<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 01:54:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 01:54:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والی بھارتی لڑکی کو ’غداری‘ کیس کا سامنا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1120871/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی حکومت نے گزشتہ برس دسمبر میں متنازع شہریت قانون پاس کیا تھا جس کے بعد سے ہندوستان بھر میں مظاہرے جاری ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;متنازع شہریت قانون کے مطابق 31 دسمبر 2014 سے قبل پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے ’ہندو، عیسائی، سکھ، بدھ، جین اور پارسی‘ مذاہب کے پیروکاروں کو شہریت دی جا سکے گی تاہم اس بل کے تحت تینوں ممالک سے آنے والے مسلمانوں کو شہریت نہیں دی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی حکومت کے اس اقدام کے خلاف ملک میں ہر گزرتے دن مظاہروں میں شدت آتی جا رہی ہے اور ان مظاہروں میں اب ہندو، عیسائی اور دیگر مذاہب کے افراد بھی مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;متنازع شہریت قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو روکنے کے لیے بھارتی حکومت اور پولیس مظاہرین پر جرمانے عائد کرنے سمیت انہیں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے کیسز میں جیل بھی بھیج رہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اور گزشتہ روز متنازع شہریت قانون کے خلاف ہونے والے ایک جلسے میں بھارت کے خلاف نعرے بازی کرنے اور ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والی بھارتی لڑکی کو جیل بھیج دیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/ANI/status/1230515024227110912"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی خبر رساں ادارے ’ایشین نیوز انٹرنیشنل‘ (اے این آئی) کے مطابق 20 فروری کو ریاست کرناٹکا کے دارالحکومت بنگلورو میں متنازع شہریت قانون کے خلاف ہونے والے ایک جلسے میں ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والی غیر مسلم لڑکی کو ’غداری‘ کے کیس میں جیل بھیج دیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق امولیا لیونا نامی نوجوان لڑکی نے بنگلورو میں ہونے والے جلسے کے دوران مائیک پر سب کے سامنے ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے بلند کیے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لڑکی کی جانب سے ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعروں کی وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لڑکی نے عین اس وقت پاکستان کی حمایت میں نعرے لگائے جب جلسے سے خطاب کے بعد آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی جا رہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/ANI/status/1230764778894680065"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لڑکی کی جانب سے ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگائے جانے کے بعد اسدالدین اویسی واپس پیچھے مڑکر لڑکی کو ایسے نعرے لگانے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والی لڑکی کو جلسہ گاہ کی اسٹیج پر موجود دیگر افراد بھی روکنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم وہ مسلسل ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگائے جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اے این آئی کے مطابق لڑکی کی جانب سے دشمن ملک کی حمایت میں نعرے لگائے جانے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان کے خلاف ’غداری‘ کا مقدمہ دائر کیا اور انہیں عدالت میں پیش کردیا، جہاں عدالت نے انہیں 2 ہفتوں کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/ANI/status/1230765263877853184"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس کمشنر نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ لڑکی کے خلاف غداری کے کیس کے تحت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے جب کہ ابتدائی تفتیش میں اسد الدین اویسی اس معاملے میں ملوث نظر نہیں آتے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کرناٹکا کے وزیر داخلہ بسوراج بومی نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والی لڑکی کا تعلق علیحدگی پسند اور شدت پسند تنظیم ’نیکسلاٹ‘ سے ہے جنہیں نکسل باغی بھی کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے اس بات کا عندیہ بھی دیا کہ ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والی لڑکی کو اب کسی صورت میں بھی ضمانت پر رہا نہیں کیا جائے گا جب کہ ان کے خلاف نکسل سے تعلقات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/ANI/status/1230541376670044163"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والی لڑکی کے والد نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ان کی بیٹی متنازع شہریت قانون کے خلاف متحرک تھیں اور وہ انہیں روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے تاہم وہ ان کی بات نہیں مانتی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر اسدالدین اویسی نے بھی لڑکی کی جانب سے ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگائے جانے کی مذمت کی اور کہا کہ ’ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسدالدین اویسی نے وضاحت کی کہ وہ جلسے کے بعد نماز پڑھنے جا رہے تھے کہ لڑکی نے ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگائے، جنہیں سننے کے بعد وہ واپس مڑے اور لڑکی کو روکنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/ANI/status/1230700574472978432"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ متنازع شہریت قانون کے خلاف دسمبر 2019 سے بھارت میں مظاہرے جاری ہیں اور ان مظاہروں میں اگرچہ مظاہرین بھارتی حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ کسی نے ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ متنازع شہریت قانون کے مطابق 31 دسمبر 2014 سے قبل پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے ’ہندو، عیسائی، سکھ، بدھ، جین اور پارسی‘ مذاہب کے پیروکاروں کو شہریت دی جا سکے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اس بل کے تحت تینوں ممالک سے آنے والے مسلمانوں کو شہریت نہیں دی جائے گی اور اس تفریق کے خلاف ہی بھارتی عوام حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/12/5df20449e62da.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/12/5df20449e62da.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/12/5df20449e62da.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/12/5df20449e62da.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="بل کے خلاف دسمبر 2019 سے مظاہرے جاری ہیں&amp;mdash;فوٹو: اے پی" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بل کے خلاف دسمبر 2019 سے مظاہرے جاری ہیں—فوٹو: اے پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی حکومت نے گزشتہ برس دسمبر میں متنازع شہریت قانون پاس کیا تھا جس کے بعد سے ہندوستان بھر میں مظاہرے جاری ہیں۔</p>

<p>متنازع شہریت قانون کے مطابق 31 دسمبر 2014 سے قبل پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے ’ہندو، عیسائی، سکھ، بدھ، جین اور پارسی‘ مذاہب کے پیروکاروں کو شہریت دی جا سکے گی تاہم اس بل کے تحت تینوں ممالک سے آنے والے مسلمانوں کو شہریت نہیں دی جائے گی۔</p>

<p>بھارتی حکومت کے اس اقدام کے خلاف ملک میں ہر گزرتے دن مظاہروں میں شدت آتی جا رہی ہے اور ان مظاہروں میں اب ہندو، عیسائی اور دیگر مذاہب کے افراد بھی مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہے۔</p>

<p>متنازع شہریت قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو روکنے کے لیے بھارتی حکومت اور پولیس مظاہرین پر جرمانے عائد کرنے سمیت انہیں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے کیسز میں جیل بھی بھیج رہی ہے۔</p>

<p>اور گزشتہ روز متنازع شہریت قانون کے خلاف ہونے والے ایک جلسے میں بھارت کے خلاف نعرے بازی کرنے اور ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والی بھارتی لڑکی کو جیل بھیج دیا گیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/ANI/status/1230515024227110912"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>بھارتی خبر رساں ادارے ’ایشین نیوز انٹرنیشنل‘ (اے این آئی) کے مطابق 20 فروری کو ریاست کرناٹکا کے دارالحکومت بنگلورو میں متنازع شہریت قانون کے خلاف ہونے والے ایک جلسے میں ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والی غیر مسلم لڑکی کو ’غداری‘ کے کیس میں جیل بھیج دیا گیا۔</p>

<p>رپورٹ کے مطابق امولیا لیونا نامی نوجوان لڑکی نے بنگلورو میں ہونے والے جلسے کے دوران مائیک پر سب کے سامنے ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے بلند کیے تھے۔</p>

<p>لڑکی کی جانب سے ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعروں کی وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لڑکی نے عین اس وقت پاکستان کی حمایت میں نعرے لگائے جب جلسے سے خطاب کے بعد آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی جا رہے تھے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/ANI/status/1230764778894680065"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لڑکی کی جانب سے ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگائے جانے کے بعد اسدالدین اویسی واپس پیچھے مڑکر لڑکی کو ایسے نعرے لگانے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔</p>

<p>ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والی لڑکی کو جلسہ گاہ کی اسٹیج پر موجود دیگر افراد بھی روکنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم وہ مسلسل ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگائے جا رہی ہے۔</p>

<p>اے این آئی کے مطابق لڑکی کی جانب سے دشمن ملک کی حمایت میں نعرے لگائے جانے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان کے خلاف ’غداری‘ کا مقدمہ دائر کیا اور انہیں عدالت میں پیش کردیا، جہاں عدالت نے انہیں 2 ہفتوں کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/ANI/status/1230765263877853184"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>پولیس کمشنر نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ لڑکی کے خلاف غداری کے کیس کے تحت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے جب کہ ابتدائی تفتیش میں اسد الدین اویسی اس معاملے میں ملوث نظر نہیں آتے۔</p>

<p>کرناٹکا کے وزیر داخلہ بسوراج بومی نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والی لڑکی کا تعلق علیحدگی پسند اور شدت پسند تنظیم ’نیکسلاٹ‘ سے ہے جنہیں نکسل باغی بھی کہا جاتا ہے۔</p>

<p>انہوں نے اس بات کا عندیہ بھی دیا کہ ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والی لڑکی کو اب کسی صورت میں بھی ضمانت پر رہا نہیں کیا جائے گا جب کہ ان کے خلاف نکسل سے تعلقات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/ANI/status/1230541376670044163"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>دوسری جانب ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والی لڑکی کے والد نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ان کی بیٹی متنازع شہریت قانون کے خلاف متحرک تھیں اور وہ انہیں روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے تاہم وہ ان کی بات نہیں مانتی تھی۔</p>

<p>ادھر اسدالدین اویسی نے بھی لڑکی کی جانب سے ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگائے جانے کی مذمت کی اور کہا کہ ’ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا‘۔</p>

<p>اسدالدین اویسی نے وضاحت کی کہ وہ جلسے کے بعد نماز پڑھنے جا رہے تھے کہ لڑکی نے ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگائے، جنہیں سننے کے بعد وہ واپس مڑے اور لڑکی کو روکنے کی کوشش کی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/ANI/status/1230700574472978432"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>واضح رہے کہ متنازع شہریت قانون کے خلاف دسمبر 2019 سے بھارت میں مظاہرے جاری ہیں اور ان مظاہروں میں اگرچہ مظاہرین بھارتی حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔</p>

<p>تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ کسی نے ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگائے۔</p>

<p>یاد رہے کہ متنازع شہریت قانون کے مطابق 31 دسمبر 2014 سے قبل پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے ’ہندو، عیسائی، سکھ، بدھ، جین اور پارسی‘ مذاہب کے پیروکاروں کو شہریت دی جا سکے گی۔</p>

<p>تاہم اس بل کے تحت تینوں ممالک سے آنے والے مسلمانوں کو شہریت نہیں دی جائے گی اور اس تفریق کے خلاف ہی بھارتی عوام حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/12/5df20449e62da.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/12/5df20449e62da.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/12/5df20449e62da.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/12/5df20449e62da.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="بل کے خلاف دسمبر 2019 سے مظاہرے جاری ہیں&mdash;فوٹو: اے پی" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بل کے خلاف دسمبر 2019 سے مظاہرے جاری ہیں—فوٹو: اے پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1120871</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Feb 2020 13:45:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/02/5e4f935dd899e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/02/5e4f935dd899e.jpg?0.5184717652889403"/>
        <media:title>بھارتی لڑکی نے اسدالدین اویسی کے سامنے نعرے لگائے تھے — فوٹو: پریس ٹرسٹ آف انڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
