<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:30:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:30:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>‘حیض والی خاتون کا پکایا کھانا کھانے والا شوہر اگلے جنم میں کتا بن کر پیدا ہوتا ہے‘
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1120714/</link>
      <description>&lt;p&gt;تین دن قبل ہی بھارتی ریاست گجرات کے ضلع کچھ کے ایک گرلز کالج میں خواتین اساتذہ نے طالبات کی ماہواری چیک کرنے کے لیے ان کے زیر جامہ اتارے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ واقعہ پیش آنے کے بعد پولیس نے اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کالج کے اساتذہ اور ملازمین کو گرفتار کرنے کی سفارش کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس کی تفتیشی کمیٹی کی سفارش کے بعد 18 فروری کو پولیس نے کالج کی پرنسپل اور ایک استاد سمیت 4 خواتین ملازمین کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا تھا اور عدالت نے انہیں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گرفتار کی گئی کالج ملازمین پر الزام ہے کہ انہوں نے بھوج شہر کے شری سہاجانند گرلز انسٹی ٹیوٹ (ایس ایس جی آئی) کی طالبات کی ماہواری جانچنے کے لیے انہیں اپنا لباس اتارنے پر مجبور کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ کالج میں ریاست کے دیہی علاقوں کی طالبات پڑھتی ہیں اور اس کالج میں لڑکیوں کی ماہواری کے حوالے سے سخت قوانین نافذ ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5e4d0448f127b'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1120544/"&gt;بھارت: ماہواری کی جانچ کیلئے طالبات کو زیر جامہ اتارنے پر مجبور کردیا گیا&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ کالج کے قواعد و ضوابط کے مطابق کوئی بھی لڑکی ماہواری کے ایام میں کلاس میں نہیں آئے گی اور اگر وہ کلاس میں آ بھی جائے تو وہ عام طالبات کے ساتھ نہیں بیٹھے گی بلکہ وہ سب سے الگ اور کلاس کے آخر میں بیٹھے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح ضوابط کے مطابق طالبات ماہواری میں اپنی ساتھی طالبہ کو بھی ہاتھ نہیں لگا سکتیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کالج قوانین کے مطابق کھانے کے اوقات میں بھی ماہواری میں طالبات سب سے الگ ہو کر کھائیں گی اور اپنے کھانے کے برتن خود دھوئیں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e498ca6dba77.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e498ca6dba77.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e498ca6dba77.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e498ca6dba77.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="طالبات کی ماہواری کی جانچ کیے جانے کے بعد بھارت بھر میں لوگوں نے غصے کا اظہار کیا تھا&amp;mdash;فوٹو: بی بی سی گجراتی" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;طالبات کی ماہواری کی جانچ کیے جانے کے بعد بھارت بھر میں لوگوں نے غصے کا اظہار کیا تھا—فوٹو: بی بی سی گجراتی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ مذکورہ کالج کے طالبات کے ہاسٹل میں ایک رجسٹر مختص ہے جس میں طالبات کی ماہواری سے متعلق تفصیلات درج کی جاتی ہیں تاکہ کالج انتظامیہ طالبات کی شناخت کر سکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اہم گزشتہ 2 ماہ سے کسی بھی طالبہ کی جانب سے اپنا نام رجسٹر میں درج نہ کرنے پر اساتذہ نے کالج پرنسپل کو طالبات کی شکایت کی جس کے بعد انتظامیہ نے تمام طالبات کی ماہواری جانچنے کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اعلیٰ انتطامیہ کے حکم کے بعد 2 روز قبل اساتذہ نے کالج کی 68 نوجوان طالبات کا لباس اتارکر ان کی ماہواری کی جانچ کی تھی اور واقعے کی رپورٹس میڈیا مین آنے کے بعد پولیس نے کالج کی ملازمین کو گرفتار کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5e4d0448f12ce'&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1120665/"&gt;بھارت: ماہواری کی جانچ کیلئے طالبات کے زیر جامہ اتارنے کے الزام میں اساتذہ گرفتار&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;تاہم اب اسی کالج کو چلانے والی مذہبی تنظیم سوامی نرائن کے ایک اعلیٰ مذببی رہنما کا بیان سامنے آیا ہے جو بظاہر پرانا بیان لگتا ہے تاہم ان کا بیان اب بھارتی میڈیا میں وائرل ہوگیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت کے بڑے میڈیا گروپ ’ٹائمز آف انڈیا‘ کے ذیلی اخبار ’احمد آباد مرر‘ میں شائع ایک &lt;a href="https://ahmedabadmirror.indiatimes.com/ahmedabad/cover-story/if-menstruating-women-cook-they-will-be-born-as-kutri-bitch-in-next-life/articleshow/74182504.cms"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق بھوج کے شری سہاجانند گرلز انسٹی ٹیوٹ (ایس ایس جی آئی) کو چلانے والی مذہبی تنظیم سوامی نرائن کے اہم مذہبی پیشوا سوامی کرشنا سوا روپ داس نے ایک مذہبی تقریب میں خطاب کے دوران کہا کہ ’اگر کوئی بھی شوہر حیض والی بیوی کے ہاتھ سے بنا کھانا کھائے گا تو وہ اگلے جنم میں کتا بن کر پیدا ہوگا'۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4bd27f64c70.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4bd27f64c70.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4bd27f64c70.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4bd27f64c70.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="طالبات کی ماہواری چیک کرنے کے الزام میں پولیس نے چار ملازمین کو بھی گرفتار کر رکھا ہے&amp;mdash;فوٹو: ٹائمز آف انڈیا" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;طالبات کی ماہواری چیک کرنے کے الزام میں پولیس نے چار ملازمین کو بھی گرفتار کر رکھا ہے—فوٹو: ٹائمز آف انڈیا&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی رپورٹ کے حوالے سے ’انڈین ایکسپریس‘ نے &lt;a href="https://indianexpress.com/article/india/bhuj-swami-krushnaswarup-dasji-menstruating-women-6274342/"&gt;&lt;strong&gt;بتایا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کہ مذہبی پیشوا سوامی کرشنا سوا روپ داس کے مذکورہ بیان کی خبر شائع ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی جانب سے دیے گئے متنازع اور خواتین کے لیے انتہائی تضحیک آمیز بیان کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ سوامی کرشنا سوا روپ نے متنازع بیان گجراتی زبان میں دیا اور وہ بظاہر ایک مذہبی مجمع سے خطاب کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اگرچہ سوامی کرشنا سوا روپ کا مذکورہ متنازع بیان کچھ عرصہ قبل دیا گیا تھا تاہم ان کے بیان کی ویڈیو بھوج کالج کی طالبات کی ماہواری جانچنے کے بعد وائرل ہوئی کیوں کہ مذکورہ کالج ان ہی کی سرپرستی میں چلتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق مذہبی مجمع سے خطاب کے دوران سوامی کرشنا سوا روپ نے گجراتی میں خطاب کرتے ہوئے مرد حضرات کو مشورہ دیا کہ جتنا جلد ہو سکے وہ اپنے لیے کھانا بنانا سیکھ جائیں کیوں کہ اگر وہ یوں ہی ماہواری والی خاتون کے ہاتھ کا بنا کھانا کھاتے رہیں گے تو اگلے جنم میں وہ جانور بن کر پیدا ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ سوامی کرشنا سوا روپ کا کہنا تھا کہ حیض والی خاتون کے ہاتھ سے پکا ہوا کھانا کھانے والا شوہر جہاں اگلے جنم میں ’کتا‘ بن کر پیدا ہوگا، وہیں ان کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھانے والے دوسرے مرد ’بیل’ بن کر پیدا ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے اپنے خطاب میں لوگوں کو خبردار کیا کہ اگر وہ ان کی باتوں پر یقین نہیں کرتے تو نہ کریں، انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں مگر وہ انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ یہ سب باتیں ہندو مذہب کی مقدس کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں اور وہ ان کتابوں کا پیغام ان تک پہنچا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہندو مذہبی رہنما کے خواتین سے متعلق تضحیک آمیز بیان کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ان پر سخت تنقید کی جا رہی ہے جب کہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ان کی مذہبی تنظیم کی سرپرستی میں چلنے والے لڑکیوں کے تعلیمی اداروں کو حکومت اپنی تحویل میں لے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/ypvtJ42HyUU?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>تین دن قبل ہی بھارتی ریاست گجرات کے ضلع کچھ کے ایک گرلز کالج میں خواتین اساتذہ نے طالبات کی ماہواری چیک کرنے کے لیے ان کے زیر جامہ اتارے تھے۔</p>

<p>مذکورہ واقعہ پیش آنے کے بعد پولیس نے اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کالج کے اساتذہ اور ملازمین کو گرفتار کرنے کی سفارش کی تھی۔</p>

<p>پولیس کی تفتیشی کمیٹی کی سفارش کے بعد 18 فروری کو پولیس نے کالج کی پرنسپل اور ایک استاد سمیت 4 خواتین ملازمین کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا تھا اور عدالت نے انہیں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔</p>

<p>گرفتار کی گئی کالج ملازمین پر الزام ہے کہ انہوں نے بھوج شہر کے شری سہاجانند گرلز انسٹی ٹیوٹ (ایس ایس جی آئی) کی طالبات کی ماہواری جانچنے کے لیے انہیں اپنا لباس اتارنے پر مجبور کیا تھا۔</p>

<p>مذکورہ کالج میں ریاست کے دیہی علاقوں کی طالبات پڑھتی ہیں اور اس کالج میں لڑکیوں کی ماہواری کے حوالے سے سخت قوانین نافذ ہیں۔</p>

<h6 id='5e4d0448f127b'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1120544/">بھارت: ماہواری کی جانچ کیلئے طالبات کو زیر جامہ اتارنے پر مجبور کردیا گیا</a></h6>

<p>مذکورہ کالج کے قواعد و ضوابط کے مطابق کوئی بھی لڑکی ماہواری کے ایام میں کلاس میں نہیں آئے گی اور اگر وہ کلاس میں آ بھی جائے تو وہ عام طالبات کے ساتھ نہیں بیٹھے گی بلکہ وہ سب سے الگ اور کلاس کے آخر میں بیٹھے گی۔</p>

<p>اسی طرح ضوابط کے مطابق طالبات ماہواری میں اپنی ساتھی طالبہ کو بھی ہاتھ نہیں لگا سکتیں۔</p>

<p>کالج قوانین کے مطابق کھانے کے اوقات میں بھی ماہواری میں طالبات سب سے الگ ہو کر کھائیں گی اور اپنے کھانے کے برتن خود دھوئیں گی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e498ca6dba77.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e498ca6dba77.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e498ca6dba77.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e498ca6dba77.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="طالبات کی ماہواری کی جانچ کیے جانے کے بعد بھارت بھر میں لوگوں نے غصے کا اظہار کیا تھا&mdash;فوٹو: بی بی سی گجراتی" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">طالبات کی ماہواری کی جانچ کیے جانے کے بعد بھارت بھر میں لوگوں نے غصے کا اظہار کیا تھا—فوٹو: بی بی سی گجراتی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ مذکورہ کالج کے طالبات کے ہاسٹل میں ایک رجسٹر مختص ہے جس میں طالبات کی ماہواری سے متعلق تفصیلات درج کی جاتی ہیں تاکہ کالج انتظامیہ طالبات کی شناخت کر سکے۔</p>

<p>اہم گزشتہ 2 ماہ سے کسی بھی طالبہ کی جانب سے اپنا نام رجسٹر میں درج نہ کرنے پر اساتذہ نے کالج پرنسپل کو طالبات کی شکایت کی جس کے بعد انتظامیہ نے تمام طالبات کی ماہواری جانچنے کا حکم دیا۔</p>

<p>اعلیٰ انتطامیہ کے حکم کے بعد 2 روز قبل اساتذہ نے کالج کی 68 نوجوان طالبات کا لباس اتارکر ان کی ماہواری کی جانچ کی تھی اور واقعے کی رپورٹس میڈیا مین آنے کے بعد پولیس نے کالج کی ملازمین کو گرفتار کرلیا تھا۔</p>

<h6 id='5e4d0448f12ce'><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1120665/">بھارت: ماہواری کی جانچ کیلئے طالبات کے زیر جامہ اتارنے کے الزام میں اساتذہ گرفتار</a></h6>

<p>تاہم اب اسی کالج کو چلانے والی مذہبی تنظیم سوامی نرائن کے ایک اعلیٰ مذببی رہنما کا بیان سامنے آیا ہے جو بظاہر پرانا بیان لگتا ہے تاہم ان کا بیان اب بھارتی میڈیا میں وائرل ہوگیا۔</p>

<p>بھارت کے بڑے میڈیا گروپ ’ٹائمز آف انڈیا‘ کے ذیلی اخبار ’احمد آباد مرر‘ میں شائع ایک <a href="https://ahmedabadmirror.indiatimes.com/ahmedabad/cover-story/if-menstruating-women-cook-they-will-be-born-as-kutri-bitch-in-next-life/articleshow/74182504.cms"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق بھوج کے شری سہاجانند گرلز انسٹی ٹیوٹ (ایس ایس جی آئی) کو چلانے والی مذہبی تنظیم سوامی نرائن کے اہم مذہبی پیشوا سوامی کرشنا سوا روپ داس نے ایک مذہبی تقریب میں خطاب کے دوران کہا کہ ’اگر کوئی بھی شوہر حیض والی بیوی کے ہاتھ سے بنا کھانا کھائے گا تو وہ اگلے جنم میں کتا بن کر پیدا ہوگا'۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4bd27f64c70.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4bd27f64c70.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4bd27f64c70.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4bd27f64c70.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="طالبات کی ماہواری چیک کرنے کے الزام میں پولیس نے چار ملازمین کو بھی گرفتار کر رکھا ہے&mdash;فوٹو: ٹائمز آف انڈیا" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">طالبات کی ماہواری چیک کرنے کے الزام میں پولیس نے چار ملازمین کو بھی گرفتار کر رکھا ہے—فوٹو: ٹائمز آف انڈیا</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اسی رپورٹ کے حوالے سے ’انڈین ایکسپریس‘ نے <a href="https://indianexpress.com/article/india/bhuj-swami-krushnaswarup-dasji-menstruating-women-6274342/"><strong>بتایا</strong></a> کہ مذہبی پیشوا سوامی کرشنا سوا روپ داس کے مذکورہ بیان کی خبر شائع ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی جانب سے دیے گئے متنازع اور خواتین کے لیے انتہائی تضحیک آمیز بیان کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔</p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ سوامی کرشنا سوا روپ نے متنازع بیان گجراتی زبان میں دیا اور وہ بظاہر ایک مذہبی مجمع سے خطاب کر رہے تھے۔</p>

<p>بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اگرچہ سوامی کرشنا سوا روپ کا مذکورہ متنازع بیان کچھ عرصہ قبل دیا گیا تھا تاہم ان کے بیان کی ویڈیو بھوج کالج کی طالبات کی ماہواری جانچنے کے بعد وائرل ہوئی کیوں کہ مذکورہ کالج ان ہی کی سرپرستی میں چلتا ہے۔</p>

<p>رپورٹ کے مطابق مذہبی مجمع سے خطاب کے دوران سوامی کرشنا سوا روپ نے گجراتی میں خطاب کرتے ہوئے مرد حضرات کو مشورہ دیا کہ جتنا جلد ہو سکے وہ اپنے لیے کھانا بنانا سیکھ جائیں کیوں کہ اگر وہ یوں ہی ماہواری والی خاتون کے ہاتھ کا بنا کھانا کھاتے رہیں گے تو اگلے جنم میں وہ جانور بن کر پیدا ہوں گے۔</p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ سوامی کرشنا سوا روپ کا کہنا تھا کہ حیض والی خاتون کے ہاتھ سے پکا ہوا کھانا کھانے والا شوہر جہاں اگلے جنم میں ’کتا‘ بن کر پیدا ہوگا، وہیں ان کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھانے والے دوسرے مرد ’بیل’ بن کر پیدا ہوں گے۔</p>

<p>انہوں نے اپنے خطاب میں لوگوں کو خبردار کیا کہ اگر وہ ان کی باتوں پر یقین نہیں کرتے تو نہ کریں، انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں مگر وہ انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ یہ سب باتیں ہندو مذہب کی مقدس کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں اور وہ ان کتابوں کا پیغام ان تک پہنچا رہے ہیں۔</p>

<p>ہندو مذہبی رہنما کے خواتین سے متعلق تضحیک آمیز بیان کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ان پر سخت تنقید کی جا رہی ہے جب کہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ان کی مذہبی تنظیم کی سرپرستی میں چلنے والے لڑکیوں کے تعلیمی اداروں کو حکومت اپنی تحویل میں لے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/ypvtJ42HyUU?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1120714</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Feb 2020 14:47:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4ced30d03bd.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/02/5e4ced30d03bd.jpg?0.10754955006473366"/>
        <media:title>سوامی کرشنا سوا روپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے —اسکرین شاٹ یوٹیوب
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
