<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:14:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:14:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آنکھیں کھول دینے والی ماحولیاتی تبدیلی پر بنی محض 2 منٹ کی فلم
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1119966/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت دنیا کو دہشت گردی اور غربت سے زیادہ ماحولیاتی تبدیلی کا خطرہ لاحق ہے جس سے دنیا کی غربت، صحت اور بقا منسلک ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دنیا کے سب سے بڑے جنگلات ایمیزون سے لے کر آسٹریلوی جنگلات میں لگنے والی آگ اور ملائیشیا کی چٹانوں سے پھوٹنے والے آگ کے شعلوں سے لے کر برساتوں اور سیلابوں تک کی آفتیں ماحولیاتی تبدیلی کا ہی نتیجہ ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دنیا بھر میں بڑھتی ماحولیاتی آلودگی سے متعلق پالیسیاں بنانے اور ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف متحد ہوکر اٹھ کھڑے ہونے کے لیے سماجی تنظیم ’ایکسٹنکشل ربیلن‘ اور ایمازون واچ کی جانب سے لوگوں میں شعور بیدار کرنے کے لیے ایک انتہائی مختصر دورانیے کی فلم جاری کردی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دونوں تنظیموں کے تعاون سے ماحولیاتی آلودگی کے خلاف اہم کردار ادا کرنے والے ہولی وڈ ہدایت کار شان مینسن نے ’دی گارجین آف لائف‘ نامی انتہائی مختصر فلم جاری کی جس میں صرف ایک ہی کمرے میں کرداروں کو زندگی بچاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فلم کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں گزشتہ برس ریلیز ہونے والی تھرلر کامیڈی فلم ’جوکر‘ کے ہیرو جیکوئن فیونکس بھی مرتی زندگی کو بچاتے دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e3d7cf47de4e.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e3d7cf47de4e.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e3d7cf47de4e.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e3d7cf47de4e.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="فلم میں جوکر کا کردار ادا کرنے جیکوئن فیونکس بھی دکھائی دیے&amp;mdash;اسکرین شاٹ" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;فلم میں جوکر کا کردار ادا کرنے جیکوئن فیونکس بھی دکھائی دیے—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فلم میں امریکا کے ایک ہسپتال کا آپریشن تھیٹر دکھایا گیا ہے جہاں مرد و خواتین ڈاکٹر انتہائی تشویش ناک حالت میں لائے گئے مریض کی زندگی بچاتے دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فلم میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تمام ڈاکٹرز اس مریض کو  بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہین اور اسے ہوش میں لانے یا زندگی کی جانب لوٹانے کی کوشش کے دوران کئی طرح کے طبی تجربے بھی آزماتے ہیں تاہم وہ ناکام ہوجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فلم کے آخر میں دکھایا گیا ہے کہ انتہائی تشویش ناک حالت میں لایا گیا مریض دم توڑ جاتا ہے اور اسے بچانے والے ڈاکٹر مایوس ہوکر آپریشن تھیٹر سے نکلنے لگتے ہیں تو عین اسی وقت مر جانے والے مریض کے ہاتھوں کو ہلتا ہوا دکھایا گیا ہے اور ساتھ ہی اس کے 
چہرے میں نہ بھجنے والی آگ کو دکھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/qpjw9cNxwew?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اور آخر میں مریض کے جسم سے شروع ہونے والی آگ کو دنیا کے نقشے میں دکھاتے ہوئے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے جنگلات میں لگنے والی آگ کسی کو نہیں بخشے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کسی بڑے بحث اور انتہائی خوفناک مناظر دکھائے بغیر محض 2 منٹ کی مذکورہ فلم کو 6 فروری کو جاری کیا گیا تھا اور فلم دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں وائرل ہوگئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فلم کو یوٹیوب سمیت دیگر ویڈیو اسٹریمنگ ویب سائٹس اور پلیٹ فارمز پر بھی ریلیز کیا گیا تھا اور اب تک فلم کو کروڑوں بار دیکھا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والے افراد اور ارکان نے فلم کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ فلم سے لوگوں کو ماحولیاتی آلودگی سے ہونے والی تباہیاں سمجھنے میں آسانی ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--vimeo  '&gt;&lt;iframe src='https://player.vimeo.com/video/389125501' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			 &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت دنیا کو دہشت گردی اور غربت سے زیادہ ماحولیاتی تبدیلی کا خطرہ لاحق ہے جس سے دنیا کی غربت، صحت اور بقا منسلک ہے۔</p>

<p>دنیا کے سب سے بڑے جنگلات ایمیزون سے لے کر آسٹریلوی جنگلات میں لگنے والی آگ اور ملائیشیا کی چٹانوں سے پھوٹنے والے آگ کے شعلوں سے لے کر برساتوں اور سیلابوں تک کی آفتیں ماحولیاتی تبدیلی کا ہی نتیجہ ہیں۔</p>

<p>دنیا بھر میں بڑھتی ماحولیاتی آلودگی سے متعلق پالیسیاں بنانے اور ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف متحد ہوکر اٹھ کھڑے ہونے کے لیے سماجی تنظیم ’ایکسٹنکشل ربیلن‘ اور ایمازون واچ کی جانب سے لوگوں میں شعور بیدار کرنے کے لیے ایک انتہائی مختصر دورانیے کی فلم جاری کردی گئی۔</p>

<p>دونوں تنظیموں کے تعاون سے ماحولیاتی آلودگی کے خلاف اہم کردار ادا کرنے والے ہولی وڈ ہدایت کار شان مینسن نے ’دی گارجین آف لائف‘ نامی انتہائی مختصر فلم جاری کی جس میں صرف ایک ہی کمرے میں کرداروں کو زندگی بچاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔</p>

<p>فلم کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں گزشتہ برس ریلیز ہونے والی تھرلر کامیڈی فلم ’جوکر‘ کے ہیرو جیکوئن فیونکس بھی مرتی زندگی کو بچاتے دکھائی دیتے ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e3d7cf47de4e.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e3d7cf47de4e.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e3d7cf47de4e.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e3d7cf47de4e.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="فلم میں جوکر کا کردار ادا کرنے جیکوئن فیونکس بھی دکھائی دیے&mdash;اسکرین شاٹ" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">فلم میں جوکر کا کردار ادا کرنے جیکوئن فیونکس بھی دکھائی دیے—اسکرین شاٹ</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>فلم میں امریکا کے ایک ہسپتال کا آپریشن تھیٹر دکھایا گیا ہے جہاں مرد و خواتین ڈاکٹر انتہائی تشویش ناک حالت میں لائے گئے مریض کی زندگی بچاتے دکھائی دیتے ہیں۔</p>

<p>فلم میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تمام ڈاکٹرز اس مریض کو  بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہین اور اسے ہوش میں لانے یا زندگی کی جانب لوٹانے کی کوشش کے دوران کئی طرح کے طبی تجربے بھی آزماتے ہیں تاہم وہ ناکام ہوجاتے ہیں۔</p>

<p>فلم کے آخر میں دکھایا گیا ہے کہ انتہائی تشویش ناک حالت میں لایا گیا مریض دم توڑ جاتا ہے اور اسے بچانے والے ڈاکٹر مایوس ہوکر آپریشن تھیٹر سے نکلنے لگتے ہیں تو عین اسی وقت مر جانے والے مریض کے ہاتھوں کو ہلتا ہوا دکھایا گیا ہے اور ساتھ ہی اس کے 
چہرے میں نہ بھجنے والی آگ کو دکھایا گیا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/qpjw9cNxwew?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اور آخر میں مریض کے جسم سے شروع ہونے والی آگ کو دنیا کے نقشے میں دکھاتے ہوئے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے جنگلات میں لگنے والی آگ کسی کو نہیں بخشے گی۔</p>

<p>کسی بڑے بحث اور انتہائی خوفناک مناظر دکھائے بغیر محض 2 منٹ کی مذکورہ فلم کو 6 فروری کو جاری کیا گیا تھا اور فلم دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں وائرل ہوگئی۔</p>

<p>فلم کو یوٹیوب سمیت دیگر ویڈیو اسٹریمنگ ویب سائٹس اور پلیٹ فارمز پر بھی ریلیز کیا گیا تھا اور اب تک فلم کو کروڑوں بار دیکھا جا چکا ہے۔</p>

<p>ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والے افراد اور ارکان نے فلم کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ فلم سے لوگوں کو ماحولیاتی آلودگی سے ہونے والی تباہیاں سمجھنے میں آسانی ہوگی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--vimeo  '><iframe src='https://player.vimeo.com/video/389125501' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			 </p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1119966</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Feb 2020 20:07:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/02/5e3d7cf443687.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/02/5e3d7cf443687.jpg"/>
        <media:title>فلم کو ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے اچھا سمجھا جا رہا ہے—اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
