<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 14:22:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 14:22:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہاؤسنگ اسکیم: پاک فضائیہ اور نیب کے درمیان متاثرین کو رقم کی واپسی کیلئے مذاکرات جاری
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1119960/</link>
      <description>&lt;p&gt;قومی احتساب بیورو (نیب) اور پاک فضائیہ (پی اے ایف) کے درمیان فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی (ایف ایچ ایس کے) کے متاثرین سے وصول کی گئی رقم واپس دینے سے متعلق مذاکرات جاری ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1532867/paf-nab-negotiating-to-repay-investors-hit-by-housing-scam"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق مذکورہ بیان تفتیشی افسر اسلم پرویز ابڑو نے ہاؤسنگ سوسائٹی میں 18 ارب روپے کی مبینہ فراڈ سے متعلق احتساب عدالتوں کے ایڈمنسٹریٹو جج فرید انور قاضی کو جمع کروائی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں دیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ زیر حراست ملزمان میکسم پراپرٹیز کے تنویر احمد اور بلال نے فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی کے نام پر عوام کو دھوکا دیا اور الزام لگایا تھا کہ ہاؤسنگ سوسائٹی کا آغاز غیر قانونی طور پر پاک فضائیہ کے اشتراک سے 2015 میں کیا گیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1119331/"&gt;ہاؤسنگ اسکیم: پاک فضائیہ کی نیب کو 5700 متاثرین کی شکایات کے ازالے کی پیشکش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس میں مزید کہا گیا کہ پاک فضائیہ نے پہلے ہی نیب میں متاثرین کی رقم کی واپسی کے لیے درخواست جمع کروائی تھی اور تمام واجبات کی ادائیگی کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی پروجیکٹ کی منصوبہ بندی اور اس میں شامل پی اے ایف کے تمام افسران کو دوبارہ نوٹسز بھیج دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس میں کہا گیا کہ ’پاک فضائیہ نے اپنے ملازمین کو یونٹس فروخت کیے ہیں، تنویر احمد اور بلال عام لوگوں کو ہاؤسنگ یونٹس فروخت کرنے کے ذمہ دار ہیں اور انہوں نے 18 ارب روپے جمع کیے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مشتبہ ملزمان کے دفاعی وکیل روی پنجانی نے کہا کہ نیب صرف ان کے موکلوں کو نشانہ بنارہا ہے جبکہ اس فراڈ میں ملوث دیگر افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سماعت کے دوران اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر شہباز سہوترا نے عدالت میں کچھ دستاویز پیش کیں اور آگاہ کیا کہ نیب اور فضائیہ حکام کے دوران متاثرین کو رقم کی واپسی اور واجبات کی ادائیگی کے لیے خط و کتابت جاری ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1118544"&gt;شہدا کیلئے منظور فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم میں اربوں روپے کا فراڈ ہوا، نیب&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں تفتیشی افسر نے کہا کہ دونوں بلڈرز نے اب تک فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی کی زمین پر تعمیر کیے جانے والے گھروں کی تعداد کا تعین نہیں کیا تھا، انہوں نے دیگر ساتھیوں کی ملی بھگت سے عوام کو ہاوسنگ سوسائٹی کی ممبرشپ کی طرف لے جانے کے لیے اشتہاری مہم چلائی تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس میں مزید کہا گیا کہ ایف ایچ ایس کے کسی حکومتی ایجنسی کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں لیکن بلڈرز نے ہاؤسنگ سوسائٹی کے 
ایک لاکھ 60 ہزار فارمز فی کس ایک ہزار روپے یا اس سے زائد میں فروخت کیے تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلڈرز نے رجسٹریشن کے وقت قابلِ واپسی رقم  کے طور پر لوگوں سے غیر منصفانہ طور پر ایک ارب 54 کروڑ 88 لاکھ 70 ہزار روپے لیے اور اب تک بینک سے منافع حاصل کررہے تھے لیکن 40 کروڑ 20 لاکھ 80 ہزار روپے واپس کرنے میں ناکام ہوئے  تھے۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>قومی احتساب بیورو (نیب) اور پاک فضائیہ (پی اے ایف) کے درمیان فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی (ایف ایچ ایس کے) کے متاثرین سے وصول کی گئی رقم واپس دینے سے متعلق مذاکرات جاری ہے۔ </p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1532867/paf-nab-negotiating-to-repay-investors-hit-by-housing-scam"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق مذکورہ بیان تفتیشی افسر اسلم پرویز ابڑو نے ہاؤسنگ سوسائٹی میں 18 ارب روپے کی مبینہ فراڈ سے متعلق احتساب عدالتوں کے ایڈمنسٹریٹو جج فرید انور قاضی کو جمع کروائی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں دیا۔ </p>

<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ زیر حراست ملزمان میکسم پراپرٹیز کے تنویر احمد اور بلال نے فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی کے نام پر عوام کو دھوکا دیا اور الزام لگایا تھا کہ ہاؤسنگ سوسائٹی کا آغاز غیر قانونی طور پر پاک فضائیہ کے اشتراک سے 2015 میں کیا گیا تھا۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1119331/">ہاؤسنگ اسکیم: پاک فضائیہ کی نیب کو 5700 متاثرین کی شکایات کے ازالے کی پیشکش</a></strong></p>

<p>اس میں مزید کہا گیا کہ پاک فضائیہ نے پہلے ہی نیب میں متاثرین کی رقم کی واپسی کے لیے درخواست جمع کروائی تھی اور تمام واجبات کی ادائیگی کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔ </p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی پروجیکٹ کی منصوبہ بندی اور اس میں شامل پی اے ایف کے تمام افسران کو دوبارہ نوٹسز بھیج دیے گئے ہیں۔</p>

<p>اس میں کہا گیا کہ ’پاک فضائیہ نے اپنے ملازمین کو یونٹس فروخت کیے ہیں، تنویر احمد اور بلال عام لوگوں کو ہاؤسنگ یونٹس فروخت کرنے کے ذمہ دار ہیں اور انہوں نے 18 ارب روپے جمع کیے‘۔</p>

<p>مشتبہ ملزمان کے دفاعی وکیل روی پنجانی نے کہا کہ نیب صرف ان کے موکلوں کو نشانہ بنارہا ہے جبکہ اس فراڈ میں ملوث دیگر افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ </p>

<p>سماعت کے دوران اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر شہباز سہوترا نے عدالت میں کچھ دستاویز پیش کیں اور آگاہ کیا کہ نیب اور فضائیہ حکام کے دوران متاثرین کو رقم کی واپسی اور واجبات کی ادائیگی کے لیے خط و کتابت جاری ہے۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1118544">شہدا کیلئے منظور فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم میں اربوں روپے کا فراڈ ہوا، نیب</a></strong></p>

<p>رپورٹ میں تفتیشی افسر نے کہا کہ دونوں بلڈرز نے اب تک فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی کی زمین پر تعمیر کیے جانے والے گھروں کی تعداد کا تعین نہیں کیا تھا، انہوں نے دیگر ساتھیوں کی ملی بھگت سے عوام کو ہاوسنگ سوسائٹی کی ممبرشپ کی طرف لے جانے کے لیے اشتہاری مہم چلائی تھی۔ </p>

<p>اس میں مزید کہا گیا کہ ایف ایچ ایس کے کسی حکومتی ایجنسی کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں لیکن بلڈرز نے ہاؤسنگ سوسائٹی کے 
ایک لاکھ 60 ہزار فارمز فی کس ایک ہزار روپے یا اس سے زائد میں فروخت کیے تھے۔ </p>

<p>بلڈرز نے رجسٹریشن کے وقت قابلِ واپسی رقم  کے طور پر لوگوں سے غیر منصفانہ طور پر ایک ارب 54 کروڑ 88 لاکھ 70 ہزار روپے لیے اور اب تک بینک سے منافع حاصل کررہے تھے لیکن 40 کروڑ 20 لاکھ 80 ہزار روپے واپس کرنے میں ناکام ہوئے  تھے۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1119960</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Feb 2020 17:31:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نعیم سہوترا)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/02/5e3d47c1c60ab.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/02/5e3d47c1c60ab.jpg"/>
        <media:title>دونوں بلڈرز نے اب تک فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی کی زمین پر تعمیر کیے جانے والے گھروں کی تعداد کا تعین نہیں کیا — فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
