<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 14:39:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 14:39:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت میں مذہبی فسادات پر امریکی سیاستدانوں کا اظہار افسوس
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1121202/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں متنازع شہریت قانون پر جاری احتجاج میں 24 فروری سے اس وقت شدت آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے دورہ بھارت پر پہنچے اور پھر یہ احتجاج دیکھتے ہی دیکھتے پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہوگیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ مظاہروں کے دوران 24 سے 26 فروری کی دوپہر تک ہونے والی کشیدگی میں کم سے کم 20 افراد ہلاک جب کہ  200 سے زائد زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مظاہروں نے دیکھتے ہی دیکھتے مذہبی فسادات کی صورت اختیار کرلی اور ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے مسلمانوں پر جان لیوا حملوں سمیت عبادت گاہوں پر بھی حملے کیے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نئی دہلی میں ہونے والے فسادات پر جہاں پاکستانی سیاستدانوں نے مذمت کا اظہار کیا وہیں دیگر ممالک کے اعلیٰ حکام نے بھی افسوس کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نئی دہلی میں ہونے والے فسادات پر افسوس کا اظہار صرف پاکستانی اور مسلمان سیاستدانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکا کے بھی کئی سیاستدانوں اور قانون سازوں نے بھارت میں ہونے والے مذہبی فسادات پر افسوس کرتے ہوئے بھارتی حکام سے جلد از جلد امن بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5e565d2c52570'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1121185/"&gt;دہلی میں مذہبی فسادات: ہلاکتوں کی تعداد 20، فوج بلانے کا مطالبہ&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;امریکی خاتون سینیٹر اور آئندہ انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار 70 سالہ ایلزبتھ وارن نے نئی دہلی میں ہونے والے مذہبی فسادات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ٹوئٹ کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ اگرچہ بھارت جیسے جمہوری ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھانا امریکا کے لیے اہم ہے تاہم اتنی ہمت اور سچائی ضرور ہونی چاہیے کہ اگر بھارت میں کچھ بھی غلط ہو رہا ہے تو اس پر کھل کر بات کر سکیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/ewarren/status/1232462840230903810"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صدارتی امیدوار کا کہنا تھا کہ ہمیں بھارت میں مذہبی آزادی، اظہار رائے کی آزادی اور پُرامن مظاہرین پر کیے جانے والے تشدد پر کھل کر بات کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے کی خبر کا لنک بھی شیئر کیا.&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/RepJayapal/status/1232419023025057793"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر رکن کانگریس پرملا جیاپل نے بھی نئی دہلی میں مذہبی فسادات پر اظہار افسوس کیا اور اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ’بھارت میں مذہب کے نام پر نہتے لوگوں کو مارنا خوفناک اور قابل مذمت ہے، جمہوری ممالک کو مذہبی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کے لیے کام کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ ’دنیا دیکھ رہی ہے کہ بھارت میں کیا ہو رہا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مسلم رکن کانگریس راشدہ طلیب نے بھی نئی دہلی میں مذہب کے نام پر مسلمانوں کے قتل عام کی مذمت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/RashidaTlaib/status/1232474345802321921"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;راشدہ طلیب نے لکھا کہ اسی ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ دورے پر بھارت گئے مگر وہاں کی اصل کہانی نئی دہلی میں مذہبی بنیاد پر مسلمانوں کا قتل عام ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ دنیا بھارت بھر میں اس طرح مسلمانوں کے خلاف تشدد اور قتل عام پر خاموش نہیں رہ سکتی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں امریکی قانون ساز ایلن لوونتھل نے بھی نئی دہلی میں مذہبی فسادات پر دکھ کا اظہار کیا اور لکھا کہ ’یہ سب کمزور اور اخلاقیات سے خالی قیادت کا نتیجہ ہے کہ بھارت جیسے ملک میں انسانی حقوق کی سرعام خلاف ورزی ہو رہی ہے'۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/RepLowenthal/status/1232423994718085121"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکی سیاستدانوں اور قانون سازوں کے علاوہ  انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر نظر رکھنے والے امریکی حکومت کے ادارے نے بھی نئی دہلی میں مسلمانوں کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکی حکومتی ادارے ’امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی‘ (یو ایس سی آئی آر ایف) نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ’نئی دہلی میں مسلمانوں کو ہجوم کے شکل میں مارنے کی خبریں آرہی ہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ساتھ ہی ادارے نے لکھا کہ وہ مذکورہ معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے متعدد ٹوئٹس کرکے نریندر مودی حکومت سے کہا ہے کہ 'وہ پرتشدد ہجوم کو ختم کرکے مذہبی و اقلیتی آزادی کو یقینی بنائیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/USCIRF/status/1232412818034561026"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں متنازع شہریت قانون پر جاری احتجاج میں 24 فروری سے اس وقت شدت آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے دورہ بھارت پر پہنچے اور پھر یہ احتجاج دیکھتے ہی دیکھتے پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہوگیا۔</p>

<p>مذکورہ مظاہروں کے دوران 24 سے 26 فروری کی دوپہر تک ہونے والی کشیدگی میں کم سے کم 20 افراد ہلاک جب کہ  200 سے زائد زخمی ہوگئے۔</p>

<p>مظاہروں نے دیکھتے ہی دیکھتے مذہبی فسادات کی صورت اختیار کرلی اور ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے مسلمانوں پر جان لیوا حملوں سمیت عبادت گاہوں پر بھی حملے کیے گئے۔</p>

<p>نئی دہلی میں ہونے والے فسادات پر جہاں پاکستانی سیاستدانوں نے مذمت کا اظہار کیا وہیں دیگر ممالک کے اعلیٰ حکام نے بھی افسوس کا اظہار کیا۔</p>

<p>نئی دہلی میں ہونے والے فسادات پر افسوس کا اظہار صرف پاکستانی اور مسلمان سیاستدانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکا کے بھی کئی سیاستدانوں اور قانون سازوں نے بھارت میں ہونے والے مذہبی فسادات پر افسوس کرتے ہوئے بھارتی حکام سے جلد از جلد امن بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔</p>

<h6 id='5e565d2c52570'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1121185/">دہلی میں مذہبی فسادات: ہلاکتوں کی تعداد 20، فوج بلانے کا مطالبہ</a></h6>

<p>امریکی خاتون سینیٹر اور آئندہ انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار 70 سالہ ایلزبتھ وارن نے نئی دہلی میں ہونے والے مذہبی فسادات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ٹوئٹ کی۔</p>

<p>انہوں نے لکھا کہ اگرچہ بھارت جیسے جمہوری ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھانا امریکا کے لیے اہم ہے تاہم اتنی ہمت اور سچائی ضرور ہونی چاہیے کہ اگر بھارت میں کچھ بھی غلط ہو رہا ہے تو اس پر کھل کر بات کر سکیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/ewarren/status/1232462840230903810"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>صدارتی امیدوار کا کہنا تھا کہ ہمیں بھارت میں مذہبی آزادی، اظہار رائے کی آزادی اور پُرامن مظاہرین پر کیے جانے والے تشدد پر کھل کر بات کرنا ہوگی۔</p>

<p>انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے کی خبر کا لنک بھی شیئر کیا.</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/RepJayapal/status/1232419023025057793"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ادھر رکن کانگریس پرملا جیاپل نے بھی نئی دہلی میں مذہبی فسادات پر اظہار افسوس کیا اور اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ’بھارت میں مذہب کے نام پر نہتے لوگوں کو مارنا خوفناک اور قابل مذمت ہے، جمہوری ممالک کو مذہبی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کے لیے کام کرنا چاہیے۔</p>

<p>انہوں نے لکھا کہ ’دنیا دیکھ رہی ہے کہ بھارت میں کیا ہو رہا ہے‘۔</p>

<p>مسلم رکن کانگریس راشدہ طلیب نے بھی نئی دہلی میں مذہب کے نام پر مسلمانوں کے قتل عام کی مذمت کی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/RashidaTlaib/status/1232474345802321921"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>راشدہ طلیب نے لکھا کہ اسی ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ دورے پر بھارت گئے مگر وہاں کی اصل کہانی نئی دہلی میں مذہبی بنیاد پر مسلمانوں کا قتل عام ہے۔</p>

<p>ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ دنیا بھارت بھر میں اس طرح مسلمانوں کے خلاف تشدد اور قتل عام پر خاموش نہیں رہ سکتی۔</p>

<p>علاوہ ازیں امریکی قانون ساز ایلن لوونتھل نے بھی نئی دہلی میں مذہبی فسادات پر دکھ کا اظہار کیا اور لکھا کہ ’یہ سب کمزور اور اخلاقیات سے خالی قیادت کا نتیجہ ہے کہ بھارت جیسے ملک میں انسانی حقوق کی سرعام خلاف ورزی ہو رہی ہے'۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/RepLowenthal/status/1232423994718085121"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>امریکی سیاستدانوں اور قانون سازوں کے علاوہ  انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر نظر رکھنے والے امریکی حکومت کے ادارے نے بھی نئی دہلی میں مسلمانوں کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا۔</p>

<p>امریکی حکومتی ادارے ’امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی‘ (یو ایس سی آئی آر ایف) نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ’نئی دہلی میں مسلمانوں کو ہجوم کے شکل میں مارنے کی خبریں آرہی ہیں‘۔</p>

<p>ساتھ ہی ادارے نے لکھا کہ وہ مذکورہ معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے متعدد ٹوئٹس کرکے نریندر مودی حکومت سے کہا ہے کہ 'وہ پرتشدد ہجوم کو ختم کرکے مذہبی و اقلیتی آزادی کو یقینی بنائیں‘۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/USCIRF/status/1232412818034561026"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1121202</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Feb 2020 16:57:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/02/5e565039e4583.jpg?r=1794653985" type="image/jpeg" medium="image" height="517" width="862">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/02/5e565039e4583.jpg?r=1244146789"/>
        <media:title>نئی دہلی میں فسادات کا آغاز 24 فروری سے ہوا—فوٹو: دی وائر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
