<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 26 Apr 2026 14:28:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 26 Apr 2026 14:28:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کشمیر میں بی جے پی کی پریشانی قریب آگئی؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1120006/</link>
      <description>&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e3df941208b1.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e3df941208b1.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e3df941208b1.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e3df941208b1.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="لکھاری ممبئی میں مقیم وکیل اور مصنف ہیں." /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;لکھاری ممبئی میں مقیم وکیل اور مصنف ہیں.&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، 1951ء میں وجود میں آنے والے اس کے سیاسی حلقے جنا سنگھ اور اس کی جانشیں یعنی موجودہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) گزشتہ 70 برسوں سے بھارتی آئین سے آرٹیکل 370 کی ’منسوخی‘ کے لیے شور مچاتے رہے۔&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہ آئین سے اس آرٹیکل کے خاتمے سے کم پر کسی بھی چیز کے لیے راضی نہیں تھے۔ کشمیر کو خودمختار حیثیت دینے کے لیے مرتب کردہ اس شق کے شریک خالق جواہر لال نہرو نے 1964ء میں اپنی موت سے پہلے تک آرٹیکل 370 کو برائے نام قانون تک محدود کردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;1949ء میں آئین ساز اسمبلی کا اختیار کردہ آرٹیکل 370 کوئی عام قانون نہیں تھا۔ یہ آرٹیکل ایک طرف 1949ء میں مئی سے اکتوبر یعنی 5 ماہ تک وزیرِاعظم نہرو اور ان کے نائب ولبھ بھائی پٹیل اور دوسری طرف کشمیر کے وزیرِاعظم شیخ محمد عبداللہ اور ان کے بااعتماد ساتھی اور ممتاز وکیل مرزا محمد افضل بیگ کے مابین مذاکراتی عمل کے ذریعے طے پانے والے آپسی سمجھوتے کا پیش خیمہ تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر 5 اگست 2019ء کو وزیرِاعظم نریندر مودی نے جو اقدام اٹھایا وہ آرٹیکل 370 کی منسوخی تک ہی محدود نہیں بلکہ کشمیر کی آئینی اور سیاسی تباہی کے مترادف ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس منسوخی نے نہ صرف کشمیر سے اس کی خودمختار حیثیت چھین کر اسے ’یونین ٹیریٹری‘ کا حصہ بنا دیا بلکہ وادئ کے پورے سیاسی منظرنامے کو بُری طرح سے بدل رکھ دیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1119790//' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e3e939e590b3.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e3e939e590b3.jpg 280w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e3e939e590b3.jpg 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e3e939e590b3.jpg 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کشمیر میں نئی حلقہ بندیوں، وہاں کی 2 اہم سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) میں اختلافات پیدا کرنے کی سازشوں، بی جے پی کے خوشامدیوں اور اس کی جی حضوری کرنے والوں پر مشتمل ایک نئے سیاسی محاذ کے قیام اور جموں کو برتری دینے  پر زور و شور سے کام جاری ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بی جے پی کے خوشامدی ٹولے میں پی ڈی پی کے 2 سینئر رہنما بھی شامل ہیں جبکہ کشمیر میں سیاسی رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد کو جیل میں بند کردیا گیا تھا۔ یہ ساری مشق اس اندازے پر کی گئی کہ کشمیر کے رہنما، پریس اور سیاسی طبقہ بی جے پی کے منصوبوں پر سرخم تسلیم کرلیں گے۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر پوری وادئ کشمیر میں خوف و ہراس سے بھرا ماحول پیدا کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بی جے پی کا یہ اندازہ غلط ثابت ہوا کہ بالآخر کشمیر میں سارے لوگ ان کے عزائم کے آگے جھک جائیں گے اور ہار جائیں گے۔ بی جے پی کے اس اندازے کی بھرپور عکاسی کشمیریوں کے بارے میں اس کے رہنماؤں کی کمزور رائے کرتی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سیاستدانوں کو اس لیے جیل میں بند نہیں کیا گیا تھا کہ وہ کوئی جرم کرنے جا رہے تھے بلکہ اس کی وجہ کچھ اور ہی تھی۔ انہیں اس خوف کے پیشِ نظر حراست میں لیا گیا کہ کہیں وہ بی جے پی حکومت کی اس بدنیت اسکیم کو مسترد نہ کردیں اور عوام کو بھی اپنی اس رائے کا ساتھی منا لیں۔ وہ کسی بھی طور پر دہشتگرد نہیں تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی ڈی پی اور این سی کے رہنما جب کشمیر میں بطور وزیراعلیٰ صاحبِ اقتدار تھے تو اس وقت انہوں نے مسلح بغاوت کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی دہلی کی سرکار کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔ دراصل بی جے پی کی اس اسکیم کو جب عوام اور دیگر تمام حلقوں نے مسترد کردیا تو حکمراں جماعت ان سیاسی قوتوں کو سیاسی سرگرمی سے جبری طور پر دُور کرنے پر مجبور ہوگئی۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1117651//' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e3a659cccfa0.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e3a659cccfa0.jpg 280w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e3a659cccfa0.jpg 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e3a659cccfa0.jpg 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آخر یہ استحصال و ظلم کا نظام کب تک رائج رہ سکتا ہے؟ کب تک ان سیاسی رہنماؤں کو حراست میں رکھا جاسکتا ہے؟ حکمرانوں کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے منصوبوں کی تفصیلات اپنے قیدیوں کے کانوں تک پہنچا ہی دیتے ہیں۔ قریب 2 دہائیوں پہلے نئی دہلی نے اسی طریقے کو اپناتے ہوئے جیل میں بند حریت رہنماؤں کے درمیان اختلافات پیدا کردیے تھے۔ مگر اس بار معاملہ یکسر مختلف ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کشمیریوں کو کہا جارہا ہے کہ وہ جدوجہد سے بھرپور ماضی، عظیم ثقافت اور 1586ء میں مغل شہنشاہ اکبر کے آزاد کشمیر پر قبضے کے بعد سے شروع ہونے والی صدیوں پرانی جدوجہدِ آزادی کی تاریخ سمیت اس قدیم تاریخی سرزمین کی سیاسی شناخت کو اپنے ہاتھوں سے قتل کردیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کشمیریوں نے نہ تو کبھی اپنی تاریخ کو مسخ کیا ہے اور نہ ہی کبھی ایسا کریں گے۔ بی جے پی نے جو حربہ استعمال کیا ہے وہ کلونیل دور کا خاصہ ہے۔ کرمنل پروسیجر کوڈ، 1898ء خود اپنے اندر ایک غیر شفاف ماضی سموئے ہوئے ہے۔ اگرچہ 1973ء میں اس کے اندر ’تبدیلی‘ کی گئی تھی لیکن نیا کوڈ بھی کچھ زیادہ اچھا نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دفعہ 107 کے مطابق: جب کسی ایگزیکیٹو مجسٹریٹ کو یہ اطلاع موصول ہو کہ کوئی شخص نقص امن یا عوامی سکون کو خراب کرنے کے درپے ہے یا پھر ایسا کوئی اقدام اٹھانے جا رہا ہے جس کے باعث مذکورہ حالات پیدا ہوسکتے ہیں اور مجسٹریٹ کے خیال میں اگر اس شخص کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی گنجائش نکلتی ہے تو وہ اس شخص کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ایک سال تک کے لیے پُرامن رہنے کی یقین دہانی کے عوض مچلکے جمع کروانے کا حکم دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دفعہ 151 کے مطابق: اگر کسی پولیس افسر کو یہ پتا چلتا ہے کہ کوئی شخص کسی جرم کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور اگر افسر یہ محسوس کرتا ہے کہ جرم کو روکنے کے لیے سوائے اس شخص کی گرفتاری کے اور کوئی راستہ نہیں ہے تو وہ مجسٹریٹ کے احکامات اور وارنٹ کے بغیر اس شخص کو حراست میں لے سکتا۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1116803//' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e3a6663deca0.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e3a6663deca0.jpg 280w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e3a6663deca0.jpg 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e3a6663deca0.jpg 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;5 فروری کو حراست میں لیے جانے والے افراد کی گرفتاری کو 6 ماہ مکمل ہوچکے ہیں۔ وہ مچلکوں پر دستخط کرنے سے انکاری ہیں۔ ایک افسر نے دی ٹربیون کو بتایا کہ حکومت اب صرف مشاورتی بورڈ کی سفارش کے بعد ہی 6 فروری کے بعد انہیں حراست میں رکھنے کی مجاز ہے۔ جموں و کشمیر کی حکومت نے کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 107 کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مجسٹریٹوں کے ذریعے تقریباً 6 ہزار سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لیا ہوا ہے۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;3 سابق وزرائے اعلیٰ سمیت تقریباً ایک ہزار افراد کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفع 107 اور پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت اب بھی قید ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک پولیس افسر کے مطابق اگر پولیس سیاسی رہنماؤں یا دیگر افراد کو دفعہ 151 کے تحت حراست میں لیتی تو ان سب کو ضمانت پر رہائی مل جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ برطانوی راج کے قانون کی دفع 107 ایسے وقت میں کارگر ثابت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کشمیر ہو یا دنیا کا کوئی دوسرا حصہ، سازشیں عوامی رائے کو زیر نہیں کرسکتیں۔ شہریت ترمیمی ایکٹ جیسا بدنیت قانون اور 5 اگست 2019ء کی اسکیم مودی حکومت کے لیے اپنے ہاتھوں سے کھودا ہوا گڑھا ثابت ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1533154/destroying-kashmir"&gt;مضمون&lt;/a&gt; 8 فروری 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e3df941208b1.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e3df941208b1.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e3df941208b1.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e3df941208b1.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="لکھاری ممبئی میں مقیم وکیل اور مصنف ہیں." /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">لکھاری ممبئی میں مقیم وکیل اور مصنف ہیں.</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p><strong>راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، 1951ء میں وجود میں آنے والے اس کے سیاسی حلقے جنا سنگھ اور اس کی جانشیں یعنی موجودہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) گزشتہ 70 برسوں سے بھارتی آئین سے آرٹیکل 370 کی ’منسوخی‘ کے لیے شور مچاتے رہے۔</strong> </p>

<p>وہ آئین سے اس آرٹیکل کے خاتمے سے کم پر کسی بھی چیز کے لیے راضی نہیں تھے۔ کشمیر کو خودمختار حیثیت دینے کے لیے مرتب کردہ اس شق کے شریک خالق جواہر لال نہرو نے 1964ء میں اپنی موت سے پہلے تک آرٹیکل 370 کو برائے نام قانون تک محدود کردیا تھا۔</p>

<p>1949ء میں آئین ساز اسمبلی کا اختیار کردہ آرٹیکل 370 کوئی عام قانون نہیں تھا۔ یہ آرٹیکل ایک طرف 1949ء میں مئی سے اکتوبر یعنی 5 ماہ تک وزیرِاعظم نہرو اور ان کے نائب ولبھ بھائی پٹیل اور دوسری طرف کشمیر کے وزیرِاعظم شیخ محمد عبداللہ اور ان کے بااعتماد ساتھی اور ممتاز وکیل مرزا محمد افضل بیگ کے مابین مذاکراتی عمل کے ذریعے طے پانے والے آپسی سمجھوتے کا پیش خیمہ تھا۔</p>

<p>مگر 5 اگست 2019ء کو وزیرِاعظم نریندر مودی نے جو اقدام اٹھایا وہ آرٹیکل 370 کی منسوخی تک ہی محدود نہیں بلکہ کشمیر کی آئینی اور سیاسی تباہی کے مترادف ہے۔ </p>

<p>اس منسوخی نے نہ صرف کشمیر سے اس کی خودمختار حیثیت چھین کر اسے ’یونین ٹیریٹری‘ کا حصہ بنا دیا بلکہ وادئ کے پورے سیاسی منظرنامے کو بُری طرح سے بدل رکھ دیا گیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1119790//' ><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e3e939e590b3.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e3e939e590b3.jpg 280w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e3e939e590b3.jpg 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e3e939e590b3.jpg 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>کشمیر میں نئی حلقہ بندیوں، وہاں کی 2 اہم سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) میں اختلافات پیدا کرنے کی سازشوں، بی جے پی کے خوشامدیوں اور اس کی جی حضوری کرنے والوں پر مشتمل ایک نئے سیاسی محاذ کے قیام اور جموں کو برتری دینے  پر زور و شور سے کام جاری ہیں۔</p>

<p>بی جے پی کے خوشامدی ٹولے میں پی ڈی پی کے 2 سینئر رہنما بھی شامل ہیں جبکہ کشمیر میں سیاسی رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد کو جیل میں بند کردیا گیا تھا۔ یہ ساری مشق اس اندازے پر کی گئی کہ کشمیر کے رہنما، پریس اور سیاسی طبقہ بی جے پی کے منصوبوں پر سرخم تسلیم کرلیں گے۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر پوری وادئ کشمیر میں خوف و ہراس سے بھرا ماحول پیدا کیا گیا۔</p>

<p>بی جے پی کا یہ اندازہ غلط ثابت ہوا کہ بالآخر کشمیر میں سارے لوگ ان کے عزائم کے آگے جھک جائیں گے اور ہار جائیں گے۔ بی جے پی کے اس اندازے کی بھرپور عکاسی کشمیریوں کے بارے میں اس کے رہنماؤں کی کمزور رائے کرتی ہے۔ </p>

<p>سیاستدانوں کو اس لیے جیل میں بند نہیں کیا گیا تھا کہ وہ کوئی جرم کرنے جا رہے تھے بلکہ اس کی وجہ کچھ اور ہی تھی۔ انہیں اس خوف کے پیشِ نظر حراست میں لیا گیا کہ کہیں وہ بی جے پی حکومت کی اس بدنیت اسکیم کو مسترد نہ کردیں اور عوام کو بھی اپنی اس رائے کا ساتھی منا لیں۔ وہ کسی بھی طور پر دہشتگرد نہیں تھے۔</p>

<p>پی ڈی پی اور این سی کے رہنما جب کشمیر میں بطور وزیراعلیٰ صاحبِ اقتدار تھے تو اس وقت انہوں نے مسلح بغاوت کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی دہلی کی سرکار کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔ دراصل بی جے پی کی اس اسکیم کو جب عوام اور دیگر تمام حلقوں نے مسترد کردیا تو حکمراں جماعت ان سیاسی قوتوں کو سیاسی سرگرمی سے جبری طور پر دُور کرنے پر مجبور ہوگئی۔ </p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1117651//' ><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e3a659cccfa0.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e3a659cccfa0.jpg 280w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e3a659cccfa0.jpg 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e3a659cccfa0.jpg 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>آخر یہ استحصال و ظلم کا نظام کب تک رائج رہ سکتا ہے؟ کب تک ان سیاسی رہنماؤں کو حراست میں رکھا جاسکتا ہے؟ حکمرانوں کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے منصوبوں کی تفصیلات اپنے قیدیوں کے کانوں تک پہنچا ہی دیتے ہیں۔ قریب 2 دہائیوں پہلے نئی دہلی نے اسی طریقے کو اپناتے ہوئے جیل میں بند حریت رہنماؤں کے درمیان اختلافات پیدا کردیے تھے۔ مگر اس بار معاملہ یکسر مختلف ہے۔ </p>

<p>کشمیریوں کو کہا جارہا ہے کہ وہ جدوجہد سے بھرپور ماضی، عظیم ثقافت اور 1586ء میں مغل شہنشاہ اکبر کے آزاد کشمیر پر قبضے کے بعد سے شروع ہونے والی صدیوں پرانی جدوجہدِ آزادی کی تاریخ سمیت اس قدیم تاریخی سرزمین کی سیاسی شناخت کو اپنے ہاتھوں سے قتل کردیں۔ </p>

<p>کشمیریوں نے نہ تو کبھی اپنی تاریخ کو مسخ کیا ہے اور نہ ہی کبھی ایسا کریں گے۔ بی جے پی نے جو حربہ استعمال کیا ہے وہ کلونیل دور کا خاصہ ہے۔ کرمنل پروسیجر کوڈ، 1898ء خود اپنے اندر ایک غیر شفاف ماضی سموئے ہوئے ہے۔ اگرچہ 1973ء میں اس کے اندر ’تبدیلی‘ کی گئی تھی لیکن نیا کوڈ بھی کچھ زیادہ اچھا نہیں ہے۔</p>

<p>دفعہ 107 کے مطابق: جب کسی ایگزیکیٹو مجسٹریٹ کو یہ اطلاع موصول ہو کہ کوئی شخص نقص امن یا عوامی سکون کو خراب کرنے کے درپے ہے یا پھر ایسا کوئی اقدام اٹھانے جا رہا ہے جس کے باعث مذکورہ حالات پیدا ہوسکتے ہیں اور مجسٹریٹ کے خیال میں اگر اس شخص کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی گنجائش نکلتی ہے تو وہ اس شخص کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ایک سال تک کے لیے پُرامن رہنے کی یقین دہانی کے عوض مچلکے جمع کروانے کا حکم دے سکتا ہے۔</p>

<p>دفعہ 151 کے مطابق: اگر کسی پولیس افسر کو یہ پتا چلتا ہے کہ کوئی شخص کسی جرم کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور اگر افسر یہ محسوس کرتا ہے کہ جرم کو روکنے کے لیے سوائے اس شخص کی گرفتاری کے اور کوئی راستہ نہیں ہے تو وہ مجسٹریٹ کے احکامات اور وارنٹ کے بغیر اس شخص کو حراست میں لے سکتا۔ </p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1116803//' ><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e3a6663deca0.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e3a6663deca0.jpg 280w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e3a6663deca0.jpg 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e3a6663deca0.jpg 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>5 فروری کو حراست میں لیے جانے والے افراد کی گرفتاری کو 6 ماہ مکمل ہوچکے ہیں۔ وہ مچلکوں پر دستخط کرنے سے انکاری ہیں۔ ایک افسر نے دی ٹربیون کو بتایا کہ حکومت اب صرف مشاورتی بورڈ کی سفارش کے بعد ہی 6 فروری کے بعد انہیں حراست میں رکھنے کی مجاز ہے۔ جموں و کشمیر کی حکومت نے کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 107 کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مجسٹریٹوں کے ذریعے تقریباً 6 ہزار سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لیا ہوا ہے۔‘</p>

<p>3 سابق وزرائے اعلیٰ سمیت تقریباً ایک ہزار افراد کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفع 107 اور پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت اب بھی قید ہیں۔ </p>

<p>ایک پولیس افسر کے مطابق اگر پولیس سیاسی رہنماؤں یا دیگر افراد کو دفعہ 151 کے تحت حراست میں لیتی تو ان سب کو ضمانت پر رہائی مل جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ برطانوی راج کے قانون کی دفع 107 ایسے وقت میں کارگر ثابت ہوتی ہے۔</p>

<p>کشمیر ہو یا دنیا کا کوئی دوسرا حصہ، سازشیں عوامی رائے کو زیر نہیں کرسکتیں۔ شہریت ترمیمی ایکٹ جیسا بدنیت قانون اور 5 اگست 2019ء کی اسکیم مودی حکومت کے لیے اپنے ہاتھوں سے کھودا ہوا گڑھا ثابت ہوگی۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ <a href="https://www.dawn.com/news/1533154/destroying-kashmir">مضمون</a> 8 فروری 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1120006</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Feb 2020 12:19:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے جی نورانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/02/5e3e9bc264538.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/02/5e3e9bc264538.jpg"/>
        <media:title>A man walks past Rapid Action Force (RAF) soldiers standing guard in Jammu, India, Friday, Aug. 9, 2019. The restrictions on public movement throughout Kashmir have forced people to stay indoors and closed shops and even clinics. All communications and the internet have been cut off. Prime Minister Modi said late Thursday the situation in the region would return to normal gradually. (AP Photo/Channi Anand) — Copyright 2019 The Associated Press. All rights reserved.
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
