<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Kashmir</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 20:26:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 20:26:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایل او سی پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے ایک کشمیری شہید
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1120014/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بلااشتعال فائرنگ کرکے آزاد کشمیر کے چری کوٹ سیکٹر کو نشانہ بنایا جہاں ایک شہری شہید اور ایک خاتون زخمی ہوگئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق بھارتی فوج نے جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزی کی اور چری کوٹ کے سیکٹر میں آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق ‘بھارتی فوج نے شہری آبادی کو آرٹلری اور مارٹر فائر سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کاکوٹا گاؤں کے رہائشی میر محمد شہید ہوئے اور ایک خاتون زخمی ہوئیں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ ‘زخمی خاتون کو فوری طبی امداد کے لیے قریبی طبی مرکز منتقل کردیا گیا’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1119770/"&gt;ایل او سی: بھارت کی بلااشتعال فائرنگ سے 4 افراد زخمی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ‘پاک فوج کے جوانوں نے مؤثر جواب دیتے ہوئے بھارت کی اس چوکی کو نشانہ بنایا جہاں سے فائرنگ کی گئی تھی’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مقامی انتظامیہ کا کہنا تھا شہید ہونے والے شہری پاک فوج سے ریٹائرڈ تھے جبکہ زخمیوں کی تعداد 4 ہے جن میں سے ایک جاں بحق شہری کی بیٹی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے ضلع پونچھ کی تحصیل عباس پور پر سہ پہر 3 بجے فائرنگ شروع کی تھی اور یہ سلسلہ شام گئے تک جاری رہا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عباس پور پولیس اسٹیشن کے عہدیدار قاضی ارسلان کا کہنا تھا کہ 65 سالہ میر محمد ریٹائرڈ حوالدار تھے اور مارٹر لگنے سے موقع پر دم توڑ گئے تھے اور ان کی 17 سالہ بیٹی عصمت ناز شدید زخمی ہوئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ مقامی دکاندار عبدالحفیظ کی اہلیہ 45 سالہ خدیجہ بیگم بھی زخمی ہوئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قاضی ارسلان کے مطابق بھارتی فوج نے ایک سوزوکی وین کو بھی نشانہ بنایا جو چری کوٹ سے عباس پور کی طرف جارہی تھیں اور سوار تین میں سے 2 افراد زخمی ہوگئے، جن کی شناخت 22 سالہ حسیب فاروق اور 20 سالہ نظارت کے نام سے ہوئی جو عباس پور کے گاؤں دھریان سے تعلق رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آزاد کشمیر میں ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے وزیر کے مطابق بھارتی فوج کی شیلنگ سے رواں برس اب تک 2 شہری جاں بحق اور 11 زخمی ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5e3f0f4c44f6a'&gt;بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کے مطابق ایل او سی پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ پر پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کے ناظم الامور گورو اہلووالیا کو دفتر خارجہ میں طلب کیا گیا اور احتجاج ریکارڈ کروا دیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ دفتر خارجہ میں ڈی جی ساؤتھ ایشیا زاہد حفیظ چوہدری نے گورو اہلووالیا طلب کرکے احتجاجی مراسلہ تھما دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مراسلے میں کہا گیا ہے کہ شہری آباد کو نشانہ بنانا 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ نہتے شہریوں کو بے گناہ نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کے بھی منافی ہے اور ایل او سی پر بڑھتی ہوئی کشیدگی بھارت کی مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کو ایل او سی کے دورے کی اجازت دی جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ بھارتی فوج نے 4 جنوری کو  بھی ایل او سی پر وادی لیپا میں بھاری ہتھیاروں سے بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی تھی اور جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنایا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ بھارت کی اشتعال انگیزی سے 4 افراد زخمی ہوئے جن میں 2 خواتین اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے  بھارت کے سینئر سفارت کار کو طلب کر کے بلااشتعال فائرنگ اور جنگ بندی کی خلاف ورزی پر احتجاج کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ 3 فروری کو ایل او سی کے دانا سیکٹر میں بھارتی فورسز کی اندھا دھند اور بلااشتعال فائرنگ سے چھترگَم گاؤں کی 22 سالہ شمیم بی بی، 10 سالہ فرہاز اور 35 سالہ انصار جبکہ باغ علی کی 17 سالہ مُنیزہ بی بی شدید زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1119594"&gt;بھارت کی ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزی، ایک شہری زخمی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا کہ ایسے احمقانہ اور بے حسی پر مبنی بھارتی اقدامات نہ صرف 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہیں بلکہ بھارتی جارحیت عالمی انسانی حقوق اور عالمی اقدار کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ترجمان نے ایسے واقعات کو خطے کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر کشیدگی میں اضافہ کر کے بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بدتر ہوتی صورتحال سے توجہ ہٹا نہیں سکتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قبل ازیں یکم فروری کو بھی بھارتی فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر کی گئی سیز فائر کی خلاف ورزی سے ایک شہری زخمی ہو گیا تھا جس کے حوالے سے آئی ایس پی آر  نے کہا تھا کہ بھارتی فوج نے ایل او سی پر اشتعال انگیزی کرتے ہوئے شہری آبادی پر فائرنگ کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی فورسز نے ستوال سیکٹر پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا تھا جس سے 45 سالہ شہری زخمی ہو گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1118318"&gt;بھارتی فوج کی آزاد کشمیر میں بلااشتعال فائرنگ، ایک شہری جاں بحق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت کی جاری ہٹ دھرمی اور ایل او سی پر بھارتی فوج کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پر بھارتی ہائی کمیشن کے سفارت کار کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی سفارت کار کو واضح کیا گیا کہ بھارتی فورسز ایل او سی پر مسلسل معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں اور بھارت کی اشتعال انگیزی خطے میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے، جبکہ بھارت ایسی حرکتوں سے مقبوضہ کشمیر سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ ایل او سی پر جنگ بندی کے لیے 2003 میں پاکستان اور بھارتی افواج کی جانب سے ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے تاہم اس کے باوجود جنگ بندی کی خلاف ورزی کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بلااشتعال فائرنگ کرکے آزاد کشمیر کے چری کوٹ سیکٹر کو نشانہ بنایا جہاں ایک شہری شہید اور ایک خاتون زخمی ہوگئیں۔</p>

<p>پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق بھارتی فوج نے جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزی کی اور چری کوٹ کے سیکٹر میں آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔</p>

<p>آئی ایس پی آر کے مطابق ‘بھارتی فوج نے شہری آبادی کو آرٹلری اور مارٹر فائر سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کاکوٹا گاؤں کے رہائشی میر محمد شہید ہوئے اور ایک خاتون زخمی ہوئیں’۔</p>

<p>بیان میں کہا گیا کہ ‘زخمی خاتون کو فوری طبی امداد کے لیے قریبی طبی مرکز منتقل کردیا گیا’۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1119770/">ایل او سی: بھارت کی بلااشتعال فائرنگ سے 4 افراد زخمی</a></strong></p>

<p>آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ‘پاک فوج کے جوانوں نے مؤثر جواب دیتے ہوئے بھارت کی اس چوکی کو نشانہ بنایا جہاں سے فائرنگ کی گئی تھی’۔</p>

<p>مقامی انتظامیہ کا کہنا تھا شہید ہونے والے شہری پاک فوج سے ریٹائرڈ تھے جبکہ زخمیوں کی تعداد 4 ہے جن میں سے ایک جاں بحق شہری کی بیٹی ہیں۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے ضلع پونچھ کی تحصیل عباس پور پر سہ پہر 3 بجے فائرنگ شروع کی تھی اور یہ سلسلہ شام گئے تک جاری رہا۔</p>

<p>عباس پور پولیس اسٹیشن کے عہدیدار قاضی ارسلان کا کہنا تھا کہ 65 سالہ میر محمد ریٹائرڈ حوالدار تھے اور مارٹر لگنے سے موقع پر دم توڑ گئے تھے اور ان کی 17 سالہ بیٹی عصمت ناز شدید زخمی ہوئیں۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ مقامی دکاندار عبدالحفیظ کی اہلیہ 45 سالہ خدیجہ بیگم بھی زخمی ہوئیں۔</p>

<p>قاضی ارسلان کے مطابق بھارتی فوج نے ایک سوزوکی وین کو بھی نشانہ بنایا جو چری کوٹ سے عباس پور کی طرف جارہی تھیں اور سوار تین میں سے 2 افراد زخمی ہوگئے، جن کی شناخت 22 سالہ حسیب فاروق اور 20 سالہ نظارت کے نام سے ہوئی جو عباس پور کے گاؤں دھریان سے تعلق رکھتے ہیں۔</p>

<p>آزاد کشمیر میں ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے وزیر کے مطابق بھارتی فوج کی شیلنگ سے رواں برس اب تک 2 شہری جاں بحق اور 11 زخمی ہوچکے ہیں۔</p>

<h3 id='5e3f0f4c44f6a'>بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی</h3>

<p>ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کے مطابق ایل او سی پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ پر پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کے ناظم الامور گورو اہلووالیا کو دفتر خارجہ میں طلب کیا گیا اور احتجاج ریکارڈ کروا دیا گیا۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ دفتر خارجہ میں ڈی جی ساؤتھ ایشیا زاہد حفیظ چوہدری نے گورو اہلووالیا طلب کرکے احتجاجی مراسلہ تھما دیا۔</p>

<p>ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مراسلے میں کہا گیا ہے کہ شہری آباد کو نشانہ بنانا 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ نہتے شہریوں کو بے گناہ نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کے بھی منافی ہے اور ایل او سی پر بڑھتی ہوئی کشیدگی بھارت کی مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔</p>

<p>عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کو ایل او سی کے دورے کی اجازت دی جائے۔</p>

<p>یاد رہے کہ بھارتی فوج نے 4 جنوری کو  بھی ایل او سی پر وادی لیپا میں بھاری ہتھیاروں سے بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی تھی اور جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنایا تھا۔</p>

<p>آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ بھارت کی اشتعال انگیزی سے 4 افراد زخمی ہوئے جن میں 2 خواتین اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔</p>

<p>دفتر خارجہ نے  بھارت کے سینئر سفارت کار کو طلب کر کے بلااشتعال فائرنگ اور جنگ بندی کی خلاف ورزی پر احتجاج کیا تھا۔</p>

<p>ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ 3 فروری کو ایل او سی کے دانا سیکٹر میں بھارتی فورسز کی اندھا دھند اور بلااشتعال فائرنگ سے چھترگَم گاؤں کی 22 سالہ شمیم بی بی، 10 سالہ فرہاز اور 35 سالہ انصار جبکہ باغ علی کی 17 سالہ مُنیزہ بی بی شدید زخمی ہوئے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1119594">بھارت کی ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزی، ایک شہری زخمی</a></strong></p>

<p>انہوں نے کہا تھا کہ ایسے احمقانہ اور بے حسی پر مبنی بھارتی اقدامات نہ صرف 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہیں بلکہ بھارتی جارحیت عالمی انسانی حقوق اور عالمی اقدار کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔</p>

<p>ترجمان نے ایسے واقعات کو خطے کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر کشیدگی میں اضافہ کر کے بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بدتر ہوتی صورتحال سے توجہ ہٹا نہیں سکتا۔</p>

<p>قبل ازیں یکم فروری کو بھی بھارتی فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر کی گئی سیز فائر کی خلاف ورزی سے ایک شہری زخمی ہو گیا تھا جس کے حوالے سے آئی ایس پی آر  نے کہا تھا کہ بھارتی فوج نے ایل او سی پر اشتعال انگیزی کرتے ہوئے شہری آبادی پر فائرنگ کی۔</p>

<p>بھارتی فورسز نے ستوال سیکٹر پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا تھا جس سے 45 سالہ شہری زخمی ہو گیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1118318">بھارتی فوج کی آزاد کشمیر میں بلااشتعال فائرنگ، ایک شہری جاں بحق</a></strong></p>

<p>بھارت کی جاری ہٹ دھرمی اور ایل او سی پر بھارتی فوج کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پر بھارتی ہائی کمیشن کے سفارت کار کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا تھا۔</p>

<p>ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی سفارت کار کو واضح کیا گیا کہ بھارتی فورسز ایل او سی پر مسلسل معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں اور بھارت کی اشتعال انگیزی خطے میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے، جبکہ بھارت ایسی حرکتوں سے مقبوضہ کشمیر سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا۔</p>

<p>خیال رہے کہ ایل او سی پر جنگ بندی کے لیے 2003 میں پاکستان اور بھارتی افواج کی جانب سے ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے تاہم اس کے باوجود جنگ بندی کی خلاف ورزی کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1120014</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Feb 2020 00:43:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکطارق نقاشنوید صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/02/5e3ed2fc59d4b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/02/5e3ed2fc59d4b.jpg"/>
        <media:title>بھارتی فوج نے 4 جنوری کو بھی بلااشتعال فائرنگ کی تھی—فائل/فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
