<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 03:55:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 03:55:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انسانوں کی مدد کے بغیر چلنے میں کامیاب ہونے والا روبوٹ تیار
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1121552/</link>
      <description>&lt;p&gt;اگر آپ نے ڈزنی اسٹوڈیوز کی مشہور زمانہ انیمیٹڈ فلم بامبی دیکھی ہے تو اس ہرن کی کہانی نے ضرور متاثر کیا ہے اور اب گوگل نے ایسا روبوٹ تیار کیا ہے جو اس کی طرح چلنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بہت زیادہ متاثر کن ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گوگل کے جارجیا انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی اور کیلیفورنیا یونیورسٹی بارکلے کے محققین نے اس حوالے سے &lt;a href="https://arxiv.org/pdf/2002.08550.pdf"&gt;مقالہ&lt;/a&gt; شائع کیا ہے جس میں اس روبوٹ کی تیاری میں کامیابی کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں جس کو چلنے کی تربیت دینے کے لیے اے آئی ٹیکنالوجی کو استعمال کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈیپ رینفورسمنٹ لرننگ نامی اے آئی ٹیکنالوجی کو اس روبوٹ میں استعمال کیا گیا جو کہ 2 مختلف اقسام کی اے آئی ٹیکنالوجیز کا امتزاج ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس میں ایک الگورتھم کسی ٹاسک کو سیکھنے میں مدد دیتا ہے جبکہ ڈیپ لرننگ سے سسٹمز کو ڈیٹا ان پٹ کو پراسیس اور آگے بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عام طور پر اس طرح کے الگورتھمز کو متحرک کمپیوٹر ماحول میں استعمال کیا جاتا ہے مگر گوگل کے محققین نے اپنے کام کو حقیقی دنیا تک بڑھانے میں کامیابی حاصل کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس روبوٹ کو سپاٹ سطح پر لایا گیا جہاں اس نے ڈیڑھ گھنٹے میں چلنا سیکھ لیا، اس کے بعد اسے ذرا مشکل سطح پر رکھا گیا جہاں پر چلنے کے لیے اسے ساڑھے 4 سے 5 گھنٹے کا وقت لگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ روبوٹ انسانوں کی مدد کے بغیر چلنا سیکھتے ہیں اور کچھ خامیوں پر الگورتھم میں مینوئلی تبدیلیاں کرکے روبوٹ کو مختلف ٹاسک مکمل کرنے میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا تھا کہ موثر طریقے سے چلنے والے روبوٹس کی تیاری روبوٹیکس ٹیکنالوجی کا مستقبل ہے، کیونکہ اس وقت انسانوں کے تیار کردہ متعدد مقامات ایسے ہیں، جہاں روبوٹ ٹانگیں استعمال نہ کرسکیں تو وہ انسانوں کی دنیا میں گھوم نہیں سکتے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/cwyiq6dCgOc?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اگر آپ نے ڈزنی اسٹوڈیوز کی مشہور زمانہ انیمیٹڈ فلم بامبی دیکھی ہے تو اس ہرن کی کہانی نے ضرور متاثر کیا ہے اور اب گوگل نے ایسا روبوٹ تیار کیا ہے جو اس کی طرح چلنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بہت زیادہ متاثر کن ہے۔</p>

<p>گوگل کے جارجیا انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی اور کیلیفورنیا یونیورسٹی بارکلے کے محققین نے اس حوالے سے <a href="https://arxiv.org/pdf/2002.08550.pdf">مقالہ</a> شائع کیا ہے جس میں اس روبوٹ کی تیاری میں کامیابی کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں جس کو چلنے کی تربیت دینے کے لیے اے آئی ٹیکنالوجی کو استعمال کیا گیا۔</p>

<p>ڈیپ رینفورسمنٹ لرننگ نامی اے آئی ٹیکنالوجی کو اس روبوٹ میں استعمال کیا گیا جو کہ 2 مختلف اقسام کی اے آئی ٹیکنالوجیز کا امتزاج ہے۔</p>

<p>اس میں ایک الگورتھم کسی ٹاسک کو سیکھنے میں مدد دیتا ہے جبکہ ڈیپ لرننگ سے سسٹمز کو ڈیٹا ان پٹ کو پراسیس اور آگے بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔</p>

<p>عام طور پر اس طرح کے الگورتھمز کو متحرک کمپیوٹر ماحول میں استعمال کیا جاتا ہے مگر گوگل کے محققین نے اپنے کام کو حقیقی دنیا تک بڑھانے میں کامیابی حاصل کی۔</p>

<p>اس روبوٹ کو سپاٹ سطح پر لایا گیا جہاں اس نے ڈیڑھ گھنٹے میں چلنا سیکھ لیا، اس کے بعد اسے ذرا مشکل سطح پر رکھا گیا جہاں پر چلنے کے لیے اسے ساڑھے 4 سے 5 گھنٹے کا وقت لگا۔</p>

<p>یہ روبوٹ انسانوں کی مدد کے بغیر چلنا سیکھتے ہیں اور کچھ خامیوں پر الگورتھم میں مینوئلی تبدیلیاں کرکے روبوٹ کو مختلف ٹاسک مکمل کرنے میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔</p>

<p>محققین کا کہنا تھا کہ موثر طریقے سے چلنے والے روبوٹس کی تیاری روبوٹیکس ٹیکنالوجی کا مستقبل ہے، کیونکہ اس وقت انسانوں کے تیار کردہ متعدد مقامات ایسے ہیں، جہاں روبوٹ ٹانگیں استعمال نہ کرسکیں تو وہ انسانوں کی دنیا میں گھوم نہیں سکتے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/cwyiq6dCgOc?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1121552</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Mar 2020 23:30:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/03/5e5d5089bd58d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/03/5e5d5089bd58d.jpg"/>
        <media:title>— اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
