<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 02:40:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 22 Jun 2026 02:40:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آرڈیننس کے نفاذ کا صدارتی اختیار محدود کرنے کا بل سینیٹ میں جمع
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1120932/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کی جانب سے بقول اپوزیشن ’آرڈیننس کے ذریعے حکمرانی‘ کے حوالے سے تنازع اب بھی برقرار ہے اور اسے کو سامنے رکھتے ہوئے سینیٹ کے سابق چیئرمین میاں رضا ربانی نے صدر مملکت کی جانب سے آرڈیننس کے نفاذ کے اختیارات کے متعلقہ قانون میں ترمیم کی درخواست کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سینیٹر رضا ربانی نے سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کروائے گئے نجی رکن کے بل کے ذریعے آئین کی دفعہ 89 میں 2 شرائط شامل کرنے کی درخواست کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114009"&gt;سینیٹ میں ’آرڈیننس کے ذریعے حکمرانی‘ پر تنازع شدت اختیار کرگیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ آئین کی دفعہ 89 صدر مملکت کو اس صورت میں آرڈیننس نافذ کرنے کا اختیار دیتی ہے جب پارلیمان کے اجلاس منعقد نہ ہورہے ہوں یا کوئی ایسی سنگین صورتحال ہو کہ قانون سازی لازم ہوجائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بل میں آئین کی دفعہ 89 کی شق 2 کے پیراگراف (اے) کے ذیلی پیراگراف ون میں یہ شرط شامل کرنے کی تجویز دی گئی کہ ’جب آرڈیننس نافذ کیا جائے تو اس کے بعد ہونے والے قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں اسے پیش کیا جائے اور اگر اجلاس میں پیش نہ کیا گیا تو یہ منسوخ ہوجائے گا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے ساتھ شق 2 کے پیراگراف (اے) کے ذیلی پیراگراف 2 میں یہ شرط شامل کرنے کی تجویز دی گئی کہ ’آرڈیننس کے نفاذ کے بعد اسے پارلیمان کے دونوں میں سے کسی ایوان کے پہلے اجلاس میں پیش کیا جائے اور اگر اجلاس میں پیش نہ کیا گیا تو یہ منسوخ ہوجائے گا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1117802"&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے صدارتی اختیار کے دائرہ کار پر سوالات اٹھادیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سلسلے میں مقاصد اور وجوہات سے متعلق بیان میں کہا گیا کہ صدرکے آرڈیننس نافذ کرنے کے اختیار کے غلط استعمال کی ایک طویل تاریخ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بل میں مزید کہا گیا کہ ’اس قسم کے صدارتی اختیارات سے پارلیمان کو شعوری طور پر بیڑیوں میں جکڑا جارہا ہے لیکن ناکامی کے ساتھ، ماضی قریب میں دفعہ 89 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پارلیمان کا اجلاس نہ ہونے کے وقت نافذ کیے گئے آرڈیننس کو ایوان میں پیش کرنے میں غیر معمولی تاخیر کی گئی‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بل میں کہا گیا کہ ’اس عمل نے قانون سازوں کو 1973 کے آئین کی دفعہ 89 کے تحت (آرڈیننس) نامنظور کرنے کے لیے قرارداد پیش کرنے کا اپنا قانونی اختیار استعمال کرنے سے روک دیا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمان کو ناکارہ بنانے کے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ کوششیں کی گئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114303"&gt;7 نومبر کو نافذ کیے گئے آرڈیننس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ سینیٹ کے گزشتہ اجلاس کے دوران آرڈیننس کے نفاذ پر اپوزیشن کی جانب سے قانون کے غلط استعمال کا معاملہ پوری شدو مد کے ساتھ اٹھایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپوزیشن اراکین نے حکومت پر اپوزیشن کی اکثریت کے حامل ایوان میں قرارداد کے مسترد ہونے کے ڈر سے جان بوجھ کر سینیٹ میں آرڈیننس پیش کرنے سے گریز کرنے کا الزام لگایا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1535944/move-to-clip-presidents-power-to-promulgate-ordinances"&gt;یہ خبر&lt;/a&gt; 22 فروری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کی جانب سے بقول اپوزیشن ’آرڈیننس کے ذریعے حکمرانی‘ کے حوالے سے تنازع اب بھی برقرار ہے اور اسے کو سامنے رکھتے ہوئے سینیٹ کے سابق چیئرمین میاں رضا ربانی نے صدر مملکت کی جانب سے آرڈیننس کے نفاذ کے اختیارات کے متعلقہ قانون میں ترمیم کی درخواست کردی۔</p>

<p>سینیٹر رضا ربانی نے سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کروائے گئے نجی رکن کے بل کے ذریعے آئین کی دفعہ 89 میں 2 شرائط شامل کرنے کی درخواست کی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114009">سینیٹ میں ’آرڈیننس کے ذریعے حکمرانی‘ پر تنازع شدت اختیار کرگیا</a></strong> </p>

<p>خیال رہے کہ آئین کی دفعہ 89 صدر مملکت کو اس صورت میں آرڈیننس نافذ کرنے کا اختیار دیتی ہے جب پارلیمان کے اجلاس منعقد نہ ہورہے ہوں یا کوئی ایسی سنگین صورتحال ہو کہ قانون سازی لازم ہوجائے۔</p>

<p>بل میں آئین کی دفعہ 89 کی شق 2 کے پیراگراف (اے) کے ذیلی پیراگراف ون میں یہ شرط شامل کرنے کی تجویز دی گئی کہ ’جب آرڈیننس نافذ کیا جائے تو اس کے بعد ہونے والے قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں اسے پیش کیا جائے اور اگر اجلاس میں پیش نہ کیا گیا تو یہ منسوخ ہوجائے گا‘۔</p>

<p>اس کے ساتھ شق 2 کے پیراگراف (اے) کے ذیلی پیراگراف 2 میں یہ شرط شامل کرنے کی تجویز دی گئی کہ ’آرڈیننس کے نفاذ کے بعد اسے پارلیمان کے دونوں میں سے کسی ایوان کے پہلے اجلاس میں پیش کیا جائے اور اگر اجلاس میں پیش نہ کیا گیا تو یہ منسوخ ہوجائے گا‘۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1117802">اسلام آباد ہائی کورٹ نے صدارتی اختیار کے دائرہ کار پر سوالات اٹھادیے</a></strong></p>

<p>اس سلسلے میں مقاصد اور وجوہات سے متعلق بیان میں کہا گیا کہ صدرکے آرڈیننس نافذ کرنے کے اختیار کے غلط استعمال کی ایک طویل تاریخ ہے۔</p>

<p>بل میں مزید کہا گیا کہ ’اس قسم کے صدارتی اختیارات سے پارلیمان کو شعوری طور پر بیڑیوں میں جکڑا جارہا ہے لیکن ناکامی کے ساتھ، ماضی قریب میں دفعہ 89 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پارلیمان کا اجلاس نہ ہونے کے وقت نافذ کیے گئے آرڈیننس کو ایوان میں پیش کرنے میں غیر معمولی تاخیر کی گئی‘۔</p>

<p>بل میں کہا گیا کہ ’اس عمل نے قانون سازوں کو 1973 کے آئین کی دفعہ 89 کے تحت (آرڈیننس) نامنظور کرنے کے لیے قرارداد پیش کرنے کا اپنا قانونی اختیار استعمال کرنے سے روک دیا ہے‘۔</p>

<p>رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمان کو ناکارہ بنانے کے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ کوششیں کی گئیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1114303">7 نومبر کو نافذ کیے گئے آرڈیننس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج</a></strong></p>

<p>یاد رہے کہ سینیٹ کے گزشتہ اجلاس کے دوران آرڈیننس کے نفاذ پر اپوزیشن کی جانب سے قانون کے غلط استعمال کا معاملہ پوری شدو مد کے ساتھ اٹھایا گیا تھا۔</p>

<p>اپوزیشن اراکین نے حکومت پر اپوزیشن کی اکثریت کے حامل ایوان میں قرارداد کے مسترد ہونے کے ڈر سے جان بوجھ کر سینیٹ میں آرڈیننس پیش کرنے سے گریز کرنے کا الزام لگایا تھا۔</p>

<hr />

<p><strong><a href="https://www.dawn.com/news/1535944/move-to-clip-presidents-power-to-promulgate-ordinances">یہ خبر</a> 22 فروری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1120932</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Feb 2020 15:56:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افتخار اے خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/02/5e50a7f889221.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/02/5e50a7f889221.png"/>
        <media:title>آئین کی دفعہ 89 صدر مملکت کو اس صورت میں آرڈیننس نافذ کرنے کا اختیار دیتی ہے—فائل فوٹو: ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
