<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 20:38:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 20:38:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>واٹس ایپ کی ڈیسک ٹاپ ایپ میں بگ کی موجودگی کا انکشاف
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1119829/</link>
      <description>&lt;p&gt;واٹس ایپ دنیا کی مقبول ترین میسجنگ اپلیکشن ہے، جس کے صارفین کی تعداد ڈیڑھ ارب سے زائد ہے جن میں سے متعدد ویب ورژن میں بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر اب انکشاف ہوا ہے کہ واٹس ایپ کی ڈیسک ٹاپ ایپ میں گزشتہ ماہ ایک بگ کے نتیجے میں ہیکرز کو صارفین کی فائلز پڑھنے کا موقع مل گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سیکیورٹی کمپنی پریمیٹر ایکس نے ایک &lt;a href="https://www.perimeterx.com/tech-blog/2020/whatsapp-fs-read-vuln-disclosure/"&gt;پوسٹ&lt;/a&gt; میں بتایا کہ اس بگ سے وہ افراد متاثر ہوئے ہوں گے جو ونڈوز یا میک میں واٹس ایپ کو آئی فون سے منسلک کرکے استعمال کرتے ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے واٹس ایپ کے سی ایس پی میں کمزوریاں دریافت کیں جس کی مدد سے مشبہ پیغامات اور لنکش کراس سائٹ اسکرپٹنگ استعمال کرکے بھیج کر اکاﺅنٹ پر کنٹرول حاصل کیا جاسکتا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے ان کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر ایسے نقصان دہ کوڈز بھیج کر دوسرے صارف کے کمپیوٹر کی لوکل سسٹم میں فائلز کو پڑھنے میں کامیابی حاصل کی اور یہ اس وقت نقصان دہ ہوسکتا ہے جب مشین میں حساس دستاویزات محفوظ ہوں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے اس مقصد کے لیے ایک لنک پریویو کے ساتھ ایک بینر تیار کرکے بھیجا جس میں ایک نقصان دہ لنک دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e3ad18f99359.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e3ad18f99359.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e3ad18f99359.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e3ad18f99359.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="فوٹو بشکریہ پریمیٹر ایکس" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;فوٹو بشکریہ پریمیٹر ایکس&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ واٹس ایپ کو اس طرح کی کمزوریوں سے بچنے کے لیے گوگل کے کرومیم براﺅزر پلیٹ فارم کے پرانے ورژن کو استعمال نہیں کرنا چاہیے، اسی طرح وہ صارفین جو آئی فون کی مدد سے ڈیسک ٹاپ ایپ پر واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں، انہیں یہ دونوں اپ ڈیٹ کرلینی چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب واٹس ایپ کی ملکیت رکھنے والی&lt;a href="https://www.facebook.com/security/advisories/cve-2019-18426"&gt;فیس بک&lt;/a&gt; نے بھی بگ کی موجودگی کو تسلیم کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس پر کنٹرول کرلیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>واٹس ایپ دنیا کی مقبول ترین میسجنگ اپلیکشن ہے، جس کے صارفین کی تعداد ڈیڑھ ارب سے زائد ہے جن میں سے متعدد ویب ورژن میں بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔</p>

<p>مگر اب انکشاف ہوا ہے کہ واٹس ایپ کی ڈیسک ٹاپ ایپ میں گزشتہ ماہ ایک بگ کے نتیجے میں ہیکرز کو صارفین کی فائلز پڑھنے کا موقع مل گیا تھا۔</p>

<p>سیکیورٹی کمپنی پریمیٹر ایکس نے ایک <a href="https://www.perimeterx.com/tech-blog/2020/whatsapp-fs-read-vuln-disclosure/">پوسٹ</a> میں بتایا کہ اس بگ سے وہ افراد متاثر ہوئے ہوں گے جو ونڈوز یا میک میں واٹس ایپ کو آئی فون سے منسلک کرکے استعمال کرتے ہوں گے۔</p>

<p>محققین نے واٹس ایپ کے سی ایس پی میں کمزوریاں دریافت کیں جس کی مدد سے مشبہ پیغامات اور لنکش کراس سائٹ اسکرپٹنگ استعمال کرکے بھیج کر اکاﺅنٹ پر کنٹرول حاصل کیا جاسکتا تھا۔</p>

<p>محققین نے ان کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر ایسے نقصان دہ کوڈز بھیج کر دوسرے صارف کے کمپیوٹر کی لوکل سسٹم میں فائلز کو پڑھنے میں کامیابی حاصل کی اور یہ اس وقت نقصان دہ ہوسکتا ہے جب مشین میں حساس دستاویزات محفوظ ہوں۔</p>

<p>انہوں نے اس مقصد کے لیے ایک لنک پریویو کے ساتھ ایک بینر تیار کرکے بھیجا جس میں ایک نقصان دہ لنک دیا گیا تھا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e3ad18f99359.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e3ad18f99359.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e3ad18f99359.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e3ad18f99359.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="فوٹو بشکریہ پریمیٹر ایکس" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">فوٹو بشکریہ پریمیٹر ایکس</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>انہوں نے کہا کہ واٹس ایپ کو اس طرح کی کمزوریوں سے بچنے کے لیے گوگل کے کرومیم براﺅزر پلیٹ فارم کے پرانے ورژن کو استعمال نہیں کرنا چاہیے، اسی طرح وہ صارفین جو آئی فون کی مدد سے ڈیسک ٹاپ ایپ پر واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں، انہیں یہ دونوں اپ ڈیٹ کرلینی چاہیے۔</p>

<p>دوسری جانب واٹس ایپ کی ملکیت رکھنے والی<a href="https://www.facebook.com/security/advisories/cve-2019-18426">فیس بک</a> نے بھی بگ کی موجودگی کو تسلیم کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس پر کنٹرول کرلیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1119829</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Feb 2020 19:35:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/02/5e3ad16734f1d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/02/5e3ad16734f1d.jpg"/>
        <media:title>— فوٹو بشکریہ فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
