<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:10:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 19:10:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مرد معاشرے کو چیلنج کرتی جنوبی کوریا کی واحد خاتون اینکر
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1120744/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں سے ایک اور دنیا کی 12 ویں بڑی معیشت کے طور پر پہچانے جانے والے ملک جنوبی کوریا میں پہلی خاتون نیوز اینکر کو معاشرے میں تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنوبی کوریا کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا جہاں انٹرنیٹ ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے تاہم وہاں خواتین کو اب بھی مرد حضرات سے کم اہمیت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنوبی کوریا کی شوبز، ڈراما، فیشن اور میوزک انڈسٹری میں تو متعدد خواتین موجود ہیں اور وہ اپنی صلاحیتوں سے دنیا بھر میں اپنا نام بھی روشن کر رہی ہیں تاہم وہاں صحافت کے شعبے میں خواتین کی انتہائی کمی ہے اور خاص طور پر ٹی وی اسکرین پر خواتین کو کبھی نہیں دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4d3249e35b2.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4d3249e35b2.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4d3249e35b2.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4d3249e35b2.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="لی سو جیونگ نیم سرکاری ادارے سے وابستہ ہیں &amp;mdash; فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;لی سو جیونگ نیم سرکاری ادارے سے وابستہ ہیں — فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ جہاں جنوبی کوریا کے نئے چہرے میوزک و فیشن کی دنیا بھر میں تعریفیں بٹور رہے ہیں، وہیں جنوبی کوریا میں ٹی وی پر حالات حاضرہ اور سیاست پر پروگرام کرنے والے افراد زائد العمر ہوتے ہیں اور عام طور پر ٹی وی پر ملکی حالات حاضرہ کی خبریں دینے والے مرد حضرات 45 سال سے زائد عمر کے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اب جنوبی کوریا کی واحد نیوز اینکر و ٹی وی میزبان ملک کے حالات حاضرہ کے شعبے کو بدلنے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جی ہاں، جنوبی کوریا کی اینکر و ٹی وی میزبان لی سو جیونگ ملکی صحافت اور خاص طور پر ٹی وی اسکرین کو بدلنے کا سبب بن رہی ہے اور لوگ ان کے پروگرام کو انتہائی شوق سے دیکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4d328924de5.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4d328924de5.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4d328924de5.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4d328924de5.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="لی سو جیونگ خبروں اور حالات حاضرہ کا اہم پروگرام کرتی ہیں&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;لی سو جیونگ خبروں اور حالات حاضرہ کا اہم پروگرام کرتی ہیں—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق جنوبی کوریا کی پہلی نیوز اینکر و ٹی وی میزبان لی سو جیونگ حکومتی تعاون سے چلنے والے ٹی وی چینل ’کورین براڈ کاسٹنگ سسٹم‘ (کے بی ایس) میں ہفتے کے 7 میں سے 5 دن کرنٹ افیئر کا پروگرام کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق لی سو جیونگ کے بی ایس پر ’نائن نیوز‘ نامی حالات حاضرہ کا انتہائی اہم پروگرام پیش کرتی ہیں جسے پرائم ٹائم میں نشر کیا جاتا ہے اور ہر گزرتے ماہ اس پروگرام کو دیکھنے والے افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ لی سو جیونگ بھی نوجوان نہیں ہیں تاہم پھر بھی وہ جنوبی کوریا کے تقریبا تمام مرد اینکرز و میزبان سے کم عمر اور پرکشش ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4d32da49e43.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4d32da49e43.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4d32da49e43.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4d32da49e43.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="لی سو جیونگ نے نومبر 2019 سے اینکرنگ کا آغاز کیا&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;لی سو جیونگ نے نومبر 2019 سے اینکرنگ کا آغاز کیا—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;روایتی سیاسی پروگرامات، حالات حاضرہ کے پروگرامات اور اہم ترین واقعات پر مرد حضرات کو کئی سال سے دیکھنے والے جنوبی کورین عوام ایک خاتون کی جانب سے ان واقعات کو منفرد انداز میں پیش کرنے پر انتہائی خوش ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ساتھ ہی لی سو جیونگ کے اسکرین پر آنے سے جنوبی کوریا میں خواتین سے متعلق کام کرنے والی تنطیموں اور کارکنان بھی خوش دکھائی دیتے ہیں اور وہ ان کے اس کردار کو خواتین کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4d33594ddac.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4d33594ddac.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4d33594ddac.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4d33594ddac.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="لی سو جیونگ اگرچہ نوجوان نہیں لیکن پھر بھی وہ تمام مرد اینکرز سے کم عمر ہیں&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;لی سو جیونگ اگرچہ نوجوان نہیں لیکن پھر بھی وہ تمام مرد اینکرز سے کم عمر ہیں—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لی سو جیونگ اپنے ٹی وی اسکرین پر میزبان بننے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ پہلی اینکر کے طور پر ان پر دباؤ بھی ہے اور وہ اس چیلنج کو قبول بھی کرتی ہیں اور کوشش کرتی ہیں کہ ان کے عمل سے دیگر خواتین کے خلاف بات نہ کی جائے بلکہ لوگ خواتین کو مواقع دینے کا سوچیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لی سو جیونگ کہتی ہیں کہ انہیں امید ہے کہ ان کی کارکردگی سے صحافت کے شعبے میں رپورٹنگ کرنے والی خواتین کو بھی آگے آنے کا موقع ملے گا اور وہ بھی اسکرین پر سیاست و حالات حاضرہ پر بات کرکے ایک نئی تاریخ رقم کرنے میں کردار ادا کریں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/g34CB128zDI?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں سے ایک اور دنیا کی 12 ویں بڑی معیشت کے طور پر پہچانے جانے والے ملک جنوبی کوریا میں پہلی خاتون نیوز اینکر کو معاشرے میں تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>

<p>جنوبی کوریا کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا جہاں انٹرنیٹ ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے تاہم وہاں خواتین کو اب بھی مرد حضرات سے کم اہمیت حاصل ہے۔</p>

<p>جنوبی کوریا کی شوبز، ڈراما، فیشن اور میوزک انڈسٹری میں تو متعدد خواتین موجود ہیں اور وہ اپنی صلاحیتوں سے دنیا بھر میں اپنا نام بھی روشن کر رہی ہیں تاہم وہاں صحافت کے شعبے میں خواتین کی انتہائی کمی ہے اور خاص طور پر ٹی وی اسکرین پر خواتین کو کبھی نہیں دیکھا گیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4d3249e35b2.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4d3249e35b2.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4d3249e35b2.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4d3249e35b2.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="لی سو جیونگ نیم سرکاری ادارے سے وابستہ ہیں &mdash; فوٹو: اے ایف پی" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">لی سو جیونگ نیم سرکاری ادارے سے وابستہ ہیں — فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ جہاں جنوبی کوریا کے نئے چہرے میوزک و فیشن کی دنیا بھر میں تعریفیں بٹور رہے ہیں، وہیں جنوبی کوریا میں ٹی وی پر حالات حاضرہ اور سیاست پر پروگرام کرنے والے افراد زائد العمر ہوتے ہیں اور عام طور پر ٹی وی پر ملکی حالات حاضرہ کی خبریں دینے والے مرد حضرات 45 سال سے زائد عمر کے ہوتے ہیں۔</p>

<p>تاہم اب جنوبی کوریا کی واحد نیوز اینکر و ٹی وی میزبان ملک کے حالات حاضرہ کے شعبے کو بدلنے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔ </p>

<p>جی ہاں، جنوبی کوریا کی اینکر و ٹی وی میزبان لی سو جیونگ ملکی صحافت اور خاص طور پر ٹی وی اسکرین کو بدلنے کا سبب بن رہی ہے اور لوگ ان کے پروگرام کو انتہائی شوق سے دیکھ رہے ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4d328924de5.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4d328924de5.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4d328924de5.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4d328924de5.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="لی سو جیونگ خبروں اور حالات حاضرہ کا اہم پروگرام کرتی ہیں&mdash;فوٹو: اے ایف پی" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">لی سو جیونگ خبروں اور حالات حاضرہ کا اہم پروگرام کرتی ہیں—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق جنوبی کوریا کی پہلی نیوز اینکر و ٹی وی میزبان لی سو جیونگ حکومتی تعاون سے چلنے والے ٹی وی چینل ’کورین براڈ کاسٹنگ سسٹم‘ (کے بی ایس) میں ہفتے کے 7 میں سے 5 دن کرنٹ افیئر کا پروگرام کرتی ہیں۔</p>

<p>رپورٹ کے مطابق لی سو جیونگ کے بی ایس پر ’نائن نیوز‘ نامی حالات حاضرہ کا انتہائی اہم پروگرام پیش کرتی ہیں جسے پرائم ٹائم میں نشر کیا جاتا ہے اور ہر گزرتے ماہ اس پروگرام کو دیکھنے والے افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔</p>

<p>اگرچہ لی سو جیونگ بھی نوجوان نہیں ہیں تاہم پھر بھی وہ جنوبی کوریا کے تقریبا تمام مرد اینکرز و میزبان سے کم عمر اور پرکشش ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4d32da49e43.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4d32da49e43.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4d32da49e43.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4d32da49e43.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="لی سو جیونگ نے نومبر 2019 سے اینکرنگ کا آغاز کیا&mdash;فوٹو: اے ایف پی" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">لی سو جیونگ نے نومبر 2019 سے اینکرنگ کا آغاز کیا—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>روایتی سیاسی پروگرامات، حالات حاضرہ کے پروگرامات اور اہم ترین واقعات پر مرد حضرات کو کئی سال سے دیکھنے والے جنوبی کورین عوام ایک خاتون کی جانب سے ان واقعات کو منفرد انداز میں پیش کرنے پر انتہائی خوش ہیں۔</p>

<p>ساتھ ہی لی سو جیونگ کے اسکرین پر آنے سے جنوبی کوریا میں خواتین سے متعلق کام کرنے والی تنطیموں اور کارکنان بھی خوش دکھائی دیتے ہیں اور وہ ان کے اس کردار کو خواتین کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4d33594ddac.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4d33594ddac.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4d33594ddac.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4d33594ddac.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="لی سو جیونگ اگرچہ نوجوان نہیں لیکن پھر بھی وہ تمام مرد اینکرز سے کم عمر ہیں&mdash;فوٹو: اے ایف پی" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">لی سو جیونگ اگرچہ نوجوان نہیں لیکن پھر بھی وہ تمام مرد اینکرز سے کم عمر ہیں—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>لی سو جیونگ اپنے ٹی وی اسکرین پر میزبان بننے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ پہلی اینکر کے طور پر ان پر دباؤ بھی ہے اور وہ اس چیلنج کو قبول بھی کرتی ہیں اور کوشش کرتی ہیں کہ ان کے عمل سے دیگر خواتین کے خلاف بات نہ کی جائے بلکہ لوگ خواتین کو مواقع دینے کا سوچیں۔</p>

<p>لی سو جیونگ کہتی ہیں کہ انہیں امید ہے کہ ان کی کارکردگی سے صحافت کے شعبے میں رپورٹنگ کرنے والی خواتین کو بھی آگے آنے کا موقع ملے گا اور وہ بھی اسکرین پر سیاست و حالات حاضرہ پر بات کرکے ایک نئی تاریخ رقم کرنے میں کردار ادا کریں گی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/g34CB128zDI?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1120744</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Feb 2020 20:40:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4d31f00277f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/02/5e4d31f00277f.jpg?0.5623075494813825"/>
        <media:title>لی سو جیونگ ادھیڑ عمر ہیں—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
