<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 16:59:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 16:59:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملازمین کی برطرفی کا معاملہ، پی آئی اے کی معاونت کیلئے کمیٹی قائم
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1120332/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: سینیٹر مشاہد اللہ خان نے جعلی ڈگریوں پر برطرف کیے گئے 700 سے زائد ملازمین کے کیسز پر نظرِ ثانی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) انتظامیہ کی معاونت کرنے کے لیے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہوا بازی کے چیئرمین نے اجلاس میں درخواست کی کہ ’ان میں زیادہ تر غریب افراد ہیں، انتظامیہ کو ان کی نوکریاں ختم کرنے کی سخت کارروائی کے بجائے نرم اقدام کرنا چاہیے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ سینیٹر مشاہد اللہ خان ایک سال سے زائد عرصے سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز پر اس کے ’سخت‘ فیصلے پر نظرِ ثانی کرنے اور بھرتی کے وقت جعلی ڈگریاں جمع کروانے والے ملازمین کو نسبتاً کم سخت سزا دینے کے لیے زور دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099034"&gt;ملازمین کی برطرفی پر پی آئی اے سے وضاحت طلب&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ پی آئی اے میں بھرتی کے وقت اس کے عملے کے 700 سے زائد افراد نے جعلی ڈگریاں جمع کروائی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;معاملہ سامنے آنے پر 467 ملازمین کو برطرف کردیا گیا تھا جبکہ 201 سابقہ ملازمین نے اپنی ملازمت ختم کرنے کے خلاف عدالتوں سے حکمِ امتناع لے لیا تھا، برطرف کیے گئے ملازمین میں 16 پائلٹس بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قائمہ کمیٹی نے افسران کی فہرست فراہم نہ کرنے اور جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر ملازمین کو بھرتی کرنے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر پی آئی اے انتظامیہ پر برہمی کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور کمیٹی کے چیئرمین مشاہد اللہ خان نے بھی ان افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ان (افسران) کے ساتھ بھی سختی سے نمٹنا چاہیے'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097400"&gt;جعلی ڈگری کے حامل ملازمین کی برطرفی پر پی آئی اے پر سینیٹرز کی تنقید&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سب کے ساتھ یکساں رویہ رکھنے پر زور دیتے ہوئے سینیٹر نے کچھ پی آئی اے ملازمین کی مثالیں بھی پیش کیں جنہیں ادارے نے جعلی ڈگری ہونے کے باوجود ان کے عہدوں پر بحال کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر کے مشیر ایئر وائز مارشل نور عباس نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ بذات خود 80 فیصد کیسز کا جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کمیٹی کے اراکین کو بتایا کہ ’3 سے 4 افراد کے علاوہ ان سب نے جعلی ڈگری جمع کروانے کا اعتراف کیا ہے جس میں کئی افراد نے تعلیمی اسناد میں تاریخ اور نمبرز تبدیل کر کے چھیڑ چھاڑ کی تھی‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ جعلی ڈگریاں جمع کروانے والے ملازمین کا تعین کرنے کے لیے ایک انکوائری کا آغاز کردیا گیا ہے لیکن وہ اب بھی قومی ایئرلائن کے ملازم رہیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099885"&gt;پی آئی اے ملازمین کی برطرفی پر سینیٹ پینل میں اختلاف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ قانون سازوں کی جانب سے نرمی دکھانے کی ہدایات کے باوجود پی آئی اے جعلی ڈگری جمع کروانے والے ملازمین کی برطرفی کا دفاع کرتی رہی ہے، پی آئی اے انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ان کا فیصلہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قائمہ کمیٹی نے پی آئی اے کی جانب سے معاہدے کی دستاویزات پیش نہ کرنے پر دورانِ پرواز تفریح فراہم کرنے کے لیے ’ایک نااہل کمپنی کو 7 کروڑ کا ٹھیکہ دینے کی مشتبہ ڈیل‘ کے حوالے سے بریفنگ ملتوی کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1534188/panel-set-up-to-help-pia-review-cases-of-sacked-workers"&gt;یہ خبر&lt;/a&gt; 13 فروری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: سینیٹر مشاہد اللہ خان نے جعلی ڈگریوں پر برطرف کیے گئے 700 سے زائد ملازمین کے کیسز پر نظرِ ثانی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) انتظامیہ کی معاونت کرنے کے لیے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی۔</p>

<p>سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہوا بازی کے چیئرمین نے اجلاس میں درخواست کی کہ ’ان میں زیادہ تر غریب افراد ہیں، انتظامیہ کو ان کی نوکریاں ختم کرنے کی سخت کارروائی کے بجائے نرم اقدام کرنا چاہیے‘۔</p>

<p>خیال رہے کہ سینیٹر مشاہد اللہ خان ایک سال سے زائد عرصے سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز پر اس کے ’سخت‘ فیصلے پر نظرِ ثانی کرنے اور بھرتی کے وقت جعلی ڈگریاں جمع کروانے والے ملازمین کو نسبتاً کم سخت سزا دینے کے لیے زور دے رہے ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099034">ملازمین کی برطرفی پر پی آئی اے سے وضاحت طلب</a></strong></p>

<p>واضح رہے کہ پی آئی اے میں بھرتی کے وقت اس کے عملے کے 700 سے زائد افراد نے جعلی ڈگریاں جمع کروائی تھیں۔</p>

<p>معاملہ سامنے آنے پر 467 ملازمین کو برطرف کردیا گیا تھا جبکہ 201 سابقہ ملازمین نے اپنی ملازمت ختم کرنے کے خلاف عدالتوں سے حکمِ امتناع لے لیا تھا، برطرف کیے گئے ملازمین میں 16 پائلٹس بھی شامل ہیں۔</p>

<p>قائمہ کمیٹی نے افسران کی فہرست فراہم نہ کرنے اور جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر ملازمین کو بھرتی کرنے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر پی آئی اے انتظامیہ پر برہمی کا اظہار کیا۔</p>

<p>مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور کمیٹی کے چیئرمین مشاہد اللہ خان نے بھی ان افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ان (افسران) کے ساتھ بھی سختی سے نمٹنا چاہیے'۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097400">جعلی ڈگری کے حامل ملازمین کی برطرفی پر پی آئی اے پر سینیٹرز کی تنقید</a></strong> </p>

<p>سب کے ساتھ یکساں رویہ رکھنے پر زور دیتے ہوئے سینیٹر نے کچھ پی آئی اے ملازمین کی مثالیں بھی پیش کیں جنہیں ادارے نے جعلی ڈگری ہونے کے باوجود ان کے عہدوں پر بحال کیا۔</p>

<p>اس ضمن میں پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر کے مشیر ایئر وائز مارشل نور عباس نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ بذات خود 80 فیصد کیسز کا جائزہ لے رہے ہیں۔</p>

<p>انہوں نے کمیٹی کے اراکین کو بتایا کہ ’3 سے 4 افراد کے علاوہ ان سب نے جعلی ڈگری جمع کروانے کا اعتراف کیا ہے جس میں کئی افراد نے تعلیمی اسناد میں تاریخ اور نمبرز تبدیل کر کے چھیڑ چھاڑ کی تھی‘۔</p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ جعلی ڈگریاں جمع کروانے والے ملازمین کا تعین کرنے کے لیے ایک انکوائری کا آغاز کردیا گیا ہے لیکن وہ اب بھی قومی ایئرلائن کے ملازم رہیں گے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099885">پی آئی اے ملازمین کی برطرفی پر سینیٹ پینل میں اختلاف</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ قانون سازوں کی جانب سے نرمی دکھانے کی ہدایات کے باوجود پی آئی اے جعلی ڈگری جمع کروانے والے ملازمین کی برطرفی کا دفاع کرتی رہی ہے، پی آئی اے انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ان کا فیصلہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق ہے۔</p>

<p>قائمہ کمیٹی نے پی آئی اے کی جانب سے معاہدے کی دستاویزات پیش نہ کرنے پر دورانِ پرواز تفریح فراہم کرنے کے لیے ’ایک نااہل کمپنی کو 7 کروڑ کا ٹھیکہ دینے کی مشتبہ ڈیل‘ کے حوالے سے بریفنگ ملتوی کردی۔</p>

<hr />

<p><strong><a href="https://www.dawn.com/news/1534188/panel-set-up-to-help-pia-review-cases-of-sacked-workers">یہ خبر</a> 13 فروری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1120332</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Feb 2020 15:52:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جمال شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/02/5e44fffb57ee7.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/02/5e44fffb57ee7.jpg"/>
        <media:title>پی آئی اے میں بھرتی کے وقت اس کے عملے کے 700 سے زائد افراد نے جعلی ڈگریاں جمع کروائی تھیں — تصویر: پی آئی اے فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
