<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 10:16:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 10:16:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کرتار پور راہداری کے ریکارڈ کی وضاحت کیلئے ایف ڈبلیو او کے ڈائریکٹر جنرل طلب
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1119039/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے کرتار پور راہداری منصوبے کا ریکارڈ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو فراہم نہ کرنے پر ملٹری انجینئرنگ آرگنائزیشن یعنی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) سے وضاحت طلب کرتے ہوئے اس کے ڈائریکٹر جنرل کو آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1530192/pac-summons-fwo-chief-to-explain-kartarpur-corridors-record"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق پی اے سی کے چیئرمین رانا تنویر حسین نے ہدایت کی چونکہ ایف ڈبلیو او  نے آڈیٹر جنرل کو ریکارڈ فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے اس لیے انہیں اس حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے (اجلاس میں) آنا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے پی اے سی کے سیکریٹری کو مزید ہدایت دی کہ ایف ڈبلیو او کے ڈائریکٹر جنرل کو کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں پیش ہونے کا کہا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آڈیٹر جنرل جاوید جہانگیر نے کمیٹی کو بتایا تھا کہ پی اے سی کی ہدایت کے مطابق کرتار پور راہداری منصوبے کا آڈٹ کرنے کے لیے آڈیٹرز نے ایف ڈبلیو او کو خط لکھ کر متعلقہ ریکارڈ مانگا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="http://dawnnews.tv/news/1118209"&gt;پی اے سی نے اسکروٹنی کے بغیر دفاعی خریداری پر اعتراضات دور کردیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ جواب میں ایف ڈبلیو او کے حکام نے کہا چونکہ اس منصوبے کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کی اجازت کا ابھی تک انتظار ہے اس لیے ایف ڈبلیو او منصوبے کی تفصیلات آڈیٹرز کو فراہم نہیں کرسکتی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ کرتار پور راہداری ویزا فری بارڈر کراسنگ ہے جو گوردوارا دربار صاحب کو بھارتی سرحد سے منسلک کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس راہداری کے ذریعے سکھ یاتری بھارت سے بغیر ویزا حاصل کیے پاک بھارت سرحد سے 4.7 کلومیٹر دور کرتارپور میں واقع گوردوارا میں آسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ کرتارپور راہداری کھولنے کے فیصلے کے بارے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 2018 میں وزیر اعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے آنے والے کانگریس کے رہنما بھارتی پنجاب کے وزیر نوجوت سنگھ سدھو کو بتایا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114254"&gt;وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا افتتاح کردیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعدازاں بھارتی یونین کابینہ کی جانب سے اس راہداری کی پیشکش قبول کرنے کے بعد اسلام آباد نے سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک کے 5 سو 50ویں جنم دن کے موقع پر تقریب سنگ بنیاد کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تجویز کے تحت بھارتی حکومت نے اپنے پنجاب کے ضلع گورداس پور میں قائم ڈیرہ بابا نانک سے سرحد تک کرتار پور راہداری تعمیر کرنی تھی جبکہ پاکستان نے ضلع ناروول کے علاقے کرتارپور میں گورداوارا دربار صاحب کو راہداری کے ذریعے سرحد سے منسلک کرنا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس منصوبے کی تعمیر کا ٹھیکہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کو دیا گیا تھا، آڈیٹر جنرل پاکستان نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا کہ ’ایف ڈبلیو او نے جواب دیا کہ منصوبہ اب تک ایکنک سے منظور نہیں ہوا اس لیے ہم اس منصوبے سے متعلق کرتارپور کی تفصیلات فراہم نہیں کرسکتے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس پر رانا تنویر نے ریمارکس دیے کہ ہوسکتا ہے ایف ڈبلیو او نے منصوبہ اپنے وسائل سے مکمل کیا ہو اور اب حکومت سے فنڈز مانگ رہی ہو لیکن کسی بھی صورت میں انہیں آڈیٹرز کو تفصیلات فراہم کرنی چاہیے تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113661"&gt;وزیراعظم کا کرتارپور آنے والے سکھ یاتریوں کیلئے خصوصی رعایتوں کا اعلان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) کے چیئرمین کو بھی طلب کیا کیوں کہ آڈیٹر جنرل پاکستان کے دائرہ اختیار سے متعلق آڈیٹرز اور پی ای سی کے نمائندوں کا نقطہ نظر مختلف تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی ای سی کا موقف ہے کہ چونکہ کونسل کو قومی خزانے سے کوئی فنڈز نہیں مل رہے اور وہ اپنے بل بوتے پر ریونیو حاصل کررہا ہے اس لیے آڈیٹر جنرل پاکستان اس کے اکاؤنٹس کا آڈٹ نہیں کرسکتے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب آڈیٹر جنرل پاکستان کے عملے کا کہنا تھا کہ پی ای سی پارلیمنٹ ایکٹ کے تحت قائم کی گئی تھی اس لیے وہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو جوابدہ ہے جو پبلک سیکٹر اداروں کے احتساب کا اعلیٰ پارلیمانی فورم ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے کرتار پور راہداری منصوبے کا ریکارڈ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو فراہم نہ کرنے پر ملٹری انجینئرنگ آرگنائزیشن یعنی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) سے وضاحت طلب کرتے ہوئے اس کے ڈائریکٹر جنرل کو آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1530192/pac-summons-fwo-chief-to-explain-kartarpur-corridors-record">رپورٹ</a></strong> کے مطابق پی اے سی کے چیئرمین رانا تنویر حسین نے ہدایت کی چونکہ ایف ڈبلیو او  نے آڈیٹر جنرل کو ریکارڈ فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے اس لیے انہیں اس حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے (اجلاس میں) آنا چاہیے۔</p>

<p>انہوں نے پی اے سی کے سیکریٹری کو مزید ہدایت دی کہ ایف ڈبلیو او کے ڈائریکٹر جنرل کو کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں پیش ہونے کا کہا جائے۔</p>

<p>آڈیٹر جنرل جاوید جہانگیر نے کمیٹی کو بتایا تھا کہ پی اے سی کی ہدایت کے مطابق کرتار پور راہداری منصوبے کا آڈٹ کرنے کے لیے آڈیٹرز نے ایف ڈبلیو او کو خط لکھ کر متعلقہ ریکارڈ مانگا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="http://dawnnews.tv/news/1118209">پی اے سی نے اسکروٹنی کے بغیر دفاعی خریداری پر اعتراضات دور کردیے</a></strong> </p>

<p>انہوں نے بتایا کہ جواب میں ایف ڈبلیو او کے حکام نے کہا چونکہ اس منصوبے کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کی اجازت کا ابھی تک انتظار ہے اس لیے ایف ڈبلیو او منصوبے کی تفصیلات آڈیٹرز کو فراہم نہیں کرسکتی۔</p>

<p>خیال رہے کہ کرتار پور راہداری ویزا فری بارڈر کراسنگ ہے جو گوردوارا دربار صاحب کو بھارتی سرحد سے منسلک کرتا ہے۔</p>

<p>اس راہداری کے ذریعے سکھ یاتری بھارت سے بغیر ویزا حاصل کیے پاک بھارت سرحد سے 4.7 کلومیٹر دور کرتارپور میں واقع گوردوارا میں آسکتے ہیں۔</p>

<p>یاد رہے کہ کرتارپور راہداری کھولنے کے فیصلے کے بارے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 2018 میں وزیر اعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے آنے والے کانگریس کے رہنما بھارتی پنجاب کے وزیر نوجوت سنگھ سدھو کو بتایا تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114254">وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا افتتاح کردیا</a></strong></p>

<p>بعدازاں بھارتی یونین کابینہ کی جانب سے اس راہداری کی پیشکش قبول کرنے کے بعد اسلام آباد نے سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک کے 5 سو 50ویں جنم دن کے موقع پر تقریب سنگ بنیاد کا اعلان کیا تھا۔</p>

<p>اس تجویز کے تحت بھارتی حکومت نے اپنے پنجاب کے ضلع گورداس پور میں قائم ڈیرہ بابا نانک سے سرحد تک کرتار پور راہداری تعمیر کرنی تھی جبکہ پاکستان نے ضلع ناروول کے علاقے کرتارپور میں گورداوارا دربار صاحب کو راہداری کے ذریعے سرحد سے منسلک کرنا تھا۔</p>

<p>اس منصوبے کی تعمیر کا ٹھیکہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کو دیا گیا تھا، آڈیٹر جنرل پاکستان نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا کہ ’ایف ڈبلیو او نے جواب دیا کہ منصوبہ اب تک ایکنک سے منظور نہیں ہوا اس لیے ہم اس منصوبے سے متعلق کرتارپور کی تفصیلات فراہم نہیں کرسکتے‘۔</p>

<p>جس پر رانا تنویر نے ریمارکس دیے کہ ہوسکتا ہے ایف ڈبلیو او نے منصوبہ اپنے وسائل سے مکمل کیا ہو اور اب حکومت سے فنڈز مانگ رہی ہو لیکن کسی بھی صورت میں انہیں آڈیٹرز کو تفصیلات فراہم کرنی چاہیے تھیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113661">وزیراعظم کا کرتارپور آنے والے سکھ یاتریوں کیلئے خصوصی رعایتوں کا اعلان</a></strong></p>

<p>علاوہ ازیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) کے چیئرمین کو بھی طلب کیا کیوں کہ آڈیٹر جنرل پاکستان کے دائرہ اختیار سے متعلق آڈیٹرز اور پی ای سی کے نمائندوں کا نقطہ نظر مختلف تھا۔</p>

<p>پی ای سی کا موقف ہے کہ چونکہ کونسل کو قومی خزانے سے کوئی فنڈز نہیں مل رہے اور وہ اپنے بل بوتے پر ریونیو حاصل کررہا ہے اس لیے آڈیٹر جنرل پاکستان اس کے اکاؤنٹس کا آڈٹ نہیں کرسکتے۔</p>

<p>دوسری جانب آڈیٹر جنرل پاکستان کے عملے کا کہنا تھا کہ پی ای سی پارلیمنٹ ایکٹ کے تحت قائم کی گئی تھی اس لیے وہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو جوابدہ ہے جو پبلک سیکٹر اداروں کے احتساب کا اعلیٰ پارلیمانی فورم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1119039</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jan 2020 13:17:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/01/5e2a6cb2135fc.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/01/5e2a6cb2135fc.jpg"/>
        <media:title>کرتار پور راہداری کا افتتاح گزشتہ برس نومبر میں کیا گیا تھا—فائل فوٹو:اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
