لائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ ڈیوڈ اولنے کے ہاتھ سے نہ تو گٹار گرا اور نہ ہی وہ خود کرسی سے گرے اور ان کی زندگی کے آخری لمحات انتہائی پر سکون تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈیوڈ اولنے کو امریکا کی روایتی موسیقی کے نامور گلوکاروں میں شمار کیا جاتا تھا تاہم ساتھ ہی ان کی موسیقی میں جدیدت کی جھلک بھی دکھائی دیتی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e26d70ee1d11.jpg"  alt="ڈیوڈ اولنے کا شمار معروف امریکی فوک گلوکاروں میں ہوتا تھا&amp;mdash;فوٹو: فیس بک" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ڈیوڈ اولنے کا شمار معروف امریکی فوک گلوکاروں میں ہوتا تھا—فوٹو: فیس بک&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈیوڈ اولنے کی &lt;a href="https://davidolney.com/"&gt;&lt;strong&gt;ویب سائٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; پر بھی اس بات کی تصدیق کی گئی کہ گلوکار کی موت پرفارمنس کے دوران دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈیوڈ اولنے نے نصف سے زیادہ حصہ موسیقی کو دیا اور انہوں نے تقریبا 20 میوزک ایلبم ریلیز کیے، ان کا آخری میوزک ایلبم 2 سال قبل 2018 میں ریلیز ہوا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مرنے سے چند دن قبل ہی انہوں نے فیس بک پر ایک &lt;a href="https://www.facebook.com/DavidOlneyOfficial/videos/2924983557533834/"&gt;&lt;strong&gt;گانے کی ویڈیو&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; جاری کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/uA2AEyo74ds?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>زندگی کا نصف سے زیادہ حصہ موسیقی کو دینے والے 71 سالہ امریکی فوک گلوکار اسٹیج پر پرفارمنس کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے چل بسے۔</p>

<p>امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے <a href="https://edition.cnn.com/2020/01/19/us/david-olney-death/index.html"><strong>مطابق</strong></a> 71 سالہ ڈیوڈ اولنے امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک شہر میں اسٹیج پر پرفارمنس کے دوران چل بسے۔</p>

<p>رپورٹ کے مطابق گلوکار کی موت گانا گانے کے دوران ہوئی اور انہوں نے مرنے سے قبل مداحوں سے ’معذرت‘ کی اور اگلے ہی لمحے چل بسے۔</p>

<p>رپورٹ میں میوزیکل پروگرام میں موجود افراد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ <a href="https://www.instagram.com/thedavidolney/"><strong>ڈیوڈ اولنے</strong></a> ساتھی گلوکاروں اور موسیقاروں کے ساتھ گانے پر پرفارمنس کر رہےتھے کہ انہیں دل کا دورہ پڑا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e26d6766c292.jpg"  alt="گلوکار زائد عمری کے باوجود پرفارمنس کرتے دکھائی دیتے تھے&mdash;فوٹو: فیس بک" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">گلوکار زائد عمری کے باوجود پرفارمنس کرتے دکھائی دیتے تھے—فوٹو: فیس بک</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>عینی شاہدین کے مطابق دل کا دورہ پڑتے ہی انہوں نے گلوکاری چھوڑ کر پروگرام میں موجود تمام افراد سے ’معافی‘ مانگی اور آرام سے اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے اپنا سر سینے کی طرف جھکا دیا۔</p>

<p>ان کے ساتھ پرفارمنس کرنے والے گلوکاروں و موسیقاروں کے مطابق انہوں نے ابتدائی طور پر سوچا کہ ڈیوڈ اولنے چند لمحوں کی خاموشی کی وجہ سے لوگوں سے معذرت کر رہے ہیں تاہم ان کی خاموشی ابدی ثابت ہوئی۔</p>

<p>پروگرام میں موجود ایک خاتون نے ڈیوڈ اولنے کی موت کے حوالے سے اپنی فیس بک پوسٹ میں انہیں عظیم شخص قرار دیا اور واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ فوک گلوکار پرفارمنس کے دوران ہی چل بسے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e26d6768364f.jpg"  alt="" /></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>انہوں نے لکھا کہ مرنے سے قبل انہوں نے مداحوں سے معذرت کی اور انتہائی سکون کے ساتھ اپنا سر نیچے جھکا کر سینے کی طرف لائے۔</p>

<p>انہوں نے لکھا کہ ڈیوڈ اولنے کے ہاتھ سے نہ تو گٹار گرا اور نہ ہی وہ خود کرسی سے گرے اور ان کی زندگی کے آخری لمحات انتہائی پر سکون تھے۔</p>

<p>ڈیوڈ اولنے کو امریکا کی روایتی موسیقی کے نامور گلوکاروں میں شمار کیا جاتا تھا تاہم ساتھ ہی ان کی موسیقی میں جدیدت کی جھلک بھی دکھائی دیتی تھی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e26d70ee1d11.jpg"  alt="ڈیوڈ اولنے کا شمار معروف امریکی فوک گلوکاروں میں ہوتا تھا&mdash;فوٹو: فیس بک" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ڈیوڈ اولنے کا شمار معروف امریکی فوک گلوکاروں میں ہوتا تھا—فوٹو: فیس بک</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>ڈیوڈ اولنے کی <a href="https://davidolney.com/"><strong>ویب سائٹ</strong></a> پر بھی اس بات کی تصدیق کی گئی کہ گلوکار کی موت پرفارمنس کے دوران دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ہوئی۔</p>

<p>ڈیوڈ اولنے نے نصف سے زیادہ حصہ موسیقی کو دیا اور انہوں نے تقریبا 20 میوزک ایلبم ریلیز کیے، ان کا آخری میوزک ایلبم 2 سال قبل 2018 میں ریلیز ہوا تھا۔</p>

<p>مرنے سے چند دن قبل ہی انہوں نے فیس بک پر ایک <a href="https://www.facebook.com/DavidOlneyOfficial/videos/2924983557533834/"><strong>گانے کی ویڈیو</strong></a> جاری کی تھی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/uA2AEyo74ds?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1118866</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Jan 2020 17:49:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/01/5e26d5f64a85f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/01/5e26d5f64a85f.jpg?0.5309364482241821"/>
        <media:title>ڈیوڈ اولنے نے نصف سے زیادہ زندگی موسیقی کو دی—فوٹو: فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
