<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 10:47:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 10:47:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیدرلینڈز میں 2 پوسٹ آفسز میں 'لیٹر بم' دھماکے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1120266/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایمسٹرڈیم: نیدرلینڈز کے 2 شہروں کے پوسٹ آفسز میں مشتبہ 'لیٹر بم' دھماکے ہوئے تاہم کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق پہلا دھماکا نیدرلینڈ کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں بدھ کی صبح 8 بجے پوسٹ آفس میں خطوط میں ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسرا دھماکا نیدرلینڈز کے جنوب میں واقع شہر کرکرادہ کے خطوط علیحدہ کرنے والی کمپنی کے دفتر میں صبح ساڑھے 8 بجے کے قریب ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1115364"&gt;ملکہ نیدرلینڈز کی 3 روزہ دورے پر پاکستان آمد&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دونوں دھماکوں میں کسی کے بھی زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈچ پولیس کا کہنا تھا کہ وہ 3 جنوری کو بھیجے گئے 'لیٹر بم' کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں جو ممکنہ طور پر ایک ہی شخص کی جانب سے ارسال کیے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل ایک ہوٹل، ایک پیٹرول پمپ، ایک گیراج، ایک اسٹیٹ ایجنٹ و دیگر کو بم دھماکے کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی تاہم کسی بھی واقعے میں بم پھٹ نہیں سکے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089462"&gt;نیدرلینڈ نے مخنث شناخت والا پہلا پاسپورٹ جاری کردیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ کیسز میں 'لیٹر بموں' کو ایک انتباہی خط کے ساتھ بھیجا گیا تھا جس کا مواد تفتیش کاروں کی جانب سے عوام کے سامنے نہیں لایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;'لیٹر بموں' کی تفتیش کرنے والی پولیس کی جانب سے تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی oy۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بات بھی واضح نہیں کہ آج ہونے والے دھماکوں میں استعمال کیے گئے بم جنوری میں بھیجے گئے بم جیسے ہی تھے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایمسٹرڈیم: نیدرلینڈز کے 2 شہروں کے پوسٹ آفسز میں مشتبہ 'لیٹر بم' دھماکے ہوئے تاہم کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔</p>

<p>امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق پہلا دھماکا نیدرلینڈ کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں بدھ کی صبح 8 بجے پوسٹ آفس میں خطوط میں ہوا۔</p>

<p>دوسرا دھماکا نیدرلینڈز کے جنوب میں واقع شہر کرکرادہ کے خطوط علیحدہ کرنے والی کمپنی کے دفتر میں صبح ساڑھے 8 بجے کے قریب ہوا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1115364">ملکہ نیدرلینڈز کی 3 روزہ دورے پر پاکستان آمد</a></strong> </p>

<p>دونوں دھماکوں میں کسی کے بھی زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔</p>

<p>ڈچ پولیس کا کہنا تھا کہ وہ 3 جنوری کو بھیجے گئے 'لیٹر بم' کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں جو ممکنہ طور پر ایک ہی شخص کی جانب سے ارسال کیے گئے۔</p>

<p>اس سے قبل ایک ہوٹل، ایک پیٹرول پمپ، ایک گیراج، ایک اسٹیٹ ایجنٹ و دیگر کو بم دھماکے کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی تاہم کسی بھی واقعے میں بم پھٹ نہیں سکے تھے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089462">نیدرلینڈ نے مخنث شناخت والا پہلا پاسپورٹ جاری کردیا</a></strong></p>

<p>گزشتہ کیسز میں 'لیٹر بموں' کو ایک انتباہی خط کے ساتھ بھیجا گیا تھا جس کا مواد تفتیش کاروں کی جانب سے عوام کے سامنے نہیں لایا گیا۔</p>

<p>'لیٹر بموں' کی تفتیش کرنے والی پولیس کی جانب سے تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی oy۔</p>

<p>یہ بات بھی واضح نہیں کہ آج ہونے والے دھماکوں میں استعمال کیے گئے بم جنوری میں بھیجے گئے بم جیسے ہی تھے یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1120266</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Feb 2020 15:21:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/02/5e43d2c3ef0aa.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/02/5e43d2c3ef0aa.png"/>
        <media:title>لیٹر بم سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
