<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:08:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:08:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کا پاکستان میں کبڈی ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی اپنی ٹیم سے اظہار لاتعلقی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1120124/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی حکام نے کبڈی ورلڈ کپ میں حصہ لینے کے لیے پاکستان آنے والی اپنی ٹیم سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے ٹورنامنٹ کے لیے کسی ٹیم کو اجازت نہیں دی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہندوستان ٹائمز کی &lt;a href="https://www.hindustantimes.com/other-sports/don-t-know-who-they-are-sports-federation-shocked-as-indian-team-reaches-pakistan-to-take-part-in-kabaddi-wc/story-puvtSJWgfmfpRfG7IOnxZM.html"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق انڈین اولمپک ایسوسی ایشن (آئی او اے) کے سربراہ نریندر باترا کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان گئے ہوئے کسی کھلاڑی کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں، اسی طرح  نہ آئی او اے اور نہ ہی امیچور کبڈی فیڈریشن آف انڈیا (اے کے ایف آئی) نے کسی ٹیم کو ورلڈ کپ میں حصہ لینے کی منظوری دی’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ‘آئی او اے نے کوئی منظوری نہیں دی اور فیڈریشن کی جانب سے بھی منظوری نہیں دی گئی اس لیے میں نہیں جانتا کہ کون گیا ہوا ہے اور 60 یا 100 کتنے ہیں مجھے اندازہ نہیں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نریندر باترا کا کہنا تھا کہ ‘آئی او اے رکن کبڈی فیڈریشن نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے کسی کو نہیں بھیجا اور وزارت کھیل کا بیان بھی میں نے دیکھا ہے اور انہوں نے بھی کوئی منظوری نہیں دی تو میں نہیں جانتا کہ وہ کون ہیں اور کہانی کیا ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1120062/"&gt;کبڈی ورلڈ کپ میں پاکستان کا فاتحانہ آغاز، کینیڈا کو شکست&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اے کے ایف آئی کے منتظم ایس پی گیرج نے بھی تصدیق کردی کہ فیڈریشن نے پاکستان میں کبڈی ورلڈ کپ میں حصہ لینے کے لیے کسی ٹیم کو اجازت نہیں دی اور حکام نے انکشاف کیا ہے کہ کھلاڑی بھارت سے صرف معلومات ملنے پر چلے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ بھارت کی کبڈی ٹیم 8 فروری کو براستہ واہگہ بارڈر لاہور پہنچی تھی اور کبڈی ورلڈ کپ 2020 میں حصہ لینے والی 10 ٹیموں میں شامل ہے لیکن بھارتی حکام کے ان بیانات سے بحث چھڑ گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسکرول ان کی &lt;a href="https://scroll.in/field/952652/unknown-indian-team-arrives-in-pakistan-for-kabaddi-world-cships-without-sports-ministrys-approval"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق عالمی مقابلوں میں حصہ لینے والی بھارتی ٹیم کے لیے متعلقہ کھیل کی وزارت کو آگاہ کرنا ضروری ہوتا ہے جو منظوری کے لیے درخواست کو  وزارت خارجہ امور اور وزارت داخلہ کو بھیج دیتی ہے چاہے اس ٹیم کی فنڈنگ سرکاری سطح پر ہو یا نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل کبڈی کے گزشتہ تمام 6 ورلڈ کپ بھارت کی میزبانی میں ہوئے اور 2016 میں منعقدہ آخری کبڈی ورلڈ کپ بھی بھارت میں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان کو کبڈی کے میدان میں عالمی سطح پر ممتاز مقام حاصل ہے اور پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کی میزبانی کررہا ہے اور 8 روزہ ٹورنامنٹ کے میچز لاہور، فیصل آباد، کرتار پور اور ننکانہ صاحب میں ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کبڈی ورلڈ کپ میں حصہ لینے کے لیے پاکستان آنے والی دیگر ٹیموں میں بھارت کے علاوہ ایران، کینیڈا، آسٹریلیا، جرمنی، آزربائیجان، انگلینڈ، سیرالیون اور کینیا بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ لاہور میں 9 فروری کو ایک رنگارنگ تقریب کے بعد کبڈی ورلڈ کپ کا آغاز ہوگیا تھا اور پاکستان نے افتتاحی میچ میں کینیڈا کو شکست دے دی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی حکام نے کبڈی ورلڈ کپ میں حصہ لینے کے لیے پاکستان آنے والی اپنی ٹیم سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے ٹورنامنٹ کے لیے کسی ٹیم کو اجازت نہیں دی گئی۔</p>

<p>ہندوستان ٹائمز کی <a href="https://www.hindustantimes.com/other-sports/don-t-know-who-they-are-sports-federation-shocked-as-indian-team-reaches-pakistan-to-take-part-in-kabaddi-wc/story-puvtSJWgfmfpRfG7IOnxZM.html"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق انڈین اولمپک ایسوسی ایشن (آئی او اے) کے سربراہ نریندر باترا کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان گئے ہوئے کسی کھلاڑی کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں، اسی طرح  نہ آئی او اے اور نہ ہی امیچور کبڈی فیڈریشن آف انڈیا (اے کے ایف آئی) نے کسی ٹیم کو ورلڈ کپ میں حصہ لینے کی منظوری دی’۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ‘آئی او اے نے کوئی منظوری نہیں دی اور فیڈریشن کی جانب سے بھی منظوری نہیں دی گئی اس لیے میں نہیں جانتا کہ کون گیا ہوا ہے اور 60 یا 100 کتنے ہیں مجھے اندازہ نہیں’۔</p>

<p>نریندر باترا کا کہنا تھا کہ ‘آئی او اے رکن کبڈی فیڈریشن نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے کسی کو نہیں بھیجا اور وزارت کھیل کا بیان بھی میں نے دیکھا ہے اور انہوں نے بھی کوئی منظوری نہیں دی تو میں نہیں جانتا کہ وہ کون ہیں اور کہانی کیا ہے’۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1120062/">کبڈی ورلڈ کپ میں پاکستان کا فاتحانہ آغاز، کینیڈا کو شکست</a></strong></p>

<p>رپورٹ کے مطابق اے کے ایف آئی کے منتظم ایس پی گیرج نے بھی تصدیق کردی کہ فیڈریشن نے پاکستان میں کبڈی ورلڈ کپ میں حصہ لینے کے لیے کسی ٹیم کو اجازت نہیں دی اور حکام نے انکشاف کیا ہے کہ کھلاڑی بھارت سے صرف معلومات ملنے پر چلے گئے ہیں۔</p>

<p>خیال رہے کہ بھارت کی کبڈی ٹیم 8 فروری کو براستہ واہگہ بارڈر لاہور پہنچی تھی اور کبڈی ورلڈ کپ 2020 میں حصہ لینے والی 10 ٹیموں میں شامل ہے لیکن بھارتی حکام کے ان بیانات سے بحث چھڑ گئی ہے۔</p>

<p>اسکرول ان کی <a href="https://scroll.in/field/952652/unknown-indian-team-arrives-in-pakistan-for-kabaddi-world-cships-without-sports-ministrys-approval"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق عالمی مقابلوں میں حصہ لینے والی بھارتی ٹیم کے لیے متعلقہ کھیل کی وزارت کو آگاہ کرنا ضروری ہوتا ہے جو منظوری کے لیے درخواست کو  وزارت خارجہ امور اور وزارت داخلہ کو بھیج دیتی ہے چاہے اس ٹیم کی فنڈنگ سرکاری سطح پر ہو یا نہیں۔</p>

<p>اس سے قبل کبڈی کے گزشتہ تمام 6 ورلڈ کپ بھارت کی میزبانی میں ہوئے اور 2016 میں منعقدہ آخری کبڈی ورلڈ کپ بھی بھارت میں ہوا تھا۔</p>

<p>پاکستان کو کبڈی کے میدان میں عالمی سطح پر ممتاز مقام حاصل ہے اور پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کی میزبانی کررہا ہے اور 8 روزہ ٹورنامنٹ کے میچز لاہور، فیصل آباد، کرتار پور اور ننکانہ صاحب میں ہوں گے۔</p>

<p>کبڈی ورلڈ کپ میں حصہ لینے کے لیے پاکستان آنے والی دیگر ٹیموں میں بھارت کے علاوہ ایران، کینیڈا، آسٹریلیا، جرمنی، آزربائیجان، انگلینڈ، سیرالیون اور کینیا بھی شامل ہیں۔</p>

<p>خیال رہے کہ لاہور میں 9 فروری کو ایک رنگارنگ تقریب کے بعد کبڈی ورلڈ کپ کا آغاز ہوگیا تھا اور پاکستان نے افتتاحی میچ میں کینیڈا کو شکست دے دی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1120124</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Feb 2020 18:46:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/02/5e415471ba50f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/02/5e415471ba50f.jpg"/>
        <media:title>بھارت کی کبڈی ٹیم 8 فروری کو براستہ واہگہ پاکستان آئی تھی—فوٹو:ٹویٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
