<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:07:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:07:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لندن: پولیس کی فائرنگ سے حملہ آور ہلاک، واقعہ دہشت گردی قرار
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1119651/</link>
      <description>&lt;p&gt;برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے جنوبی علاقے میں متعدد افراد کو تیز دھار آلے کے وار سے زخمی کرنے والا حملہ آور پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ‘افسران نے جنوبی لندن کے علاقے اسٹریتھم میں ایک حملہ آور کو فائرنگ سے نشانہ بنایا جس نے متعدد افراد کو تیز دھار آلے سے زخمی کردیا تھا’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واقعے کے بعد جاری بیان میں پولیس کا کہنا تھا کہ ‘حالات کا جائزہ لیا جارہا ہے  اور واقعے کو دہشت سے متعلق قرار دیا گیا ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/metpoliceuk/status/1223987448742666241"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں ان کا کہنا تھا کہ گولی لگنے والا حملہ آور ہلاک ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جائے وقوع کے قریب کام کرنے والے ایک شہری کارکر طاہر نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ مبینہ حملہ آور کو تین گولیاں لگی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘پولیس نے عوام کو علاقہ چھوڑنے کا کہا تھا کیونکہ حملہ آور کے بیگ میں بم ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1115659"&gt;لندن برج پر چاقو سے حملہ، پولیس کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس نے واقعے کے فوری بعد اسٹریتھم میں شاپنگ سینٹر سمیت علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شہریوں کو علاقے سے دور نکلنے کی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سوشل میڈیا میں اس واقعے کے حوالے سے کئی ویڈیوز جاری ہوئیں جن میں سے ایک میں کسی کو سڑک پر بیٹھے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے اور پولیس افسران ایک کار پر اپنی بندوقیں تانے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہیلی کاپٹرز نے بھی علاقے ک نگرانی شروع کی اور پولیس نے مذکورہ جگہ کے اطراف میں اپنی گاڑیاں کھڑی کیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے ٹویٹر میں اپنے بیان میں کہا کہ ‘اسٹریتھم میں پیش آنے والے واقعے پر فوری سروس مہیا کرنے پر آپ سب کا شکریہ اور پولیس نے اس واقعے کو دہشت گردی سے متعلق قرار دیا ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘تمام زخمیوں اور متاثرین کے ساتھ میری ہمدردیاں ہیں’۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/BorisJohnson/status/1224000347645063174"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ لندن میں نومبر 2019 میں بھی اسی طرح کا ایک واقعہ ہوا تھا جہاں پولیس نے جعلی خود کش جیکٹ پہننے مشتبہ شخص کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا جبکہ حملہ آور نے 2 افراد کو زخمی بھی کردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1115683"&gt;لندن برج حملہ آور کی شناخت برطانوی شہری عثمان خان کے نام سے ہوگئی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لندن کے میئر صادق خان نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘دہشت گرد ہمیں تقسیم کرنے اور ہماری طرز زندگی کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں، یہاں لندن میں ہم انہیں کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے’۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/SadiqKhan/status/1224000666231853057"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ جون 2017 میں بھی لندن برج پر 3 مسلح افراد نے عوام پر گاڑی چڑھا دی تھی جس کے بعد انہوں نے اس کے قریبی علاقوں میں لوگوں پر حملے بھی کیے تھے جس کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے جنوبی علاقے میں متعدد افراد کو تیز دھار آلے کے وار سے زخمی کرنے والا حملہ آور پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔</p>

<p>پولیس کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ‘افسران نے جنوبی لندن کے علاقے اسٹریتھم میں ایک حملہ آور کو فائرنگ سے نشانہ بنایا جس نے متعدد افراد کو تیز دھار آلے سے زخمی کردیا تھا’۔</p>

<p>واقعے کے بعد جاری بیان میں پولیس کا کہنا تھا کہ ‘حالات کا جائزہ لیا جارہا ہے  اور واقعے کو دہشت سے متعلق قرار دیا گیا ہے’۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/metpoliceuk/status/1223987448742666241"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>بعد ازاں ان کا کہنا تھا کہ گولی لگنے والا حملہ آور ہلاک ہوگیا ہے۔</p>

<p>جائے وقوع کے قریب کام کرنے والے ایک شہری کارکر طاہر نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ مبینہ حملہ آور کو تین گولیاں لگی ہیں۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘پولیس نے عوام کو علاقہ چھوڑنے کا کہا تھا کیونکہ حملہ آور کے بیگ میں بم ہے’۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1115659">لندن برج پر چاقو سے حملہ، پولیس کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک</a></strong></p>

<p>پولیس نے واقعے کے فوری بعد اسٹریتھم میں شاپنگ سینٹر سمیت علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شہریوں کو علاقے سے دور نکلنے کی ہدایت کی۔</p>

<p>سوشل میڈیا میں اس واقعے کے حوالے سے کئی ویڈیوز جاری ہوئیں جن میں سے ایک میں کسی کو سڑک پر بیٹھے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے اور پولیس افسران ایک کار پر اپنی بندوقیں تانے ہوئے ہیں۔</p>

<p>ہیلی کاپٹرز نے بھی علاقے ک نگرانی شروع کی اور پولیس نے مذکورہ جگہ کے اطراف میں اپنی گاڑیاں کھڑی کیں۔</p>

<p>برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے ٹویٹر میں اپنے بیان میں کہا کہ ‘اسٹریتھم میں پیش آنے والے واقعے پر فوری سروس مہیا کرنے پر آپ سب کا شکریہ اور پولیس نے اس واقعے کو دہشت گردی سے متعلق قرار دیا ہے’۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘تمام زخمیوں اور متاثرین کے ساتھ میری ہمدردیاں ہیں’۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/BorisJohnson/status/1224000347645063174"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>یاد رہے کہ لندن میں نومبر 2019 میں بھی اسی طرح کا ایک واقعہ ہوا تھا جہاں پولیس نے جعلی خود کش جیکٹ پہننے مشتبہ شخص کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا جبکہ حملہ آور نے 2 افراد کو زخمی بھی کردیا تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1115683">لندن برج حملہ آور کی شناخت برطانوی شہری عثمان خان کے نام سے ہوگئی</a></strong></p>

<p>لندن کے میئر صادق خان نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘دہشت گرد ہمیں تقسیم کرنے اور ہماری طرز زندگی کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں، یہاں لندن میں ہم انہیں کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے’۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/SadiqKhan/status/1224000666231853057"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>خیال رہے کہ جون 2017 میں بھی لندن برج پر 3 مسلح افراد نے عوام پر گاڑی چڑھا دی تھی جس کے بعد انہوں نے اس کے قریبی علاقوں میں لوگوں پر حملے بھی کیے تھے جس کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک ہوئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1119651</guid>
      <pubDate>Mon, 03 Feb 2020 08:26:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/02/5e370d6b0f2b8.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="2100" width="3500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/02/5e370d6b0f2b8.jpg"/>
        <media:title>حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے—فوٹو:اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
