<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 10:13:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 10:13:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کورونا وائرس کے بعد ووہان کے حالات کی وائرل ویڈیو
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1120826/</link>
      <description>&lt;p&gt;چین کے شہر ووہان سے &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/coronavirus"&gt;&lt;strong&gt;نئے نوول کورونا وائرس کووِڈ 19&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;کا پھیلاﺅ شروع ہوا تھا جو دنیا کے متعدد ممالک میں پھیل گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اب تک اس وائرس سے &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1120800/"&gt;&lt;strong&gt;چین سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں 75 ہزار سے زائد افراد متاثر جبکہ 2130 ہلاکتیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ہوچکی ہیں جن میں زیادہ تر چین کے صوبہ ہوبے (جس کا صدر مقام ووہان ہے) ہوئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1120688' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4e915a9ed98.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4e915a9ed98.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4e915a9ed98.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4e915a9ed98.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اور اب اس شہر کی ایک مختصر ویڈیو جاری ہوئی ہے جس میں کورونا وائرس کی وبا سے معمولات زندگی پر مرتب ہونے والے اثرات کو دکھایا گیا ہے (ویڈیو آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں)۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ووہان : دی لانگ نائٹ نامی یہ مختصر فلم کے ڈائریکٹر لان بو، ویڈیو گرافر شائی ڈان اور دیگر نے اپنے فونز سے ریکارڈ کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویڈیو میں ایک کروڑ 40 لاکھ افراد کے شہر کی گلیاں بالکل ویران نظر آتی ہیں، عمارتوں میں خاموشی طاری ہے بلکہ زندگی کے آثار بمشکل ہی نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایسا لگتا ہے جیسے کسی سائنس فکشن فلم میں کسی تباہی کے بعد کے شہر کو دکھایا گیا ہے مگر یہ ووہان کے حقیقی مناظر ہیں جو جنوری میں اس وقت فلمائے گئے جب شہر کو 23 جنوری کو قرنطینہ میں ڈال دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈائریکٹر لان بو نے شنگھائی کے ایک آن لائن میگزین سکستھ ٹون کو &lt;a href="http://www.sixthtone.com/news/1005196/film-crew-documents-life-in-wuhan-amid-covid-19-epidemic"&gt;انٹرویو&lt;/a&gt; میں بتایا 'وہ (فلم میں ان کے ساتھ کام کرنے والے افراد) ووہان میں تھے اور وہ کچھ بامقصد کرنا چاہتے تھے، تو انہوں نے شہر میں جو کچھ ہورہا تھا اسے ریکارڈ کرلیا'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈائریکٹر پہلے ایک فیچر فلم بنانے کا ارادہ رکھتے تھے مگر وائرس کے پھیلاﺅ کے بعد انہوں نے روزمرہ کی زندگی کو فلمانے پر توجہ دی اور ویڈیو گرافر شائی ڈان نے اپنے فون پر ریکارڈنگ کا آغاز کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1120528' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4973abbf293.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4973abbf293.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4973abbf293.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4973abbf293.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے بعد ٹیم نے اسے ایک مختصر فلم کی شکل دے کر آن لائن شیئر کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ووہان کے خوفزدہ کردینے والے ان مناظر کو چین کی سوشل میڈیا سائٹ ویبو پر اسے لاکھوں بار دیکھا جاچکا ہے اور اس مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ڈائریکٹر اب ایک طویل ڈاکومینٹری کو بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے 'شہر کو بند کرنے کے بعد سے ایسی کوئی ویڈیو سامنے نہیں آئی جو صورتحال کی عکاسی کرتی ہو اور مجھے لگتا ہے کہ یہ ایسے مناظر ہوں گے جو تاریخی حوالے کے حامل اور دیگر دستاویزی فلموں کے لیے مددگار ثابت ہوں گے'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس طویل ڈاکومینٹری میں یہ ٹیم عام افراد، طبی عملے، رضاکاروں اور اس سے متاثر ہونے والی صنعتوں کی کہانیوں کو بیان کرے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈائریکٹر کا کہنا تھا 'مجھے توقع ہے کہ لوگ سچ بولیں اور کیمرا کا دیانتداری سے سامنا کریں گے، مجھے توقع ہے کہ میرا کیمرا جھوٹ نہیں بولے گا'۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/I5XvYFYDeZc?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چین کے شہر ووہان سے <a href="https://www.dawnnews.tv/trends/coronavirus"><strong>نئے نوول کورونا وائرس کووِڈ 19</strong></a>کا پھیلاﺅ شروع ہوا تھا جو دنیا کے متعدد ممالک میں پھیل گیا۔</p>

<p>اب تک اس وائرس سے <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1120800/"><strong>چین سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں 75 ہزار سے زائد افراد متاثر جبکہ 2130 ہلاکتیں</strong></a> ہوچکی ہیں جن میں زیادہ تر چین کے صوبہ ہوبے (جس کا صدر مقام ووہان ہے) ہوئیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1120688' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4e915a9ed98.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4e915a9ed98.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4e915a9ed98.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4e915a9ed98.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اور اب اس شہر کی ایک مختصر ویڈیو جاری ہوئی ہے جس میں کورونا وائرس کی وبا سے معمولات زندگی پر مرتب ہونے والے اثرات کو دکھایا گیا ہے (ویڈیو آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں)۔</p>

<p>ووہان : دی لانگ نائٹ نامی یہ مختصر فلم کے ڈائریکٹر لان بو، ویڈیو گرافر شائی ڈان اور دیگر نے اپنے فونز سے ریکارڈ کی۔</p>

<p>ویڈیو میں ایک کروڑ 40 لاکھ افراد کے شہر کی گلیاں بالکل ویران نظر آتی ہیں، عمارتوں میں خاموشی طاری ہے بلکہ زندگی کے آثار بمشکل ہی نظر آتے ہیں۔</p>

<p>ایسا لگتا ہے جیسے کسی سائنس فکشن فلم میں کسی تباہی کے بعد کے شہر کو دکھایا گیا ہے مگر یہ ووہان کے حقیقی مناظر ہیں جو جنوری میں اس وقت فلمائے گئے جب شہر کو 23 جنوری کو قرنطینہ میں ڈال دیا گیا تھا۔</p>

<p>ڈائریکٹر لان بو نے شنگھائی کے ایک آن لائن میگزین سکستھ ٹون کو <a href="http://www.sixthtone.com/news/1005196/film-crew-documents-life-in-wuhan-amid-covid-19-epidemic">انٹرویو</a> میں بتایا 'وہ (فلم میں ان کے ساتھ کام کرنے والے افراد) ووہان میں تھے اور وہ کچھ بامقصد کرنا چاہتے تھے، تو انہوں نے شہر میں جو کچھ ہورہا تھا اسے ریکارڈ کرلیا'۔</p>

<p>ڈائریکٹر پہلے ایک فیچر فلم بنانے کا ارادہ رکھتے تھے مگر وائرس کے پھیلاﺅ کے بعد انہوں نے روزمرہ کی زندگی کو فلمانے پر توجہ دی اور ویڈیو گرافر شائی ڈان نے اپنے فون پر ریکارڈنگ کا آغاز کیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1120528' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4973abbf293.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4973abbf293.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4973abbf293.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4973abbf293.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس کے بعد ٹیم نے اسے ایک مختصر فلم کی شکل دے کر آن لائن شیئر کیا۔</p>

<p>ووہان کے خوفزدہ کردینے والے ان مناظر کو چین کی سوشل میڈیا سائٹ ویبو پر اسے لاکھوں بار دیکھا جاچکا ہے اور اس مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ڈائریکٹر اب ایک طویل ڈاکومینٹری کو بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔</p>

<p>ان کا کہنا ہے 'شہر کو بند کرنے کے بعد سے ایسی کوئی ویڈیو سامنے نہیں آئی جو صورتحال کی عکاسی کرتی ہو اور مجھے لگتا ہے کہ یہ ایسے مناظر ہوں گے جو تاریخی حوالے کے حامل اور دیگر دستاویزی فلموں کے لیے مددگار ثابت ہوں گے'۔</p>

<p>اس طویل ڈاکومینٹری میں یہ ٹیم عام افراد، طبی عملے، رضاکاروں اور اس سے متاثر ہونے والی صنعتوں کی کہانیوں کو بیان کرے گی۔</p>

<p>ڈائریکٹر کا کہنا تھا 'مجھے توقع ہے کہ لوگ سچ بولیں اور کیمرا کا دیانتداری سے سامنا کریں گے، مجھے توقع ہے کہ میرا کیمرا جھوٹ نہیں بولے گا'۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/I5XvYFYDeZc?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1120826</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Feb 2020 19:10:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4e920721686.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/02/5e4e920721686.jpg"/>
        <media:title>— اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
