<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:14:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:14:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین نے کراچی جانے والے بحری جہاز پر فوجی سامان ہونے کا بھارتی دعویٰ مسترد کردیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1121774/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: چین نے بھارت کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کردیا ہے کہ کراچی کے لیے روانہ ہونے والے زیر حراست چینی تجارتی بحری جہاز پر ایسا سامان موجود تھا جو عدم پھیلاؤ اور برآمداتی کنٹرول کی پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لیجیان شاؤ نے بیجنگ میں ایک میڈیا بریفنگ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’چین سے پاکستان جانے والے بحری جہاز کو بھارت نے حراست میں لیا تھا لیکن جہاز پر موجود آٹو کلیو، جس کے بارے میں بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ بیلسٹک میزائلز میں استعمال ہوسکتا ہے، وہ برآمدات پر کنٹرول اور عدم پھیلاؤ کے تحت نہ تو فوجی سازو سامان تھا اور نہ ہی دہرے استعمال کی چیز ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ چین ایک ذمہ دار ملک ہے اور عدام پھیلاؤ سے متعلق بین الاقوامی پابندیوں اور عالمی وعدوں کی پاسداری کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102316"&gt;پاکستان اور چین آزادانہ تجارتی معاہدے کے نئے دور میں داخل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چینی حکومت کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ بحری جہاز کو چلانے والوں نے سچائی کے ساتھ بھارتی حکام کو جہاز پر موجود سامان کے بارے میں آگاہ کیا تھا اس لیے اس میں کوئی چھپی ہوئی یا جھوٹ بات نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ بھارتی حکام نے چینی تجارتی بحری جہاز ایم وی ڈی اے سیو یون کو فروری کے اوائل میں دیندیال پورٹ پر حراست میں لیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ اس میں آٹو کلیو موجود ہے جسے کارگو منشور میں غلط ظاہر کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ آٹو کلیو میزائل بنانے میں استعمال ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1112446"&gt;چینی صدر، بھارت کے تجارتی خسارے سے نمٹنے کیلئے متفق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے بعد فوجی ریسرچ اور ڈیولپمنٹ کرنے والی بھارت کی دفاعی تحقیق اور ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی ایک ٹیم نے مشتبہ کارگو کا جائزہ لیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق بحری جہاز کے خلاف بھارت نے اقدامات ایک ’تیسرے ملک‘ کی فراہم کردہ خفیہ اطلاعات پر کیے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1538759/china-rejects-indian-claim-karachi-bound-ship-has-mly-supplies"&gt;یہ خبر&lt;/a&gt; 6 مارچ 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: چین نے بھارت کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کردیا ہے کہ کراچی کے لیے روانہ ہونے والے زیر حراست چینی تجارتی بحری جہاز پر ایسا سامان موجود تھا جو عدم پھیلاؤ اور برآمداتی کنٹرول کی پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔</p>

<p>چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لیجیان شاؤ نے بیجنگ میں ایک میڈیا بریفنگ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’چین سے پاکستان جانے والے بحری جہاز کو بھارت نے حراست میں لیا تھا لیکن جہاز پر موجود آٹو کلیو، جس کے بارے میں بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ بیلسٹک میزائلز میں استعمال ہوسکتا ہے، وہ برآمدات پر کنٹرول اور عدم پھیلاؤ کے تحت نہ تو فوجی سازو سامان تھا اور نہ ہی دہرے استعمال کی چیز ہے‘۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ چین ایک ذمہ دار ملک ہے اور عدام پھیلاؤ سے متعلق بین الاقوامی پابندیوں اور عالمی وعدوں کی پاسداری کرتا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102316">پاکستان اور چین آزادانہ تجارتی معاہدے کے نئے دور میں داخل</a></strong></p>

<p>چینی حکومت کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ بحری جہاز کو چلانے والوں نے سچائی کے ساتھ بھارتی حکام کو جہاز پر موجود سامان کے بارے میں آگاہ کیا تھا اس لیے اس میں کوئی چھپی ہوئی یا جھوٹ بات نہیں ہے۔</p>

<p>واضح رہے کہ بھارتی حکام نے چینی تجارتی بحری جہاز ایم وی ڈی اے سیو یون کو فروری کے اوائل میں دیندیال پورٹ پر حراست میں لیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ اس میں آٹو کلیو موجود ہے جسے کارگو منشور میں غلط ظاہر کیا گیا۔</p>

<p>بھارتی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ آٹو کلیو میزائل بنانے میں استعمال ہوسکتا ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1112446">چینی صدر، بھارت کے تجارتی خسارے سے نمٹنے کیلئے متفق</a></strong> </p>

<p>جس کے بعد فوجی ریسرچ اور ڈیولپمنٹ کرنے والی بھارت کی دفاعی تحقیق اور ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی ایک ٹیم نے مشتبہ کارگو کا جائزہ لیا تھا۔</p>

<p>رپورٹس کے مطابق بحری جہاز کے خلاف بھارت نے اقدامات ایک ’تیسرے ملک‘ کی فراہم کردہ خفیہ اطلاعات پر کیے۔</p>

<hr />

<p><strong><a href="https://www.dawn.com/news/1538759/china-rejects-indian-claim-karachi-bound-ship-has-mly-supplies">یہ خبر</a> 6 مارچ 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1121774</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Mar 2020 20:30:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/03/5e61cf3ada238.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/03/5e61cf3ada238.jpg"/>
        <media:title>بھارتی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ آٹو کلیو میزائل بنانے میں استعمال ہوسکتا ہے—تصویر: ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
