<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 31 May 2026 10:50:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 31 May 2026 10:50:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس میں توسیع مل گئی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1121843/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: یورپی پارلیمان کی بین الاقوامی تجارتی کمیٹی (آئی این ٹی اے) نے پاکستان کے لیے جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنس-پلس (جی ایس پی پلس) کے اسٹیٹس میں توسیع کردی جس سے پاکستان آئندہ 2 برس تک برآمدات پر ترجیحی ڈیوٹیز سے فائدہ اٹھاسکے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1538967/pakistan-wins-gsp-plus-extension"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق جی ایس پی پلس کی سہولت پاکستان کو جنوری 2014 سے دستیاب تھی لیکن اس کا تسلسل جی ایس پی پلس کے 27 مرکزی کنوینشنز بالخصوص نیشنل ایکشن پلان برائے انسانی حقوق پر عملدرآمد کے لیے نئے قوانین کے نفاذ اور نئے اداروں کے قیام میں اسلام آباد کی پیشرفت کے لیے اعزاز ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان کی تیسری دو سالہ جائزاتی رپورٹ یورپی کمیشن نے 10 فروری کو شائع کی تھی جس پر آئی این ٹی اے نے 19 فروری جبکہ جی ایس پی ورکنگ پارٹی برائے یورپی کونسل نے ایک ہفتے بعد بات چیت کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/135978"&gt;جی ایس پی کا درجہ ملنے سے پاکستانی برآمدات میں اضافے کا امکان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یورپی کمیشن اور ایکسٹرنل سروس ایکشن نے دونوں فورمز پر جی ایس پی پلس اسکیم کو جاری رکھنے کی سفارش کی تھی اور آئندہ 2 سالہ مانٹینرنگ سائیکل کے لیے اپنی نگرانی کی ترجیحات بیان کی تھیں جو رپورٹ میں دی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ یورپی یونین حکام جی ایس پی پلس کے تیسرے دو سالہ جائزے کے نتائج سے مطمئن ہیں اور اپنی توجہ اگلے دو سالہ مانیٹرنگ سائیکل پر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جی ایس پی پلس کے تیسرے دو سالہ جائزے کے نتائج کی روشنی میں وزارت تجارت نے جی ایس پی پلس سے متعلقہ 27 کنوینشز پر عملدرآمد کے لیے قوانین کی تشکیل، پالیسیز بنانے اور اداروں کے قیام میں تعاون پر تمام وزارتوں، صوبائی اور وفاقی محکموں کے ساتھ ساتھ حکومت آزاد کشمیر اور حکومت گلگت بلتستان کی کاوشوں کو سراہا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1119976"&gt;ملکی برآمدات میں 2 ماہ سے مسلسل کمی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے جاری ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ محکمہ تجارت ’معاہدے پر عملدرآمد کے سیل کے سربراہ‘ کی حیثیت سے جی ایس پی سے متعلقہ کنوینشنز پر عملدرآمد میں ہم آہنگی اور رہنمائی کے لیے اٹارنی جنرل کی اعانت کو بھی سراہتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ پاکستان کا پہلا 2 سالہ جی ایس پی پلس جائزہ 2016 میں ہوا تھا جس کے بعد فروری 2018 میں ایک اور جائزہ ہوا جبکہ تیسرے دو سالہ جائزے کی رپورٹ یورپی کمیشن نے رواں برس فروری میں شائع کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;معاشی اعتبار سے پاکستان اس اسکیم سے نمایاں فوائد اٹھانے والا ہے جو دنیا کے دیگر 9 ممالک بھی حاصل کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں پاکستان کو یورپی یونین کی 27 رکن ریاستوں میں ڈیوٹی فری رسائی دستیاب ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1002550"&gt;یہ بھی پڑھیں: آزاد لیکن منصفانہ تجارت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ یورپی یونین کے لیے پاکستانی برآمدات کا حجم جی ایس پی پلس اسٹیٹس سے قبل 2013 میں 4 ارب 53 کروڑ 80 لاکھ یورو تھا جو 2019 تک 65 فیصد اضافے کے بعد 7 ارب 49 کروڑ 20 لاکھ یورو ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جی ایس پی پلس اسٹیس سے جن شعبوں کو فائدہ ہوگا اس میں ٹیکسٹائل اور گارمنٹ نمایاں ہیں جو نہ صرف ملک کے لیے زرِ مبادلہ حاصل کررہے ہیں بلکہ ملازمتوں کے مواقع خصوصاً خواتین کے لیے فراہم کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ ڈیوٹی فری رسائی پاکستانی مصنوعات کے لیے انتہائی اہم ہے تاکہ یورپی منڈیوں میں چین، ویتنام، بھارت اور ترکی سے آنے والی یکساں مصنوعات کے ساتھ اس کی برتری بھی برقرار رہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ اسٹیٹس یورپی یونین کو برآمد کی جانے والی مصنوعات کی 66 فیصد اقسام میں ٹیرف کے مکمل خاتمے کی سہولت دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: یورپی پارلیمان کی بین الاقوامی تجارتی کمیٹی (آئی این ٹی اے) نے پاکستان کے لیے جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنس-پلس (جی ایس پی پلس) کے اسٹیٹس میں توسیع کردی جس سے پاکستان آئندہ 2 برس تک برآمدات پر ترجیحی ڈیوٹیز سے فائدہ اٹھاسکے گا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1538967/pakistan-wins-gsp-plus-extension">رپورٹ</a></strong> کے مطابق جی ایس پی پلس کی سہولت پاکستان کو جنوری 2014 سے دستیاب تھی لیکن اس کا تسلسل جی ایس پی پلس کے 27 مرکزی کنوینشنز بالخصوص نیشنل ایکشن پلان برائے انسانی حقوق پر عملدرآمد کے لیے نئے قوانین کے نفاذ اور نئے اداروں کے قیام میں اسلام آباد کی پیشرفت کے لیے اعزاز ہے۔</p>

<p>پاکستان کی تیسری دو سالہ جائزاتی رپورٹ یورپی کمیشن نے 10 فروری کو شائع کی تھی جس پر آئی این ٹی اے نے 19 فروری جبکہ جی ایس پی ورکنگ پارٹی برائے یورپی کونسل نے ایک ہفتے بعد بات چیت کی تھی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/135978">جی ایس پی کا درجہ ملنے سے پاکستانی برآمدات میں اضافے کا امکان</a></strong></p>

<p>یورپی کمیشن اور ایکسٹرنل سروس ایکشن نے دونوں فورمز پر جی ایس پی پلس اسکیم کو جاری رکھنے کی سفارش کی تھی اور آئندہ 2 سالہ مانٹینرنگ سائیکل کے لیے اپنی نگرانی کی ترجیحات بیان کی تھیں جو رپورٹ میں دی گئی تھیں۔</p>

<p>یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ یورپی یونین حکام جی ایس پی پلس کے تیسرے دو سالہ جائزے کے نتائج سے مطمئن ہیں اور اپنی توجہ اگلے دو سالہ مانیٹرنگ سائیکل پر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔</p>

<p>جی ایس پی پلس کے تیسرے دو سالہ جائزے کے نتائج کی روشنی میں وزارت تجارت نے جی ایس پی پلس سے متعلقہ 27 کنوینشز پر عملدرآمد کے لیے قوانین کی تشکیل، پالیسیز بنانے اور اداروں کے قیام میں تعاون پر تمام وزارتوں، صوبائی اور وفاقی محکموں کے ساتھ ساتھ حکومت آزاد کشمیر اور حکومت گلگت بلتستان کی کاوشوں کو سراہا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1119976">ملکی برآمدات میں 2 ماہ سے مسلسل کمی</a></strong> </p>

<p>اس حوالے سے جاری ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ محکمہ تجارت ’معاہدے پر عملدرآمد کے سیل کے سربراہ‘ کی حیثیت سے جی ایس پی سے متعلقہ کنوینشنز پر عملدرآمد میں ہم آہنگی اور رہنمائی کے لیے اٹارنی جنرل کی اعانت کو بھی سراہتا ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ پاکستان کا پہلا 2 سالہ جی ایس پی پلس جائزہ 2016 میں ہوا تھا جس کے بعد فروری 2018 میں ایک اور جائزہ ہوا جبکہ تیسرے دو سالہ جائزے کی رپورٹ یورپی کمیشن نے رواں برس فروری میں شائع کی تھی۔</p>

<p>معاشی اعتبار سے پاکستان اس اسکیم سے نمایاں فوائد اٹھانے والا ہے جو دنیا کے دیگر 9 ممالک بھی حاصل کررہے ہیں۔</p>

<p>اس کے نتیجے میں پاکستان کو یورپی یونین کی 27 رکن ریاستوں میں ڈیوٹی فری رسائی دستیاب ہوگی۔</p>

<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1002550">یہ بھی پڑھیں: آزاد لیکن منصفانہ تجارت</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ یورپی یونین کے لیے پاکستانی برآمدات کا حجم جی ایس پی پلس اسٹیٹس سے قبل 2013 میں 4 ارب 53 کروڑ 80 لاکھ یورو تھا جو 2019 تک 65 فیصد اضافے کے بعد 7 ارب 49 کروڑ 20 لاکھ یورو ہوگیا تھا۔</p>

<p>جی ایس پی پلس اسٹیس سے جن شعبوں کو فائدہ ہوگا اس میں ٹیکسٹائل اور گارمنٹ نمایاں ہیں جو نہ صرف ملک کے لیے زرِ مبادلہ حاصل کررہے ہیں بلکہ ملازمتوں کے مواقع خصوصاً خواتین کے لیے فراہم کررہے ہیں۔</p>

<p>واضح رہے کہ ڈیوٹی فری رسائی پاکستانی مصنوعات کے لیے انتہائی اہم ہے تاکہ یورپی منڈیوں میں چین، ویتنام، بھارت اور ترکی سے آنے والی یکساں مصنوعات کے ساتھ اس کی برتری بھی برقرار رہے۔</p>

<p>یہ اسٹیٹس یورپی یونین کو برآمد کی جانے والی مصنوعات کی 66 فیصد اقسام میں ٹیرف کے مکمل خاتمے کی سہولت دیتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1121843</guid>
      <pubDate>Sat, 07 Mar 2020 14:51:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/03/5e63111b25c9c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/03/5e63111b25c9c.jpg"/>
        <media:title>پاکستان کی تیسری دو سالہ جائزاتی رپورٹ یورپیئن کمیشن نے 10 فروری کو شائع کی تھی — تصویر: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
