<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 20:18:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 20:18:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب کی اغوا کار خاتون 20 سال بعد گرفتار
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1120798/</link>
      <description>&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4e37e426995.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4e37e426995.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4e37e426995.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4e37e426995.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="خاتون نے بچوں کو ہسپتال سے اغوا کیا تھا&amp;mdash;فائل فوٹو: گلف نیوز" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;خاتون نے بچوں کو ہسپتال سے اغوا کیا تھا—فائل فوٹو: گلف نیوز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سعودی عرب کی پولیس نے طویل کوششوں کے بعد ایک ایسی اغواکار خاتون کو گرفتار کرلیا جس نے 1993 میں نوزائیدہ بچوں کو اغوا کرنا شروع کیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سعودی عرب کے مشرقی صوبے کی پولیس نے ذہانت سے کام لیتے ہوئے نہ صرف اغواکار خاتون کو گرفتار کیا بلکہ پولیس نے اغوا ہونے والے بچوں کو ان کے اصلی والدین سے بھی ملوادیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’گلف نیوز‘ کے &lt;a href="https://gulfnews.com/world/gulf/saudi/kidnapped-20-years-ago-boy-reunited-with-family-in-saudi-arabia-1.1582101883020"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; مشرقی صوبے کی پولیس کی جانب سے گرفتار کی گئی خاتون کی عمر 50 سال کے قریب ہے اور اس نے 30 سال کی عمر سے قبل ہی نوزائیدہ بچوں کو اغوا کرنا شروع کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں پولیس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ خاتون نے نوزائیدہ بچوں کو اس وقت اغوا کرنا شروع کیا جب ان کا حمل ضائع ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خاتون نے مسلسل تین بار صرف نوزائیدہ بیٹوں کو ہی اغوا کیا اور انہوں نے پہلے بچے کو 1993، دوسرے کو 1996 اور تیسرے کو 1999 میں اغوا کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4e38209f111.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4e38209f111.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4e38209f111.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4e38209f111.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="خاتون نے بچوں کی پرورش دمام شہر میں کی&amp;mdash;فوٹو: گلف نیوز" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;خاتون نے بچوں کی پرورش دمام شہر میں کی—فوٹو: گلف نیوز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس نے بتایا کہ اغواکار خاتون نے اغوا کیے گئے بچوں کو اغوا کے وقت سے لے کر جوان ہونے تک عام لوگوں سے چھپائے رکھا جب کہ انہوں نے بچوں کو قبول نہ کرنے پر پہلے شوہر سے طلاق بھی لی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس کے مطابق خاتون کی جانب سے بچوں کو اغوا کرنے کے بعد اس نے اپنے تمام رشتہ داروں سے بھی تعلق تقریبا ختم کردیا تھا اور ان کے اہل خانہ یہی سمجھتے رہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بچوں کو اغوا کرنے والی خاتون کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس کا تعلق ایک معزز گھرانے سے ہے تاہم بچیوں کی پیدائش کے بعد اپنا حمل ضائع ہونے کے بعد انہوں نے نوزائیدہ بچوں کو اغوا کرنا شروع کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خاتون کو پولیس نے اس وقت گرفتار کیا جب وہ مشرقی صوبے کے قریبی پولیس تھانے میں بچوں کے جوان ہونے کے بعد ان کے قانونی دستاویزات حاصل کرنے آئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خاتون نے ابتدائی طور پر پولیس کو بتایا کہ یہ تمام بچے ان کے ہی ہیں تاہم جب پولیس نے ڈی این اے ٹیسٹ کیا تو تینوں بیٹوں کے ڈی این اے ان سے میچ نہیں ہوئے جس کے بعد خاتون نے اپنا بیان بدلا اور کہا کہ تینوں بچے انہیں کئی سال قبل لاوارث حالت میں ملے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4e386b792bf.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4e386b792bf.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4e386b792bf.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4e386b792bf.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="خاتون کی جانب سے اغوا کیا گیا بچہ جوانی میں اصلی والد سے ملتے ہوئے&amp;mdash;فوٹو: گلف نیوز" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;خاتون کی جانب سے اغوا کیا گیا بچہ جوانی میں اصلی والد سے ملتے ہوئے—فوٹو: گلف نیوز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم پولیس نے بچوں کے ڈی این اے کے بعد گزشتہ 3 سے 2 دہائیوں کے درمیان اغوا ہونے والے بچوں کا ریکارڈ دیکھا جس کے بعد پولیس نے خاتون کو  اغواکار کے طور پر گرفتار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس نے 1996 اور 1999 میں دمام کے ہسپتال سے اغوا ہونے والے بچوں کے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی دیکھیں جس کے بعد پولیس نے خاتون کو گرفتار کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس نے بتایا کہ گرفتاری کے بعد خاتون نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ انہوں نے تینوں بیٹوں کو اغوا کیا تھا اور وہ آخری بار 2002 میں چوتھے بچے کو اغوا کرنے کے دوران پکڑی بھی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خاتون کا کہنا تھا کہ چوتھی بار ایک بچے کو اغوا کرنے کی ناکام کوشش کے بعد انہوں نے بچوں کو اغوا کرنا چھوڑ دیا اور انہوں نے اغوا کیے گئے تمام بچوں کی خفیہ طور پر پرورش کی، انہیں تعلیم دلوائی اور ان میں سے ایک بچہ سرکاری نوکری بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا جب کہ خاتون نے ایک بیٹے کی شادی بھی کروائی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس نے تینوں بچوں کے ڈی این اے کرنے کے بعد انہیں ان کے اصل والدین سے ملوایا اور تینوں بچوں کے اہل خانہ بچوں کو جوان دیکھ کر انتہائی خوش ہوئے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/ha_hfc25/status/1229718913572917249"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4e37e426995.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4e37e426995.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4e37e426995.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4e37e426995.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="خاتون نے بچوں کو ہسپتال سے اغوا کیا تھا&mdash;فائل فوٹو: گلف نیوز" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">خاتون نے بچوں کو ہسپتال سے اغوا کیا تھا—فائل فوٹو: گلف نیوز</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p><strong>سعودی عرب کی پولیس نے طویل کوششوں کے بعد ایک ایسی اغواکار خاتون کو گرفتار کرلیا جس نے 1993 میں نوزائیدہ بچوں کو اغوا کرنا شروع کیا تھا۔</strong></p>

<p>سعودی عرب کے مشرقی صوبے کی پولیس نے ذہانت سے کام لیتے ہوئے نہ صرف اغواکار خاتون کو گرفتار کیا بلکہ پولیس نے اغوا ہونے والے بچوں کو ان کے اصلی والدین سے بھی ملوادیا۔</p>

<p>’گلف نیوز‘ کے <a href="https://gulfnews.com/world/gulf/saudi/kidnapped-20-years-ago-boy-reunited-with-family-in-saudi-arabia-1.1582101883020"><strong>مطابق</strong></a> مشرقی صوبے کی پولیس کی جانب سے گرفتار کی گئی خاتون کی عمر 50 سال کے قریب ہے اور اس نے 30 سال کی عمر سے قبل ہی نوزائیدہ بچوں کو اغوا کرنا شروع کیا تھا۔</p>

<p>رپورٹ میں پولیس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ خاتون نے نوزائیدہ بچوں کو اس وقت اغوا کرنا شروع کیا جب ان کا حمل ضائع ہوا۔</p>

<p>خاتون نے مسلسل تین بار صرف نوزائیدہ بیٹوں کو ہی اغوا کیا اور انہوں نے پہلے بچے کو 1993، دوسرے کو 1996 اور تیسرے کو 1999 میں اغوا کیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4e38209f111.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4e38209f111.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4e38209f111.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4e38209f111.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="خاتون نے بچوں کی پرورش دمام شہر میں کی&mdash;فوٹو: گلف نیوز" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">خاتون نے بچوں کی پرورش دمام شہر میں کی—فوٹو: گلف نیوز</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>پولیس نے بتایا کہ اغواکار خاتون نے اغوا کیے گئے بچوں کو اغوا کے وقت سے لے کر جوان ہونے تک عام لوگوں سے چھپائے رکھا جب کہ انہوں نے بچوں کو قبول نہ کرنے پر پہلے شوہر سے طلاق بھی لی۔</p>

<p>پولیس کے مطابق خاتون کی جانب سے بچوں کو اغوا کرنے کے بعد اس نے اپنے تمام رشتہ داروں سے بھی تعلق تقریبا ختم کردیا تھا اور ان کے اہل خانہ یہی سمجھتے رہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہیں۔</p>

<p>بچوں کو اغوا کرنے والی خاتون کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس کا تعلق ایک معزز گھرانے سے ہے تاہم بچیوں کی پیدائش کے بعد اپنا حمل ضائع ہونے کے بعد انہوں نے نوزائیدہ بچوں کو اغوا کرنا شروع کیا۔</p>

<p>خاتون کو پولیس نے اس وقت گرفتار کیا جب وہ مشرقی صوبے کے قریبی پولیس تھانے میں بچوں کے جوان ہونے کے بعد ان کے قانونی دستاویزات حاصل کرنے آئیں۔</p>

<p>خاتون نے ابتدائی طور پر پولیس کو بتایا کہ یہ تمام بچے ان کے ہی ہیں تاہم جب پولیس نے ڈی این اے ٹیسٹ کیا تو تینوں بیٹوں کے ڈی این اے ان سے میچ نہیں ہوئے جس کے بعد خاتون نے اپنا بیان بدلا اور کہا کہ تینوں بچے انہیں کئی سال قبل لاوارث حالت میں ملے تھے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4e386b792bf.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4e386b792bf.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4e386b792bf.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4e386b792bf.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="خاتون کی جانب سے اغوا کیا گیا بچہ جوانی میں اصلی والد سے ملتے ہوئے&mdash;فوٹو: گلف نیوز" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">خاتون کی جانب سے اغوا کیا گیا بچہ جوانی میں اصلی والد سے ملتے ہوئے—فوٹو: گلف نیوز</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>تاہم پولیس نے بچوں کے ڈی این اے کے بعد گزشتہ 3 سے 2 دہائیوں کے درمیان اغوا ہونے والے بچوں کا ریکارڈ دیکھا جس کے بعد پولیس نے خاتون کو  اغواکار کے طور پر گرفتار کیا۔</p>

<p>پولیس نے 1996 اور 1999 میں دمام کے ہسپتال سے اغوا ہونے والے بچوں کے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی دیکھیں جس کے بعد پولیس نے خاتون کو گرفتار کرلیا۔</p>

<p>پولیس نے بتایا کہ گرفتاری کے بعد خاتون نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ انہوں نے تینوں بیٹوں کو اغوا کیا تھا اور وہ آخری بار 2002 میں چوتھے بچے کو اغوا کرنے کے دوران پکڑی بھی گئی تھیں۔</p>

<p>خاتون کا کہنا تھا کہ چوتھی بار ایک بچے کو اغوا کرنے کی ناکام کوشش کے بعد انہوں نے بچوں کو اغوا کرنا چھوڑ دیا اور انہوں نے اغوا کیے گئے تمام بچوں کی خفیہ طور پر پرورش کی، انہیں تعلیم دلوائی اور ان میں سے ایک بچہ سرکاری نوکری بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا جب کہ خاتون نے ایک بیٹے کی شادی بھی کروائی۔</p>

<p>پولیس نے تینوں بچوں کے ڈی این اے کرنے کے بعد انہیں ان کے اصل والدین سے ملوایا اور تینوں بچوں کے اہل خانہ بچوں کو جوان دیکھ کر انتہائی خوش ہوئے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/ha_hfc25/status/1229718913572917249"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1120798</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Feb 2020 14:41:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4e379836882.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/02/5e4e379836882.jpg?0.11091579246247663"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
