<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 21:23:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 21:23:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغان برآمدات پر کوئی پابندی نہیں لگائی، پاکستانی سفارت خانے کی وضاحت
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1118941/</link>
      <description>&lt;p&gt;افغانستان کے دارالحکومت کابل میں قائم پاکستان کے سفارت خانے نے میڈیا کی رپورٹس پر وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے افغان برآمدات پر نئی پابندیاں نہیں لگائیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘افغان ٹائمز کی 20 جنوری کی رپورٹ کے حوالے سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ حکومت پاکستان نے افغان برآمدات پر کوئی نئی پابندیاں عائد نہیں کیں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ‘پاکستان درحقیقت افغان برآمدات کے لیے بدستور سہولت دے رہا ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1117415"&gt;پاکستانی سفارت خانے کا کابل میں قونصلر سروسز کی مکمل بحالی کا اعلان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستانی سفارت خانے کے مطابق ‘پاکستان کے لیے افغانستان کی برآمدات میں 2018 کے مقابلے میں 2019 میں 19 فیصد اضافہ ہوا’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;افغان میڈیا کی رپورٹ پر ردعمل میں مزید کہا گیا ہے کہ ‘سفارت خانے نے افغان وزارت تجارت کو ٹرانزٹ ٹریڈ کے حوالے سے آگاہ کیا ہے اور اے پی ٹی ٹی اے کے آرٹیکل 21 کے مطابق ٹرانزٹ کارگو عالمی معیار کے کنٹینروں کو ٹرکوں کے ذریعے منتقل کیا جا رہا ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹرکوں کے استعمال کے حوالے سے وضاحت دی گئی کہ ‘اس عمل کے تحفظ کے لیے سیل کے ساتھ ساتھ ٹریکنگ ڈیوائسز لگائی جاتی ہیں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ افغانستان ٹائمز نے اپنی &lt;a href="http://www.afghanistantimes.af/pakistan-put-fresh-restriction-on-afghanistan-exports/"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں کہا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدہ تعلقات کو بہتر کرنے کی کوششیں جاری ہیں تو حکومت پاکستان نے افغان ٹرانزٹ ٹرکوں اور برآمدی مصنوعات پر نئی پابندی عائد کردی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;افغان وزارت تجارت و صنعت کے ترجمان جان آغا نوید نے اس حوالے سے جاری بیان میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘نئی پابندیوں کی بنیاد پر افغانستان کی برآمدات ٹرکوں کے ذریعے ہو جس میں ٹریسرز لگے ہوں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114006"&gt;پاکستان نے افغان سفیر کے ساتھ بدسلوکی کا الزام مسترد کردیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;افغان تاجروں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ اکثر تاجروں کے پاس ٹریسر لگے ٹرک نہیں ہیں اور اس معاملے پر مذاکرات ہونے چاہیے اور افغانستان کو اس کے حل کے لیے اپنا منصوبہ اور پیش کش کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جان آغا نوید نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس تازہ پابندی سے پاکستان کی معیشت پر بھی اثر پڑے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ 4 نومبر 2019 کو کابل میں واقع پاکستانی سفارت خانہ نے عملے کی سیکیورٹی اور تحفظ کے خدشات کے پیشِ نظر اپنی سروسز معطل کردی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قبل ازیں 3 نومبر کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113816/"&gt;&lt;strong&gt;افغان ناظم الامور کو طلب&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کر کے کابل میں اپنے سفارتی عملے کو درپیش سیکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان نے بعد ازاں 29 دسمبر سے کابل میں قونصلر خدمات بحال کرنے کا اعلان کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افغانستان کے دارالحکومت کابل میں قائم پاکستان کے سفارت خانے نے میڈیا کی رپورٹس پر وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے افغان برآمدات پر نئی پابندیاں نہیں لگائیں۔</p>

<p>پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘افغان ٹائمز کی 20 جنوری کی رپورٹ کے حوالے سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ حکومت پاکستان نے افغان برآمدات پر کوئی نئی پابندیاں عائد نہیں کیں’۔</p>

<p>اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ‘پاکستان درحقیقت افغان برآمدات کے لیے بدستور سہولت دے رہا ہے’۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1117415">پاکستانی سفارت خانے کا کابل میں قونصلر سروسز کی مکمل بحالی کا اعلان</a></strong></p>

<p>پاکستانی سفارت خانے کے مطابق ‘پاکستان کے لیے افغانستان کی برآمدات میں 2018 کے مقابلے میں 2019 میں 19 فیصد اضافہ ہوا’۔</p>

<p>افغان میڈیا کی رپورٹ پر ردعمل میں مزید کہا گیا ہے کہ ‘سفارت خانے نے افغان وزارت تجارت کو ٹرانزٹ ٹریڈ کے حوالے سے آگاہ کیا ہے اور اے پی ٹی ٹی اے کے آرٹیکل 21 کے مطابق ٹرانزٹ کارگو عالمی معیار کے کنٹینروں کو ٹرکوں کے ذریعے منتقل کیا جا رہا ہے’۔</p>

<p>ٹرکوں کے استعمال کے حوالے سے وضاحت دی گئی کہ ‘اس عمل کے تحفظ کے لیے سیل کے ساتھ ساتھ ٹریکنگ ڈیوائسز لگائی جاتی ہیں’۔</p>

<p>خیال رہے کہ افغانستان ٹائمز نے اپنی <a href="http://www.afghanistantimes.af/pakistan-put-fresh-restriction-on-afghanistan-exports/"><strong>رپورٹ</strong></a> میں کہا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدہ تعلقات کو بہتر کرنے کی کوششیں جاری ہیں تو حکومت پاکستان نے افغان ٹرانزٹ ٹرکوں اور برآمدی مصنوعات پر نئی پابندی عائد کردی ہے۔</p>

<p>افغان وزارت تجارت و صنعت کے ترجمان جان آغا نوید نے اس حوالے سے جاری بیان میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘نئی پابندیوں کی بنیاد پر افغانستان کی برآمدات ٹرکوں کے ذریعے ہو جس میں ٹریسرز لگے ہوں’۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114006">پاکستان نے افغان سفیر کے ساتھ بدسلوکی کا الزام مسترد کردیا</a></strong></p>

<p>افغان تاجروں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ اکثر تاجروں کے پاس ٹریسر لگے ٹرک نہیں ہیں اور اس معاملے پر مذاکرات ہونے چاہیے اور افغانستان کو اس کے حل کے لیے اپنا منصوبہ اور پیش کش کرنی چاہیے۔</p>

<p>جان آغا نوید نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس تازہ پابندی سے پاکستان کی معیشت پر بھی اثر پڑے گا۔</p>

<p>یاد رہے کہ 4 نومبر 2019 کو کابل میں واقع پاکستانی سفارت خانہ نے عملے کی سیکیورٹی اور تحفظ کے خدشات کے پیشِ نظر اپنی سروسز معطل کردی تھیں۔</p>

<p>قبل ازیں 3 نومبر کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113816/"><strong>افغان ناظم الامور کو طلب</strong></a> کر کے کابل میں اپنے سفارتی عملے کو درپیش سیکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا تھا۔</p>

<p>پاکستان نے بعد ازاں 29 دسمبر سے کابل میں قونصلر خدمات بحال کرنے کا اعلان کردیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1118941</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jan 2020 09:52:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/01/5e28543d283dc.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/01/5e28543d283dc.jpg"/>
        <media:title>پاکستانی سفارت خانے کے مطابق افغان وزارت تجارت کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے—فائل/فوٹو:افغانستان ٹائمز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
