<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 04:37:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 04:37:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئین و قانون کے مطابق ’عورت مارچ‘ کو روکا نہیں جا سکتا، عدالت
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1121581/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور ہائی کورٹ نے ’عورت مارچ‘ کے حوالے سے دائر درخواست کو نمٹاتے ہوئے کہا ہے کہ ’آئین و قانون کے مطابق عورت مارچ کو روکا نہیں جاسکتا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لاہور ہائی کورٹ میں گزشتہ ماہ 24 فروری کو عورت مارچ کے خلاف جوڈیشل ایکٹیوزم کونسل کے چیئرمین اظہر صدیقی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر آج سماعت ہوئی اور چیف جسٹس  مامون الرشید کی سربراہی میں بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سماعت کے دوران اظہر صدیقی، ان کے ساتھی وکیل اور عورت مارچ کے منتظمین کے وکیل ثاقب جیلانی پیش ہوئے جب کہ سماعت کے دوران پولیس نے عدالتی احکامات پر اپنی رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ پولیس عورت مارچ کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنی تحریری رپورٹ میں پولیس نے بتایا کہ مختلف سول سوسائٹی کے ارکان کے اعتراضات سنے اور کسی کو بھی ’عورت مارچ‘ پر اعتراض نہیں تاہم کچھ افراد کو ’عورت مارچ‘ کے طریقہ کار پر تحفظات ہی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس نے بتایا کہ عورت مارچ میں استعمال ہونے والے بینرز اور سلوگنز پر سائلین کو اعتراضات ہیں جب کہ حساس علاقے مال روڈ پر کسی بھی طرح کے احتجاج پر مکمل پابندی عائد ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنی تحریری رپورٹ میں پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عورت مارچ کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5e5e24e864fd7'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1121072"&gt;لاہور ہائی کورٹ: عورت مارچ رکوانے کی درخواست سماعت کیلئے منظور&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;سماعت کے دوران خواتین کے وکیل ثاقب جیلانی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ منتظمین یہ گارنٹی دینے کو تیار ہیں کہ قانون و آئین کے بر عکس کوئی اقدام نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ثاقب جیلانی نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کے وکیل نے عورت مارچ کو ریاست مخالف ایجنڈا کہا ہے جو بہت خطرناک الزام ہے جس پر اظہر صدیقی کے وکیل نے کہا کہ انہوں نے عورت مارچ کو رکوانے کی درخواست نہیں کی کیوں کہ خواتین معاشرے کا حسن ہیں تاہم عورت مارچ قانون و آئین کے دائرے میں رہ کر ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اظہر صدیقی کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ دنیا میں یہ تاثر ہے کہ پاکستان میں خواتین کو دبا کر رکھا جاتا ہے اور مارچ میں میرا جسم میری مرضی کی باتیں ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وکلا کے دلائل سننے پر عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عورت مارچ کے آرگنائزرز کی ذمہ داری ہے کہ غیر اخلاقی سلوگن نہیں ہونے چاہیئں کیوں کہ غیر اخلاقی سلوگن اچھی بات نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ درخواست گزار کو بھی عورت مارچ کے انعقاد پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور منتظمین و شرکا کو آئین و قانون کے اندر رہ کر عورت مارچ کرنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ غیر اخلاقی سلوگن (نعرے) نہ ہوں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت نے کہا کہ پولیس نے بھی تحریری جواب داخل کرایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عورت مارچ کو سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5e5e24e865007'&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1121273/"&gt;اظہار رائے پر پابندی نہیں لگا سکتے، لاہور ہائی کورٹ &lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;اس دوران عدالت نے مارچ کے وکیل سے استفسار کیا کہ عورت مارچ میں کتنے لوگ شریک ہو رہے ہی اور کیا مارچ میں خواتین سمیت مرد اور خواجہ سرا بھی شرکت کریں گے؟ جس پر خواتین کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ  مارچ میں 4 سے 5 ہزار لوگ شرکت کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خواتین کے وکیل کی جانب سے جوابات دیے جانے کے بعد عدالت نے اپنے اہم ریمارکس میں کہا کہ ’آئین و قانون کے مطابق عورت مارچ کو نہیں روکا جا سکتا‘ جس کے بعد عدالت نے ضلعی انتظامیہ، پولیس، مارچ منتظمین کو ہدایت کی کہ مارچ میں کسی طرح کے غیر اخلاقی سلوگن نہیں ہونے چاہئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ خواتین رہنماؤں نے لاہور سمیت اسلام آباد، کراچی، حیدرآباد، سکھر، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں عالمی یوم خواتین کے موقع پر 8 مارچ کو عورت مارچ منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور پاکستان میں گزشتہ 2 سال سے ان مارچ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ سال پہلی مرتبہ پاکستان کے مختلف شہروں میں ’عورت مارچ‘ منعقد ہوا تھا جس میں بڑی تعداد میں خواتین شامل ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کراچی سے  لے کر لاہور اور اسلام آباد سے حیدرآباد تک ہونے والے عورت مارچ میں خواتین نے درجنوں منفرد نعروں کے بینر اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن میں کچھ بینرز پر مختلف طقبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے تنقید بھی کی تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/03/5c826cfc5304e.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/03/5c826cfc5304e.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/03/5c826cfc5304e.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/03/5c826cfc5304e.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="آئندہ ہفتے 8 مارچ کو پاکستان بھر میں عورت مارچ ہوں گے&amp;mdash;فائل فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;آئندہ ہفتے 8 مارچ کو پاکستان بھر میں عورت مارچ ہوں گے—فائل فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور ہائی کورٹ نے ’عورت مارچ‘ کے حوالے سے دائر درخواست کو نمٹاتے ہوئے کہا ہے کہ ’آئین و قانون کے مطابق عورت مارچ کو روکا نہیں جاسکتا‘۔</p>

<p>لاہور ہائی کورٹ میں گزشتہ ماہ 24 فروری کو عورت مارچ کے خلاف جوڈیشل ایکٹیوزم کونسل کے چیئرمین اظہر صدیقی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر آج سماعت ہوئی اور چیف جسٹس  مامون الرشید کی سربراہی میں بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ </p>

<p>سماعت کے دوران اظہر صدیقی، ان کے ساتھی وکیل اور عورت مارچ کے منتظمین کے وکیل ثاقب جیلانی پیش ہوئے جب کہ سماعت کے دوران پولیس نے عدالتی احکامات پر اپنی رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ پولیس عورت مارچ کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرے گی۔</p>

<p>اپنی تحریری رپورٹ میں پولیس نے بتایا کہ مختلف سول سوسائٹی کے ارکان کے اعتراضات سنے اور کسی کو بھی ’عورت مارچ‘ پر اعتراض نہیں تاہم کچھ افراد کو ’عورت مارچ‘ کے طریقہ کار پر تحفظات ہی۔</p>

<p>پولیس نے بتایا کہ عورت مارچ میں استعمال ہونے والے بینرز اور سلوگنز پر سائلین کو اعتراضات ہیں جب کہ حساس علاقے مال روڈ پر کسی بھی طرح کے احتجاج پر مکمل پابندی عائد ہے۔</p>

<p>اپنی تحریری رپورٹ میں پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عورت مارچ کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔</p>

<h6 id='5e5e24e864fd7'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1121072">لاہور ہائی کورٹ: عورت مارچ رکوانے کی درخواست سماعت کیلئے منظور</a></h6>

<p>سماعت کے دوران خواتین کے وکیل ثاقب جیلانی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ منتظمین یہ گارنٹی دینے کو تیار ہیں کہ قانون و آئین کے بر عکس کوئی اقدام نہیں ہوگا۔</p>

<p>ثاقب جیلانی نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کے وکیل نے عورت مارچ کو ریاست مخالف ایجنڈا کہا ہے جو بہت خطرناک الزام ہے جس پر اظہر صدیقی کے وکیل نے کہا کہ انہوں نے عورت مارچ کو رکوانے کی درخواست نہیں کی کیوں کہ خواتین معاشرے کا حسن ہیں تاہم عورت مارچ قانون و آئین کے دائرے میں رہ کر ہونا چاہیے۔</p>

<p>اظہر صدیقی کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ دنیا میں یہ تاثر ہے کہ پاکستان میں خواتین کو دبا کر رکھا جاتا ہے اور مارچ میں میرا جسم میری مرضی کی باتیں ہوتی ہیں۔</p>

<p>وکلا کے دلائل سننے پر عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عورت مارچ کے آرگنائزرز کی ذمہ داری ہے کہ غیر اخلاقی سلوگن نہیں ہونے چاہیئں کیوں کہ غیر اخلاقی سلوگن اچھی بات نہیں ہیں۔</p>

<p>چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ درخواست گزار کو بھی عورت مارچ کے انعقاد پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور منتظمین و شرکا کو آئین و قانون کے اندر رہ کر عورت مارچ کرنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ غیر اخلاقی سلوگن (نعرے) نہ ہوں۔ </p>

<p>عدالت نے کہا کہ پولیس نے بھی تحریری جواب داخل کرایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عورت مارچ کو سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔</p>

<h6 id='5e5e24e865007'>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1121273/">اظہار رائے پر پابندی نہیں لگا سکتے، لاہور ہائی کورٹ </a></h6>

<p>اس دوران عدالت نے مارچ کے وکیل سے استفسار کیا کہ عورت مارچ میں کتنے لوگ شریک ہو رہے ہی اور کیا مارچ میں خواتین سمیت مرد اور خواجہ سرا بھی شرکت کریں گے؟ جس پر خواتین کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ  مارچ میں 4 سے 5 ہزار لوگ شرکت کریں گے۔</p>

<p>خواتین کے وکیل کی جانب سے جوابات دیے جانے کے بعد عدالت نے اپنے اہم ریمارکس میں کہا کہ ’آئین و قانون کے مطابق عورت مارچ کو نہیں روکا جا سکتا‘ جس کے بعد عدالت نے ضلعی انتظامیہ، پولیس، مارچ منتظمین کو ہدایت کی کہ مارچ میں کسی طرح کے غیر اخلاقی سلوگن نہیں ہونے چاہئیں۔</p>

<p>خیال رہے کہ خواتین رہنماؤں نے لاہور سمیت اسلام آباد، کراچی، حیدرآباد، سکھر، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں عالمی یوم خواتین کے موقع پر 8 مارچ کو عورت مارچ منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور پاکستان میں گزشتہ 2 سال سے ان مارچ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔</p>

<p>گزشتہ سال پہلی مرتبہ پاکستان کے مختلف شہروں میں ’عورت مارچ‘ منعقد ہوا تھا جس میں بڑی تعداد میں خواتین شامل ہوئی تھیں۔</p>

<p>کراچی سے  لے کر لاہور اور اسلام آباد سے حیدرآباد تک ہونے والے عورت مارچ میں خواتین نے درجنوں منفرد نعروں کے بینر اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن میں کچھ بینرز پر مختلف طقبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے تنقید بھی کی تھی۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/03/5c826cfc5304e.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/03/5c826cfc5304e.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/03/5c826cfc5304e.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/03/5c826cfc5304e.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="آئندہ ہفتے 8 مارچ کو پاکستان بھر میں عورت مارچ ہوں گے&mdash;فائل فوٹو: اے ایف پی" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">آئندہ ہفتے 8 مارچ کو پاکستان بھر میں عورت مارچ ہوں گے—فائل فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1121581</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Mar 2020 14:35:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رانا بلال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/03/5e5e077b7bac7.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/03/5e5e077b7bac7.jpg?0.5664448693004762"/>
        <media:title>خواتین نے 8 مارچ کو عورت مارچ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
