<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 20:19:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 20:19:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کورونا وائرس کے بہت زیادہ تیزی سے پھیلنے کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1120839/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/coronavirus"&gt;&lt;strong&gt;نیا کورونا وائرس کووِڈ 19&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; چین سمیت دنیا بھر میں اتنی تیزی سے کیوں پھیل رہا ہے؟ اس کی ممکنہ وجہ سائنسدانوں نے تلاش کرلی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان میں پہلی بار سامنے آنے والے کورونا وائرس اب تک متعدد ممالک تک پھیل چکا ہے اور &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1120800/"&gt;&lt;strong&gt;اب تک 2130 ہلاکتیں اور 75 ہزار سے زائد افراد&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; متاثر ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1120826' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4ed4b1862f9.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4ed4b1862f9.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4ed4b1862f9.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4ed4b1862f9.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پہلے مانا جارہا تھا کہ یہ وائرس متاثرہ افراد کے منہ سے نکلنے والے ذرات اور مریضوں سے تعلق پر ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے، مگر چائنیز سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کی &lt;a href="http://weekly.chinacdc.cn/en/article/id/ffa97a96-db2a-4715-9dfb-ef662660e89d"&gt;تحقیق&lt;/a&gt; میں کہا گیا ہے کہ یہ وائرس ممکنہ طور پر انسانی فضلے سے بھی لوگوں میں منتقل ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے دوران اس نئے وائرس کے شکار مریضوں کے فضلے میں کووڈ 19 کو دریافت کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا تھا کہ اس دریافت سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ فضلے سے ہاتھوں، غذا یا پانی جراثیموں سے آلودہ ہوکر ناک، منہ اور آنکھوں کے راستے جسم میں داخل ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ اگرچہ منہ سے خارج ہونے والے ذرات اور قریبی تعلق ہی اس وائرس کی منتقلی سب سے عام وجوہات ہیں، مگر ایسا تمام کیسر میں نظر نہیں آیا اور یہ نئی وجہ ممکنہ طور پر اس کے تیزی سے پھیلنے کا بڑا سبب ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق وائرس کی منتقلی کے متعدد ذرائع ہیں، جس سے جزوی طور پر اس کی مضبوط اور تیزی سے منتقلی کی وضاحت ہوتی ہے'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جریدے جرنل ایمرجنگ مائیکروبیس اینڈ انفیکشنز میں پیر کو شائع ایک الگ &lt;a href="https://www.tandfonline.com/doi/full/10.1080/22221751.2020.1729071?needAccess=true&amp;amp;#aHR0cHM6Ly93d3cudGFuZGZvbmxpbmUuY29tL2RvaS9wZGYvMTAuMTA4MC8yMjIyMTc1MS4yMDIwLjE3MjkwNzE/bmVlZEFjY2Vzcz10cnVlQEBAMA=="&gt;تحقیق&lt;/a&gt; میں بھی اسی طرح کے نتائج سامنے آئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1119296' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			اس تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ یہ وائرس ممکنہ طور پر یہ وائرس فضلے کے ذریعے لوگوں کو بیمار کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق میں ووہان کے ایک ہسپتال کے 178 مریضوں کے نمونے لیے گئے تھے اور ان میں وائرس کو دریافت کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم فی الحال اس کو ممکنہ سبب تو مانا جاسکتا ہے مگر اس کی باضابطہ تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہوگی، ویسے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بتایا جاچکا ہے کہ اس نئے کورونا وائرس سے خود کو بچانے کا بہترین طریقہ بنیادی صفائی جیسے ہاتھوں کی اچھی طرح صفائی کرنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کھانسی اور چھینکتے ہوئے ٹشو یا کہنی سے منہ کو ڈھانپ لیں اور ٹشو کو فوری طور پر کچرے میں پھینک دیں اور ہاتھوں کو صاف کریں تاکہ وائرس کو پھیلنے اور چیزوں کو آلودہ ہونے سے روکا جاسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی ادارے نے آنکھوں، ناک اور منہ کو نہ چھونے کا مشورہ بھی دیا ہے تاکہ وائرس کو جسم میں داخل ہونے سے روک سکیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کچا یا کچا پکا گوشت کھانے سے گریز کریں اور بیمار جانوروں کے قریب جانے سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><a href="https://www.dawnnews.tv/trends/coronavirus"><strong>نیا کورونا وائرس کووِڈ 19</strong></a> چین سمیت دنیا بھر میں اتنی تیزی سے کیوں پھیل رہا ہے؟ اس کی ممکنہ وجہ سائنسدانوں نے تلاش کرلی ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان میں پہلی بار سامنے آنے والے کورونا وائرس اب تک متعدد ممالک تک پھیل چکا ہے اور <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1120800/"><strong>اب تک 2130 ہلاکتیں اور 75 ہزار سے زائد افراد</strong></a> متاثر ہوچکے ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1120826' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4ed4b1862f9.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/02/5e4ed4b1862f9.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4ed4b1862f9.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/02/5e4ed4b1862f9.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>پہلے مانا جارہا تھا کہ یہ وائرس متاثرہ افراد کے منہ سے نکلنے والے ذرات اور مریضوں سے تعلق پر ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے، مگر چائنیز سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کی <a href="http://weekly.chinacdc.cn/en/article/id/ffa97a96-db2a-4715-9dfb-ef662660e89d">تحقیق</a> میں کہا گیا ہے کہ یہ وائرس ممکنہ طور پر انسانی فضلے سے بھی لوگوں میں منتقل ہوسکتا ہے۔</p>

<p>تحقیق کے دوران اس نئے وائرس کے شکار مریضوں کے فضلے میں کووڈ 19 کو دریافت کیا گیا۔</p>

<p>محققین کا کہنا تھا کہ اس دریافت سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ فضلے سے ہاتھوں، غذا یا پانی جراثیموں سے آلودہ ہوکر ناک، منہ اور آنکھوں کے راستے جسم میں داخل ہوسکتا ہے۔</p>

<p>انہوں نے زور دیا کہ اگرچہ منہ سے خارج ہونے والے ذرات اور قریبی تعلق ہی اس وائرس کی منتقلی سب سے عام وجوہات ہیں، مگر ایسا تمام کیسر میں نظر نہیں آیا اور یہ نئی وجہ ممکنہ طور پر اس کے تیزی سے پھیلنے کا بڑا سبب ہے۔</p>

<p>تحقیق کے مطابق وائرس کی منتقلی کے متعدد ذرائع ہیں، جس سے جزوی طور پر اس کی مضبوط اور تیزی سے منتقلی کی وضاحت ہوتی ہے'۔</p>

<p>جریدے جرنل ایمرجنگ مائیکروبیس اینڈ انفیکشنز میں پیر کو شائع ایک الگ <a href="https://www.tandfonline.com/doi/full/10.1080/22221751.2020.1729071?needAccess=true&amp;#aHR0cHM6Ly93d3cudGFuZGZvbmxpbmUuY29tL2RvaS9wZGYvMTAuMTA4MC8yMjIyMTc1MS4yMDIwLjE3MjkwNzE/bmVlZEFjY2Vzcz10cnVlQEBAMA==">تحقیق</a> میں بھی اسی طرح کے نتائج سامنے آئے تھے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1119296' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			اس تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ یہ وائرس ممکنہ طور پر یہ وائرس فضلے کے ذریعے لوگوں کو بیمار کرسکتا ہے۔</p>

<p>اس تحقیق میں ووہان کے ایک ہسپتال کے 178 مریضوں کے نمونے لیے گئے تھے اور ان میں وائرس کو دریافت کیا گیا تھا۔</p>

<p>تاہم فی الحال اس کو ممکنہ سبب تو مانا جاسکتا ہے مگر اس کی باضابطہ تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہوگی، ویسے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بتایا جاچکا ہے کہ اس نئے کورونا وائرس سے خود کو بچانے کا بہترین طریقہ بنیادی صفائی جیسے ہاتھوں کی اچھی طرح صفائی کرنا ہے۔</p>

<p>کھانسی اور چھینکتے ہوئے ٹشو یا کہنی سے منہ کو ڈھانپ لیں اور ٹشو کو فوری طور پر کچرے میں پھینک دیں اور ہاتھوں کو صاف کریں تاکہ وائرس کو پھیلنے اور چیزوں کو آلودہ ہونے سے روکا جاسکے۔</p>

<p>عالمی ادارے نے آنکھوں، ناک اور منہ کو نہ چھونے کا مشورہ بھی دیا ہے تاکہ وائرس کو جسم میں داخل ہونے سے روک سکیں۔</p>

<p>کچا یا کچا پکا گوشت کھانے سے گریز کریں اور بیمار جانوروں کے قریب جانے سے گریز کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1120839</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Feb 2020 23:59:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4ed58fe8102.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/02/5e4ed58fe8102.jpg"/>
        <media:title>نیا کورونا وائرس انسانی خلیات کی سطح پر ابھر رہا ہے — فوٹو بشکریہ راکی ماؤنٹین لیبارٹریز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
