<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 16:48:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 16:48:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنا مشکل کیوں ہے؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1122618/</link>
      <description>&lt;p&gt;سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ نئے نوول کورونا وائرس کے 10 فیصد سے زیادہ مریضوں میں یہ مرض ایسے افراد سے منتقل ہوا جو متاثر تو تھے مگر ان میں علامات ظاہر نہیں ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی &lt;a href="https://www.sciencedaily.com/releases/2020/03/200316143313.htm"&gt;تحقیق&lt;/a&gt; میں سامنے آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1119296' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹیکساس یونیورسٹی کی اس تحقیق میں امریکا، فرانس، چین اور ہانگ کانگ کے سائنسدان شامل تھے اور انہوں نے مریضوں میں علامات نمودار ہونے کے وقت کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس میں سے ایسے مریض بھی شامل تھے جن میں کسی اور سے یہ وائرس منتقل ہوا جبکہ بعد میں اس مریض نے دوسرے فرد کو اس سے متاثر کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جریدے ایمرجنگ انفیکشز ڈیزیز میں شائع تحقیق میں محققین نے وائرس کی اوسط ٹرانسمیشن چین دورانیے کو دریافت کیا جو کہ 4 دن تھا اور یہ ان اولین تحقیقی رپورٹس میں سے ایک ہے جس میں بغیر علامات ظاہر ہوئے بغیر وائرس کی منتقلی کی شرح کا تخمینہ لگایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وبا کے پھیلنے کی رفتار کا انحصار 2 عناصر پر ہوتا ہے، یعنی ایک مریض سے مزید کتنے افراد متاثر ہوئے اور لوگوں کے درمیان انفیکشن کی منتقلی کو کتنا وقت لگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پہلے عنصر کو ری پروڈکشن نمبر کہا جاتا ہے جبکہ دوسرے کو سیریل انٹرول۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کووڈ 19 کے مختصر سیریل انٹرول کا مطلب ہے کہ یہ وبا  بہت تیزی سے پھیل رہی ہے اور اسے روکنا بہت مشکل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا تھا کہ ایبولا میں سیریل انٹرول کی اوسط کئی ہفتوں پر مبنی تھی اور اسے انفلوائنزا کے مقابلے میں روکنا زیادہ آسان تھا، جس میں سیریل انٹرول کا دورانیہ چند روز ہی ہوتا ہے، مگر ڈیٹا سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ نیا کورونا وائرس ممکنہ طور پر فلو کی طرح ہی پھیل رہا ہے اور اس کا مطلب ہے کہ ہمیں اس خطرے کی روک تھام کے لیے فوری اور جارحانہ اقدامات کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے چین کے 93 شہروں میں رپورٹ ہونے والے 450 سے زائد کیسز کا معائنہ کرنے کے بعد اب تک کے ٹھوس شواہد حاصل کیے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر علامات ظاہر کیے بھی لوگ وائرس کو دیگر افراد میں منتقل کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق ہر 10 میں سے ایک مریض ایسا تھا جس میں وائرس تو موجود تھا مگر اس میں بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں یا وہ خود کو صحت مند سمجھتا رہا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل سائنسدان اس حوالے سے یقین سے کہنے سے قاصر تھے کہ کورونا وائرس میں بغیر علامات کے بھی وائرس ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہوسکتا ہے مگر نئے شواہد سے طی حکام کو اس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے نئے ضوابط بنانے میں مدد مل سکے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا تھا کہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی روک تھام کے لیے اقدامات جیسے آئسولیشن، قرنطینہ، اسکولوں کی بندش، سفری پابندیاں اور عوامی اجتماعات کی منسوخی ہوسکتا ہے کہ مناسب ہوں، مگر بغیر علامات کے وائرس کی منتقلی یقیناً اس کی روک تھام کو زیادہ مشکل بناتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1122150' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/03/5e6a74a7b46b8.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/03/5e6a74a7b46b8.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/03/5e6a74a7b46b8.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/03/5e6a74a7b46b8.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دنیا میں روزانہ سیکڑوں نئے کیسز سامنے آرہے ہیں اور وقت کے ساتھ ڈیٹا ہوسکتا ہے مختلف تصویر ظاہر کرے، کیونکہ اس وقت انفیکشن کیس رپورٹ کی بنیاد لوگوں کی یادداشت پر ہے کہ وہ کہاں گئے تھے اور کس کے ساتھ رابطے میں رہے، اگر حکام فوری طورپر مریضوں کو آئسولیٹ کریں تو زیادہ مستند ڈیٹا مل سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ خاموشی سے وائرس کی منتقلی ہمیں بتاتا ہے کہ کووڈ 19 کی وبا مشکل میں ڈالنے والی ہے اور اسے روکنے کے لیے زیادہ سخت اقدامات کی ضرورت ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ نئے نوول کورونا وائرس کے 10 فیصد سے زیادہ مریضوں میں یہ مرض ایسے افراد سے منتقل ہوا جو متاثر تو تھے مگر ان میں علامات ظاہر نہیں ہوئی تھی۔</p>

<p>یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی <a href="https://www.sciencedaily.com/releases/2020/03/200316143313.htm">تحقیق</a> میں سامنے آئی۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1119296' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ٹیکساس یونیورسٹی کی اس تحقیق میں امریکا، فرانس، چین اور ہانگ کانگ کے سائنسدان شامل تھے اور انہوں نے مریضوں میں علامات نمودار ہونے کے وقت کا جائزہ لیا۔</p>

<p>اس میں سے ایسے مریض بھی شامل تھے جن میں کسی اور سے یہ وائرس منتقل ہوا جبکہ بعد میں اس مریض نے دوسرے فرد کو اس سے متاثر کیا۔</p>

<p>جریدے ایمرجنگ انفیکشز ڈیزیز میں شائع تحقیق میں محققین نے وائرس کی اوسط ٹرانسمیشن چین دورانیے کو دریافت کیا جو کہ 4 دن تھا اور یہ ان اولین تحقیقی رپورٹس میں سے ایک ہے جس میں بغیر علامات ظاہر ہوئے بغیر وائرس کی منتقلی کی شرح کا تخمینہ لگایا گیا۔</p>

<p>وبا کے پھیلنے کی رفتار کا انحصار 2 عناصر پر ہوتا ہے، یعنی ایک مریض سے مزید کتنے افراد متاثر ہوئے اور لوگوں کے درمیان انفیکشن کی منتقلی کو کتنا وقت لگا۔</p>

<p>پہلے عنصر کو ری پروڈکشن نمبر کہا جاتا ہے جبکہ دوسرے کو سیریل انٹرول۔</p>

<p>کووڈ 19 کے مختصر سیریل انٹرول کا مطلب ہے کہ یہ وبا  بہت تیزی سے پھیل رہی ہے اور اسے روکنا بہت مشکل ہے۔</p>

<p>محققین کا کہنا تھا کہ ایبولا میں سیریل انٹرول کی اوسط کئی ہفتوں پر مبنی تھی اور اسے انفلوائنزا کے مقابلے میں روکنا زیادہ آسان تھا، جس میں سیریل انٹرول کا دورانیہ چند روز ہی ہوتا ہے، مگر ڈیٹا سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ نیا کورونا وائرس ممکنہ طور پر فلو کی طرح ہی پھیل رہا ہے اور اس کا مطلب ہے کہ ہمیں اس خطرے کی روک تھام کے لیے فوری اور جارحانہ اقدامات کرنا ہوں گے۔</p>

<p>محققین نے چین کے 93 شہروں میں رپورٹ ہونے والے 450 سے زائد کیسز کا معائنہ کرنے کے بعد اب تک کے ٹھوس شواہد حاصل کیے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر علامات ظاہر کیے بھی لوگ وائرس کو دیگر افراد میں منتقل کرسکتے ہیں۔</p>

<p>تحقیق کے مطابق ہر 10 میں سے ایک مریض ایسا تھا جس میں وائرس تو موجود تھا مگر اس میں بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں یا وہ خود کو صحت مند سمجھتا رہا۔</p>

<p>اس سے قبل سائنسدان اس حوالے سے یقین سے کہنے سے قاصر تھے کہ کورونا وائرس میں بغیر علامات کے بھی وائرس ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہوسکتا ہے مگر نئے شواہد سے طی حکام کو اس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے نئے ضوابط بنانے میں مدد مل سکے گی۔</p>

<p>محققین کا کہنا تھا کہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی روک تھام کے لیے اقدامات جیسے آئسولیشن، قرنطینہ، اسکولوں کی بندش، سفری پابندیاں اور عوامی اجتماعات کی منسوخی ہوسکتا ہے کہ مناسب ہوں، مگر بغیر علامات کے وائرس کی منتقلی یقیناً اس کی روک تھام کو زیادہ مشکل بناتی ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1122150' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/03/5e6a74a7b46b8.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/03/5e6a74a7b46b8.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/03/5e6a74a7b46b8.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/03/5e6a74a7b46b8.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>انہوں نے کہا کہ دنیا میں روزانہ سیکڑوں نئے کیسز سامنے آرہے ہیں اور وقت کے ساتھ ڈیٹا ہوسکتا ہے مختلف تصویر ظاہر کرے، کیونکہ اس وقت انفیکشن کیس رپورٹ کی بنیاد لوگوں کی یادداشت پر ہے کہ وہ کہاں گئے تھے اور کس کے ساتھ رابطے میں رہے، اگر حکام فوری طورپر مریضوں کو آئسولیٹ کریں تو زیادہ مستند ڈیٹا مل سکتا ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ خاموشی سے وائرس کی منتقلی ہمیں بتاتا ہے کہ کووڈ 19 کی وبا مشکل میں ڈالنے والی ہے اور اسے روکنے کے لیے زیادہ سخت اقدامات کی ضرورت ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1122618</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Mar 2020 01:23:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/03/5e7130190b4a3.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/03/5e7130190b4a3.jpg"/>
        <media:title>یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی  — رائٹرز فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
