<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 03:06:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 22 Jun 2026 03:06:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب میں ایک لاکھ 74 ہزار خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1121974/</link>
      <description>&lt;p&gt;اہم ترین اسلامی ملک سعودی عرب کی حکومت نے گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ملک بھر کی ایک لاکھ 74 ہزار 624 خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کردیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سعودی حکومت نے ستمبر 2017 میں خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد جون 2018 کے آغاز میں ہی سعودی حکومت نے خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا شروع کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے جانے کے اعلان کے کچھ دن بعد 23 اور 24 جون کی درمیانی شب حکومت نے خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی کو ختم کردیا تھا، جس کے اگلے ہی روز سعودی خواتین تقریبا تین دہائیوں بعد ڈرائیونگ کرتے ہوئے گاڑیاں سڑکوں پر لائی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سعودی عرب میں تین دہائیوں قبل خواتین کی ڈرائیونگ پر نامعلوم وجوہات کی بنا پر پابندی عائد کی گئی تھی اور اس قدم پر سعودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5e66452d34c5b'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1080958"&gt;سعودی عرب میں خواتین نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;سعودی عرب کے ولی عہد شہزاد محمد بن سلمان کے 2030 کے وژن کے تحت حکومت نے خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی ختم کرنے سمیت انہیں دیگر طرح کی آزادیاں بھی دیں اور عالمی یوم خواتین کے موقع پر سعودی حکومت کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں پونے 2 لاکھ خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس دیے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سعودی گزٹ کے مطابق ’سعودی پریس ایجنسی نے محکمہ شماریات کی جانب سے 8 مارچ کو یوم خواتین کے موقع پر جاری کردہ رپورٹ میں بتایا کہ ملک میں گزشتہ 19 ماہ کے دوران ایک لاکھ 76 ہزار 624 خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5e66452d34c84'&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1080916"&gt;سعودیہ میں خواتین کی ڈرائیونگ سے قبل گاڑیوں کی مانگ میں اضافہ&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے والی تقریبا 85 فیصد خواتین کا تعلق دارالحکومت ریاض، مکہ مکرمہ اور مشرقی صوبے سے ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکومتی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سعودی عرب میں خواتین کی مجموعی آبادی کا 49 فیصد حصہ ہے اور ملک کی نصف آبادی 25 سال کے نوجوان افراد پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ جہاں سعودی عرب کی مجموعی آبادی کا 49 فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے اور خواتین کی نصف آبادی کی عمر 27 سال تک ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اہم ترین اسلامی ملک سعودی عرب کی حکومت نے گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ملک بھر کی ایک لاکھ 74 ہزار 624 خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کردیے۔</p>

<p>سعودی حکومت نے ستمبر 2017 میں خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد جون 2018 کے آغاز میں ہی سعودی حکومت نے خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا شروع کیا تھا۔</p>

<p>خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے جانے کے اعلان کے کچھ دن بعد 23 اور 24 جون کی درمیانی شب حکومت نے خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی کو ختم کردیا تھا، جس کے اگلے ہی روز سعودی خواتین تقریبا تین دہائیوں بعد ڈرائیونگ کرتے ہوئے گاڑیاں سڑکوں پر لائی تھیں۔</p>

<p>سعودی عرب میں تین دہائیوں قبل خواتین کی ڈرائیونگ پر نامعلوم وجوہات کی بنا پر پابندی عائد کی گئی تھی اور اس قدم پر سعودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا۔</p>

<h6 id='5e66452d34c5b'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1080958">سعودی عرب میں خواتین نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی</a></h6>

<p>سعودی عرب کے ولی عہد شہزاد محمد بن سلمان کے 2030 کے وژن کے تحت حکومت نے خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی ختم کرنے سمیت انہیں دیگر طرح کی آزادیاں بھی دیں اور عالمی یوم خواتین کے موقع پر سعودی حکومت کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں پونے 2 لاکھ خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس دیے گئے۔</p>

<p>سعودی گزٹ کے مطابق ’سعودی پریس ایجنسی نے محکمہ شماریات کی جانب سے 8 مارچ کو یوم خواتین کے موقع پر جاری کردہ رپورٹ میں بتایا کہ ملک میں گزشتہ 19 ماہ کے دوران ایک لاکھ 76 ہزار 624 خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے گئے۔</p>

<h6 id='5e66452d34c84'>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1080916">سعودیہ میں خواتین کی ڈرائیونگ سے قبل گاڑیوں کی مانگ میں اضافہ</a></h6>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے والی تقریبا 85 فیصد خواتین کا تعلق دارالحکومت ریاض، مکہ مکرمہ اور مشرقی صوبے سے ہے۔</p>

<p>حکومتی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سعودی عرب میں خواتین کی مجموعی آبادی کا 49 فیصد حصہ ہے اور ملک کی نصف آبادی 25 سال کے نوجوان افراد پر مشتمل ہے۔</p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ جہاں سعودی عرب کی مجموعی آبادی کا 49 فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے اور خواتین کی نصف آبادی کی عمر 27 سال تک ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1121974</guid>
      <pubDate>Mon, 09 Mar 2020 18:31:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/03/5e6642021b701.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/03/5e6642021b701.jpg?0.6246338056961798"/>
        <media:title>سعودی عرب نے جون 2018 میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی تھی—فوٹو: سعودی گزٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
